پرانے زمانے کی بات ہے، جب لوگ اللہ کے نام پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے۔ ایک چھوٹے سے شہر میں نواب خان نام کا ایک غریب تانگہ چلانے والا رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک بوڑھا گھوڑا اور ٹوٹا پھوٹا تانگہ تھا، لیکن اس کا دل بادشاہوں سے بھی زیادہ امیر تھا۔ نواب خان ہر صبح فجر کی نماز کے بعد اپنا تانگہ صاف کرتا اور بسم اللہ پڑھ کر روزی کمانے نکل جاتا۔
اس کی بیوی فاطمہ اور تین چھوٹے بچے تھے۔ گھر میں اکثر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا، لیکن نواب خان کبھی شکایت نہیں کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ اللہ ضرور رزق بھیجے گا۔ ایک دن شام کو نواب خان خالی ہاتھ گھر لوٹا۔ پورے دن کوئی سواری نہیں ملی تھی۔ بچے بھوکے بیٹھے تھے اور آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔ فاطمہ نے فکر مند ہو کر پوچھا، آج کیا ہوا؟ نواب خان مسکرا کر بولا، اللہ کی مرضی ہے، کل ضرور بہتر ہوگا۔
رات کو نواب خان نے تہجد کی نماز پڑھی اور اللہ سے دعا کی۔ اس نے کہا، یا اللہ! میں تیرے سوا کسی سے نہیں مانگتا، میرے بچوں کو رزق دے اور مجھے صبر عطا کر۔ آنسو گرتے رہے اور دل سے دعائیں نکلتی رہیں۔ اللہ کا کرم ہونے والا تھا۔
اگلے دن صبح نواب خان ہمیشہ کی طرح تانگہ لے کر نکلا۔ شہر کے چوک میں عجیب سا منظر تھا۔ ایک بوڑھا فقیر زمین پر کانپ رہا تھا۔ لوگ گزر رہے تھے مگر کوئی نہیں رکا۔ نواب خان نے فوراً تانگہ روکا اور اس کے پاس جا پہنچا۔ نواب خان نے پوچھا، بابا کیا مسئلہ ہے؟ فقیر نے کہا، بیٹا میں بہت بیمار ہوں اور اپنے گاؤں جانا ہے، لیکن پاس پیسے نہیں ہیں۔
نواب خان کے پاس خود بھی کچھ نہیں تھا، مگر اس نے کہا، آپ فکر نہ کریں، میں آپ کو پہنچا دوں گا۔ فقیر کی آنکھوں میں امید کی چمک آ گئی۔ نواب خان نے فقیر کو احتیاط سے تانگے میں بٹھایا۔ گاؤں دور تھا اور راستہ پہاڑی تھا، پورا دن لگ سکتا تھا، لیکن نواب خان نے ایک پل بھی نہ سوچا۔ وہ جانتا تھا کہ نیکی کرنا اللہ کو پسند ہے۔
بوڑھا گھوڑا بھی جیسے ہمت کر کے آگے بڑھ چلا۔ راستے میں فقیر نے پوچھا، بیٹا تم خود اتنے غریب ہو، پھر بھی مدد کیوں کر رہے ہو؟ نواب خان نے جواب دیا، بابا میرا اللہ بہت کریم ہے، وہ مجھے ضرور بدلہ دے گا۔ میں اس کے بندوں کی خدمت کرتا ہوں تو وہ میرا خیال رکھتا ہے۔
فقیر چپ چاپ اس کی باتیں سنتا رہا۔ سورج ڈھلنے لگا اور گاؤں کا راستہ قریب آ گیا۔ نواب خان تھکا ہوا تھا، لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا۔ فقیر بولا، بیٹا تم نے میری جان بچائی ہے، اللہ تمہیں اس کی جزا دے گا۔ نواب خان نے کہا، یہ تو میرا فرض تھا، اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے۔
گاؤں پہنچ کر فقیر نے اپنی پرانی جھونپڑی کی طرف اشارہ کیا۔ نواب خان اسے تانگے سے اتار کر واپس جانے لگا تو فقیر نے کہا، ٹھہرو بیٹا، اور اندر جا کر ایک پرانا تھیلا لے آیا۔ نواب خان نے لینے سے انکار کیا۔
مگر فقیر بولا، بیٹا یہ میری دعا ہے۔ نواب خان نے تھیلا تانگے میں رکھ لیا اور واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ رات ہو چکی تھی اور راستہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ گھوڑا آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ نواب خان سوچ رہا تھا کہ گھر پہنچ کر بچوں کو کیا کھلائے گا، مگر اس کے باوجود اس کا دل مطمئن تھا۔
آدھی رات کو جنگل کے قریب سے گزرتے ہوئے نواب خان نے عجیب سی آوازیں سنیں۔ کوئی مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ اس نے تانگہ روکا اور غور سے سنا۔ آواز ایک عورت کی تھی۔ ڈر تو لگ رہا تھا، مگر اس کا ایمان مضبوط تھا۔ نواب خان نے بسم اللہ پڑھی اور آواز کی طرف بڑھا۔ ایک درخت کے نیچے ایک عورت اپنے بیمار بچے کے ساتھ بیٹھی تھی۔ وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی، یا اللہ کوئی تو مدد کر۔
نواب خان نے پوچھا، بی بی کیا ہوا؟ اس نے کہا، میرا بچہ بہت بیمار ہے۔ عورت نے بتایا کہ وہ شہر جا رہی تھی، مگر راستے میں بچہ اچانک بیمار ہو گیا۔ نہ پیسے ہیں اور نہ کوئی سواری۔ نواب خان نے فوراً کہا، آپ فکر نہ کریں، میں آپ کو شہر کے ہسپتال پہنچا دوں گا۔ عورت کی آنکھوں میں شکر کے آنسو آ گئے۔
نواب خان نے عورت اور بچے کو تانگے میں بٹھایا۔ بوڑھا گھوڑا تھکا ہوا تھا، مگر نواب خان نے اسے پیار سے سمجھایا کہ اللہ کے بندوں کی مدد کرنی ہے۔ جیسے وہ سمجھ گیا ہو، وہ تیزی سے چل پڑا۔ رات کی تاریکی میں سفر جاری رہا۔ راستے میں عورت نے کہا، تم جیسے نیک لوگ آج کل بہت کم ملتے ہیں۔ نواب خان بولا، یہ تو اللہ کا حکم ہے کہ مخلوق کی خدمت کرو، میں بس اس کی رضا چاہتا ہوں۔ عورت نے دعا دی کہ اللہ تمہیں دنیا اور آخرت میں کامیابی دے۔
صبح ہونے سے پہلے نواب خان شہر کے ہسپتال پہنچ گیا۔ ڈاکٹر نے بچے کا فوراً علاج شروع کر دیا۔ عورت بار بار شکریہ ادا کرتی رہی، مگر نواب خان بولا، شکر اللہ کا کرو، وہی مددگار ہے۔ پھر وہ خاموشی سے واپس چل دیا۔
گھر پہنچتے پہنچتے دوپہر ہو گئی۔ فاطمہ دروازے پر اس کا انتظار کر رہی تھی۔ نواب خان نے رات بھر کی ساری کہانی سنائی۔ فاطمہ نے کہا، اللہ آپ سے راضی ہو۔ بچے بھوکے تھے، مگر سب نے صبر کیا۔ نواب خان بولا، اب دیکھو اللہ کیا کرتا ہے۔
نواب خان کو یاد آیا کہ فقیر نے ایک تھیلا دیا تھا۔ اس نے تھیلا کھولا تو اندر سوکھی روٹیاں اور کھجوریں تھیں۔ بچوں نے خوشی سے کھانا شروع کر دیا۔ نواب خان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ بولا، دیکھو اللہ نے رزق بھیج دیا۔ کھانا کھا کر نواب خان نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ فاطمہ نے کہا، اللہ پر توکل کبھی ضائع نہیں جاتا۔ نواب خان بولا، ہاں، یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ اسے کئی گنا واپس دیتا ہے۔ سب نے الحمدللہ کہا۔
اگلے دن نواب خان پھر اپنے تانگے کے ساتھ شہر کے چوک میں پہنچا۔ آج کچھ سواریاں مل گئیں اور اس نے تھوڑے پیسے کما لیے۔ شام کو گھر جاتے ہوئے راستے میں ایک مسجد تھی۔ نواب خان نے سوچا کہ کچھ پیسے صدقہ کر دوں۔ اس نے تین روپے مسجد کے صدقہ باکس میں ڈال دیے۔ گھر پہنچ کر نواب خان نے باقی پیسے فاطمہ کو دیے۔ فاطمہ نے کہا، آج تو اچھا کمایا۔ نواب خان بولا، ہاں، اللہ کا شکر ہے۔ بچے خوشی سے اچھل پڑے۔
رات کو سب نے مل کر سادہ کھانا کھایا۔ غریب تھے، مگر دل سے شکر گزار تھے۔ کچھ دن اسی طرح گزرتے رہے۔ نواب خان روز محنت کرتا اور جو ملتا، اس پر شکر کرتا۔ ایک دن شہر میں اعلان ہوا کہ نواب صاحب یہاں تشریف لا رہے ہیں۔ سب لوگ تیاریاں کرنے لگے۔ نواب خان نے سوچا کہ شاید آج اچھی کمائی ہو جائے گی۔
کیونکہ امیر لوگ تانگے کا کرایہ زیادہ دیتے تھے۔ نواب صاحب کی آمد کا دن آ گیا۔ پورا شہر سجا ہوا تھا۔ نواب خان بھی اپنا تانگہ سجا کر لے آیا۔ بہت سے تانگے والے وہاں کھڑے تھے، سب امیر لوگوں کو سواری دینے کی امید میں۔ نواب خان نے بسم اللہ کہی اور ایک طرف کھڑا ہو گیا۔
اچانک ایک بوڑھی عورت نواب خان کے پاس آئی۔ اس کے ہاتھ میں سامان کا بھاری تھیلا تھا۔ اس نے کہا، بیٹا مجھے بازار چھوڑ دو۔ نواب خان نے دیکھا کہ وہ بہت غریب تھی۔ دوسرے تانگے والوں نے اسے منع کر دیا تھا۔ نواب خان نے فوراً ہاں کر دی۔ ساتھ والے تانگے والوں نے نواب خان کو طعنے دیے۔ انہوں نے کہا، پاگل ہو کیا؟ امیر لوگ آئے ہیں اور تم غریب کو بٹھا رہے ہو۔ نواب خان مسکرا کر بولا، میں اللہ کی رضا کماتا ہوں، پیسے نہیں۔ سب ہنس پڑے اور اسے بے وقوف کہنے لگے۔
نواب خان نے بوڑھی عورت کو تانگے میں بٹھایا اور سامان رکھ دیا۔ بوڑھی عورت بولی، بیٹا میرے پاس صرف دو روپے ہیں۔ نواب خان نے کہا، کوئی بات نہیں، آپ ذکر نہ کریں۔ عورت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے دعا دی کہ اللہ تمہیں خوب ترقی دے۔
نواب خان اسے بازار لے گیا۔ راستے میں عورت نے کہا، تم بہت نیک دل ہو۔ نواب خان بولا، یہ میرے والد کی تعلیم ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ کی مخلوق کی خدمت کرو۔ بوڑھی عورت بولی، تمہارے والد سچے مسلمان ہوں گے۔ نواب خان بولا، الحمدللہ۔
بازار میں عورت نے اپنا سامان خریدا، پھر نواب خان سے کہا کہ مجھے واپس گھر بھی چھوڑ دو۔ نواب خان نے خوشی سے ہاں کر دی۔ عورت کا گھر شہر سے باہر ایک گاؤں میں تھا۔ نواب خان جانتا تھا کہ آج کمائی نہیں ہوگی، لیکن اسے پرواہ نہیں تھی۔ شام ہو گئی اور نواب خان عورت کو گھر چھوڑ کر واپس آیا۔ آج پورا دن ایک نیک کام میں گزر گیا۔ ہاتھ میں صرف دو روپے تھے۔
گھر پہنچا تو فاطمہ نے پوچھا، آج کیسا رہا؟ نواب خان بولا، بہت اچھا، الحمدللہ۔ ایک ضرورت مند کی مدد کی۔ اگلی صبح نواب خان نمازِ فجر کے بعد تانگہ لے کر نکلا۔ آج گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ بچوں نے بھوک کی شکایت نہیں کی۔ نواب خان نے سب کو ہمت دی اور کہا، اللہ پر بھروسہ رکھو۔ فاطمہ نے دعا کی اور نواب خان روانہ ہو گیا۔
شہر کے چوک میں آج بہت بھیڑ تھی۔ نواب خان ایک کونے میں کھڑا ہو گیا۔ اچانک ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے چلا کر کہا، کوئی ہے جو زخمی آدمی کو ہسپتال لے جائے؟ سب خاموش ہو گئے، کیونکہ اس زخمی کے پاس پیسے نہیں تھے۔ نواب خان فوراً آگے بڑھا اور بولا، میں لے جاتا ہوں۔
وہ آدمی نواب خان کو ایک گلی میں لے گیا۔ وہاں ایک نوجوان سر سے خون بہاتا ہوا پڑا تھا۔ گر کر بے ہوش ہو گیا تھا۔ نواب خان نے اسے سہارا دے کر تانگے میں لٹایا اور تیزی سے ہسپتال کی طرف بڑھا۔ ہسپتال پہنچ کر ڈاکٹروں نے فوراً علاج شروع کیا۔ نوجوان کی جان بچ گئی۔ اس کے ساتھی نے نواب خان کا شکریہ ادا کیا۔ نواب خان بولا، یہ تو میرا فرض تھا۔ ساتھی نے کہا، تم بہت نیک ہو، اللہ تمہیں جزا دے۔ نواب خان بسم اللہ کہہ کر واپس چل دیا۔
دوپہر ہو گئی مگر کوئی سواری نہیں ملی۔ نواب خان کو فکر ہونے لگی کہ گھر میں بچے بھوکے ہوں گے، مگر اس نے پھر اللہ کا نام لیا اور کہا، یا اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے لیے کام کیا ہے، اب تو ہی میرا سہارا ہے۔
شام ہونے کو تھی کہ ایک صاحب تانگے کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا، مجھے اسٹیشن چھوڑ دو۔ نواب خان نے خوشی سے ہاں کر دی۔ وہ صاحب بہت شریف اور نیک معلوم ہوتے تھے۔ راستے میں انہوں نے نواب خان سے باتیں کیں اور نواب خان ادب سے جواب دیتا رہا۔ صاحب نے پوچھا، تم کتنا کماتے ہو؟ نواب خان نے سچائی سے بتایا کہ کبھی کچھ ملتا ہے، کبھی کچھ نہیں، مگر اللہ پر بھروسہ ہے، وہ کبھی بھوکا نہیں رکھتا۔
صاحب نے کہا، تمہارا ایمان بہت مضبوط ہے۔ نواب خان بولا، یہ میرے والدین کی دعا ہے۔ اسٹیشن پہنچ کر صاحب نے کرایہ دیا۔ پانچ روپے تھے، جو نواب خان کے لیے بہت تھے۔ نواب خان نے شکریہ ادا کیا۔ صاحب نے دعا دی کہ اللہ تمہیں کامیاب کرے، اور اندر چلے گئے۔
نواب خان نے الحمدللہ کہا اور گھر کی طرف چل پڑا۔ گھر پہنچتے ہی بچے دروازے پر آ گئے۔ نواب خان نے پیسے فاطمہ کو دیے۔ فاطمہ نے بازار سے آٹا اور سالن کا سامان منگوایا۔ رات کو سب نے مل کر کھانا کھایا۔ نواب خان نے بچوں سے کہا، دیکھو اللہ نے کیسے رزق بھیجا۔ بچوں نے خوشی سے الحمدللہ کہا۔
رات کو نواب خان نے نماز میں خوب دعا کی۔ اس نے کہا، یا اللہ! میں تیرا شکر گزار ہوں۔
تو نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا، میں ہمیشہ تیری راہ میں چلوں گا۔ فاطمہ بھی ساتھ دعا کر رہی تھی۔ دونوں کو یقین تھا کہ اللہ کا کرم جاری رہے گا۔
کچھ ہفتے یوں ہی گزر گئے۔ نواب خان کی نیکیاں شہر بھر میں مشہور ہونے لگیں۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ تانگہ بان بہت نیک دل ہے، مگر نواب خان کو کوئی فخر نہیں تھا۔ وہ کہتا تھا کہ میں تو اللہ کے حکم پر چلتا ہوں۔ اس کی عاجزی دیکھ کر لوگ حیران ہوتے تھے۔
ایک دن شہر میں ایک امیر سیٹھ آیا، جس کا نام سیٹھ کریم الدین تھا۔ وہ بہت مالدار مگر غرور والا آدمی تھا۔ اسے غریبوں سے نفرت تھی۔ اس نے نواب خان کا تانگہ بلوایا۔ نواب خان ادب سے آگے بڑھا اور سلام کیا۔ سیٹھ نے تکبر سے جواب دیا۔ سیٹھ نے کہا، مجھے بازار لے چلو اور جلدی کرو۔
نواب خان نے تانگہ چلانا شروع کیا۔ راستے میں ایک اندھا بھکاری سامنے آ گیا۔ نواب خان نے تانگہ روک لیا تاکہ اسے کچھ نہ ہو۔ سیٹھ غصے میں بولا، کیوں رکے؟ تمہیں بھکاری سے کیا کام؟ نواب خان چپ رہا۔ آگے جا کر ایک بیوہ عورت گری پڑی تھی۔ نواب خان نے پھر تانگہ روک دیا۔ سیٹھ چیخا، تم پاگل ہو کیا؟ ہر کسی کے لیے رکتے رہتے ہو؟
نواب خان نے نرمی سے کہا، حضور یہ اللہ کی مخلوق ہے، ان کی مدد کرنی چاہیے۔ سیٹھ بولا، فضول باتیں بند کرو اور چلاؤ۔ بازار پہنچ کر سیٹھ نے کرایہ دیتے ہوئے کہا، تم فضول باتیں کرتے ہو۔ اللہ پر توکل سے پیٹ نہیں بھرتا، محنت سے بھرتا ہے۔ نواب خان بولا، جی حضور، محنت بھی ضروری ہے، مگر اللہ پر بھروسہ سب سے اہم ہے۔ سیٹھ ہنسا اور بولا، تم غریب ہی رہو گے۔
نواب خان کو سیٹھ کی باتوں سے تکلیف ہوئی، مگر غصہ نہیں آیا۔ اس نے دل میں کہا، اللہ سب کو ہدایت دے۔ سیٹھ اپنی دکان میں چلا گیا۔ نواب خان نے استغفار پڑھا اور آگے بڑھ گیا۔ اس کا دل صاف تھا اور ایمان مضبوط تھا۔
اسی روز شام کو نواب خان کو ایک پیغام ملا۔ شہر کے قاضی صاحب نے اسے بلایا تھا۔ نواب خان پریشان ہو گیا کہ قاضی صاحب نے کیوں بلایا، مگر پھر اس نے توکل کیا اور چل پڑا۔ قاضی صاحب کا گھر بڑا اور خوبصورت تھا۔ دروازے پر پہرے دار کھڑے تھے۔ نواب خان نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ خادم نے اندر بلایا۔
قاضی صاحب مسکرا کر ملے۔ انہوں نے کہا، نواب خان، تم بہت نیک انسان ہو۔ تمہاری نیکیاں میرے کانوں تک پہنچی ہیں۔ نواب خان شرمندگی سے بولا، یہ تو اللہ کا فضل ہے۔ قاضی صاحب نے کہا، بیٹھو۔ پھر بولے، میں نے تمہارا امتحان لینا ہے۔ نواب خان گھبرا گیا۔ قاضی صاحب بولے، پریشان مت ہو، یہ بھلائی کے لیے ہے۔ کل صبح میرے ساتھ ایک سفر پر چلنا ہے۔ نواب خان بولا، جی ضرور، حکم کیجیے۔ قاضی صاحب نے مسکرا کر کہا، اللہ تمہیں جزا دے۔
گھر لوٹ کر نواب خان نے فاطمہ کو سب کچھ بتایا۔ فاطمہ نے کہا، شاید اللہ کوئی بھلائی کرنا چاہتا ہے۔ نواب خان بولا، جو اللہ کی مرضی۔ رات بھر دونوں دعائیں کرتے رہے۔ بچے بھی خوش تھے کہ ابو قاضی صاحب کے ساتھ جائیں گے۔ سب نے الحمدللہ کہا اور سو گئے۔
اگلی صبح نواب خان قاضی صاحب کے گھر پہنچا۔ قاضی صاحب تیار کھڑے تھے۔ انہوں نے کہا، چلو، ایک گاؤں جانا ہے۔ راستے میں قاضی صاحب خاموش رہے اور نواب خان بھی چپ چاپ تانگہ چلاتا رہا۔ اس کے دل میں صرف اللہ کا نام تھا۔
آدھے راستے میں ایک حادثہ ہوا۔ ایک آدمی بے ہوش ہو کر سڑک پر پڑا تھا۔ قاضی صاحب نے کہا، نواب خان رک جاؤ، مگر وہ تو پہلے ہی رک چکا تھا۔ اس نے زخمی کو دیکھا تو وہ اور کوئی نہیں، وہی سیٹھ کریم الدین تھا جس نے کل اسے رسوا کیا تھا۔ قاضی صاحب یہ سب غور سے دیکھ رہے تھے کہ نواب خان کیا کرتا ہے۔
نواب خان نے بنا سوچے سیٹھ کو اٹھایا اور تانگے میں لٹا دیا۔ اس نے کہا، قاضی صاحب معاف کیجیے، پہلے اسے ہسپتال لے چلتے ہیں۔ قاضی صاحب مسکرائے اور بولے، بالکل ٹھیک۔ نواب خان نے فوراً تانگہ موڑ دیا۔
ہسپتال میں سیٹھ کا علاج ہوا۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے نواب خان کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں شرمندگی تھی۔ اس نے کہا، نواب خان، میں نے تمہیں کل برا کہا تھا، لیکن تم نے پھر بھی میری جان بچائی۔ نواب خان نے کہا، یہ میرا فرض تھا، اللہ کی مخلوق کی مدد کرنا۔ سیٹھ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کہا، میں بہت غلط تھا، میں نے غریبوں کو حقیر سمجھا۔ آج سمجھ آیا کہ اصل دولت نیک دل ہونا ہے۔ نواب خان، تم نے مجھے زندگی کا سبق دیا۔
قاضی صاحب یہ سب دیکھ رہے تھے اور دل ہی دل میں خوش تھے۔ باہر آ کر قاضی صاحب نے نواب خان سے کہا، تم امتحان میں کامیاب ہو گئے ہو۔ نواب خان حیران ہو کر بولا، کیسا امتحان؟ قاضی صاحب نے بتایا، شہر کے ایک یتیم خانے کے لیے ناظم چاہیے تھا، ایک ایسا انسان جو ایماندار ہو، نیک ہو اور اللہ پر پورا توکل رکھتا ہو۔ اسی لیے میں نے تمہارا امتحان لیا۔
قاضی صاحب نے کہا، وہ فقیر، وہ بوڑھی عورت، وہ زخمی نوجوان، سب میرے انتظام میں تھے۔ میں تمہاری نیت اور نرمی دیکھ رہا تھا۔ تم نے ہر موقع پر اللہ کی رضا کو ترجیح دی۔ نواب خان حیران رہ گیا اور بولا، میں نے تو بس اپنا فرض نبھایا۔ قاضی صاحب بولے، یہی تو اصل ایمان ہے۔
قاضی صاحب نے کہا، اب تم یتیم خانے کے ناظم ہو۔ تمہیں تنخواہ بھی ملے گی اور رہنے کے لیے گھر بھی۔ تم یتیموں کی دیکھ بھال کرو گے۔ نواب خان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہ نکلے۔ اس نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ اللہ نے اس کے صبر کا پھل دے دیا تھا۔
سیٹھ کریم الدین نے بھی توبہ کر لی۔ اس نے یتیم خانے کے لیے بڑی رقم عطیہ کی۔ اس نے کہا، نواب خان، تم میرے استاد ہو۔ نواب خان اپنے خاندان کے ساتھ یتیم خانے میں رہنے لگا۔ وہ یتیم بچوں کو پیار سے پالتا اور انہیں اللہ کا سبق دیتا۔ سب خوش تھے اور شکر گزار تھے۔
سالوں بعد نواب خان کا نام پورے علاقے میں مشہور ہو گیا۔ لوگ کہتے تھے، یہ وہی تانگہ بان ہے جس نے اللہ پر توکل کیا، اور اللہ نے اسے سر بلند کر دیا۔ نواب خان اب بھی عاجز تھا۔ وہ کہتا تھا، جو اللہ پر بھروسہ رکھے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
یہی اس کہانی کا اصل سبق ہے۔ اس کہانی کا مقصد یہ ہے کہ اللہ پر پورا بھروسہ رکھنے والا انسان کبھی ناکام نہیں ہوتا، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ روزگار کم ہو، یا دنیا طعنے دے، اگر نیت صاف ہو اور دل میں اللہ کا یقین ہو تو آخر کار وہی انسان کامیاب ہوتا ہے۔ نیت صاف ہو تو اللہ راستے کھول دیتا ہے۔
نواب خان نے ہر مشکل میں نیک نیتی سے کام کیا۔ اس نے کبھی اپنی مدد یا نیکی کا بدلہ نہیں چاہا۔ سچ یہ ہے کہ اللہ نیک نیت انسان کے لیے ایسے دروازے کھولتا ہے جن کا اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔ مخلوق کی خدمت ہی اصل عبادت ہے۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا صرف انسانیت نہیں، بلکہ عبادت بھی ہے۔
نواب خان نے جب بھی کسی غریب، مظلوم یا مصیبت میں پڑے انسان کو دیکھا، اس کی مدد کی، یہ دیکھے بغیر کہ سامنے والا کون ہے یا اس کے پاس بدلے میں دینے کے لیے کیا ہے۔ دوسروں کی برائی کا جواب نیکی سے دینا سب سے اونچا کردار ہوتا ہے۔ سیٹھ کریم الدین نے نواب خان کو بار بار حقیر جانا، مگر نواب خان نے بدلے میں کبھی بدتمیزی یا نفرت کا راستہ نہیں اپنایا۔ جب سیٹھ زخمی حالت میں سڑک پر پڑا ملا تو نواب خان نے بنا سوچے سمجھے اس کی جان بچائی۔
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اصل انسانیت وہی ہے جو دوسروں کے برے برتاؤ کے باوجود اچھی راہ پر قائم رہے۔ صبر اور توکل کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔ نواب خان نے غریبی، تنگی اور لوگوں کے طعنوں کے باوجود صبر اختیار کیا۔ اس نے کبھی اللہ سے مایوسی کا لہجہ نہیں اپنایا۔ آخرکار اللہ نے اسے ایسی عزت عطا کی کہ وہ ایک یتیم خانے کا ناظم بنا اور یتیم بچوں کی زندگی سنوارنے والا انسان بن گیا۔
یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ صبر کرنے والوں کو اللہ ہمیشہ بہترین انعام دیتا ہے۔ بڑی دولت دماغ میں نہیں، دل میں ہوتی ہے۔ سیٹھ کے پاس بہت مال تھا، مگر دل غریب تھا، جبکہ نواب خان خود غریب تھا، مگر اس کا دل بہت امیر تھا۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ اصل دولت پیسہ نہیں ہوتی، بلکہ کردار، دل کی صفائی اور نیک سلوک ہوتا ہے۔
نیکیوں کا اثر کبھی بے کار نہیں جاتا۔ نواب خان کی ایک ایک بھلائی اس کے لیے نئے راستے بناتی چلی گئی۔ لوگوں کے دل بدلے، سیٹھ کی سوچ بدل گئی، اور آخرکار پوری دنیا نے اسے سر آنکھوں پر بٹھا لیا۔ ہر چھوٹی بھلائی، ہر چھوٹا اچھا ارادہ، اللہ کے ہاں محفوظ ہوتا ہے اور اپنے وقت پر بہترین انجام کے ساتھ واپس لوٹتا ہے۔

