خون پسینے کی خوشبو: سچی محبت اور محنت کی ایک داستان
تحریر: فرزانہ خان
میں اس "بور" اور اکتا دینے والے رشتے کو ختم کرنے سے محض ایک منٹ کی دوری پر تھی۔ وہ ہفتے کی ایک خوشگوار شام تھی، میں نے اپنا بہترین لباس زیب تن کیا تھا، بال سنوارے تھے اور میری مہنگی خوشبو کمرے میں مہک رہی تھی۔ میں مکمل طور پر تیار تھی اور پورے ہفتے سے اس 'ڈیٹ نائٹ' کی منتظر تھی۔ دوسری طرف میرا فون مسلسل بج رہا تھا؛ میری سہیلیاں شہر کے مہنگے ترین علاقوں میں اپنی ویڈیوز پوسٹ کر رہی تھیں اور اپنے خوش مزاج بوائے فرینڈز کے ساتھ قہقہے لگا رہی تھیں۔
رات کے سوا نو بجے دروازہ کھلا۔ مائیکل اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی پھول نہیں تھے، بلکہ اس کی پلکوں پر تعمیراتی کام کی گرد جمی تھی اور لباس سے لکڑی کے برادے کی بو آ رہی تھی۔ اس کے جسم میں جیسے سکت باقی نہ رہی ہو۔ وہ بوجھل قدموں سے ایسے چل رہا تھا جیسے دنیا بھر کا بوجھ اکیلے اس کے کندھوں پر ہو۔
اس نے لرزتی ہوئی آواز میں سرگوشی کی: "مجھے معاف کر دینا جانِ من! بس مجھے پانچ منٹ دے دو تاکہ میں شاور لے کر تازہ دم ہو جاؤں۔ میں ابھی تیار ہوتا ہوں اور پھر ہم باہر چلیں گے، یہ میرا وعدہ ہے۔"
وہ اپنے کام والے بھاری جوتے اتارنے کے لیے بستر کے کونے پر بیٹھا... اور پھر جیسے ساکت ہو گیا۔ تین منٹ بعد مجھے اس کے خراٹوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ مائیکل ابھی ادھورے لباس میں تھا، ایک پاؤں سے جوتا اتارا تھا اور دوسرے میں اب بھی پہنے ہوئے تھا کہ اسے نیند نے آ لیا۔
پہلے تو مجھے شدید غصہ آیا، پھر ایک عجیب سی شرمندگی محسوس ہوئی۔ میں نے سوچا: "کیا میں نے اس کے لیے اتنی تیاری کی تھی؟ میں ابھی جوان ہوں، مجھے اس وقت کہیں ڈانس کرنا چاہیے تھا نہ کہ ایک ایسے آدمی کی تیمارداری کرنی چاہیے جو جینے کے لیے ہمیشہ تھکا ہوا رہتا ہے۔"
میں اسے جھنجھوڑ کر اٹھانے ہی والی تھی اور چیخ کر بتانا چاہتی تھی کہ میں کتنا نظر انداز محسوس کر رہی ہوں، لیکن پھر اچانک میری نظر اس کے ہاتھوں پر پڑی اور میں رک گئی۔
وہ ہاتھ کھردرے تھے، ان کے جوڑ سوجے ہوئے تھے۔ چھوٹے چھوٹے پرانے زخموں پر نئے زخموں کے نشان تھے۔ کیمیکلز اور سرد ہوا کی وجہ سے اس کی جلد جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی۔ اچانک سچائی مجھ پر منکشف ہوئی۔ مجھے منگل کی وہ رات یاد آئی جب میں بلوں کی ادائیگی کی فکر میں رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی: "مائیکل! مجھے ڈر ہے کہ ہم اس مہنگائی میں کبھی اپنا گھر نہیں لے پائیں گے۔"
تب مائیکل نے انہی کھردرے ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھاما تھا، میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا: "سارہ! میں سب سنبھال لوں گا۔ تم بس مجھ پر بھروسہ رکھو، میں تمہیں تمہارے خوابوں کا گھر ضرور دوں گا۔"
وہ گندے ہاتھ لاپرواہی کی نہیں، بلکہ بے لوث محبت کی علامت تھے۔ مائیکل "بور" نہیں تھا اور نہ ہی وہ مجھے نظر انداز کر رہا تھا، بلکہ وہ اس کنسٹرکشن سائٹ پر اپنا خون پسینہ ایک کر رہا تھا۔ وہ ڈبل شفٹیں لگا رہا تھا، مہنگائی اور وقت کی تلخیوں سے لڑ رہا تھا تاکہ مجھ سے کیا گیا اپنا وعدہ نبھا سکے۔
جب میرے دوستوں کے بوائے فرینڈز محض چند گھنٹے "امیر" نظر آنے کے لیے اپنی پوری تنخواہ اڑا رہے تھے، مائیکل اپنا جسم توڑ کر ہمارے مستقبل کی مضبوط بنیادیں رکھ رہا تھا۔
میرا غصہ آنسو بن کر بہہ نکلا۔ میں نے اسے نہیں جگایا، بلکہ نہایت نرمی سے اس کا دوسرا جوتا بھی اتار دیا۔ اس پر گرم کمبل ڈالا، باتھ روم جا کر اپنا میک اپ صاف کیا اور خاموشی سے اس کے برابر لیٹ کر اس کی تھکی ہوئی کمر سے لپٹ گئی۔
حاصلِ کلام (سبق)
اس کہانی کا اختتام ہمیں زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت سے روشناس کراتا ہے:
ایک محنتی انسان سے محبت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک ایسی بصیرت رکھنے والی عورت چاہیے جو یہ سمجھ سکے کہ حقیقی کامیابی اور خوشحالی بڑی قربانی مانگتی ہے۔ وہ مرد جو آپ کو اپنا قیمتی وقت نہیں دے پا رہا، وہ دراصل آپ کو اپنا "مستقبل" دے رہا ہوتا ہے۔
یاد رکھیے! ایک ایسا مرد جس کے پاس ہر وقت آوارہ گردی اور پارٹی کرنے کے لیے توانائی ہو، وہ شاید آپ کو سوشل میڈیا کے لیے چند اچھی تصویریں تو دے سکتا ہے، لیکن ایک محنتی اور تھکا ہوا مرد آپ کو وہ چھت اور تحفظ فراہم کرے گا جس پر آپ کو تاحیات مان ہوگا۔ اس تھکے ہوئے مرد کی قدر کریں جو گھر لوٹ کر آپ کے سامنے سو جاتا ہے، کیونکہ اس کی تھکن آپ کے آرام اور سکون کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔
ایک مجبور لڑکی کی آپ بیتی
➤ مزید پڑھیں

