*ایک واقعہ، دو نصیحتیں* ✍️
ایک بزرگ اور ان کے دوست کے درمیان سچی دوستی تھی۔ ایک مرتبہ ایک بزرگ اپنے ہی دوست، دوسرے بزرگ کے پاس آئے اور کہا کہ میں ایک تجارتی سفر پر جا رہا ہوں۔
سوچا کہ جانے سے پہلے آپ سے ملاقات کر لوں، کیوں کہ اندازہ ہے کہ سفر میں کئی مہینے لگ جائیں گے۔
لیکن توقع کے خلاف وہ چند ہی دنوں میں واپس لوٹ آئے۔ جب دوسرے بزرگ نے انہیں مسجد میں دیکھا تو حیرت سے پوچھ بیٹھے کیوں دوست! اتنی جلدی لوٹ آئے؟
انہوں نے جواب دیا : حضرت! میں کیا عرض کروں، راستے میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھا اور الٹے پاؤں ہی گھر لوٹ آیا۔
ہوا یوں کہ ایک غیر آباد جگہ پہنچا۔ وہیں میں نے آرام کے لیے پڑاؤ ڈالا۔ اچانک میری نظر ایک ایسے پرندے پر پڑی جو نہ دیکھ سکتا تھا اور نہ اڑ سکتا تھا۔ اسے دیکھ کر مجھے ترس آیا۔
میں نے سوچا کہ اس ویران جگہ پر یہ پرندہ اپنی خوراک کیسے پاتا ہوگا؟
میں اسی سوچ میں تھا کہ اتنے میں ایک دوسرا پرندہ آیا، جس نے اپنی چونچ میں کوئی چیز دبا رکھی تھی۔
اس نے آتے ہی وہ چیز اس معذور پرندے کے آگے ڈال دی، اور معذور پرندے نے وہ چیز اٹھا کر کھا لی۔ وہ دوسرا پرندہ اس طرح کئی چکر لگاتا رہا، یہاں تک کہ معذور پرندے کا پیٹ بھر گیا۔
یہ منظر دیکھ کر میں نے کہا
سبحان اللہ! جب اللہ تعالیٰ اس ویران اور سنسان جگہ پر ایک پرندے کا رزق اس تک پہنچا سکتا ہے تو مجھے رزق کے لیے شہر در شہر پھرنے کی کیا ضرورت ہے؟
چنانچہ میں نے آگے جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور وہیں سے واپس چلا آیا۔
یہ سن کر دوسرے بزرگ نے فرمایا
دوست! تمہاری اس سوچ سے مجھے سخت مایوسی ہوئی۔ تم نے آخر اس معذور پرندے جیسا بننا کیوں پسند کیا جس کی زندگی دوسروں کے سہارے چل رہی ہو؟ تم نے یہ کیوں نہ چاہا کہ تمہاری مثال اس پرندے جیسی ہو جو اپنا پیٹ بھی پالتا ہے اور دوسروں کا پیٹ پالنے کی بھی کوشش کرتا ہے؟
یہ سن کر وہ بزرگ بے اختیار اپنی جگہ سے اٹھے، اپنے دوست کے ہاتھ کو چوم لیا اور کہا۔
آپ نے میری آنکھیں کھول دیں۔ واقعی درست بات وہی ہے جو آپ نے کہی ہے۔
*پیارے ساتھیوں*
اس واقعے سے ہمیں دو نصیحتیں ملتی ہیں ایک یہ کہ زندگی میں ہم کبھی دوسروں پر بوجھ نہ بنیں، اور دوسری یہ کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے کام آئیں، پاکیزہ اور حلال روزی کما کر دوسروں کے لیے سہارا بنیں

