السلام علیکم!
میں ہوں فرزانہ خان۔ آج میں آپ کے سامنے ایک ایسی کہانی پیش کرنے جا رہی ہوں جو محض ایک تخیل نہیں، بلکہ ایک لرزہ خیز حقیقت ہے۔ یہ کہانی ہمیں سندھ کے ایک رہائشی، عبدالماجد صاحب نے ارسال کی ہے، جو ان کے ساتھ پیش آنے والا ایک سچا واقعہ ہے۔ انہوں نے اپنی پرائیویسی کی خاطر شہر کا نام خفیہ رکھنے کی درخواست کی ہے، اس لیے ہم ان کے شہر کا نام ظاہر نہیں کر رہے۔
میں پورے دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ ایسی انوکھی اور خوفناک کہانی آج سے پہلے آپ نے کہیں نہیں سنی ہوگی۔ اس واقعے کا ایک ایک لفظ آپ پر خوف کی لہر طاری کر دے گا اور آپ کو بہت کچھ سوچنے اور سیکھنے پر مجبور کر دے گا۔
میری آپ سے گزارش ہے کہ اس ویڈیو کو آخر تک لازمی سنیے گا اور کمنٹ کر کے ہمیں ضرور بتائیے گا کہ آپ کو یہ کہانی کیسی لگی۔ آپ کے کمنٹس ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔
تو آئیے، اس سنسنی خیز اور خوفناک واقعے کا آغاز کرتے ہیں...
میرا نام ماجد ہے اور یہ میری زندگی کا وہ سچ ہے جو آج بھی میرے سینے میں ایک بوجھ بن کر موجود ہے۔ بچپن سے ہی میں ایک نہایت خاموش، نرم مزاج اور سادہ لوح لڑکا تھا۔ لوگ اکثر مجھے ٹوکتے تھے کہ "ماجد! تھوڑے چالاک بنو، اس دنیا میں اتنا بھولا اور معصوم ہونا بھی ٹھیک نہیں ہے۔" مگر میں اپنی ہی دھن میں مگن رہتا۔
میں نے اپنی ابتدائی تعلیم ایک ہی اسکول سے حاصل کی، جہاں سب کچھ بہت سکون سے چل رہا تھا۔ لیکن پھر پتہ نہیں مجھ پر کون سی منحوست چھا گئی کہ میں نے پانچویں جماعت کے بعد وہ اسکول چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ میری امی نے مجھے بہت سمجھایا، منتیں کیں کہ بیٹا یہ فیصلہ نہ کرو، مگر میری ضد کے آگے کسی کی نہ چلی۔ میں نے نیا اسکول جوائن کر لیا۔
وہاں کا ماحول میرے پچھلے اسکول سے بالکل مختلف تھا۔ لڑکے بہت جھگڑالو اور بدتمیز تھے، لیکن چونکہ میں پڑھائی میں اچھا اور Mizaj میں خاموش تھا، اس لیے جلد ہی اساتذہ کی نظروں میں آگیا۔ ٹیچرز میری تعریفیں کرتے نہیں تھکتی تھیں کہ "کتنا پیارا اور ہوشیار بچہ ہے"۔ لیکن میری یہی معصومیت اور اساتذہ کی توجہ میرے ایک ہم جماعت (Classmate) کو ایک آنکھ نہ بھائی۔
وہ لڑکا انتہائی حاسد اور zehrili فطرت کا مالک تھا۔ اسے یہ برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ ایک نیا آنے والا لڑکا سب کی توجہ کا markaz کیسے بن گیا۔ اس نے مجھ سے حسد کرنا شروع کر دیا، لیکن اس کا طریقہ بہت ہی بھیانک تھا۔
اس نے مجھ سے منافقانہ اور جھوٹی دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ میں، جو لوگوں کی فطرت کو سمجھنے سے قاصر تھا، اسے اپنا مخلص دوست سمجھ بیٹھا۔ اور پھر... اس نے آہستہ آہستہ مجھے ذہنی طور پر پریشان کرنا اور میری زندگی کو تلخ بنانا شروع کر دیا...
میں چونکہ گھر سے بہت کم باہر نکلتا تھا، دنیا داری اور ایسے شاطر لوگوں سے نمٹنے کے طریقوں سے بالکل ناواقف تھا۔ مجھے سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ اس زہریلے انسان کو کیسے ہینڈل کروں۔ اس کا خوف میرے دل میں اس قدر گہرائی تک بیٹھ گیا تھا کہ میں نے اپنے امی ابو سے بھی یہ بات چھپائے رکھی کہ اسکول میں میرے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ہانڈی کا عمل
چھٹی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک... پورے تین طویل سال اس zaalim نے مجھے مسلسل اپنا نشانہ بنائے رکھا۔ میں تنہائی میں گھنٹوں روتا رہتا، گھٹ گھٹ کر جیتا رہا کہ آخر یہ مجھے ہی کیوں اتنا تنگ کرتا ہے؟
خیر، وہ اسکول آٹھویں جماعت تک ہی تھا۔ جیسے ہی اسکول ختم ہوا، تو میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا، اور ایک انجانا سا خوفناک بدلاؤ آیا۔ وہ ہوا جو کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میرے اس معصوم اور ڈرے ہوئے دل میں انتقام کی ایک ایسی بھڑکتی ہوئی آگ جل اٹھی جس نے میری سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں ختم کر دیں۔ میں نے تہیہ کر لیا کہ اب میں خاموش نہیں رہوں گا، میں بھی اس سے اپنا بدلہ لے کر رہوں گا۔
شروع میں تو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کروں، لیکن نفرت انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ میری تلاش مجھے یوٹیوب کی تاریک گلیوں میں لے گئی، جہاں میری نظر ایک ایسے نام نہاد "پیر" کی ویڈیو پر پڑی جو دشمن سے بدلہ لینے کے لیے کالا جادو سکھا رہا تھا۔
میں نے بنا کسی کو بتائے، انتہائی razdaari سے اس پیر سے رابطہ کیا۔ اس شخص نے مجھے ایک نہایت خوفناک اور شیطانی عمل بتایا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اس عمل کے ذریعے میرے دشمن کا پیشاب بند ہو جائے گا اور وہ تکلیف سے پاگل ہو جائے گا۔
اس نے مجھے ایک خاص 'نقش' بنانے کو کہا اور ساتھ ہی ایک انتہائی عجیب و غریب اور دل دہلا دینے والا حکم دیا: "ایک بھنڈی (Ladyfinger) لو، اس میں بے شمار سوئیاں چھبھو دو، پھر اسے کالے کپڑے میں لپیٹ کر ایک خاص منتر پڑھو۔ اور آخر میں، ان دونوں منحوس چیزوں کو قبرستان میں جا کر دفن کر دو۔"
میں انتقام کی آگ میں اتنا اندھا ہو چکا تھا کہ مجھے اچھے برے کی tameez نہیں رہی۔ میں نے ویسا ہی کیا جیسا اس پیر نے کہا تھا۔ میں نے وہ نقش اور سوئیاں بھری بھنڈی تیار کی، اور پھر رات کے اندھیرے میں، اپنے گھر والوں سے چھپ کر، قبرستان کی ویران اور خاموش مٹی میں وہ دونوں چیزیں دفن کر آیا۔
اور اس وقت میری عمر صرف 15 سال تھی۔ اس عمل کے بعد میں نے اپنے دشمن کی تباہی کا انتظار کرنا شروع کر دیا، لیکن میرے دشمن کو تو کچھ نہ ہوا، الٹا میں خود اس کالے جادو کی زد میں آ گیا۔
شروع کے کچھ مہینے تو آرام سے گزر گئے، پھر آہستہ آہستہ اس کالے جادو کے عمل نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا۔ میں ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہو گیا کہ میں خود سے باتیں کرنے لگا۔ مجھے کانوں میں عجیب و غریب آوازیں آتی تھیں اور ہر طرف سائے دکھائی دیتے تھے۔ میرے دماغ میں ایسے لوگ آتے تھے جن سے میں (خیالی طور پر) لڑائی کرتا تھا اور خود ہی باتیں کرتا رہتا۔ لوگ مجھے دیکھ کر حیران ہوتے اور پوچھتے تھے کہ "یہ لڑکا آخر کس سے باتیں کر رہا ہے؟"
میری امی اور ابو نے میرا ڈاکٹروں سے بہت علاج کروایا لیکن میں ٹھیک نہ ہوا۔ پھر حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ آہستہ آہستہ مجھے مرگی کے دورے پڑنے لگے۔ دورے کے دوران میرے دانت آپس میں بھینچ جاتے (مل جاتے) اور میرے ہاتھ پیر مڑ جاتے۔ گھر والے میری یہ حالت دیکھ کر سخت پریشان تھے، مگر کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔
پھر ایک رات میرے ابو کو ایک خواب آیا۔ میرے ابو کے خواب میں ایک بزرگ آئے جنہوں نے ان سے کہا کہ "آپ کے بیٹے نے قبرستان میں جا کر کالا جادو کیا ہے، اسی لیے اس کا یہ حال ہے"۔ جب ابو نے مجھ سے اس خواب کے بارے میں پوچھا اور سختی سے تفتیش کی، تو میں نے سب سچ سچ بتا دیا کہ "ہاں! یہ بات سچ ہے، میں نے ہی وہ عمل کیا تھا"۔
اس کے بعد میرے ابو نے ایک مولوی صاحب سے میرا باقاعدہ علاج کروایا (کاٹ کروائی) اور اب اللہ کے کرم سے میں بالکل ٹھیک ہوں۔ اگر میرے ابو میرا علاج نہ کرواتے تو آج میں پوری طرح پاگل ہو چکا ہوتا، جس کا zimaydaar صرف وہ peer ہوتا جو یوٹیوب پر بچوں کو ایسے شیطانی عملیات سکھاتا تھا۔
میری آپ سب سے Guzarish ہے: پلیز اپنے بچوں پر nazar رکھیں۔ میں نے اس peer کی ویڈیو کے نیچے بہت سے ایسے کمنٹس پڑھے تھے جس میں چھوٹے چھوٹے بچے اس سے ایسے گندے عمل کرنے کی اجازت مانگ رہے تھے۔ آج کل انٹرنیٹ پر کالا جادو بہت عام ہو چکا ہے، اس لیے اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر nazar رکھنا بہت ضروری ہے۔
شکریہ۔
Dear friend's!
عبدالماجد صاحب کی یہ آپ بیتی ہم سب کے لیے ایک بہت بڑی عبرت ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ غصہ اور انتقام کی آگ انسان کو اندھا کر دیتی ہے، اور ایک غلط قدم پوری زندگی کو جہنم بنا سکتا ہے۔
آج کل سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو معصوم zahno کو گمراہ کر کے انہیں تباہی کے راستے پر ڈال رہے ہیں۔ میری تمام والدین سے دوبارہ گزارش ہے کہ اپنے بچوں کے موبائل فون اور ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں، تاکہ کل کو کسی اور کا بچہ اس طرح کی ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار نہ ہو۔
اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور ہر قسم کے شر اور شیطانی اعمال سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
آپ کو عبدالمجید صاحب کی یہ سچی کہانی کیسی لگی؟ کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئے گا اور اگر آپ کے پاس بھی کوئی ایسا سچا واقعہ ہے جو آپ دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں ضرور ارسال کریں۔
ویڈیو پسند آئی ہو تو اسے لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ دوسرے بھی اس سے سبق حاصل کر سکیں۔ مزید سچی اور سبق آموز کہانیوں کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کرنا نہ بھولیں۔
اگلی کہانی تک کے لیے اپنی میزبان فرزانہ خان کو اجازت دیجئے۔
اللہ حافظ و ناصر!
نوٹ: اگر اپ یہ ہے اس طرح کی کہانیاں اواز میں سننا چاہتے ہیں تو ہمارے چینل کو ضرور وزٹ کریں 👇👇
@KarimVoice

