"دوستو! آنکھیں تو سب کے پاس ہوتی ہیں، لیکن بصیرت صرف چند لوگوں کو ملتی ہے۔ آج کی کہانی ایک ایسے اندھے فقیر کی ہے جس نے جنگل میں بیٹھے بیٹھے بنا دیکھے بادشاہ، وزیر اور غلام کی اصل اوقات بتا دی۔ آخر اس فقیر کے پاس ایسا کون سا علم تھا کہ اس نے قیمتی پتھر کے اندر چھپا کیڑا بھی دیکھ لیا اور پھر بادشاہ کو منہ پر 'کنجوس' کہہ کر دربار چھوڑ دیا؟ جانیے حکمت اور دانائی سے بھری اس حیران کن داستان میں۔۔۔"
کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک دن بادشاہ اپنے غلام اور وزیر کو ساتھ لے کر شکار پر نکلا۔ جنگل میں چلتے چلتے ایک ہرن ان کی نظروں کے سامنے آیا، انہوں نے اپنے گھوڑے دوڑا کر اس کے پیچھے لگا دیئے۔ شکار تو کچھ فاصلے کے بعد جنگل میں
غائب ہو گیا، لیکن یہ تینوں (بادشاہ، وزیر اور غلام ) ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔
وزیر اور غلام کو بادشاہ کی بہت فکر تھی، چنانچہ وہ اسے ڈھونڈ نے کے لیے جنگل میں الگ الگ راستوں پر روانہ ہو گئے۔ اسی جنگل میں ایک اندھا فقیر بھی رہتا تھا۔ جو دنیا ترک کر کے اس جنگل میں آکر بیٹھا تھا، وہ بھی اتفاق سے اسی راستے کے قریب رہتا تھا۔
جہاں سے غلام گزر رہا تھا۔ جب غلام فقیر کے پاس سے گزرا، تو اس نے آواز دے کر پوچھا: " اے اندھے ! کیا تو نے کسی بادشاہ کو یہاں سے جاتے ہوئے دیکھا ہے؟" فقیر نے فوراً جواب دیا: " نہیں اے غلام " !
یہ سن کر غلام آگے بڑھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہاں سے وزیر کا گزر ہوا، جس نے گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے ہی فقیر کو پکارا:
" اے اندھے میاں! کیا تم نے یہاں سے بادشاہ کو جاتے ہوئے
دیکھا ہے؟"
فقیر نے اسے جواب دیا: "اے وزیر! یہاں سے بادشاہ تو نہیں گزرا، لیکن تھوڑی دیر پہلے ایک غلام یہاں سے گزرا ہے۔ " وزیر بھی یہ سن کر آگے چلا گیا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اتفاق سے بادشاہ خود وہاں سے گزرا۔ اس نے گھوڑے سے اتر کر فقیر کے قریب جا کر نہایت ادب سے پوچھا: " اے اندھے شاہ! کیا میرے آدمی یہاں سے گزرے ہیں ؟" فقیر نے بھی نہایت ادب
سے جواب دیا: "جی ہاں بادشاہ سلامت ! تھوڑی دیر ہوئی ہے کہ یہاں سے پہلے ایک غلام اور پھر وزیر ، دونوں گزرے ہیں۔"
بادشاہ یہ سن کر حیران رہ گیا کہ اس اندھے فقیر نے ہمیں کیسے پہچان لیا۔
بادشاہ اس سے بہت متاثر ہوا اور اس سے پوچھا کہ تم کو ہماری حقیقت کیسے معلوم ہوئی۔
جس پر فقیر کہنے لگا: " بادشاہ سلامت! میں نے حقیقت میں ہر
ایک کو اس کی گفتگو سے پہچانا ہے۔ جب ایک شخص نے مجھے
صرف 'اوئے اندھے ! کہہ کر پکارا، تو میں جان گیا کہ یقینا یہ کوئی غلام ہے ، جو اپنی اوقات ظاہر کر رہا ہے۔
اس کے بعد شاید وزیر صاحب تھے، جنہوں نے مجھے اندھے میاں ' کہہ کر مخاطب کیا، اس لیے میں جان گیا کہ یہ ضرور کوئی سمجھدار اور نیک انسان ہے، تبھی میں نے انہیں 'وزیر کہہ کر جواب دیا۔ پھر آپ نے مجھے اندھے بادشاہ کہہ کر پکارا، جس سے میں جان گیا کہ یہ الفاظ خود بادشاہ کے منہ سے نکلے ہیں، اسی لیے میں نے آپ کو بادشاہ کہہ کر جواب دیا"۔ بادشاہ کو فقیر کا یہ جواب بہت پسند آیا اور اس نے کہا: "اے اندھے شاہ ! آپ اس جنگل کو کو چھوڑ دیں، ہم آپ کے کھانے پینے کے لیے روزانہ کا
وظیفہ مقرر کر دیتے ہیں"۔ پہلے تو اندھے نے انکار کیا لیکن بادشاہ کی اتنی ہمدردی دیکھ کر اندھا فقیر بادشاہ کے لشکر کے ساتھ وہاں سے چل پڑا۔ اب وہ فقیر روزانہ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہونے لگا۔ اس نے بھی شاہی لباس پہن لیا تھا اور اب وہ درباریوں میں شمار ہونے لگا تھا۔
ایک دن بادشاہ کے پاس ایک لعل قیمتی پتھر بکنے کے لیے آیا۔ بادشاہ نے کہا: " یہ لعل اندھے فقیر کو دکھاؤ، اگر وہ اسے پسند کرے گا تو ہم اسے خریدیں گے"۔ فقیر نے لعل کو چھو کر کہا:
" لعل تو بہت اچھا ہے، لیکن اس کے اندر ایک کیڑا ہے جو اسے اندر ہی اندر کھا رہا ہے "۔
بادشاہ نے فقیر سے پوچھا: " تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس لعل کے اندر کیڑا ہے ؟ " اندھے نے جواب دیا: " بادشاہ سلامت ! میں نے لعل کے وزن سے اندازہ لگایا ہے ؛
کیونکہ لعل دیکھنے میں تو بڑا لگ رہا ہے لیکن اس میں وزن بالکل نہیں ہے۔ اس لیے میں جان گیا کہ اس میں کیڑا ہے "۔ بادشاہ نے تسلی کے لیے جب وہ لعل توڑ کر دیکھا تو واقعی اس میں سے ایک کیڑا نکلا۔ بادشاہ اس کی عقلمندی پر بہت خوش ہوا اور حکم دیا
کہ آئندہ سے اندھے فقیر کا روزانہ کا وظیفہ دو روپے کی بجائے تین روپے کر دیا جائے اور اسے تینوں وقت شاہی کھانا دیا جائے۔ کچھ دنوں بعد بادشاہ کے پاس ایک خوبصورت عورت لائی گئی، جسے بادشاہ اپنے حرم میں شامل کرنا چاہتا تھا۔ بادشاہ نے اسے بھی پہلے فقیر کو دکھایا۔ فقیر نے اس کا جائزہ لینے کے بعد کہا: " یہ عورت بادشاہی گھرانے کے لائق نہیں ہے۔ اس میں تمام خوبیاں ہیں، لیکن یہ کسی مزدور پیشہ ور کی بیٹی معلوم ہوتی ہے "۔
بادشاہ نے حیرانی سے اس کی وجہ پوچھی تو فقیر نے جواب دیا: " جب میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، تو وہ ذرہ برابر بھی نہیں جھجکی اور خاموش کھڑی رہی۔ میں ایک غیر مرد اور اجنبی ہوں؟
کوئی بھی شریف اور خاندانی عورت کسی اجنبی مرد کے چھونے پر ایسا رد عمل کبھی ظاہر نہیں کرے گی۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ یہ کسی کی بیٹی ہے "۔
بادشاہ فقیر کے اس جواب سے بھی بہت متاثر ہوا اور اس کا وظیفہ بڑھا کر چار روپے کر دیا۔ یہ سن کر فقیر نے بادشاہ سے کہا: "اے بادشاہ! تم بھی کسی بخیل کنجوس کے بیٹے لگتے ہو ، تمہارے پاس نہ انصاف ہے اور نہ قدردانی۔ اگر تم سخی مرد ہوتے تو مجھے ان بڑے
کارناموں پر کوئی بڑا انعام دیتے، لیکن تم صرف ایک ایک روپیہ بڑھا رہے ہو"۔ یہ کہہ کر فقیر بادشاہ کو چھوڑ کر دربار سے چلا گیا۔
یہ کہانی یہ سبق سکھاتی ہے کہ بصیرت اور تجربہ انسان کو وہ کچھ دکھا دیتا ہے جو بظاہر آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتاتی ہے کہ ایک حقیقی سخی اور قدردان وہی ہے جو کسی کی قابلیت
کا مناسب صلہ دے۔
ختم شد

