مظفر آباد کا سفر ایک ڈراؤنا خواب بن گیا
تحریر ؛فرزانہ خان
السلام علیکم، میرا نام فرحان ہے اور میں راولپنڈی میں رہتا ہوں۔ آج جو واقعہ میں آپ کو سنانے جا رہا ہوں وہ 2008 کی سردیوں کا ہے۔ اس وقت میں اور میرے چار دوست ایک ہی بینک میں کام کرتے تھے۔ ہم سب نے ساتھ کالج کیا تھا اور قسمت سے نوکری بھی ساتھ ہی لگ گئی تھی۔ میرے دوستوں کے نام تھے وسیم، ذوالفقار، عادل اور ارسلان۔ ہم پانچوں کی دوستی بہت پرانی تھی۔ کالج کے زمانے سے لے کر اب تک ہر خوشی غم میں ساتھ رہے تھے۔
نومبر 2008 میں ہمارا بینک تین دن کی چھٹی پر بند ہونے والا تھا کیونکہ کچھ تعمیراتی کام ہو رہا تھا۔ وسیم نے ایک دن دفتر میں آ کر کہا کہ یار اتنے دن فری ہیں، کیوں نہ کہیں گھومنے چلا جائے۔ ہم سب کو یہ آئیڈیا بہت پسند آیا۔ عادل بولا کہ کشمیر چلتے ہیں، وہاں اس موسم میں بہت خوبصورتی ہوتی ہے۔ ذوالفقار جو ہمیشہ منصوبہ بندی کرنے میں ماہر تھا، اس نے فوراً نقشہ نکال کر دیکھنا شروع کر دیا۔ لیکن ارسلان بالکل خاموش بیٹھا رہا۔
میں نے اسے دیکھا تو محسوس ہوا کہ کچھ سوچ رہا ہے۔ ارسلان مظفرآباد سے تعلق رکھتا تھا اور اسے پہاڑوں کے بارے میں بہت کچھ معلوم تھا۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ کیا خیال ہے تو اس نے سر ہلا کر ہاں کہہ دی لیکن اس کے چہرے پر جو تشویش تھی وہ میں نے محسوس کی۔ اس نے صرف اتنا کہا کہ بس ایک بات یاد رکھنا، وہاں ہر چیز کا احترام کرنا۔ اور رات کو کبھی اکیلے ٹینٹ سے باہر مت نکلنا۔ ہم سب نے اس کی بات کو ہلکے سے لیا اور اگلے دو ہفتے منصوبہ بندی میں لگ گئے۔
ستائیس نومبر کی شام ہم نے اپنا سفر شروع کیا۔ راولپنڈی سے بس پکڑی اور رات بھر سفر کرتے ہوئے اگلی صبح مظفرآباد پہنچے۔ وہاں سے ایک چھوٹی گاڑی کرایہ پر لے کر ہم ایک دور دراز گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے میں منظر بہت دلکش تھے۔ سبز پہاڑ، صاف پانی کی ندیاں اور ٹھنڈی ہوا ہمارا دل خوش کر رہی تھی۔
دوپہر تک ہم ایک چھوٹے سے قصبے میں پہنچ گئے جہاں ایک مقامی ریسٹورنٹ میں ہم نے کھانا کھایا۔ وہاں کے لوگ بہت نیک دل تھے۔ ایک بزرگ شخص نے جب ہماری باتیں سنیں کہ ہم ٹریکنگ پر جا رہے ہیں تو اس کا چہرہ یکدم سنجیدہ ہو گیا۔ اس نے ہماری طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا، "بیٹو، پہاڑوں کا احترام کرنا۔ وہاں فطرت بہت طاقتور ہے۔ اور سنو، جس جگہ تم جا رہے ہو، وہاں رات کو عجیب چیزیں ہوتی ہیں۔ کبھی آگ کے قریب سے دور مت جانا۔
ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ وسیم نے ہنس کر کہا، "بابا جی ڈرا رہے ہیں۔" لیکن میں نے دیکھا کہ ارسلان کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا۔
شام تک ہم ایک چھوٹے سے گاؤں میں رک گئے جہاں ایک سادہ سا مہمان خانہ تھا۔ وہاں کے مالک نے ہمیں بہت گرم جوشی سے استقبال کیا۔ اس نے کہا کہ تم لوگ کل صبح جلدی نکل جانا، دوپہر کے بعد پہاڑوں میں راستہ ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور ایک بات، وہاں اوپر ایک پرانا مزار ہے۔ کبھی اس کے قریب رات کو مت جانا۔
ہم نے رات کا کھانا کھا کر جلدی سو گئے۔ اگلی صبح چھ بجے ہم تیار تھے۔ ہمارے پاس ٹینٹ، کھانے پینے کا سامان اور گرم کپڑے تھے۔ ارسلان نے سب سے کہا کہ کوئی غیر ضروری چیز ساتھ نہ لے جائیں اور راستے میں کوڑا کرکٹ نہ پھیلائیں۔
ہم نے اپنا سفر پہاڑوں کی طرف شروع کیا۔ شروع میں راستہ آسان تھا لیکن جیسے جیسے ہم اوپر چڑھتے گئے، راستہ تنگ اور مشکل ہوتا گیا۔ دوپہر کے قریب ہم ایک چشمے کے پاس رکے۔ پانی بالکل صاف اور ٹھنڈا تھا۔ ہم نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔
کھانا کھانے کے بعد جب ہم آگے بڑھنے لگے تو عادل نے ایک عجیب چیز دیکھی۔ ایک درخت پر کپڑے کے ٹکڑے بندھے ہوئے تھے، اور پتھروں پر سرخ نشانات تھے۔ "یہ کیا ہے؟" عادل نے پوچھا۔
ارسلان کا چہرہ پھر سنجیدہ ہو گیا۔ یہ مزار کی علامت ہے۔ یہاں کسی بزرگ کی قبر ہے۔ چلو، جلدی یہاں سے چلتے ہیں۔
شام تک ہم ایک بہت خوبصورت میدان میں پہنچ گئے۔ چاروں طرف اونچے پہاڑ تھے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ یہیں ٹینٹ لگائیں گے۔ سب نے مل کر ٹینٹ لگانا شروع کیا۔ وسیم اور عادل لکڑیاں جمع کرنے گئے۔ جب وہ واپس آئے تو عادل کا چہرہ پیلا پڑا ہوا تھا۔
کیا ہوا؟" میں نے پوچھا۔
وہاں... جنگل میں... ایک پرانی عمارت ہے۔ ٹوٹی ہوئی، اندھیری۔ اور وہاں سے عجیب سی بو آ رہی تھی۔" عادل کی آواز کانپ رہی تھی۔
ارسلان نے فوراً کہا، وہ مزار ہوگا جس کے بارے میں ہوٹل والے نے بتایا تھا۔ تم لوگ وہاں دوبارہ نہ جانا۔
تھوڑی ہی دیر میں سب کچھ تیار ہو گیا۔ آگ جل رہی تھی اور ہم اس کے گرد بیٹھ گئے۔ ٹھنڈ بڑھتی جا رہی تھی۔ ہم نے کھانا کھایا اور باتیں شروع کر دیں۔
رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ اچانک ارسلان نے کہا، تم لوگوں نے کبھی سوچا ہے کہ یہ پہاڑ کتنے پرانے ہیں اور یہاں کتنی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں؟
میں نے پوچھا، "کیسی کہانیاں؟"
ارسلان نے گہری سانس لی۔ "میری دادی بتاتی تھیں کہ ان پہاڑوں میں بہت سے راز ہیں۔ کہتے ہیں یہاں صدیوں پہلے ایک بزرگ تھے جو عبادت کے لیے آئے تھے۔ لیکن ایک رات، کچھ مسافروں نے ان کی بے حرمتی کی۔ اس رات سے... وہ بزرگ ہر اس شخص کے پیچھے آتے ہیں جو یہاں بے ادبی کرے۔
ذوالفقار نے مذاق میں کہا، "یار تو ڈرا رہا ہے کیا ہمیں؟"
لیکن اسی وقت، ہوا میں ایک عجیب سی آواز گونجی۔ ایک لمبی، کھینچتی ہوئی آواز، جیسے کوئی درد میں چیخ رہا ہو۔
ہم سب کھڑے ہو گئے۔ آواز دور سے آ رہی تھی، لیکن صاف سنائی دے رہی تھی۔
"یہ... یہ کیا تھا؟" وسیم کی آواز کانپ رہی تھی۔
ارسلان نے کہا، "چلو سب ٹینٹ میں چلتے ہیں۔ ابھی۔ اور کوئی باہر نہیں آئے گا۔"
رات دس بجے کے قریب ہوں گے جب ہم نے آگ کو احتیاط سے بجھایا اور اپنے ٹینٹ میں چلے گئے۔ میں اور وسیم ایک ٹینٹ میں تھے، عادل اور ذوالفقار دوسرے میں اور ارسلان تیسرے میں اکیلا۔
رات کو تقریباً دو بجے ہوں گے جب مجھے کسی آواز نے جگایا۔ میں نے کان لگائے تو لگا جیسے باہر کوئی چل رہا ہے۔ قدموں کی آہٹ آ رہی تھی۔ لیکن یہ عام قدم نہیں تھے۔ یہ قدم بھاری تھے، عجیب سی آواز ، جیسے کوئی بوجھ کھینچ کر لا رہا ہو۔
میں نے وسیم کو جگایا۔ "سنو، باہر کوئی ہے۔"
وسیم نے بھی سنا۔ اس کا چہرہ خوف سے سفید ہو گیا۔ پھر ہم نے ایک اور آواز سنی۔ ایک سسکاری، جیسے کوئی رو رہا ہو۔
ہم نے ٹینٹ کھول کر باہر دیکھا۔ چاند نکلا ہوا تھا۔ اور پھر ہم نے دیکھا۔
دور، پہاڑ کی طرف سے، ایک سیاہ سایہ حرکت کر رہا تھا۔ وہ سایہ بہت لمبا تھا، اور عجیب طریقے سے چل رہا تھا۔ کبھی آگے جھکتا، کبھی رک جاتا۔
تبھی دوسرے ٹینٹ سے عادل اور ذوالفقار بھی باہر نکلے۔ عادل کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ "تم نے بھی دیکھا؟" اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔
ہم چاروں باہر کھڑے تھے۔ اچانک ہمیں دور پہاڑ کی طرف سے ایک دھیمی روشنی نظر آئی۔ لیکن یہ عام روشنی نہیں تھی۔ یہ سبز رنگ کی تھی، اور ٹمٹماتی ہوئی۔ جیسے کوئی لالٹین لے کر چل رہا ہو۔
اور پھر ہم نے ایک آواز سنی، جو بہت واضح تھی:
"چلے جاؤ… یہاں سے… چلے جاؤ…
میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ روشنی قریب آتی جا رہی تھی۔ اور اب ہم اس سائے کو صاف دیکھ سکتے تھے۔ وہ ہماری طرف آ رہا تھا۔
ہم نے ارسلان کو جگانے کا سوچا۔ وسیم نے اس کے ٹینٹ کی طرف آواز دی۔ ارسلان باہر نکلا اور جب اس نے وہ روشنی اور سایہ دیکھا تو اس کا چہرہ دہشت سے سفید ہو گیا۔ اس نے کہا، "فوراً اندر آ جاؤ۔ اور کلمہ پڑھتے رہو۔ کوئی باہر نہیں دیکھے گا۔"
ہم سب اپنے اپنے ٹینٹ میں واپس آ گئے۔ میں اور وسیم ٹینٹ میں بیٹھے کلمہ پڑھ رہے تھے۔ ہمارے ہاتھ پسینے سے بھیگے ہوئے تھے۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہمیں پھر آواز آئی۔ اس بار آواز بہت قریب تھی۔ اتنی قریب کہ لگا جیسے کوئی ہمارے ٹینٹ کے بالکل باہر کھڑا ہو۔
ہم نے سانسیں روک لیں۔ پھر ایک آواز آئی، بالکل ہمارے ٹینٹ کے پاس سے۔ "کیوں آئے ہو... یہاں... کیوں..."
وسیم کا ہاتھ میرے ہاتھ میں کانپ رہا تھا۔ میں نے آیت الکرسی پڑھنی شروع کر دی۔
پھر اچانک، ٹینٹ کا کپڑا ہلنے لگا۔ جیسے کوئی باہر سے چھو رہا ہو۔ ایک لمبی، انگلی کا نشان کپڑے پر نظر آیا۔
میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور مسلسل آیت الکرسی پڑھتا رہا۔
نہ جانے کتنی دیر بعد وہ آواز دور ہوتی گئی۔ لیکن پھر ہم نے دوسرے ٹینٹ سے عادل کی چیخ سنی۔ "نہیں! نہیں!"
ہم فوراً باہر نکلے۔ عادل اپنے ٹینٹ سے باہر بیٹھا ہوا تھا، اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں اور وہ کچھ بڑبڑا رہا تھا۔
"عادل! کیا ہوا؟" ذوالفقار نے اسے ہلایا۔
لیکن عادل بس بڑبڑاتا رہا، "وہ... وہ میرے سامنے تھا... اس کی آنکھیں... اس کی آنکھیں..."
ارسلان نے فوراً عادل کے کان میں اذان دی۔ آہستہ آہستہ عادل ہوش میں آیا۔ وہ رونے لگا۔
"مجھے لے جاؤ یہاں سے... میں نہیں رہ سکتا یہاں..."
ہم سب نے پوری رات آیات پڑھتے ہوئے گزاری۔ ذوالفقار بھی بخار میں تپ رہا تھا، اس کا ماتھا آگ کی طرح گرم تھا۔
آخر کار فجر کی اذان کا وقت ہوا۔ جیسے ہی آسمان میں ہلکی روشنی پھیلی، وہ خوفناک خاموشی ٹوٹ گئی۔ پرندوں کی آوازیں آنے لگیں۔
ہم باہر نکلے۔ عادل اور ذوالفقار کی حالت بہت خراب تھی۔ دونوں کو بخار تھا اور وہ صحیح سے چل بھی نہیں پا رہے تھے۔
ارسلان نے کہا، "ہمیں فوراً یہاں سے جانا ہوگا۔"
ہم نے فوراً اپنا سامان سمیٹا۔ لیکن جب میں نے آگ والی جگہ کی طرف دیکھا تو میرا خون جم گیا۔
وہاں، راکھ میں، بڑے بڑے قدموں کے نشان تھے۔ ایسے قدم جو کسی انسان کے نہیں ہو سکتے تھے۔
ارسلان نے جلدی سے ہمیں روکا۔ "دیکھو مت۔ بس چلو یہاں سے۔"
ہم نے پوری جگہ صاف کی، حالانکہ ہمارے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ارسلان نے دعا پڑھی اور معافی مانگی۔
"اے بزرگ، ہم نے نادانی میں یہاں آ گئے۔ ہمیں معاف کر دیں۔ ہم فوراً جا رہے ہیں۔"
نیچے اترتے وقت عادل اور ذوالفقار کو سہارا دے کر لے جانا پڑ رہا تھا۔ دونوں بے ہوش ہونے کے قریب تھے
دوپہر تک ہم اس گاؤں میں پہنچ گئے۔ ہوٹل کے مالک نے جب ہماری حالت دیکھی تو اس کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ "میں نے منع کیا تھا۔ تم رات کو وہاں رہے؟"
ہم نے سر ہلایا۔
"اللہ کا شکر ہے تم لوگ زندہ واپس آ گئے۔ بہت کم لوگ اس جگہ سے رات گزار کر واپس آتے ہیں۔"
عادل اور ذوالفقار کو مقامی حکیم کے پاس لے گئے۔ حکیم نے ان کو دیکھا اور کہا، "ان پر سایہ پڑ گیا ہے۔ انہیں دم درود کی ضرورت ہے۔"
ہم نے شام کو وہاں سے روانہ ہو کر مظفرآباد پہنچے۔ لیکن عادل اور ذوالفقار کی حالت مسلسل خراب ہوتی جا رہی تھی۔ دونوں کو شدید بخار تھا اور وہ نیند میں چیختے رہتے تھے۔
اگلے دن صبح ہم نے راولپنڈی کے لیے بس پکڑی۔ پورے راستے عادل اور ذوالفقار بے ہوش رہے۔ کبھی کبھی وہ چیخ اٹھتے،
"وہ آ رہا ہے… وہ آ رہا ہے…"
راولپنڈی پہنچ کر ہم نے فوراً دونوں کو ہسپتال میں داخل کروایا۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ شدید بخار اور صدمے کا نتیجہ تھا۔
لیکن اصل مسئلہ یہ تھا کہ دونوں ٹھیک نہیں ہو رہے تھے۔ دو ہفتے گزر گئے، پھر ایک مہینہ، پھر دو مہینے۔
عادل اور ذوالفقار مسلسل بیمار رہے۔ کبھی ٹھیک لگتے، کبھی پھر بخار آ جاتا۔ رات کو دونوں ڈرتے رہتے تھے۔
آخرکار ہم نے ایک بزرگ عالم کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے دونوں کو دیکھا اور کہا، "تم لوگ کہاں گئے تھے؟"
ہم نے ساری بات بتائی۔
بزرگ نے سر ہلایا۔ "تم لوگوں نے اس مزار کی بے حرمتی کی ہے۔ وہاں کے بزرگ ناراض ہو گئے ہیں۔"
پھر انہوں نے چالیس دن تک روزانہ دم درود کیا۔ قرآن کی تلاوت کی۔ صدقہ دیا۔
آہستہ آہستہ عادل اور ذوالفقار ٹھیک ہونے لگے۔ لیکن دو مہینے بعد بھی وہ پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئے تھے۔ دونوں کی آنکھوں میں خوف رہتا تھا۔
عادل نے بتایا، "میں نے اسے دیکھا تھا۔ وہ بہت لمبا تھا، اس کا چہرہ... اس کا چہرہ نہیں تھا۔ صرف اندھیرا تھا۔ اور آنکھیں... دو سرخ روشنیاں۔"
ذوالفقار نے کہا، "میں نے اسے ٹینٹ کے باہر سے جھانکتے دیکھا تھا۔ وہ ہمیں دیکھ رہا تھا۔ اور ہنس رہا تھا۔ اس کی ہنسی... میں کبھی نہیں بھولوں گا۔"
آج 2025 ہے اور ہم پانچوں دوست اب بھی ساتھ ہیں۔ لیکن عادل اور ذوالفقار آج تک کبھی پہاڑوں پر واپس نہیں گئے۔ رات کو اب بھی ان کے خواب میں وہ منظر آتا ہے۔
میں آج آپ کو یہ کہانی اس لیے سنا رہا ہوں کہ جب بھی آپ کہیں سفر پر جائیں، خاص کر پہاڑوں میں، تو ہر جگہ کا احترام کریں۔ رات کو کبھی اکیلے نہ گھومیں۔ اگر کوئی بزرگ یا مقامی آدمی منع کرے تو ضرور سنیں۔
کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ اور جب تک ہم ان کا احترام کریں، وہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچاتیں۔ لیکن اگر ہم بے ادبی کریں... تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔
اللہ حافظ۔

