ایک گھنے جنگل میں، جہاں فیصل روزانہ لکڑیاں کاٹنے جاتا تھا، ایک پرانا اور ویران کنواں موجود تھا۔
یہ کنواں اتنا قدیم تھا کہ گاؤں والے اس کا نام لینے سے بھی گھبراتے تھے۔
حالانکہ ایک زمانہ تھا جب یہی کنواں زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
لوگ اس کے پانی سے اپنی پیاس بجھاتے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کنواں خوف کی نشانی بن گیا۔
رفتہ رفتہ اسے پرندوں کا کنواں کہا جانے لگا۔
گاؤں کے بزرگ اکثر بتایا کرتے تھے کہ رات کے اندھیرے میں، کنویں کے قریب درختوں میں کوئی نامعلوم چیز گھومتی ہے۔
وہ نظر تو نہیں آتی، مگر اس کی موجودگی کا احساس ہر شے میں محسوس ہوتا ہے۔
درختوں کی شاخیں بلاوجہ کانپنے لگتیں،
اور شام ڈھلتے ہی یہ کنواں گویا دوبارہ زندہ ہو جاتا۔
جو بدقسمت مسافر رات کے وقت وہاں سے گزرتا، وہ راستہ بھٹک جاتا۔
اچانک ایک زوردار اور عجیب آواز اس کا نام پکارتی،
اور پھر کوئی انجانی طاقت اسے اپنی طرف کھینچ لیتی۔
گاؤں کے بزرگ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ کنواں کئی معصوم جانیں نگل چکا ہے۔
یہی خوف فیصل کے دل میں بھی بسا ہوا تھا۔
اسی لیے وہ روز جنگل تو جاتا، مگر سورج غروب ہونے سے پہلے واپس لوٹ آتا۔
وہ جانتا تھا کہ جو اس کنویں کے جال میں پھنس گیا،
وہ کبھی واپس نہیں آ سکا۔
ایک دن فیصل لکڑیوں کا بھاری گٹھّر اپنے کندھوں پر اٹھائے، دھیرے دھیرے اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔
فیصل کی عمر تقریباً پچاس برس تھی۔
وہ ایک سادہ اور محنتی انسان تھا۔
دن بھر جنگل میں درخت کاٹتا، جان توڑ محنت کرتا،
مگر شام کو گھر لوٹنے کے بعد بھی اسے آرام نصیب نہ ہوتا۔
غریبی تو جیسے اس کے مقدر میں لکھی جا چکی تھی،
لیکن اس کی زندگی صرف غریبی کی وجہ سے نہیں،
بلکہ اس کی بیوی زینب کے رویّے کی وجہ سے بھی مشکل بن چکی تھی۔
ہر روز اسے وہی طعنے سننے پڑتے:
“تمہاری کمائی ناکافی ہے،
تم آخر کس کام کے ہو؟
میں اس دن کو روتی ہوں جب میں نے تم سے شادی کی تھی۔”
یہ الفاظ فیصل کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو جاتے،
اور اس کے کانوں میں زہر گھول دیتے۔
فیصل جو کچھ بھی محنت سے کماتا،
زینب ایک لمحے میں اس پر قبضہ کر لیتی۔
فیصل کے کپڑے پرانے تھے، جوتے پھٹ چکے تھے،
مگر زینب کو اس کی حالت سے کوئی سروکار نہ تھا۔
آج جب وہ گھر کے قریب پہنچا تو بے بسی کی تصویر بن کر دروازے پر رک گیا۔
ایک لمحے کے لیے اس کے قدم ٹھہر گئے۔
اس کے دل میں سوال ابھرا:
“کیا میری زندگی ساری عمر ایسی ہی رہے گی؟”
پھر اس نے خود سے کہا:
“نہیں… آج سے میں جو کماؤں گا، اس میں سے کچھ اپنے لیے بھی رکھوں گا۔
کم از کم نئے کپڑے اور جوتے تو خرید سکوں گا۔”
چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔
وہ روزانہ تھوڑے تھوڑے پیسے جوڑنے لگا،
اور یہ بات زینب سے چھپا کر رکھنے لگا۔
مگر آخرکار زینب کو سب معلوم ہو گیا۔
ایک دن جب اس نے فیصل کو پیسے گنتے دیکھا تو غصے میں پاگل ہو گئی۔
وہ لپک کر آئی اور چیخ کر بولی:
“یہ رقم فوراً میرے حوالے کرو!”
فیصل نے نرمی سے جواب دیا:
“یہ پیسے میں نے اپنے کپڑوں اور جوتوں کے لیے جوڑے ہیں۔
میرے کپڑے بوسیدہ ہو چکے ہیں، جوتے بھی پھٹ گئے ہیں۔
تم اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو؟”
زینب نے آگ بگولا ہو کر کہا:
“تمہاری اتنی ہمت کہ اپنے پیسے مجھ سے چھپاؤ؟!”
یہ کہتے ہی وہ فیصل پر جھپٹ پڑی۔
گھر میں ایسا ہنگامہ برپا ہوا
کہ یہ سمجھنا مشکل ہو گیا کہ دونوں کیسے سلامت بچے۔
یہی وہ لمحہ تھا
جب فیصل کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا…!?
اس نے زندگی میں پہلی بار سوچا
کہ اب وہ مزید برداشت نہیں کرے گا۔
شام کا وقت تھا،
اور اندھیرا آہستہ آہستہ پھیل چکا تھا۔
فیصل ویران راستے سے جنگل کی طرف چل پڑا۔
اسے ذرا بھی اندازہ نہ تھا
کہ شام کے وقت جنگل جانا
اس کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔
گھر سے نکلتے وقت اس نے زینب سے بس اتنا کہا:
“میرے پیچھے مت آنا۔”
مگر وہ ابھی زیادہ دور نہیں گیا تھا
کہ زینب گدھے پر سوار ہو کر اس کا تعاقب کرنے لگی۔
وہ دھیمی آواز میں بڑبڑاتی جا رہی تھی:
“ضرور اس نے کوئی دولت مجھ سے چھپا لی ہے…”
فیصل کو بھی جلد اندازہ ہو گیا
کہ زینب اس کا پیچھا کر رہی ہے۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ انجان بن کر کام لے گا۔
جب فیصل جنگل میں پہنچا
تو اس نے لکڑیاں کاٹنا شروع کر دیں۔
زینب کچھ فاصلے پر کھڑی اسے دیکھتی رہی،
پھر ادھر ادھر ٹہلنے لگی۔
ٹہلتے ٹہلتے وہ
اسی ویران کنویں کے قریب جا پہنچی۔
وہ کنویں میں جھانکنے ہی والی تھی
کہ اچانک فیصل کی آواز
پورے جنگل میں گونج اٹھی:
“خبردار!
اس کنویں سے دور رہو!
واپس آ جاؤ!”
زینب نے آواز سن تو لی،
مگر اس پر کوئی توجہ نہ دی۔
اس نے ایک قدم اور آگے بڑھایا…
اور پھر اس کے قدم لڑکھڑانے لگے۔
اچانک ایک سیاہ دھواں
کنویں کے گرد پھیل گیا۔
اور پلک جھپکتے ہی
زینب کنویں کے اندر جا گری۔
یوں لگا
جیسے کسی ان دیکھی طاقت نے
اسے اپنی طرف کھینچ لیا ہو۔
فیصل کنویں سے ڈرتا تھا،
اور زینب سے شدید ناراض بھی تھا۔
اسی لیے اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا
کہ زینب اس قابل نہیں
کہ اس کے لیے کچھ کیا جائے۔
وہ گدھے پر سوار ہوا
اور خاموشی سے گھر واپس آ گیا۔
اسی رات،
جب فیصل گھر میں اکیلا تھا،
تو اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
پھر اسے قدموں کی آہٹ سنائی دی…
اور یکایک
زینب کی آواز
اس کے کانوں میں سرگوشیوں کی طرح گونجنے لگی۔
وہ چونک کر پیچھے مڑا،
مگر گھر میں اس کے سوا
کوئی موجود نہ تھا۔
اسے یوں محسوس ہوا
جیسے زینب مدد کے لیے پکار رہی ہو۔
اگلے دن
فیصل دوبارہ اسی راستے سے جنگل کی طرف گیا۔
وہ خود سے کہنے لگا:
“چلو… دیکھتے ہیں
اس بیچاری کا کیا ہوا۔”
ڈر کے مارے اس کے قدم کانپ رہے تھے،
مگر وہ کنویں کے بالکل قریب جا پہنچا۔
اس نے جھانک کر دیکھا،
مگر اندر کچھ بھی نظر نہ آیا۔
اب اسے اپنی کی ہوئی حرکت پر
پچھتاوا ہونے لگا۔
وہ سوچ میں ڈوب گیا:
“چاہے وہ جیسی بھی تھی…
آخر میری بیوی تھی۔”
ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا
کہ کنویں کے اندر سے
عجیب و غریب آوازیں آنے لگیں۔
کبھی زینب کی آواز سنائی دیتی،
اور کبھی کسی ڈراؤنی مخلوق کی
بھاری گھرگھراہٹ۔
یہ سن کر فیصل بری طرح گھبرا گیا،
مگر ساتھ ہی اسے تسلی بھی ہوئی
کہ زینب شاید ابھی زندہ ہے۔
اس نے فوراً ایک رسی لی
اور کنویں میں لٹکا دی۔
پھر زور سے بولا:
“اگر تم مجھے سن سکتی ہو
تو رسی مضبوطی سے پکڑ لو!”
چند لمحوں بعد
اسے محسوس ہوا
کہ رسی تن گئی ہے…
اور کسی نے اسے پوری قوت سے تھام لیا ہے۔
فیصل نے پوری طاقت لگا کر
رسی کو اوپر کھینچنا شروع کر دیا۔
وہ کھینچتا رہا…
کھینچتا رہا…
یہاں تک کہ تھک کر چور ہو گیا۔
جب آخرکار رسی کا سرا اوپر آیا
تو اس کے ساتھ
ایک خوفناک پرچھائیں ابھری۔
یہ ایک جن تھا۔
وہ بھاری اور گونجتی آواز میں
فیصل سے بولا:
“مجھ سے مت ڈرو۔
تم نے مجھے ایک بڑے عذاب سے بچایا ہے۔
میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا،
اور تمہارا ہر حکم مانوں گا۔”
فیصل نے حیرت سے پوچھا:
“میں نے تمہیں کس عذاب سے بچایا ہے؟”
جن نے جواب دیا:
“میں پچھلے کئی سالوں سے
اس کنویں میں سکون سے سو رہا تھا…”
جن نے بھاری آواز میں کہا:
“کل رات سے پہلے میری زندگی میں کوئی خلل نہیں تھا۔
میں مانتا ہوں کہ کبھی کبھی شرارت میں لوگوں کو راستہ بھٹکا دیا کرتا تھا،
مگر اس سے پہلے مجھے کسی نے کبھی تنگ نہیں کیا۔
لیکن کل رات…
ایک عورت میرے اوپر آ گری۔
اس نے میرا جینا دوبھر کر دیا۔
میں نے اپنی پوری زندگی میں
کسی کو اتنا چیختے، چلاتے اور شور مچاتے نہیں دیکھا۔
وہ چیخیں مارتی رہی،
اور میں سکون سے ایک لمحہ بھی نہ سو سکا۔
جب تم نے کنویں میں رسی پھینکی
تو میں نے موقع غنیمت جان کر
اسی رسی کو تھام لیا۔
اور یوں تم نے مجھے ایک بڑے عذاب سے بچا لیا۔
تمہاری اس بھلائی کے بدلے
میں تمہیں انعام دینا چاہتا ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے
جن نے اپنے ہاتھ سے تین پتے نکالے
اور بولا:
“میری بات غور سے سنو۔
میں اب بادشاہ کی بیٹی کے بدن میں داخل ہو جاؤں گا،
اور وہ شدید بیمار پڑ جائے گی۔
راج کے حکیم اور وید بلائے جائیں گے،
مگر سب بے بس ہو جائیں گے۔
جیسے ہی تمہیں
بادشاہ کی بیٹی کے بیمار ہونے کی خبر ملے،
تم فوراً محل پہنچ جانا۔
وہاں جا کر
یہ تینوں پتے
اس کے ماتھے پر رکھ دینا۔
جس لمحے تم یہ پتے رکھو گے،
میں اس کے بدن سے نکل جاؤں گا،
اور شہزادی فوراً ٹھیک ہو جائے گی۔
بادشاہ تم سے بے حد خوش ہوگا،
اور تمہیں ڈھیروں انعام دے گا۔”
فیصل کو یہ منصوبہ بہت پسند آیا۔
اس نے جن سے وہ تینوں پتے لے لیے
اور وہاں سے روانہ ہو گیا۔
اس نے زینب کو کنویں میں ہی چھوڑ دیا۔
اس کا خیال تھا
کہ اسے اپنے کیے کا سبق ملنا چاہیے،
کیونکہ اس نے جن کا بھی جینا دوبھر کر دیا تھا۔
جیسے ہی فیصل وہاں سے روانہ ہوا،
جن سیدھا بادشاہ کے محل میں پہنچا
اور شہزادی کے بدن میں داخل ہو گیا۔
اگلے ہی دن
شہزادی اچانک خاموش ہو گئی،
اور پھر شدید بیمار پڑ گئی۔
وہ زور زور سے چیخنے لگی:
“میرے سر میں بہت درد ہے…!”
جب بادشاہ کو
اپنی بیٹی کی بیماری کی خبر ملی
تو وہ فوراً اس کے کمرے میں پہنچا۔
بیٹی کو تڑپتا دیکھ کر
اس کا دل ٹوٹ گیا۔
اس نے اپنے راج کے
تمام حکیموں اور ویدوں کو بلا لیا،
مگر کوئی بھی علاج کارگر ثابت نہ ہوا۔
شہزادی کی تکلیف
دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی۔
ادھر فیصل اپنے گھر میں
بہت خوش تھا،
کیونکہ وہ زینب سے نجات پا چکا تھا۔
اسی خوشی میں
وہ جن کے دیے گئے تین پتے
تقریباً بھول ہی گیا تھا۔
پھر ایک دن
اس نے بادشاہ کا اعلان سنا:
“میری بیٹی شدید بیمار ہے۔
تمام حکیم اور وید ناکام ہو چکے ہیں۔
جو کوئی بھی اسے شفا دے گا،
میں اپنے خزانوں کے منہ کھول دوں گا!”
یہ اعلان سنتے ہی
فیصل کو جن کے دیے گئے
تین پتوں کا خیال آ گیا۔
وہ فوراً
بادشاہ کے محل کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب بادشاہ نے اس سے پوچھا:
“کیا تم میری بیٹی کو ٹھیک کر سکتے ہو؟”
تو فیصل نے تھوڑی اکڑ دکھاتے ہوئے کہا:
“ہاں، میں کر سکتا ہوں…
لیکن پہلے میرے کھانے کا بندوبست کرو۔
خالی پیٹ کچھ ممکن نہیں۔”
اس کے سامنے
طرح طرح کے لذیذ کھانے رکھ دیے گئے۔
فیصل نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔
جب وہ کھانے سے فارغ ہوا
تو بادشاہ فوراً
اسے اپنی بیمار بیٹی کے کمرے میں لے گیا۔
شہزادی اب بھی
شدید تکلیف میں مبتلا تھی۔
فیصل نے
تینوں پتوں کو پانی میں بھگویا
اور آہستہ سے
شہزادی کے ماتھے پر رکھ دیا۔
پتے رکھتے ہی
شہزادی کا درد غائب ہو گیا۔
وہ یوں پرسکون ہو گئی
جیسے کبھی بیمار ہی نہ تھی۔
بادشاہ خوشی سے جھوم اٹھا۔
اس نے فیصل پر دولت لٹا دی،
اس کا شکریہ ادا کیا،
اور عزت کے ساتھ محل سے رخصت کیا۔
اب فیصل اپنی زندگی میں
بہت خوش تھا۔
البتہ کبھی کبھی
اسے زینب کا خیال ضرور آتا،
مگر اسے واپس لانے کی
ہمت نہ ہوتی۔
وہ روزانہ
کنویں پر جاتا،
کھانے کی ایک پلیٹ
رسی کے ذریعے اندر اتارتا،
اور خاموشی سے واپس چلا آتا…
وقت یوں ہی گزرتا رہا۔
اچانک ایک دن
فیصل نے بادشاہ کا اعلان سنا۔
بادشاہ غصے سے بھرپور لہجے میں کہہ رہا تھا:
“پڑوسی ملک کا بادشاہ، جو میرا دوست بھی ہے،
اس کی بیٹی بھی اسی حالت میں مبتلا ہے
جس میں کبھی میری بیٹی تھی۔
کیا کوئی ہے
جو اس کی بیٹی کا علاج کر سکے؟
یا اس لکڑہارے کا پتا بتا سکے
جس نے میری بیٹی کو شفا دی تھی؟”
فیصل نے اس اعلان پر زیادہ توجہ نہ دی۔
وہ اپنی زندگی سے مطمئن تھا
اور اسے مزید کسی انعام کی خواہش نہ تھی۔
مگر جب بادشاہ کے نوکر
اس کے گھر تک پہنچ گئے
تو وہ انکار نہ کر سکا۔
یوں اسے
پڑوسی ملک کے بادشاہ کے دربار کی طرف روانہ ہونا پڑا۔
جیسے ہی فیصل
شہزادی کے کمرے میں داخل ہوا،
وہ فوراً سمجھ گیا
کہ اس کا سامنا پھر اسی جن سے ہونے والا ہے۔
اس نے جیب سے پتے نکالے
اور ماتھے پر رکھنے ہی والا تھا
کہ اچانک
جن کی تیز اور گونجتی آواز سنائی دی:
“رُک جاؤ!”
اگلے ہی لمحے
جن انسانی روپ اختیار کر کے
فیصل کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
وہ بولا:
“تم نے ایک بار مجھ پر احسان کیا تھا،
اور میں نے تمہیں اس کا بدلہ دے دیا۔
لیکن اب یہ مت سمجھو
کہ میں تمہارا محتاج ہوں۔
میں تمہاری وجہ سے
ایک شہزادی کو چھوڑ چکا ہوں،
اور اب تم چاہتے ہو
کہ دوسری کو بھی چھوڑ دوں؟
اگر تم نے ایسا کیا
تو میں دونوں شہزادیوں کو
اپنے ساتھ لے جاؤں گا!”
یہ سن کر
فیصل پریشان ہو گیا۔
چند لمحے سوچنے کے بعد
وہ آہستہ سے بولا:
“میں یہاں شہزادی کے لیے نہیں آیا۔
یہ تمہاری ملکیت ہے،
اور تمہارے مجھ پر بہت احسانات ہیں۔
اگر تم چاہو
تو میری بیوی کو بھی لے جاؤ۔”
جن حیران ہو کر بولا:
“پھر تم یہاں کیوں آئے ہو؟”
فیصل اداس لہجے میں بولا:
“وہ عورت
جو اس کنویں میں گری تھی…
وہ میری بیوی زینب ہے۔
میں نے اس سے جان چھڑانے کے لیے
اسے کنویں میں چھوڑ دیا تھا۔”
یہ سن کر
جن گھبرا گیا۔
وہ بولا:
“کیا؟
وہ تمہاری بیوی تھی؟
کیا وہ اب بھی کنویں میں ہے؟
یا باہر آ چکی ہے؟”
فیصل نے کہا:
“ہاں،
وہی عورت
جس نے ایک ہی دن میں
تمہاری ناک میں بھی دم کر دیا تھا،
وہ میری ہی بیوی ہے۔
میں نے لاکھ کوشش کی
کہ اس سے پیچھا چھڑا لوں،
مگر وہ جہاں بھی جاؤں
میرا پیچھا کرتی ہے۔
ابھی بھی
وہ دروازے کے پیچھے کھڑی ہوگی۔”
یہ سنتے ہی
جن پر خوف طاری ہو گیا۔
اس نے زمین کی طرف دیکھا،
پھر آسمان کی طرف،
اور ایک زوردار چیخ مار کر
بغیر پوری بات سمجھے
وہاں سے غائب ہو گیا۔
یوں
دونوں شہزادیاں
فیصل کی وجہ سے ٹھیک ہو گئیں۔
اور فیصل کو
دونوں بادشاہوں کی طرف سے
بہت سا انعام ملا۔
وہ خوشی خوشی
دولت لے کر گھر واپس آ گیا۔
مگر ایک رات
جب وہ اکیلا بیٹھا تھا
تو اسے زینب کا خیال آ گیا۔
وہ سوچنے لگا:
“میں تو ایک غریب آدمی تھا۔
جو کچھ بھی مجھے ملا،
اصل میں زینب کی وجہ سے ہی ملا۔
اگر وہ ایسی نہ ہوتی
تو نہ یہ دولت ہوتی،
نہ یہ شان و شوکت۔”
یہ سوچتے ہی
اس نے گھوڑا نکالا
اور جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔
کنویں پر پہنچ کر
اس نے رسی لٹکائی
اور آواز دی:
“زینب!
رسی کا سرا پکڑ لو!”
کچھ دیر بعد
اس نے زینب کو
کنویں سے باہر نکال لیا
اور گھر کی طرف چل پڑا۔
زینب خاموش تھی،
شرمندہ بھی۔
فیصل نے دل میں سوچا
کہ شاید وہ بدل چکی ہے۔
مگر جیسے ہی
وہ گھر پہنچے،
زینب نے طعنے دینے شروع کر دیے:
“اتنے دن
مجھے کنویں میں چھوڑ کر
بادشاہوں کے محل میں مزے کرتے رہے!”
اگلے ہی دن
اس نے فیصل کے ہاتھ میں کلہاڑی تھما دی
اور اسے دوبارہ
لکڑیاں کاٹنے کے لیے جنگل بھیج دیا۔
خود
ساری دولت پر قبضہ جما لیا۔
حیرت کی بات یہ تھی
کہ فیصل نے اس بار
کوئی برا نہیں مانا۔
وہ خوشی خوشی
اس کی ہر بات ماننے لگا۔
چند ہی دن گزرے تھے
کہ زینب کا رویہ بھی بدل گیا،
اور دونوں
خوشی خوشی رہنے لگے۔
کہانی کا سبق یہی ہے:
بعض رشتے جیسے بھی ہوں،
انہی سے قسمت کے دروازے کھلتے ہیں…!?
اگر آپ کو
قدیم واقعات
اور پرانے زمانے کی
دلچسپ اور سبق آموز کہانیاں سننا پسند ہیں
تو ہمارے چینل Urdu Kisse Corner کو ضرور سبسکرائب کریں۔

