ایک سوداگر بازار میں گھوم رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عمدہ نسل کے اونٹ پر پڑی۔
اونٹ واقعی لاجواب تھا۔ سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوتی رہی، آخرکار سودا طے پا گیا اور سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔
گھر پہنچ کر اس نے نوکر کو آواز دی کہ اونٹ کی زین اتار دو۔
نوکر نے زین اٹھائی تو اس کے نیچے ایک مخملی تھیلا پڑا ہوا تھا۔ جب تھیلا کھولا گیا تو اندر قیمتی ہیرے اور جواہرات چمک رہے تھے، سورج کی روشنی میں وہ اور بھی زیادہ جگمگا رہے تھے۔
نوکر خوشی سے چلایا:
"آقا! آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آ گیا!"
سوداگر نے ہیرے دیکھے تو لمحہ بھر کو حیران ضرور ہوا، مگر فوراً بولا:
"میں نے اونٹ خریدا ہے، ہیرے نہیں۔ یہ امانت ہے، ہمیں فوراً واپس کرنی چاہیے۔"
نوکر دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ میرا آقا کتنا بیوقوف ہے۔
اس نے کہا:
"مالک! کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا، ہیرے رکھ لیتے ہیں۔"
لیکن سوداگر نے ایک نہ سنی۔
وہ فوراً بازار گیا، اونٹ بیچنے والے کو تلاش کیا اور مخمل کا تھیلا اسے واپس کر دیا۔
اونٹ بیچنے والا یہ دیکھ کر بے حد خوش ہوا اور کہنے لگا:
"میں تو بھول ہی گیا تھا کہ میں نے اپنے قیمتی پتھر زین کے نیچے چھپا رکھے ہیں۔"
اس نے خوش ہو کر کہا:
"آپ ان میں سے کوئی ایک ہیرا بطور انعام لے لیں۔"
سوداگر نے نرمی سے جواب دیا:
"میں اونٹ کی پوری قیمت ادا کر چکا ہوں، مجھے کسی انعام یا شکریے کی ضرورت نہیں۔"
سوداگر جتنا انکار کرتا گیا، اونٹ بیچنے والا اتنا ہی اصرار کرتا رہا۔
آخرکار سوداگر مسکرایا اور بولا:
"سچ یہ ہے کہ جب میں تھیلا واپس کرنے نکلا تھا، تو میں پہلے ہی دو قیمتی ہیرے اپنے پاس رکھ چکا ہوں۔"
یہ سن کر اونٹ بیچنے والا غصے میں آ گیا۔
اس نے فوراً تھیلا خالی کر کے سارے ہیرے گن ڈالے۔
پھر حیرت سے بولا:
"میرے تو سارے ہیرے یہاں موجود ہیں! پھر وہ دو سب سے قیمتی ہیرے کون سے تھے جو تم نے رکھ لیے؟"
سوداگر مسکرایا اور بولا:
"میری ایمانداری… اور میری خودداری۔"
✨ سبق:
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دولت سے زیادہ قیمتی چیز انسان کا کردار ہوتا ہے۔ ایمانداری اور خودداری وہ ہیرے ہیں جو اگر ایک بار کھو جائیں تو دوبارہ نہیں ملتے۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو مجھے فالو ضرور کریں ❤️

