اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ، مَیں ہُوں فَرزَانَہ خَان۔
Dear friends,
آج کی کہانی دبئی سے بھیجی گئی ہے۔
2016 میں میرے ساتھ دبئی میں ایک لڑکا کام کرتا تھا۔ وہ لڑکا پاکستان کے فیصل آباد، گوجرہ کے نواحی گاؤں کا تھا۔ ہم دونوں اس وقت کھجوروں کے باغات میں نوکری کرتے تھے اور رات کو باہر سوتے تھے کیونکہ وہاں بجلی میسر نہیں تھی۔ وہاں سانپ کثرت سے تھے۔ ہم نے چیل کی لکڑی والا ایک کھمبا بنایا، جو ہمارا کفیل بہت دور سے گاڑی کے پیچھے کھینچ کر لایا تھا۔ ہم نے اس کھمبے کو چاروں طرف سے ٹوٹے ہوئے حصوں سے اونچا سا پھٹا بنا لیا اور اس کے اوپر گدے ڈال کر سوتے تھے۔ کیونکہ یہ پہاڑی علاقہ تھا اور کھجوروں کے باغات میں سانپ بہت ہوتے تھے، رات کو سانپ دندناتے پھرتے تھے۔ ایک طرف سانپ کا خوف تھا اور دوسری طرف مچھر کاٹتے تھے، جس کی وجہ سے رات ایک دو بجے تک نیند نہیں آتی تھی۔
تب ہم دونوں ایک دوسرے کو دنیا بھر کے قصے سنایا کرتے اور وقت گزارتے تھے۔ اس لڑکے کا نام بسم اللہ تھا۔ اچھا لڑکا تھا۔
ایک دن سانپوں کے قصے چل رہے تھے کہ بسم اللہ نے کہا:
"یہ سانپ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ یہاں صرف تیر سانپ اور کھپرا سانپ کی دو اقسام ہیں، لیکن ہمارے پاکستان میں تو سانپ کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔"
باتوں باتوں میں بات ناگ کی چلی گئی۔ بسم اللہ کہنے لگا:
"ایک ناگ سانپ میرے ابو کا دوست بن گیا تھا اور میرے ابو کو اس نے بہت فائدے دیے تھے۔"
مجھے ناگ کی داستان دلچسپ لگی، تو میں اٹھ کے بیٹھ گیا اور کہا:
"بسم اللہ، تفصیل سے سناؤ ساری داستاں۔"
پھر ہم دونوں نے سگریٹ کی ڈبی نکالی اور سگریٹ سلگا لیے۔ بسم اللہ نے ناگ کی داستاں کچھ یوں شروع کی:
چونکہ یہ داستان بسم اللہ کے ابو کی ہے، تو میں یہاں اس کے ابو کی زبانی ہی تحریر کروں گا تاکہ آپ کو سمجھنے میں آسانی ہو اور داستان کی دلچسپی بھی برقرار رہے۔
بسم اللہ کے ابو کی زبانی:
میرا نام مبارک علی ہے اور میں فیصل آباد، گوجرہ کے نواحی گاؤں میں رہتا ہوں۔ ہم دو بھائی تھے اور کوئی بہن نہیں تھی۔ ہماری چھ ایکڑ زرعی زمین تھی۔ بڑا بھائی اکثر آوارہ گردی کرتا تھا اور میں زمینداری کرتا تھا۔
رات کو فصلوں کو پانی دینا دیہاتوں میں عام بات تھی۔ ہماری پانی کی باری بھی چھ ماہ دن میں اور چھ ماہ رات میں ہوتی تھی۔ زمینوں کے ساتھ تین چار ایکڑ ریت کا بڑا ٹیلا تھا، جو کسی فوجی کی لاٹ میں تھا۔ فوجی خود کوہاٹ سائیڈ کا تھا، اس کی بارہ ایکڑ زمین تھی، جس میں آٹھ ایکڑ آباد تھی اور چار ایکڑ میں ریت کا ٹیلا اور بڑی جھاڑیاں تھیں۔ اسی وجہ سے ان چار ایکڑ کو آباد کرنا مشکل تھا۔
اس ٹیلا کے عقب سے سرکاری نالہ گزرتا تھا، جو ہماری فصلوں کے بعد آگے والی زمینوں کو بھی پانی دیتا تھا۔ ساون کا مہینہ تھا اور بہت حبس و گرمی تھی۔ سارا دن پھر شام کے وقت ناجانے کہاں سے سیاہ بادل چھا گئے اور اچانک بارش شروع ہو گئی۔ بارش ایسی برسی کہ عشا کی اذانیں ہونے لگیں، لیکن رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ علاقے کے لوگوں نے بار بار اذانیں دی تاکہ بارش رکے۔ خیر، بارش رک گئی اور ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ اسی رات ہماری پانی کی باری بھی تھی۔
ابو نے مجھے کہا:
"ایسا کرو کہ نہر پہ جاکے موگے میں کوئی کپڑا ٹھونس دو اور جب ہماری باری ختم ہو جائے تو کپڑا نکال لینا، کیونکہ فصلوں کو اب پانی کی ضرورت نہیں، گوڈے گوڈے پانی پہلے ہی کھڑا تھا۔ سب لوگ ہی ایسا کر رہے تھے کہ موگے میں کپڑا ٹھونس کر اپنی باری ختم کرتے تھے۔"
میں نے بھی ایک کھیس اٹھایا اور نہر کی طرف چل پڑا۔ بارش رک چکی تھی اور آسمان صاف ہوگیا تھا۔ چاند کی چودھویں کی رات تھی اور چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔
میں نے نہر پہ جا کر اپنے پانی کے ٹائم پر موگے میں کپڑا ٹھونس دیا اور سوچا کہ فصلوں کو ایک چکر لگا کر دیکھ لوں کہ بارش کا پانی کتنا جمع ہوا ہے۔
1981 کا زمانہ تھا، اس وقت یہ بجلی والی ٹارچیں نہیں تھیں۔ لوگ سعودی عرب سے حاجی ٹارچیں لاتے تھے، ان ٹارچوں پر سیل لگا ہوتا تھا۔ میرے پاس بھی سیل والی ٹارچ تھی اور میں نے ٹارچ روشن کر کے سرکاری نالے کے اوپر اپنی زمینوں کی طرف جا رہا تھا۔
جب میں ریت کے ٹیلے کے عقب سے اپنی زمین کے پاس گزرنے لگا تو مجھے کچھ سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔ میں نے ٹارچ ریت کے ٹیلے کی طرف گھمائی اور میرا تو سانس ہی رکنے والا ہوگیا، کیونکہ مجھ سے کچھ فاصلے پر آٹھ نو فٹ کے دو سیاہ ناگ آپس میں ملاپ کر رہے تھے۔
میں نے بزرگوں سے سنا تھا کہ اگر دو ناگ چاند کی چودھویں کی رات ملاپ کر رہے ہوں، تو ان کے اوپر کوئی کالے رنگ کا کپڑا ڈال دیں۔ ایسا کرنے سے وہ بندے کو یا تو ناگ منی دے دیتے ہیں، جو ہر بیماری کا علاج ہوتی ہے اور بندے کو مالا مال کردیتی ہے۔
میرے اوپر بھی شال نما لنگی تھی، مجھے سوچ آیا کہ میں ان کے اوپر شال ڈال دوں، شاید مجھے بھی مالا مال کردیں۔ لیکن مجھے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں غصے میں آ کر مجھے کاٹ نہ لیں، کیونکہ دونوں بہت بڑی بلائیں تھیں۔ میں نے سوچا، ایسا موقع بار بار کہاں ملتا ہے؟ اللہ کو یاد کیا اور چھلانگ لگا کر نالہ عبور کر گیا۔
دھیرے دھیرے ان ناگوں کے پاس جانے لگا۔ ٹارچ کی روشنی بھی میں نے ان پر سیدھی رکھی۔ وہ دونوں ناگ فل مستی میں تھے، کبھی اوپر اٹھتے، کبھی ایک دوسرے سے لپٹتے، کبھی زمین پر لیٹ جاتے۔ میں ڈرتے ڈرتے قریب جا کر اپنی شال ان کے اوپر ڈال دی اور واپس پلٹ کر نالہ عبور کر آیا۔
میں نے سوچا کہ پہلے فصلوں کا چکر لگا کر آتا ہوں، پھر واپسی پر ناگوں کو دیکھوں گا۔
میں آگے فصلوں کا چکر لگا کر واپس اسی جگہ پہنچا۔ شال میں مجھے کوئی حرکت محسوس نہیں ہوئی، لیکن شال اٹھا بھی نہیں سکتا تھا۔ میں نے سوچا کہ اب گھر جا کر پانی کی باری ختم ہونے کے بعد فجر کے بعد شال اٹھا لوں گا۔ دل ہی دل میں خوش تھا کہ شال میں ناگ ضرور ناگ منی چھوڑ جائیں گے۔
میں نے پانی کی باری ختم کی، نہر کے موگے سے اپنا کھیس نکالا اور گھر چلا آیا۔ فجر کے وقت اٹھا، نماز پڑھ کر کھیتوں کی طرف نکل آیا اور خوشی خوشی شال کی طرف بڑھا کہ دیکھوں تو سہی کہ بزرگوں کی بات کہاں تک سچ ہے… کیا واقعی میری شال میں ناگ منی پڑی ہوگی؟
دھیرے دھیرے میں ریت کے اس ٹیلے کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں رات کو ناگ اور ناگن ملاپ کر رہے تھے۔
نہر کی پٹڑی سے اتر کر جب میں نالے پر چڑھا، دور سے ہی نظریں اس جگہ پر گاڑ دیں، جہاں رات کو ناگ اور ناگن ملاپ کر رہے تھے۔ لیکن مجھے دور سے ہی کچھ جھٹکے محسوس ہونے لگے۔
قریب پہنچ کر جب میں نے اس جگہ دیکھا، تو میری شال وہاں نہیں تھی۔ میں نالہ عبور کر کے اس جگہ پہنچ گیا جہاں رات کو ناگ اور ناگن ملاپ کر رہے تھے۔ میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی کہ میری شال آخر کہاں گئی۔ دل میں ہزار وسوسے اٹھنے لگے کہ شاید کوئی دوسرا آدمی شال اٹھا لے گیا ہو۔
پھر میں نے سانپوں کی لکیریں دیکھنے کی کوشش کی، لیکن چونکہ رات کو بارش زوروں سے ہوئی تھی، اس لیے بھیگی ریت پر لکیریں نہیں تھیں۔ پھر بھی میں نے تھوڑا ادھر ادھر گھوم کر نگاہیں دوڑائیں، تو دور ایک جھاڑی میں شال کا کونا پھنسا ہوا نظر آیا۔
میں بھاگ کر اس طرف گیا اور دیکھا تو میرے اوسان خطا ہوگئے۔ جھاڑی کے وسط میں ایک بل تھی، اور میری شال آدھی سے زیادہ اس بل میں گھسی ہوئی تھی، بس ایک کونا باہر تھا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ شال ناگ اور ناگن ہی لے کر آئے ہیں۔
میں نے ڈرتے ڈرتے شال کا کونا پکڑ کر باہر کھینچا، تو میں حیران رہ گیا۔ شال کے ساتھ سونے کے تعویز بھی نکل آئے، جنہیں مقامی زبان میں تویتڑی کہا جاتا ہے اور شادی کے وقت دلہن کو پہنائی جاتی ہیں۔ کچھ علاقوں میں پانچ تویتڑیاں پہنائی جاتی ہیں اور بعض میں سات۔ میں نے گنتی کی، تو سات تویتڑیاں خالص سونے کی تھیں۔ میں نے ڈرتے ڈرتے وہ تویتڑیاں جیب میں ڈالیں اور شال اٹھا کر گھر آگیا۔
مجھے اب یقین ہو گیا تھا کہ ناگ اور ناگن اسی بل میں ہیں جو جھاڑی کے وسط میں تھا۔
آٹھ دن بعد میری پانی کی باری تھی اور میں رات کو پانی لگانے کھیتوں میں گیا۔ چاند کی تاریخ تئیس یا چوبیس تھی، رات کافی اندھیری تھی۔
میں نے کپاس کی فصل کو پانی دیا اور نالہ کے اوپر بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ مجھے پاس ہی سرسراہٹ محسوس ہوئی۔ ٹارچ روشن کی تو میرے اوسان خطا ہوگئے۔ کالا سیاہ ناگ مجھ سے دو قدم کے فاصلے پر کنڈلی مار کے بیٹھا تھا۔
پہلے تو میں ڈر گیا، لیکن پھر مجھے حوصلہ ہوا کہ اگر ناگ مجھے نقصان پہنچانا چاہتا، تو پہنچا سکتا تھا۔ لیکن وہ میرے پاس آ کر کنڈلی مار کے بیٹھ گیا۔ مجھے اب رشک سا ہونے لگا کہ ناگ میرا دوست بن گیا ہے، کیونکہ ناگن کے ساتھ ملاپ کے وقت میں نے ان کے اوپر شال ڈال کر ان کی پردہ پوشی کی تھی اور بدلے میں انہوں نے مجھے سات سونے کے تعویز (تویتڑیاں) دی تھیں۔
میں نے ناگ کے بارے کسی کو بھی نہیں بتایا اور نہ تویتڑیاں کے بارے۔ پانی لگانے کے بعد گھر آگیا۔ دن میں بھی جب کبھی کھیتوں میں جاتا، شاید ناگ کو میری بو آ جاتی، وہ کہیں سے نمودار ہو جاتا اور میرے بالکل پاس آ کر بیٹھ جاتا۔ مجھے اب ناگ سے بلکل بھی ڈر نہیں لگتا تھا، کیونکہ میں سمجھ گیا تھا کہ ناگ میرا دوست بن گیا ہے۔
کچھ دن بعد ایک شادی تھی، ساہیوال کے قریب، ہڑپہ کے پاس ایک گاؤں میں۔ میں نے شادی میں شرکت کی اور وہاں ایک بوڑھا سا جوگی نظر آیا، جو کالے ناگ کا تماشہ دکھا رہا تھا۔ جوگی کا ناگ بالکل میرے دوست ناگ جیسا تھا۔ تماشہ ختم ہوا تو جوگی جانے لگا۔
میں نے بوڑھے جوگی سے گپ شپ لگائی اور وہ میرا دوست بن گیا۔ میں نے پوچھا: "آپ کہاں رہتے ہیں؟"
بوڑھے جوگی نے بتایا: "یہ دو گاؤں چھوڑ کر آگے ہماری جوگیوں کی بستی ہے۔"
میں نے وعدہ کیا کہ رات کو آپ کے پاس آؤں گا اور گپ شپ کریں گے۔
بوڑھے جوگی نے کہا: "بسم اللہ، آ جانا۔"
میں نے جوگی سے اس کا نام پوچھا، تو اس نے بتایا کہ ہماری بستی میں آ کر کسی سے پوچھنا، آپ کو نام بتا دیں گے، اور پھر وہ جوگی چلا گیا۔
شام کو شادی ختم ہوئی تو میں ایک لڑکے کو موٹر سائیکل پر ساتھ لے کر جوگیوں کی بستی میں چلا گیا۔
اللہ جوایا جوگی کا گھر پوچھا تو ایک لڑکے نے سامنے کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ وہی گھر ہے۔
ہم نے دروازے پر دستک دی۔ اللہ جوایا کے بیٹے نے دروازہ کھولا اور پوچھا کہ کون ہو۔
میں نے اپنا تعارف کروایا اور حوالہ دیا کہ فلاں گاؤں سے آئے ہیں۔ اتنے میں پیچھے سے اللہ جوایا کی آواز آئی کہ اندر آ جاؤ۔
ہم اندر گئے تو اللہ جوایا جوگی نے ہمیں صحن میں چارپائی پر بٹھا لیا۔ کھانے کا پوچھا، مگر ہم ولیمہ کھا چکے تھے، اس لیے بھوک نہیں تھی۔ اللہ جوایا نے بیوی کو چائے کا کہا اور ہماری طرف متوجہ ہو گیا۔
باتوں باتوں میں میں نے کالا ناگ کا ذکر چھیڑ دیا، کیونکہ میں اصل میں اسی کی معلومات لینے آیا تھا۔
بوڑھے جوگی نے بتایا کہ کالا ناگ دوست سانپ ہوتا ہے۔ یہ بلاوجہ انسان کو نہیں کاٹتا، جب تک اسے کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ لیکن اگر آپ نے اسے چھوٹی سی کنکری بھی مار دی تو پھر یہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ چاہے سات تہہ کے نیچے چھپ جائیں، یہ بدلہ ضرور لیتا ہے۔
بوڑھے جوگی نے ایک واقعہ سنایا۔
کہنے لگا: "بھکر سے ایک آدمی آیا تھا میرے پاس۔ اس نے ساون کے مہینے میں ناگن مار دی تھی۔ ناگ اس کے پیچھے لگ گیا تھا۔ آدمی جہاں جاتا، ناگ وہاں پہنچ جاتا۔ وہ بہت پریشان تھا۔ بھاگتا بھاگتا میرے پاس آ پہنچا۔ ہم اسی چارپائی پر بیٹھے تھے۔ آدمی رو رو کر بتا رہا تھا کہ میں نے ناگن مار دی ہے اور ناگ پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔
میں نے اسے دودھ کا گلاس دیا، مگر اس نے کہا: پہلے بات پوری کر لوں پھر دودھ پیوں گا۔ وہ کہتا تھا کہ میرے چھوٹے بچے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ ناگ میرا پیچھا کیسے چھوڑے گا۔
میں نے اسے کہا کہ ناگ سے معافی مانگ لو۔
وہ گھبرا کر بولا: کیسے معافی مانگوں؟
میں نے بتایا کہ اس ناگ کو کہو کہ گوگے پیر کے واسطے مجھے معاف کر دے، کیونکہ کالا ناگ اپنے گوگے پیر کا بہت وفادار ہے۔ وہ ان کے نام پر راستہ بدل لیتا ہے اور دشمن کو بھی معاف کر دیتا ہے۔
آدمی نے ہاتھ باندھ کر وہی الفاظ دہرائے:
"مجھے معاف کر دو، گوگے پیر کے واسطے۔"
جب بات ختم ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ اب دُودھ پی لو۔
لیکن جیسے ہی اس نے ہاتھ بڑھایا، گلاس الٹا پڑا تھا۔
میں نے لالٹین قریب کی اور دیکھا تو دُودھ کا رنگ نیلا ہو چکا تھا۔
میں نے اسے کہا:
"جاؤ، تمہاری جان بچ گئی۔ ناگ تمہارے پیچھے بھکر سے لے کر یہاں ساہیوال تک آیا تھا۔ ہم جس چارپائی پر بیٹھے تھے، وہ اسی کے نیچے آکر بیٹھا تھا۔ اس نے تمہارے دودھ میں زہر ڈال دیا تھا۔ اگر تم دودھ پی لیتے تو ایک منٹ میں مر جاتے۔ اور میں جوگی ہونے کے باوجود تمہیں نہ بچا پاتا۔ لیکن تم نے اسے گوگے پیر کا واسطہ دیا، اسی لیے ناگ نے تمہیں معاف کر دیا۔"
یہ سن کر میرا دل دھک سے رہ گیا کہ کالا ناگ بدلہ لینے کے لیے اس حد تک بھی جا سکتا ہے۔
میں نے جوگی سے پوچھا کہ سانپ کس موسم میں کاٹتے ہیں۔
جوگی نے بتایا کہ سال میں صرف تین مہینے: ہاڑ، ساون اور بھادوں۔
انہیں مہینوں میں سانپ اپنے بلوں سے نکل کر مستی کرتے ہیں۔
ہاڑ میں اپنی جوڑی ڈھونڈتے ہیں، ساون میں ملاپ کرتے ہیں، بھادوں تک ساتھ رہتے ہیں پھر الگ ہو جاتے ہیں۔
جوگی نے مزید بتایا کہ ناگن صرف سال میں ایک بار سات بچے اکھٹے پیدا کرتی ہے۔ یہ ساتوں بچے بالغ ہونے تک قریب قریب رہتے ہیں، پھر اپنی اپنی جوڑیاں بنا لیتے ہیں۔
اس نے کہا کہ ساون اور بھادوں کے مہینوں میں کبھی سانپ نہیں مارنا چاہیے، کیونکہ ان مہینوں میں یہ جوڑی ہوتے ہیں۔ اگر ایک کو مارا جائے تو دوسرا لازمی آس پاس ہوتا ہے اور وہ بدلہ لیتا ہے۔
میں نے اصل بات کی طرف آتے ہوئے پوچھا:
"بابا جی، ناگ منی کیسے دیتا ہے؟"
جوگی بابا نے بتایا کہ ناگ منی ہر ناگ میں نہیں ہوتی۔ یہ صرف چند خاص ناگوں میں ہوتی ہے۔
ناگ منی منکا ہوتا ہے۔ کسی مریض کو پانی میں گھول کر پلا دیں تو وہ فوراً ٹھیک ہو جاتا ہے۔
جس کے پاس ناگ منی ہو، اس کے پاس دولت کی کمی نہیں رہتی۔ دنیا کا کوئی سانپ اسے نہیں کاٹتا۔
اگر کسی اور کو سانپ کاٹ لے تو ناگ منی پانی میں گھول کر پلا دو، مریض ٹھیک ہو جاتا ہے۔
میں نے جوگی سے پوچھا:
"بابا جی، یہ ناگ اپنی ناگ منی کیسے دیتے ہیں؟ یا ان سے ناگ منی کیسے حاصل کی جاتی ہے؟"
جوگی بابا نے جواب دیا:
"چاند کی پہلی تاریخ سے لے کر چودہ تاریخ تک دو پیالے دودھ رکھنا پڑتے ہیں، جہاں علم ہو کہ وہاں ناگ رہتا ہے۔ چودہ تاریخ کو جب ناگ اور ناگن ملاپ کرتے ہیں، تو دونوں میں سے کوئی ایک اپنی ناگ منی ان پیالوں میں چھوڑ دیتا ہے۔ یہ انعام کی طرح دیا جاتا ہے اس شخص کو جو دودھ رکھتا ہے۔
اور اگر بندہ پاک صاف رہے اور ناگ منی سے کوئی ناجائز کام نہ کرے، تب تک ناگ منی فائدہ دیتی ہے۔ لیکن اگر بندہ غلط کام میں پڑ جائے، تو ناگ اپنی ناگ منی واپس اٹھا لیتا ہے۔ جیسے جنات کے پاس غائب ہونے کا علم ہوتا ہے، ویسے سانپوں کے پاس بھی سونگھنے کی خاص طاقت ہوتی ہے۔"
میں نے جوگی بابا کو یہ نہیں بتایا تھا کہ ایک ناگ میرا دوست بن چکا ہے۔ میں یہ راز اپنے لیے رکھنا چاہتا تھا۔
جوگی بابا سے طویل ملاقات کے بعد ہم واپس آئے اور صبح میں ساہیوال سے اپنے گھر گوجرہ پہنچ گیا۔ چاند کی آخری تاریخیں تھیں۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ چاند کی پہلی تاریخ کو اپنے دوست ناگ کے لیے دودھ کے پیالے رکھوں گا، شاید وہ مجھے ناگ منی دے دے۔
میں بازار سے دو مٹی کے پیالے لے آیا۔ چاند کی پہلی تاریخ تھی، ایک بالٹی میں دودھ ڈال کر پیالے بھرتے ہوئے میں ریت کے ٹیلے پر گیا، جہاں جھاڑی میں میری شال پھنسی تھی۔ پیالے رکھے اور دودھ بھر دیا، پھر گھر آگیا۔
صبح جاکر دیکھا تو پیالے خالی تھے۔ میں نے لگاتار چودہ دن دودھ کے پیالے بھرے اور ناگ اور ناگن پیتے رہے۔
چودہ تاریخ کو مجھے پورا یقین تھا کہ ناگ یا ناگن لازمی اپنی ناگ منی پیالے میں چھوڑیں گے۔
صبح جب میں نے دیکھا تو واقعی ایک پیالے میں ناگ منی پڑی تھی، چھوٹی سی، جیسے مونگی کی دال کا دانہ۔
میں نے پیالے اٹھائے اور گھر آگیا۔ ایک پیالہ پانی کا بھر کر ناگ منی رکھ دی اور پیالے سے تھوڑا پانی اپنی والدہ کو دیا۔ کہا:
"اماں، یہ پانی پی لیں۔ آپ ہمیشہ کہتی ہیں کہ گھٹنے درد کرتے ہیں، اماں، پانی پی کر بلکل ٹھیک ہو جائیں گی۔"
پانی پینے کے بعد اماں بلکل ٹھیک ہو گئیں اور بھاگ بھاگ کر مویشیوں کو چارہ ڈالتی رہیں۔
پھر بہت سے مریضوں کو ناگ منی کا پانی پلایا گیا، سب ٹھیک ہو گئے۔ کئی دنوں تک ناگ منی میرے پاس رہی اور بہت فائدہ دیتی رہی۔ روپیہ پیسہ بھی کبھی ختم نہ ہوا۔
پھر زوال آیا، جب ہمارے گاؤں میں ایک گھر میں میرا آنا جانا بڑھ گیا۔ اس گھر میں کوئی مرد نہیں تھا، صرف چار پانچ عورتیں تھیں۔ میں نے وہاں ناجائز تعلق بنا لیا۔ چند دن بعد مجھے چوٹ لگی اور ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔
میں چارپائی پر پڑا تھا اور اماں کو کہتا رہا کہ مجھے وہ پیالے کا پانی ڈال دو، جس پیالے میں ناگ منی تھی، لیکن پانی بھی درد کم نہ کر سکا۔
دو تین دن بعد ایک روز فجر کے وقت وہ ناگ جو میرا دوست تھا ہمارے گھر آیا۔ اس نے اپنی ناگ منی دوبارہ نگل لی اور جاتے جاتے میری چارپائی کے ایک پاؤں کو زور سے اپنی دم سے مار کر مجھے جگایا۔
میں بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھا، تو ناگ بہت غصے میں تھا، پھنکار مارتا ہوا سیدھا کھڑا ہو گیا، صرف دم زمین پر رہ گئی۔ تین چار منٹ تک ناگ میرے ساتھ غصہ کرتا رہا، پھر آہستہ آہستہ رینگتا ہوا دہلیز پار کر گیا۔
میری ٹانگ ٹھیک ہو گئی۔ میں اپنے کھیتوں میں بھی جاتا رہا، اور ریت کے ٹیلے پر بھی، لیکن وہ ناگ دوبارہ نظر نہیں آیا۔ شاید ناگ اور ناگن یہ علاقہ چھوڑ گئے تھے یا پھر میری غلطی کی وجہ سے وہ سامنے نہیں آتا تھا۔
میری ذرا سی غلطی نے مجھے بہت نقصان پہنچایا۔ میں ایک ٹانگ سے ہمیشہ کے لیے لنگڑا ہو گیا۔
بسم اللہ نے اپنے والد کی داستان ختم کی۔ رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔ ہم نے مچھر دانیاں سیدھی کیں اور لیٹ گئے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، اور ہم نیند کی وادیوں میں غرق ہوتے چلے گئے۔
---

