فتنہ سامان۔
چوتھی قسط۔
قانونی پیچیدگیاں، عدالتی کارروائی کے اہم رموز و نکات۔
زن، زر اور زمین کے تنازعوں میں جنم لینے والے مقدمات۔
راوی ...... مرزا امجد بیگ (ایڈووکیٹ)۔
تحریر ..... حسام بٹ۔
وکیل سرکار نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کہا ”جناب عالی میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ میرے فاضل دوست پہیلیاں کیوں بھجوا رہے ہیں؟ جو بات وہ کل کہنا چاہتے ہیں اسے آج کہنے میں کیا قباحت ہے؟" یور آنر!" میں نے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا " ہر بات کے لئے ہر وقت مناسب نہیں ہوتا۔ میں جو حقائق معزز عدالت کے سامنے لانا چاہتا ہوں، ان کے لئے میرے فاضل دوست کو کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔ جب اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہو گی تو میں وکیل سرکار کی خواہش پوری کر دوں گا۔ فی الحال میری معزز عدالت سے استدعا ہے کہ میرے موکل کی ضمانت منظور کر کے اسے پولیس کی مہمان نوازی" سے محفوظ رکھا جائے۔" تفتیشی افسر نے کھا جانے والی نظروں سے میری جانب دیکھا۔ سرکاری وکیل نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ”جناب عالی، ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا ہے۔ مظلومہ کے طبی معائنے سے بھی ملزم کے مجرمانہ حملے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اس واردات کے تمام ثبوت پولیس کی تحویل میں ہیں۔" میں نے براہ راست وکیل سرکار سے سوال کیا "مثلا کون کون سے ثبوت پولیس کے پاس موجود ہیں؟"
ملزم کو مجرم ثابت کرنے کے لئے مظلومہ کے طبی معائنے کی رپورٹ ہی کافی ہے مگر اس کے علاوہ بھی پولیس کو موقع واردات سے کچھ ایسے ثبوت ملے ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ملزم اس مذموم فعل کا مرتکب ہوا ہے۔" "جناب عالی" میں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ”میری معزز عدالت سے درخواست ہے کہ وکیل سرکار کو اس بات کی تاکید کی جائے کہ وہ مذکورہ شواہد سے مجھے آگاہ کرے۔"
جج نے میرے حسب منشا وکیل سرکار کو ہدایت جاری کر دی۔ وکیل سرکار نے کہا "مظلومہ کے شور مچانے پر محلے کے کئی افراد متوجہ ہو گئے تھے۔ پھر جب وہ موقع واردات پر پہنچے تو وہاں جرم کی تمام علامات موجود تھیں۔"
”میرے فاضل دوست!" میں نے وکیل سرکار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا " آپ معزز عدالت کے سامنے مذکورہ علامات کی وضاحت کریں گے۔"
وہ بولا "مثلا۔ ملزم کے کرتے کے دامن پر خون کا ایک بڑا دھبہ موجود تھا۔ اس کے علاوہ بستر کی چادر پر ... دھبے پائے گئے ہیں۔ پھر مظلومہ کا بیان ہے کہ اسے چائے میں.....
ہیئر از پوائنٹ یور آنر" میں نے جوشیلے لہجے میں کہا۔ ”مظلومہ کا بیان جھوٹ کے پلندے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا ہے کہ میرا موکل وقوعہ کی رات ساڑھے نو بجے گھر آیا تھا۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہو سکتا ہے۔ میرے موکل نے وقوعہ کی رات ساڑھے دس بجے کلینک بند کیا تھا۔ اس سے پہلے ایک لمحے کے لئے بھی کلینک سے باہر نہیں نکلا اور اس بات کی تصدیق کرنے کے لئے ڈاکٹر سہیل عمر عدالت کے کمرے میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کلینک بند کرنے کے بعد میرے موکل نے کلینک کے سامنے موجود چکن کارن سوپ کی دکان سے سوپ بھی پیا تھا۔ دکان کا مالک عبد الشکور بھی یہاں موجود ہے اور اس بات کی گواہی دے سکتا ہے۔ میری معزز عدالت سے درخوات ہے کہ ڈاکٹر سہیل عمر اور عبدالشکور کو گواہوں کے کٹہرے میں آنے کی زحمت دی جائے۔" پھر میں اپنی مخصوص جگہ پر جا کر بیٹھ گیا۔ جج کے حکم پر ڈاکٹر سہیل عمر اور عبدالشکور سوپ فروش نے باری باری آکر سچ بولنے کا حلف اٹھایا۔ پھر اس بات کی تصدیق کر دی کہ کاشف نے وقوعہ کی رات واقعی ٹھیک ساڑھے دس بجے کلینک بند کر دیا تھا۔ ان کے بیان سے مظلومہ کے بیان کی نفی ہوتی تھی۔
جج نے وکیل سرکار کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا وہ بولا ”جناب عالی، طبی معائنے کی رپورٹ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مظلومہ کے ساتھ زیادتی ہو چکی ہے۔"
یور آنر" میں نے کہا ”میرے فاضل دوست خوامخواہ میرے موکل کی ضمانت رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات معزز عدالت کے علم میں آچکی ہے کہ مظلوم نے اپنے بیان میں دروغ گوئی سے کام لیا ہے۔ میرے موکل کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پھانسنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سازش کی نقاب کشائی میں مناسب وقت آنے پر کروں گا۔ فی الحال معزز عدالت سے میری اتنی ہی استدعا ہے کہ میرے موکل کی ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو جلد از جلد چالان پیش کرنے کی ہدایت کی جائے تاکہ اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہو سکے۔"
جج نے ضمانت منظور کرلی۔
ہم عدالت سے باہر آئے تو کاشف نے دلگرفتہ لہجے میں کہا "وکیل صاحب! آپ نے میری ضمانت تو کروا لی ہے مگر اب میں جاؤں گا کہاں؟" اس کے چہرے پر غم کے گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ وہ بولا تو اس کی آواز میں لرزش نمایاں تھی۔ میں اس گھر میں تو اب قدم بھی نہیں رکھوں گا۔"
ڈاکٹر سہیل عمر نے اس کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا "اتنی چھوٹی سی بات کے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔" ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے کہا ویسے اگر تم چاہو تو، میرے گھر میں بھی ٹھہر سکتے ہو لیکن زیادہ مناسب یہی ہوگا کہ تم فی الحال اپنے ماموں کے یہاں ٹھر جاؤ۔ بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔"
ڈاکٹر سہیل عمر واقعی کاشف کا خیر خواہ تھا۔ اس نے کاشف کی ضمانت بھی دی تھی اور آئندہ بھی اس کی بہتری کا خواہاں تھا۔ ایسے لوگ اب خال خال ہی نظر آتے ہیں جو دوسروں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد محسوس کرتے ہوں۔
کاشف نے ڈاکٹر سہیل عمر کی تجویز مان لی اور اپنے ماموں کے یہاں رہنے کا فیصلہ کر لیا جہاں اس کی والدہ بھی مقیم تھیں۔ کاشف کے لئے اس سے زیادہ موزوں جگہ اور کوئی نہیں ہو سکتی تھی۔ پولیس نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد حدود آرڈیننس مجریہ انیس سو اناسی عیسوی کی دفعہ دس کے تحت عدالت میں چالان پیش کر دیا۔ ابتدائی چند پیشیاں عدالت کی تیکنیکی کارروائی کی نذر ہو گئیں۔ اس کیس کو عدالت میں لگے تقریباً تین ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ جب پہلی باقاعدہ سماعت ہوئی، وہ مئی کا مہینہ تھا۔ صاعقہ بیان دینے کے لئے عدالت میں پیش ہوئی تو میں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس کی عمر ستائیس سال تھی مگر دیکھنے میں وہ کسی بھی صورت بیس بائیس سے زیادہ کی نہیں لگتی تھی۔ وہ پرکشش نقوش والی ایک سانولی سلونی عورت تھی جس کی آنکھوں میں ایک عجیب قسم کی مقناطیسی قوت کا احساس ہوتا تھا۔ ایک نظر دیکھنے والا خود کو اس کی طرف کھنچتا ہوا محسوس کرتا تھا۔ اس کے بال جدید انداز میں کٹے ہوئے تھے اور موسم کی مناسبت سے اس نے لون کا پھول دار سوٹ پہن رکھا تھا۔ دوپٹے کو سر پر اوڑھنے کے بجائے گلے میں ڈال رکھا تھا۔ اس کے چہرے پر مجھے ایک ایسی آسودگی نظر آئی جو مجرمانہ حملے کا نشانہ بننے والی کسی عورت کے چہرے پر نظر نہیں آنا چاہئے۔ صورتحال کے پیش نظر اس کے چہرے پر آسودگی کے بجائے افسردگی نظر آنا چاہئے۔
اس نے کمرے میں آنے کے بعد سچ بولنے کا حلف اٹھایا اور جج کے سامنے اپنا بیان دیا۔ اس نے عدالت میں کم و بیش وہی بیان دیا تھا جو وہ اس سے پہلے پولیس کو دے چکی تھی، تاہم مجرمانہ حملے کو اس نے مفصل بیان کیا تھا۔ تقاضائے اخلاق اس تفصیل کو تحریر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
عام طور پر حدود کے مقدمات میں مظلومہ اپنا بیان تحریری شکل میں پیش کرتی ہیں۔ عدالت کے روبرو صاعقہ کا بیان اس کی بے باکی کی نشاندہی کرتا تھا۔ صاعقہ کا بیان ختم ہوا تو وکیل سرکار نے اٹھ کر سوال کیا۔ محترمہ صاعقہ کیا آپ نے ملزم کو اچھی طرح پہچان لیا ہے؟" اس نے کمرے میں کھڑے ہوئے کاشف کی جانب اشارہ کیا اسی شخص نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ہے؟"
اس میں پہچاننے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ میں اس شیطان کو کس طرح فراموش کر سکتی ہوں جس نے میرا دامن داغ دار کیا۔" صاعقہ کی بے باکی نے جج کو چونکنے پر مجبور کر دیا۔ جس عورت کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ پیش آچکا ہو اس کی زبان حلق سے نیچے اتر جاتی ہے۔ اس کے برعکس صاعقہ نے بھری عدالت میں بڑے اعتماد کے ساتھ سرکاری وکیل کے سوال کا جواب دیا۔ اس سوال سے سرکاری وکیل کا مقصد صرف عدالت کو یہ بتانا تھا کہ مظلومہ میرے موکل ہی کے ظلم کا شکار ہوئی تھی اور وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اس لئے اور کوئی سوال کیے بغیر وہ جا کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر صاعقہ کے کٹہرے کے قریب آیا۔ پھر جج کی اجازت سے جرح کا آغاز کیا۔
صاعقہ صاحبہ! آپ کی عمر اس وقت کتنی ہے؟"
وہ اس غیر متوقع سوال سے بوکھلا گئی۔ "آپ کو میری عمر سے کیا واسطہ؟" واسطہ نہیں ہے تو پڑ سکتا ہے۔" میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہا۔ "آپ میرے سوال کا جواب دیں۔"
وہ جزبز ہو کر بولی " تقریباً ستائیس سال۔" تھینک یو۔" میں نے کہا پھر پوچھا۔ "آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے؟ میرا مطلب ہے دوسری شادی کو۔"
ہماری شادی گزشتہ سال نومبر میں ہوئی تھی۔ اس نے جواب دیا۔ ”باقی حساب آپ خود لگا لیں۔" میں نے ذرا مختلف زاویے سے سوال کیا۔ صاعقہ صاحبہ! کیا یہ سچ ہے کہ آپ کی پہلے شوہر سے طلاق کی وجہ آپ کی بے وفائی تھی؟"
آبجیکشن یور آنر " وکیل سرکار نے اٹھ کر جلدی سے کہا۔ وکیل صفائی میری
موکلہ کی ذاتیات پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔" میں نے مسکراتے ہوئے کہا ”جناب عالی! میں نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔ میں نے تو ایک سوال پوچھا تھا۔"
آپ کے سوال کا زیر سماعت مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" وکیل سرکار نے تیز آواز سے کہا۔
تعلق ہے.... اور بہت گہرا تعلق ہے۔" میں نے اپنی فائلوں پر ہاتھ مارتے ہوئے جوشیلے لہجے میں کہا۔ پھر اپنا روئے سخن جج کی جانب موڑتے ہوئے استدعا کی۔ ”جناب عالی یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ مسمات صاعقہ کی اپنے پہلے شوہر سے طلاق کس بنا پر ہوئی۔
جج نے وکیل سرکار کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے صاعقہ سے استفسار کیا "بی بی اس سلسلے میں کیا کہتی ہو؟" صاعقہ نے کہا "وہ بہت ظالم تھا۔ مجھے صبح و شام زد و کوب کرتا تھا۔ ایسے درندہ صفت شخص کے ساتھ رہنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔"
اس کے باوجود بھی آپ نے دو سال گزار دیئے؟" نہ چاہتے ہوئے بھی میرے لہجے میں طنز کا عنصر نمایاں ہو گیا تھا جسے جج نے بھی نوٹ کیا۔ مجھے اعتراض ہے جناب عالی" وکیل سرکار نے کہا۔ "فاضل وکیل حد سے تجاوز
کر رہے ہیں۔"
جج نے وکیل سرکار کا اعتراض درست تسلیم کرتے ہوئے مجھے ٹو دی پوائنٹ بات کرنے کی ہدایت کی۔ "صاعقہ صاحبہ" میں نے جرح کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے سوال کیا۔ "نجیب احمد یعنی آپ کے سابق شوہر سے طلاق کے بعد آپ کی کبھی اس سے ملاقات ہوئی ؟"
نہیں۔" اچھی طرح سوچ لیں۔ آپ کے بیان کی بڑی اہمیت ہے۔"
وہ نفرت آمیز لہجے میں بولی " میں اس خبیث کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں ہوں ملاقات تو بہت دور کی بات ہے۔"
"صاعقہ صاحبہ کیا یہ سچ ہے کہ آپ کے موجودہ شوہر عبدالوہاب نے آپ ہی کی وجہ سے اپنی بیوی فردوس بیگم کو طلاق دی تھی؟"
یہ جھوٹ ہے۔" وہ غصے سے بولی "وہ ان کے آپس کے اختلافات تھے۔ میں بیچ کیسے آگئی؟"اس نے الٹا مجھ سے سوال کر دیا۔ میں نے اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہو پوچھا کیا یہ بھی جھوٹ ہے کہ آپ عبدالوہاب سے شادی سے قبل بھی بسا اوقات ملتی رہی ہیں؟"
ہاں یہ بھی جھوٹ ہے... وہ تیزی سے بولی، پھر کہا ”میں کبھی کبھار ان کے
ٹھیلے سے تکے کباب لینے جایا کرتی تھی۔" " اور وہ آپ سے ان تکوں وغیرہ کے پیسے بھی نہیں لیا کرتے تھے ؟" میں نے چبھتے لہجے میں پوچھا۔
ایسا کبھی نہیں ہوا۔" وہ ڈھٹائی سے بولی۔ "آپ عبدالوہاب سے تصدیق کر
لیں۔
میں نے اگلا سوال کیا کیا یہ سچ ہے کہ ایک مرتبہ فردوس بیگم نے آپ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔ آپ پیسے ادا کیے بغیر تکے کباب لے کر جارہی تھیں تو فردوس بیگم نے آپ کو موقع پر پکڑ لیا تھا۔ اس وقت آپ دونوں میں غالبا ہاتھ پائی بھی ہوئی تھی اور ٹھیلے کے ارد گرد خاصے لوگ بھی جمع ہو گئے تھے۔ اس واقعے سے عبدالوہاب اور فردوس بیگم کی ازدواجی زندگی تلخ ترین ہو گئی تھی جس کا نتیجہ طلاق کی صورت میں ظاہر ہوا ؟" صاعقہ کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمودار ہوئے۔ وکیل سرکار فوراً اس کی مدد کو لپکا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر جج کے سامنے آیا، پھر تمسخرانہ انداز میں میری جانب دیکھتے ہوئے بولا۔ ” جناب عالی! وکیل صفائی خوبصورت اور دلچسپ کہانیاں گھڑنے کے ماہر ہیں مگر معزز عدالت کا وقت بہت قیمتی ہے۔ کیا میرے فاضل دوست کے پاس میری موکلہ سے پوچھنے کے لئے کوئی ڈھنگ کا سوال نہیں ہے؟" میں نے کہا ”جناب عالی میں نے ابھی تک ایک بھی ایسا سوال نہیں کیا جس کا زیر سماعت مقدمے سے تعلق نہ ہو۔ اس مقدمے کی حقیقت تک پہنچنے کے لئے اس کا پس منظر جاننا بہت ضروری ہے۔ میرا موکل بے گناہ ہے اور وہ ایک گہری سازش کا شکار ہوا ہے۔ لہذا میری معزز عدالت سے استدعا ہے کہ میرے فاضل دوست کو عدالتی کارروائی میں روڑے اٹکانے سے باز رکھا جائے۔" جج نے میرے استدلال کو درست مانتے ہوئے جرح جاری رکھنے کا اشارہ کیا۔ میں نے پوچھا " صاعقہ صاحبہ! آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا ؟" "میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ آپ کی اس سوال سے مراد کیا ہے؟" جج نے سخت لہجے میں کہا "بی بی آپ عدالت کا وقت ضائع نہ کریں اور وکیل صاحب کے سوال کا سیدھا سیدھا جواب دیں۔" جی پوچھئے وکیل صاحب" وہ طنزیہ لہجے میں براہ راست مجھ سے مخاطب ہوئی ”میں آپ کا سوال بھول گئی ہوں، آپ اپنا سوال دہرانے کی زحمت گوارا کریں گے؟" میں نے اس کی فرمائش پر اپنا سوال دہرایا۔ اس نے جواب دیا۔ ”ٹھیلے والا واقعہ ایک اتفاق تھا۔ فردوس بیگم کی غلط فہمی کی وجہ سے وہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ورنہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔" اگر واقعی وہ ایک اتفاق تھا تو بڑا عجیب و غریب اتفاق تھا۔" میں نے سرسری لہجے میں کہا، پھر پوچھا "صاعقہ صاحبہ! آپ کو اچھی طرح یاد ہوگا وقوعہ سے آٹھ دس روز پہلے میرے موکل کاشف کا اپنے باپ یعنی آپ کے شوہر عبدالوہاب سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا تھا اور خاصی تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔ آپ معزز عدالت کو اس کی وجہ بتانا پسند کریں گی؟"
اس نے نفرت انگیز نظروں سے کٹہرے میں کھڑے کاشف کو گھورا۔ پھر غصیلے لہجے میں کہا وہ سب اسی مردود کا کیا دھرا تھا۔ اس شیطان نے مجھے اپنے شوہر کی نظروں سے گرانے کی کوشش کی تھی مگر عبدالوہاب بہت سمجھدار انسان ہیں۔ انہوں نے اس کی بے سروپا باتوں کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی۔" معزز عدالت وہ بے سروپا باتیں جاننا چاہتی ہے۔" میں نے اس کی بات مکمل کرتے ہوئے کہا۔
وکیل سرکار نے اٹھ کر تیز آواز میں کہا۔ "جناب عالی! مجھے سخت اعتراض ہے۔فاضل وکیل میری موکلہ کی نجی زندگی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔"
میں نے کہا "یور آنر باپ بیٹے کے درمیان ہونے والے اس جھگڑے کی وجہ جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ اس کے آٹھ دس روز بعد ہی وہ اندوہناک واقعہ پیش آیا تھا جس کی وجہ سے میرا موکل ایک معزز اور باکردار شہری ہونے کے باوجود بھی آج ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔" ایک لمحے کے توقف کے بعد میں نے اضافہ کیا ” میرے فاضل دوست کو ان کی موکلہ کی نجی زندگی کو زیر بحث لانے پر کیا اعتراض ہے۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو کورٹ کچری کی ضرورت ہی کیا تھی۔ حدود کے مقدمات میں تو بہت سی ناخوشگوار باتوں کو بھی صبر و تحمل کے ساتھ سننا پڑتا ہے۔" جج نے گھڑی کی جانب دیکھتے ہوئے مجھ سے کہا "بیگ صاحب! آپ اپنی جرح کو مختصر کرنے کی کوشش کریں۔" میں نے جج کی ہدایت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کٹہرے میں کھڑی صاعقہ سے کہا ” آپ نے معزز عدالت کو میرے موکل کی بے سروپا باتوں کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیر بتایا ؟"
وہ اچانک پھٹ پڑی جناب عالی، اگر عبدالوہاب نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی تو اس میں میرا کیا قصور تھا۔ یہ خبیث خوامخواہ میرا دشمن بن گیا ہے۔" یہ سے اس کی مراد کاشف تھا۔ اس نے مجھ سے اپنی ماں کی طلاق کا بدلہ لینے کے لئے انتہائی گھناؤنا ہتھکنڈا استعمال کیا۔" اس کی آواز رندھ گئی۔ وہ اپنی نمناک آنکھوں کو اپنے دوپٹے کے پلو سے خشک کرتے ہوئے گلو گیر آواز میں بولی " اس نے ۔۔ اس نے مجھ پر الزام لگایا تھا کہ میں نے اپنے سابق شوہر نجیب احمد سے ناجائز تعلقات استوار کر رکھے ہیں اور وہ عبدالوہاب کی غیر موجودگی میں مجھ سے ملنے گھر پر بھی آتا ہے اور اس کی ہچکی بندھ گئی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
مجھے اس کی اداکاری پر حیرت نہیں ہوئی۔ اگر مجھے صاعقہ کی اصلیت کا علم نہ ہوتا اور کاشف کی بے گناہی کا یقین نہ ہوتا تو ممکن تھا، صاعقہ کے جذباتی بیان سے میں بھی متاثر ہو جاتا۔ واقعی اس نے بلا کی اداکاری کی تھی مگر میں اس کے جھانسے میں آنے والا نہیں تھا۔ میں نے اپنے انداز میں ذرا سی بھی نرمی پیدا کیے بغیر اگلا سوال کیا " آپ کے شوہر نے کیا رد عمل ظاہر کیا تھا ؟"
وہ اب کافی حد تک سنبھل چکی تھی، بولی ”انہوں نے بیٹے کی بات پر کان ہی نہیں دھرا۔ وہ مجھ پر اندھا دھند اعتماد کرتے ہیں اور مجھے اس بات پر فخر بھی ہے۔" ایک لمحے کو رک کر اس نے اپنا خشک حلق تر کیا، پھر دل گرفتہ لہجے میں کہا اس شیطان نے اپنا منصوبہ ناکام ہوتے دیکھا تو براہ راست میری عزت پر حملہ کر دیا۔" میں نے پوچھا "صاعقہ صاحبہ آپ نے پولیس کو جو بیان دیا ہے اس میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ وقوعہ کے روز آپ نے میرے موکل کے کہنے پر اس کے لئے چائے تیار کی اور پھر خود بھی اس کے کمرے میں بیٹھ کر چائے پینے لگیں۔ ایسا تو صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ دونوں کے درمیان خوشگوار تعلقات موجود ہوں جبکہ آٹھ دس روز پہلے ایک ایسا واقعہ پیش آچکا تھا جس کی بنا پر آپ کے دل میں کاشف کے لئے شدید نفرت پیدا ہو جانا لازمی امر تھا۔ آپ اس کی وضاحت کریں گی؟"
” میرے شوہر نے مجھے یقین دلایا تھا کہ عنقریب وہ میرے لئے علیحدہ رہائش کا بندو بست کریں گے ۔ " صاعقہ نے بتایا اور انہوں نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ جب تک اس گھر میں ہوں، کاشف سے اچھے تعلقات رکھوں۔ گزشتہ تلخیوں کو بھولنے کی کوشش کروں۔ عبدالوہاب دل سے میری قدر کرتے ہیں اور مجھ سے بے انتہاء محبت کرتے ہیں۔ میں نے ان کی خوشی کی خاطر یہ بات مان لی تھی اور کسی بھی موقع پر کاشف کو احساس نہیں ہونے دیا تھا کہ میں اپنے دل میں اس کے لئے کوئی رنجش رکھتی ہوں۔" اس نے سامعین پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا ”میرے شوہر یہاں موجود ہیں، آپ میرے بیان کی تصدیق کر سکتے ہیں۔" جج کے حکم پر عبدالوہاب گواہوں کے کٹہرے میں آیا اور حلف اٹھانے کے بعد ہر اس بات کی تصدیق کی جس کے لئے صاعقہ نے جرح کے دوران اسے گواہ بنایا تھا۔ ایک باپ نے اپنے بیٹے کے خلاف اپنی بیوی کی جس انداز میں حمایت کی تھی، وہ منظر بھی ناقابل فراموش تھا۔ وہ جا کر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ چکا تو جج نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا
بیگ صاحب! آپ اور کتنے سوال پوچھنا چاہتے ہیں؟"
میں نے کہا ”جناب عالی، ابھی تو میری جرح مکمل نہیں ہوئی۔ بہت سے ٹیکنیکل سوالات باقی ہیں۔" پھر میں نے مظلومہ صاعقہ پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالتے ہوئے کہا "خیر کوئی بات نہیں، آئندہ پیشی پر دیکھ لیں گے۔"
چار روز بعد کی تاریخ دے کر جج نے عدالت برخاست کر دی۔
اگلی پیشی پر میں نے مظلومہ سے اپنی جرح مکمل کرلی۔ اس تمام کارروائی کو احاطہ تحریر میں لانا ضابطہ اخلاق کے منافی ہے لہذا ہم خاموشی سے آگے بڑھتے ہیں۔ تاہم میں آپ کو بتاتا چلوں کہ اس پیشی پر میں نے جج سے خصوصی درخواست کی تھی کہ مظلومہ کو ہر پیشی پر عدالت میں حاضر رہنے کے لئے پابند کیا جائے۔ جج نے میری درخواست منظور کر لی تھی، چنانچہ صاعقہ اگلی پیشی پر بھی عدالت میں نظر آرہی تھی۔ اس روز میرا موکل
کاشف ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا وکیل سرکار کی جرح کا سامنا کر رہا تھا۔ وکیل سرکار نے کاشف سے سوال کیا۔ وقوعہ کی رات آپ اپنے معمول سے ایک
گھنٹہ قبل گھر آگئے تھے۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟"
میں اپنے معمول کے مطابق گھر آیا تھا۔" وہ پر اعتماد لہجے میں بولا اور دو معزز شہری....
جاری ھے۔

