🛑 ایک معمولی پینسل... اور دو الگ انجام! 🛑
ذرا رکیں اور اس تحریر کو والدین ہونے کے ناطے ضرور پڑھیں! 💔
یہ دو بچوں کی سچی کہانی ہے، جن کے ساتھ واقعہ ایک ہی پیش آیا (پینسل کا گم ہونا)، لیکن ماں کے ردعمل نے دونوں کی تقدیر بدل دی۔
پہلا منظر: (ڈاکو کی کہانی) 🔫
بچہ اسکول سے آیا اور بتایا کہ پینسل گم ہو گئی ہے۔
ماں نے ڈانٹا، مارا، اور کہا: "تم لاپرواہ ہو، بے عقل ہو!"
نتیجہ؟
بچے نے فیصلہ کیا کہ اب وہ کبھی خالی ہاتھ گھر نہیں جائے گا۔ اس نے چوری شروع کی۔ پہلے کلاس فیلوز کی پینسلیں چرائیں، پھر بڑی چوریاں کیں اور آخر کار ایک "پیشہ ور ڈاکو" بن گیا۔
ماں کی سختی نے اسے مجرم بنا دیا۔
دوسرا منظر: (لیڈر کی کہانی) 👑
دوسرا بچہ گھر آیا، پینسل گم تھی۔
ماں نے پیار سے پوچھا: "بیٹا! پھر تم نے کیسے لکھا؟"
بچے نے کہا: "دوست سے مانگ کر۔"
ماں مسکرائی اور ایک عجیب سودا کیا!
کہا: "بیٹا! ہم کل دو پینسلیں خریدیں گے۔ ایک تمہارے لیے، اور دوسری کا نام ہوگا قلم الحسنات (نیکیوں والا قلم)۔ اگر کسی کی پینسل گم ہو جائے تو تم اسے دے دینا۔"
نتیجہ؟
بچہ خوش ہو گیا۔ اس نے نیکی کا مزہ چکھ لیا۔ وہ کلاس کا ہیرو بن گیا، پڑھائی میں اچھا ہو گیا اور آج وہ شہر کے سب سے بڑے "ویلفیئر ادارے" کا انچارج ہے۔
ماں کی حکمت نے اسے ہیرو بنا دیا۔
💡 آج کا سبق:
قوموں کے کردار اور اخلاق سنوارنے میں "ماں" کا کردار سب سے اہم ہے۔
بچے کی غلطی پر آپ کا ردعمل یہ طے کرتا ہے کہ وہ سدھرے گا یا بگڑے گا۔
آئیے اپنی زندگی میں "دوسروں کے لیے جینا" شامل کریں:
کھانا بناتے وقت تھوڑا زیادہ بنا لیں۔
سودا سلف لیتے وقت کسی غریب کا حصہ بھی رکھ لیں۔
بچوں کی فیس کے ساتھ کسی یتیم کی فیس بھی دے دیں۔
جب دینے کی فکر غالب آ جائے، تو اپنی ذات پر خرچ کرنے کا شوق کم ہو جاتا ہے اور یہی اصل سکون ہے۔ ❤️
👇 اب آپ کی باری ہے!
💬 Comment میں بتائیں: کیا آپ بھی اپنے بچوں کو "دینے والا ہاتھ" بننا سکھائیں گے؟
❤️ Like کریں اگر یہ تربیتی پہلو آپ کو پسند آیا۔
🔄 Share کریں تاکہ ہر ماں اور باپ تک یہ پیغام پہنچ جائے۔
👤 مزید ایسی بہترین اور اصلاحی تحریروں کے لیے مجھے subscribe ضرور کریں! ✨

