فتنہ سامان۔
تیسری قسط۔
قانونی پیچیدگیاں، عدالتی کارروائی کے اہم رموز و نکات۔
زن، زر اور زمین کے تنازعوں میں جنم لینے والے مقدمات۔
راوی ...... مرزا امجد بیگ (ایڈووکیٹ)۔
تحریر ..... حسام بٹ۔
میں اپنے شوہر سے بے وفائی نہیں کر سکتی۔" وہ باقاعدہ رونے لگی تھی۔
میں کیسے تمہارے ساتھ ایسا کوئی نازیبا تعلق رکھ سکتی ہوں؟؟ جیسے میرے ساتھ رہتے ہوئے دوسروں کے ساتھ رکھے ہوئے تھیں۔" نجیب نے زہر خند لہجے میں کہا۔ ”اس وقت تمہیں رونا نہیں آتا تھا۔ اب ٹسوے بہا رہی ہو۔ میں ان مگر مچھوں کے آنسوؤں سے متاثر ہونے والا نہیں ہوں۔ تمہیں وہی کرنا ہوگا جو میں نے کہا ہے ورنہ .....
نجیب نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ صاعقہ نے جلدی سے پوچھا ”ورنہ تم کیا کرو گے؟" اس کے لہجے کا کھوکھلا پن عیاں تھا۔
میں تمہاری بے وفائی کی داستان تمہارے موجودہ شوہر کو سنا دوں گا۔" صاعقہ نے پر اعتماد لہجے میں کہا ” اس سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ میرا شوہر تمہاری بات کو کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ وہ مجھے دل و جان سے عزیز رکھتا ہے۔ مجھ سے محبت کرتا ہے میری پرستش کرتا ہے۔"
" یہ ناممکن ہے۔" نجیب نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ "ایسا نہیں ہو سکتا۔"
" کیوں؟" اس لیے کہ تمہارا موجودہ شوہر اگر .... ایک محبوب کی حیثیت سے تمہیں چاہتا تو وہ ہرگز تم سے شادی نہیں کرتا کیونکہ..... خیر چھوڑ اب ان باتوں میں کیا رکھا ہے۔ میں تمہارے سابق شوہر کی حیثیت سے بخوبی واقف ہوں کہ تم کبھی میری وفادار نہیں رہی ہو۔ میں انتہائی نالائق، احمق اور گدھا تھا جو روز تمہاری ٹھکائی کرتا رہتا تھا مگر وہ مار میری اس ذاتی تذلیل کا نعم البدل نہیں ہو سکتی تھی جو تم نے مجھ سے بے وفائی کرکے کی تھی اور نہ وہ میری خوشیوں اور مسرتوں کے ان لمحات کا ہرجانہ ہو سکتی ہے جو تم نے میرے بجائے غیر مردوں کے حوالے کئے۔ اس لیے اب میں اپنے ان گم گشتہ لمحات کا حساب بے باق کرنا چاہتا ہوں۔"
"تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔" صاعقہ کے لہجے سے بیزاری عیاں تھی۔ ”بالکل نہیں۔" نجیب نے مضبوط لہجے میں کہا ”میں بالکل نارمل ہوں۔ جس وقت تم میری بیوی تھیں، اس وقت تمہارے بدن کی مہک ، تمہاری محبت کی چاشنی اور تمہاری سانسوں کی گرمی تمہارے پاس میری امانتیں تھیں جن میں تم بے دریغ خیانت کرتی رہیں۔ میں ان خیانتوں کا حساب اپنا کھویا ہوا حق طلب کرتا ہوں اور تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ یہ سب کچھ انتہائی رازداری سے ہوگا۔"
پھر چند لمحوں کے لیے ڈرائنگ روم میں سکوت چھا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس سکوت کو نجیب کی بھاری گونجدار آواز نے توڑا۔ وہ کہہ رہا تھا میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آج کل کس کس شخص سے تمہارے ناجائز تعلقات ہیں۔ تمہیں تو صرف شوہر کی ایک آڑ چاہئے جس کے پس پردہ تم اپنا کھیل کھیلتی رہو۔ کہو تو تمہارے موجودہ طلب گاروں کے نام گنوا دوں؟"
اگر میں تمہارا مطالبہ تسلیم کرلوں تو " صاعقہ نے شکست خوردہ انداز میں اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ اس نے ہتھیار پھینک دیئے تھے۔
تو میری محبت کی تکمیل ہو جائے گی۔ " نجیب نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔" صاعقہ نے لگاوٹ سے کہا۔ اس کے ہراساں لہجے میں شگفتگی عود کر آئی تھی۔ " تمہیں کبھی مجھ سے محبت نہیں رہی۔"
" تم نے کبھی میری محبت کو محسوس کرنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔" پھر خاموشی چھا گئی اور کچھ معنی خیز قسم کی آوازیں آتی رہیں۔ کاشف کے لیے یہ بڑے صبر آزما لمحات تھے۔ صاعقہ نے اس کی حقیقی ماں کو گھر سے بے گھر کر دیا تھا۔ اس کے باپ نے ایک ایسی عورت کے لیے اس کی ماں کو گھر سے نکال دیا تھا جو سراپا گناہ تھی۔ کاشف کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ابھی کمرے میں جائے اور اس بدکردار عورت کا گلا گھونٹ دے مگر اس نے اپنے جذبات پر قابو رکھا۔ وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتا تھ جس سے الٹی آنتیں گلے کو آجائیں۔ وہ کوئی انتہائی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک مرتبہ اپنے باپ سے بات کر لینا چاہتا تھا۔ وہ جگ ہنسائی سے ڈرتا تھا۔ وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ اندر سے نجیب کی آواز ابھری۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا ”اچھا اب میں چلتا ہوں۔ کاشف کے آنے میں اب تھوڑا وقت باقی رہ گیا ہے۔ مناسب موقع دیکھ کر پھر آؤں گا۔ راز کو راز رکھنے ہی میں تمہارا فائدہ ہے۔ اچھا اللہ حافظ !" کاشف چپکے سے باہر نکل آیا۔ پھر محتاط انداز میں دروازہ بند کرکے بے مقصد گلیوں میں آوارہ گردی کرنے لگا۔ اس کے ذہن میں ایک الاؤ سا روشن تھا اور خون میں ایک لاوا سا دوڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کی سوتیلی ماں اس گھر میں اتنا گھناؤنا کھیل کھیل رہی تھی اور اسے خبر تک نہ تھی۔ لیکن نہیں، اب تو اسے خبر ہو چکی۔ وہ ساری صورتحال سے آگاہ ہو چکا تھا۔ اس نے اسی رات اپنے باپ سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
وہ گھر پہنچا تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ دروازہ صاعقہ نے ہی کھولا تھا۔ کاشف معمول کے مطابق کچن میں جا کر کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا۔ اس نے اپنے کسی عمل سے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ صاعقہ کی اصلیت سے واقف ہو چکا تھا۔ دو چار لقمے زہر مار کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگیا اور بیڈ پر لیٹ کر باپ کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ صاعقہ اس دوران میں اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔ کاشف انہی سوچوں میں غرق تھا کہ اسے پتہ بھی نہ چلا کب اس کی آنکھ لگ گئی۔ پھر اس کی آنکھ دوسری صبح ہی کھلی تھی۔ وہ اسپتال جانے کے لیے جلدی گھر سے نکلتا تھا۔ اس وقت اس کا باپ سو رہا تھا۔ وہ دیر تک سونے کا عادی تھا۔ کاشف نے سوچا، اسپتال سے واپس آنے کے بعد وہ باپ سے بات کرے گا۔ اس نے ناشتہ کیا اور اسپتال چلا گیا۔
اسپتال سے آنے کے بعد اس نے تمام کتھا عبدالوہاب کے گوش گزار کر دی۔ عبد الوہاب نے گھر میں ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ وہ کسی بھی طرح یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا کہ اس کی چہیتی بیوی اس حد تک جا سکتی ہے۔ صاعقہ نے پوری طرح اس کے ذہن کو مسخر کر رکھا تھا۔ اس کی ہر بات عبدالوہاب کے لیے حکم کا درجہ رکھتی تھی۔ باپ بیٹے میں سخت تلخ کلامی ہوئی۔ کاشف نے اس روز بڑی تلخ گفتگو کی۔
صاعقہ نے روتے ہوئے عبدالوہاب سے کہا " آپ کا صاحبزادہ مجھ پر اتنی بڑی تہمت لگا رہا ہے۔ میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔ آپ مجھے کہیں سے زہر لا دیں۔ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتی۔ اس سے تو بہتر تھا کہ یہ مجھے گولی مار دیتا۔ میں مر جاتی، قصہ ہی ختم ہو جاتا۔ اس کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ جاتی۔" .
کاشف نے غصیلے لہجے میں کہا ”اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو میں خود تمہیں موت کے گھاٹ اتار دوں گا۔"
دیکھ رہے ہیں آپ۔" وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی یہ مجھے قتل کی دھمکی دے رہا ہے اور آپ خاموشی سے سب کچھ سن رہے ہیں۔" میں دھمکی ہی نہیں دے رہا ہوں بلکہ اس پر عمل بھی کر گزروں گا۔" کاشف نے پر جوش لہجے میں کہا ”میں اپنے گھر کو چکلا نہیں بننے دوں گا۔"
تم کیا بکواس کر رہے ہو کاشف ؟" عبدالوہاب نے ڈانٹ کر کہا "کوئی سنے گا تو کیا کہے گا؟ تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آتی؟" وہ ترکی بہ ترکی بولا "شرم آرہی ہے، اسی لیے یہ سب کہہ رہا ہوں ورنہ خاموش ہی رہتا۔ جس طرح آپ سب کچھ سننے کے بعد خاموش ہیں۔ آپ کی زبان سے ایک لفظ نہیں نکلا اپنی بیوی کے خلاف۔" "یا اللہ مجھے موت دے دے۔" صاعقہ کی رقت بھری آواز ابھری اب میرے کان اور کیا کیا سنیں گے میرے مولا۔"
تم اندر اپنے کمرے میں جاؤ" عبدالوہاب نے صاعقہ سے کہا ” میں کاشف سے بات کرتا ہوں۔" صاعقہ چلی گئی تو باپ نے بیٹے سے کہا " مجھے سخت افسوس ہے کاشف مجھے تم سے ایسی امید نہیں تھی۔ میں جانتا ہوں، تم صاعقہ سے نفرت کرتے ہو اور اس کی وجہ بھی جانتا ہوں کہ اس نے تمہاری ماں کی جگہ لے لی ہے مگر احمق اتنا تو سوچو کہ اس میں صاعقہ کا کیا قصور ہے؟ اگر تمہیں نفرت کرنی ہی ہے تو مجھ سے کرو۔ صاعقہ پر ایسے گھناؤنے الزام لگانے سے تمہیں کیا حاصل ہو جائے گا؟" میں نے کسی پر کوئی الزام نہیں لگایا جو حقیقت ہے وہ بیان کی ہے۔" کاشف نے جذبات سے عاری لہجے میں کہا اگر آپ میں حقیقت سننے کا حوصلہ نہیں ہے تو کان بند کر لیں۔ آپ کی آنکھیں اسی وقت کھلیں گی جب دنیا والے جوتے ماریں گے۔" تھوڑی سی بحث و تمحیص کے بعد بات آئی گئی ہو گئی۔ کاشف نے خاموشی اختیار کر لی۔ ماموں کے حسب ہدایت وہ مناسب موقع کا انتظار کرنے لگا۔ اسے یقین تھا کہ ماموں جلد ہی اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔ پھر اس سے قبل کہ ماموں کریم بخش اس مسئلے کا کوئی مناسب حل نکالتے ، یہ واقعہ پیش آگیا جس کے سبب کاشف آج حوالات میں بند تھا۔
کاشف کی اپنے باپ عبدالوہاب سے ہونے والی جھڑپ کو آٹھ دس روز گزر چکے تھے۔ ایک رات کاشف حسب معمول ساڑھے دس بجے کلینک بند کر کے گھر آیا۔ اس وقت صاعقہ گھر میں اکیلی ہوتی تھی۔ عبدالوہاب اپنے ٹھیلے پر مصروف ہوتا تھا۔ خلاف معمول گھر کا بیرونی دروازہ اندر سے بند نہیں تھا۔ بس وہی معمولی سی چٹنی لگی ہوئی تھی۔ کاشف کے کان کھڑے ہو گئے۔ اس کے ساتھ چند روز پہلے بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش
آچکا تھا جس کے نتیجے میں اسے اپنی سوتیلی ماں کا مکروہ چہرہ نظر آگیا تھا۔ اس نے بہ آہستگی گھر میں داخل ہو کر دروازے کو اندر سے کنڈی لگا دی۔ اب یہ دروازه صرف اندر ہی سے کھولا جا سکتا تھا۔ تھوڑی دیر تک وہ ڈرائنگ روم کی بیرونی کھڑکی کے ساتھ کان لگائے سن گن لیتا رہا مگر کوئی آواز سنائی نہ دی۔ گھر پر سناٹا چھایا ہوا تھا اور کسی ذی نفس کے آثار دکھائی نہیں دیتے تھے۔ وہ باتھ روم کے پاس سے گزر کر اپنے کمرے میں آگیا۔ اس نے کمرے کی لائٹ آن کی تو اسے اپنے بستر کو دیکھ کر ایک جھٹکا سا لگا۔ کوئی چادر تانے اس کے بستر پر سو رہا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر چادر کو تھوڑا سا ہٹا کر دیکھا تو بھونچکا سا رہ گیا۔ کافی دیر تک تو اس کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ اس کے ساتھ کیا ماجرا پیش آچکا ہے۔ بستر پر سے کوئی چیز اسپرنگ کے مانند اچھل کر اس سے لپٹ گئی تھی اور اپنے نکیلے ناخنوں سے اس کے چہرے کو نوچ رہی تھی۔ کاشف کے ہوش ذرا ٹھکانے آئے تو اس نے اس چیز کو پہچان لیا۔ وہ صاعقہ تھی۔۔۔۔
اس کی سوتیلی ماں۔ وہ جنونی انداز میں چیخ رہی تھی اور ساتھ ہی دونوں ہاتھوں سے کاشف کو بھی ادھیٹر رہی تھی۔ اس کا لباس جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا اور نچلا دھڑ بڑی حد تک برہنہ ہو رہا تھا۔ اسی دوران میں بیرونی دروازے پر بھاگتے ہوئے قدموں کی آوازیں سنائی دیں۔ شاید صاعقہ کی چیخیں محلے والوں نے سن لی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے کوئی درجن بھر افراد اس کمرے میں جمع ہو گئے۔ اس اچانک پڑ جانے والی افتاد نے کاشف کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔ پھر ٹھیک آدھے گھنٹے کے بعد پولیس وہاں موجود تھی۔
صاعقہ نے پولیس کو بیان دیا تھا "کاشف آج خلاف معمول کلینک سے جلدی آگیا تھا۔ عام طور پر وہ ساڑھے دس بجے تک آتا ہے۔ وہ مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ قبل گھر آیا تو میں نے اس کی وجہ دریافت کی۔ اس نے بتایا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، اس لیے آج کلینک جلدی بند کر دیا ہے۔ میں نے طبیعت کی ناسازی کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ اس کے سر میں ہلکا ہلکا درد ہو رہا ہے۔ پھر اس نے مجھ سے کہا کہ میں اس کے لیے چائے بنا دوں۔ میرا خود بھی اس وقت چائے پینے کا موڈ ہو رہا تھا۔ میں نے ایک کے بجائے دو پیالی چائے تیار کر لی اور چائے لے کر اس کے کمرے میں چلی آئی۔ میں نے دونوں پیالیاں میز پر رکھ دیں تو کاشف نے کہا کہ اسے ایک گلاس پانی چاہئے۔ وہ سر درد کی گولی کھانا چاہتا ہے۔ میں پانی لے کر واپس آئی، اس نے پانی سے ایک گولی نگل لی۔ پھر ہم دونوں اپنی اپنی چائے پینے لگے۔ میری پیالی ابھی آدھی ہی ہوئی تھی کہ مجھے اپنا سر کچھ بھاری بھاری سا محسوس ہوا۔ میں نے کاشف سے اپنی کیفیت کا تذکرہ کیا تو اس نے کہا کہ یہ کوئی ایسی خاص بات نہیں ہے، میں چائے پی لوں۔ میں نے اس کی ہدایت پر عمل کیا مگر مزید ایک دو گھونٹ سے زیادہ نہ لے سکی۔ مجھ پر غنودگی سوار ہو رہی تھی۔ پھر میں بے سدھ ہو گئی۔ میری بے ہوشی کے دوران میں ہی اس شیطان نے مجھ پر مجرمانہ حملہ کیا۔ پھر جب مجھے ہوش آیا تو یہ منحوس شخص مجھے بے آبرو کر چکا تھا۔ میں نے ہوش میں آتے ہی اسے خود پر جھکے ہوئے دیکھا۔ اپنی پامالی کا احساس ہوتے ہی میں آپے سے باہر ہو گئی۔ اس وقت مجھ پر ایک جنون سوار تھا اور میں اس خبیث کو بری طرح نوچ رہی تھی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب نے دیکھا ہے۔"
اپنا بیان مکمل کرنے کے بعد وہ سسک سسک کر رونے لگی۔
کمرے میں رکھی ہوئی میز پر چائے کی دو پیالیاں موجود تھیں جن میں سے ایک خالی تھی جبکہ دوسری میں چند گھونٹ چائے بچی ہوئی تھی۔ بستر کی اجلی چادر پر چند دھبے نظر آرہے تھے۔ کاشف نے کاٹن کا جو کرتہ پہن رکھا تھا، اس کے دامن پر خون کا ایک بڑا دھبہ موجود تھا۔ پولیس نے فوری طور پر مشیر نامہ (جائے وقوعہ کا نقشہ تیار کیا، پھر بستر کی چادر کاشف کا کرتہ اور چائے کی دونوں پیالیاں اپنے قبضے میں کرلی تھیں۔ اس کے بعد صاعقہ کو میڈیکل چیک اپ کے لیے اسپتال بھجوا دیا تھا اور کاشف کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
داستان کاشف بہ زبان کاشف سننے کے بعد مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اسے کسی سازش کے تحت پھنسایا گیا تھا اور اس سازش میں صاعقہ پوری طرح ملوث تھی۔ اس نے پولیس کو جو بیان دیا تھا اس سے بھی یہ بات ظاہر ہو رہی تھی۔ خاص طور پر اس نے کاشف کی آمد کا جو وقت بتایا تھا، وہ بالکل غلط تھا۔ کاشف کو بے گناہ ثابت کرنا اتنا آسان بھی نظر نہیں آرہا تھا، تاہم میں نے سوچ لیا تھا کہ اسے اس گہری سازش کے جال سے نکالنے کی پوری کوشش کروں گا۔
حدود آرڈینینس کی زیر دفعات جو کیس عدالت میں زیر سماعت ہوتے ہیں اور اس دوران میں جو باتیں زیر بحث آتی ہیں، جرح میں جس نوعیت کے سوالات پوچھے جاتے ، خصوصاً مبینه مظلومہ سے وکلاء حضرات جس قدر نازک قسم کے سوالات کرتے ہیں۔ وہ سب من و عن ان صفحات پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے میں بھی ان تمام باتوں کو مختلف اشاروں کنایوں کی مدد سے بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ مجھے امید ہے، اگر آپ نے انتہائی توجہ سے اس کیس کا مطالعہ کیا تو آپ یقینا بات کی تہ تک پہنچ جائیں گے۔ میں نے بریف کیس کھول کر وکالت نامہ نکالا اس پر کاشف کے دستخط لئے۔ پھر اس سے استفسار کیا اس کیس کے سلسلے میں ڈاکٹر سہیل عمر تمہاری ضمانت لینے کے لیے تیار ہیں مگر مجھے کم از کم چار ایسے گواہ چاہئیں جو تمہارے بے داغ کردار کی گواہی دے سکیں۔ اگر یہ لوگ تمہارے رشتے دار یا قریبی عزیز نہ ہوں تو اچھا ہے۔ کیا تم ایسے افراد کی نشاندہی کر سکتے ہو؟"ایک تو ڈاکٹر سہیل عمر صاحب ہی ہیں۔" وہ کچھ دیر تک سوچنے کے بعد بولا۔ ویسے ہمارے کلینک پر آنے والے بہت سے معتبر مریض بھی میرے مضبوط کردار کی شہادت دے سکتے ہیں۔ پھر اسپتال کے کئی ڈاکٹر بھی میرے حق میں گواہی دیں گے۔" "تو پھر ٹھیک ہے۔" میں نے کہا، پھر پوچھا ”تمہاری نظر میں کوئی ایسا شخص ہے جو اس بات کی تصدیق کر سکے کہ تم نے وقوعہ کی رات ساڑھے دس بجے ہی کلینک بند کیا تھا؟ میں نے اس کی آنکھوں میں الجھن تیرتے ہوئے محسوس کی تو جلدی سے اپنی بات کی وضاحت کی ”میرا مطلب ہے ڈاکٹر سہیل عمر کے علاوہ کوئی شخص؟
وہ میری بات کا مطلب سمجھ گیا بولا ”ہاں وکیل صاحب! ہمارے کلینک کے سامنے عبدالشکور نامی ایک شخص چکن کارن سوپ لگاتا ہے۔ کلینک بند کرنے کے بعد میں نے اس سے ایک پیالہ سوپ کا پیا تھا۔ سردیوں میں یہ معمول ہے۔ اس سے بھوک کھل کر لگتی ہے۔ عبدالشکور گواہی دے سکتا ہے۔" اب بات بن جائے گی۔" میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔ "میں تمہاری ضمانت کے کاغذات تیار کر لیتا ہوں۔ اب انشاء اللہ کورٹ میں ملاقات ہوگی۔ تم بالکل پریشان نہیں ہونا انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔"
تھینک یو وکیل صاحب " وہ تشکر آمیز لہجے میں بولا۔
میں وہاں سے تھانہ انچارج کے کمرے میں آیا۔ پھر اس کیس کے تفتیشی افسر سے ملا۔ تفتیشی افسر ایک سب انسپکٹر تھا۔ رسمی کلمات کے تبادلے کے بعد میں نے اس سے دریافت کیا " آپ نے ملزم پر کون سی دفعہ لگائی ہے؟" اس نے جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کر دیا "بیگ صاحب! آپ ایک منجھے ہوئے وکیل ہیں۔ آپ کے خیال میں ہمیں کون سی دفعہ لگانا چاہئے؟" میں نے کہا ملزم صحت جرم سے انکاری ہے اور وہ با اختیار عدالت کے روبرو بھی اس جرم کا اعتراف نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ آپ چار صادق العقول، متقی، پرہیز گار اور باکردار مسلمان عینی گواہوں کا انتظام بھی نہیں کر سکیں گے۔ اس صورت میں دفعہ آٹھ تو لگ نہیں سکتی۔ آپ زیادہ سے زیادہ دفعہ دس لگا لیں گے۔ کیا میرا خیال درست ہے؟"۔
آپ سمجھدار آدمی ہیں۔" وہ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے بولا "ہم سے بھلا کیا پوچھتے ہیں؟"
میں نے سب انسپکڑ سے پوچھا "ڈاکٹری رپورٹ کیا کہتی ہے؟" اس نے بتایا "ڈاکٹری رپورٹ ملزم کے خلاف جاتی ہے۔ مظلومہ صاعقہ پر مجرمانہ حملے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ بستر کی چادر اور لڑکی کے جسم پر آلودگی کے دھبے پائے گئے ہیں۔
ملزم کے کرتے پر خون کا دھبہ پایا گیا ہے۔" کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ بتاتی ہے کہ لڑکی کو چائے میں نشہ پلایا گیا ہے۔ چائے کی ایک پیالی میں نشہ آور دوا کی معقول مقدار پائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی ایسی باتیں بھی تھیں جن کا ذکر مناسب نہیں ہے۔
میں اس سازش کی تہ تک پہنچ چکا تھا۔ بس چند کڑیاں ملانا باقی تھیں۔ میں نے تفتیشی افسر کو مزید کریدنے کی کوشش کی مگر وہ اس سے زیادہ کھلنے پر آمادہ نظر نہیں آیا۔ چنانچہ میں نے اپنا وقت برباد کرنا مناسب نہ جانا اور وہاں سے چلا آیا۔
دوسرے روز میں نے ڈاکٹر سہیل عمر کو فون کیا۔ ڈاکٹر صاحب! تین روز کے بعد پولیس کاشف کو عدالت میں پیش کرے گی۔ میں نے کیس کی مکمل اسٹڈی کرلی ہے۔ میں پہلی ہی پیشی پر اس کی ضمانت کروانا چاہتا ہوں۔"
ٹھیک ہے، آپ درخواست ضمانت دائر کر دیں۔"
اس کے لیے مجھے آپ کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہوگی۔" میں نے کہا۔ وہ شائستہ لہجے میں بولا ” میں حاضر ہوں۔ اس سلسلے میں آپ بالکل بے فکر رہیں۔" ڈاکٹر صاحب! ضمانت کے علاوہ مجھے کچھ لوگوں کی گواہی کی ضرورت بھی ہو گی۔" پھر میں نے اسے کاشف کے بتائے ہوئے چند نام نوٹ کروا دیئے۔ ”یہ لوگ بوقت ضرورت عدالت میں کاشف کے نیک چال چلن کی تصدیق کریں گے۔"
اس کا انتظام ہو جائے گا۔"
"آپ کے کلینک کے سامنے عبدالشکور نامی ایک شخص چکن کارن سوپ بیچتا ہے۔" "جی ہاں۔"
" آپ کل کسی وقت اسے لے کر میرے دفتر آسکتے ہیں ؟" میں نے کہا "میں دوپہر دو بجے کے بعد دفتر ہی میں ملوں گا۔" جب یہ ذمہ داری اٹھائی ہے تو ممکن اور ناممکن کا کیا سوال؟" وہ خوشدلی سے بولا
ویسے عبد الشکور سے آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟"
وہ بہت کام کا آدمی ثابت ہو سکتا ہے۔" میں نے پر اسرار انداز میں کہا بس آپ کل اسے لے کر میرے پاس آجائیں۔ باقی باتیں یہیں پر ہوں گی۔"
میں چار بجے تک آسکوں گا۔"
ٹھیک ہے۔ میں آپ کا انتظار کروں گا۔"
دیٹس او کے۔ اللہ حافظ"
میں نے جواباً اللہ حافظ کہہ کر ریسیور کریڈل پر رکھ دیا۔
سات روزہ ریمانڈ مکمل کرنے کے بعد پولیس نے کاشف کو عدالت میں پیش کر دیا۔ میں نے اس انداز سے تیاری کر رکھی تھی کہ پہلی ہی پیشی پر اپنے موکل کی ضمانت کروا لوں گا۔ ایک طرح سے یہ نفسیاتی حربہ بھی ہوتا ہے۔ مخالف پارٹی پر اس سے بڑا رعب پڑتا ہے۔ میں نے درخواست ضمانت جج کے سامنے پیش کردی۔ پولیس نے ملزم کا مزید سات روز کا ریمانڈ طلب کیا تھا۔ میں نے اپنے موکل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا۔
"جناب عالی! میرا موکل بے گناہ ہے اور اسے باقاعدہ ایک سازش کے تحت مبینہ جرم میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ملزم نے مجھے بتایا ہے کہ پولیس نے گزشتہ سات روز میں اسے تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور اس سے بھاری رشوت طلب کی گئی ہے۔ ایک لاکھ روپے کے عوض ملزم کی جاں بخشی کا یقین دلایا گیا ہے۔ اگر پولیس مزید ریمانڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ مطلوبہ رقم کی وصول یاب کے لئے میرے موکل پر کون کون سے ظلم نہیں توڑے گی تو پولیس کو مزید ریمانڈ کو اجازت دینا انصاف کے منافی ہوگا، لہذا معزز عدالت سے میں درخواست کرتا ہوں کہ میرے موکل کی ضمانت منظور کی جائے۔"
میں اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا تو وکیل استغاثہ (سرکاری وکیل نے کہا "یور آنر ملزم نے ایک انتہائی سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اگر ملزم کی ضمانت منظور کرلی گئی تو وہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہو گی۔ ملزم عبرتناک سزا کا مستحق ہے۔"
میں نے کہا "یور آنر میرا موکل باکردار اور نیک چال چلن کا مالک ہے۔ میں یہ بات عدالت میں ثابت کر سکتا ہوں۔ میں کئی ایسے امن پسند اور معزز شہری عدالت میں پیش کر سکتا ہوں جو میرے موکل کے بے داغ کردار کی گواہی دیں گے۔ میرے موکل کو باقاعد جس سازش کے تحت اس گھناؤنے جرم میں پھانسا گیا ہے، میں اس کی تفصیلات آپ کے سامنے مناسب وقت پر پیش کروں گا۔" وکیل سرکار نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کہا ”جناب عالی میری سمجھ میں یہ بات نہیں...
جاری ھے۔

