بلی کے روپ میں چڑیل
تحریر: فرزانہ خان
تو آئیے، بغیر وقت ضائع کیے، اس کہانی کا آغاز کرتے ہیں…
میرا نام آصف ہے۔
کل ہمارے گاؤں میں میرے کزن کی شادی تھی۔ گھر کے سارے افراد گاؤں جا رہے تھے، اور سچ پوچھیں تو مجھے گاؤں جانا بالکل پسند نہیں تھا۔ مگر مجبوری یہ تھی کہ گھر میں رکنے کے لیے میرے علاوہ اور کوئی نہیں تھا، اور میری عمر بھی صرف بیس سال تھی۔ اس عمر میں اکیلے گھر میں رہنا مناسب نہیں سمجھا گیا، اسی وجہ سے مجھے بھی گاؤں جانا پڑا۔
جب میں گاؤں پہنچا تو شروع میں عجیب سا لگا، مگر آہستہ آہستہ مجھے وہاں مزہ آنے لگا۔ گاؤں کی ہوا، وہاں کا ماحول، کھلا پن… سب کچھ اچھا لگنے لگا۔ شادی میں بھی میں نے خوب انجوائے کیا۔ ہم دو یا تین دن گاؤں میں رکے۔
شادی گزر جانے کے اگلے دن میں اکیلا ہی گاؤں میں گھومنے کے لیے نکل گیا۔ میں موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ ایک بیری کے درخت کے نیچے مجھے ایک چھوٹا سا تالاب نظر آیا۔ گرمیوں کا موسم تھا، دل کیا کہ نہا لیا جائے۔ میں تالاب کی طرف چلا گیا۔
جیسے ہی میں تالاب میں نہانے لگا، اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی مجھے دیکھ رہا ہو۔ میں نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا، مگر وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ دل میں عجیب سا خوف پیدا ہوا، اور میں فوراً وہاں سے نکل آیا۔
گاؤں واپس جا کر میں نے سب کو بتایا کہ میں تالاب میں نہانے گیا تھا۔ یہ سنتے ہی سب لوگ مجھے ڈانٹنے لگے۔ کسی نے کہا کہ تم وہاں کیوں گئے؟ کسی نے کہا کہ اس درخت پر جنات کا بسیرا ہے۔ کسی نے کچھ کہا، کسی نے کچھ… مگر میں نے ان باتوں کو نظرانداز کر دیا۔
چند دن بعد ہم گاؤں سے واپس شہر آ گئے۔
گاؤں سے واپسی کے ایک دن بعد، شام کے وقت میں گھر میں کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میں نے دیکھا، میرے سامنے سے ایک کالی بلی چلتی ہوئی آ رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس سے پہلے یہ بلی ہمارے گھر میں کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔
اصل حیرانی تو تب ہوئی جب وہ بلی میرے پیروں کو چاٹنے لگی، اور پھر اچانک میری گود میں آ کر بیٹھ گئی۔ اسی وقت میری امی، جو قرآنِ شریف پڑھتی ہوئی کمرے سے باہر آ رہی تھیں، جیسے ہی بلی کی نظر امی پر پڑی، وہ فوراً وہاں سے چلی گئی۔
اس کے بعد روزانہ یہی ہونے لگا۔ میں شام کو جس وقت بیٹھتا، ٹھیک اسی وقت وہ کالی بلی آ کر میری گود میں بیٹھ جاتی۔ مگر میری امی کو وہ بلی بالکل پسند نہیں تھی۔ وہ روز اس بلی کو غور سے نوٹس کرتی رہتی تھیں۔
ایک دن وہ بلی چھت پر بیٹھی مجھے گھور رہی تھی۔ اس وقت دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ میری امی نے اچانک دیکھا کہ اس بلی کا سایہ زمین پر نظر ہی نہیں آ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر امی سمجھ گئیں کہ یہ کوئی عام بلی نہیں، بلکہ کوئی اور مخلوق ہے۔
میری امی اس بلی کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئیں اور سخت لہجے میں بولیں،
“مجھے پتا ہے تم کوئی بلی نہیں ہو…”
امی نے سخت لہجے میں کہا،
“مجھے پتا ہے تم کوئی بلی نہیں ہو۔ تم جو بھی ہو، میرے بیٹے کا پیچھا چھوڑ دو…”
یہ سنتے ہی اس بلی نے ایک خوفناک آواز نکالی، ایسی آواز کہ جیسے کسی نے سینہ پھاڑ کر چیخ ماری ہو، اور پھر وہ پل بھر میں وہاں سے غائب ہو گئی۔
اس وقت میری امی کو اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے کیا کر دیا ہے۔
اور ایک بات میں خود بھی نوٹس کر رہا تھا کہ جب سے میں گاؤں سے واپس آیا تھا، دن بہ دن کمزور ہوتا جا رہا تھا۔ جسم میں طاقت نہیں رہی تھی، چہرہ زرد پڑنے لگا تھا۔
اسی رات، جب میری امی سو رہی تھیں، اچانک زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔
امی گھبرا کر اٹھیں اور دروازے کی طرف گئیں۔
جیسے ہی انہوں نے باہر جھانکا، ان کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
دروازے کے سامنے ایک بدصورت چہرے والی عورت تھی، جو چار پیروں پر، کسی کتے کی طرح چلتی ہوئی، میری امی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، بال بکھرے ہوئے، اور چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی جسے دیکھ کر انسان کا خون جم جائے۔
امی بری طرح ڈر گئیں اور فوراً واپس کمرے میں آ کر دروازہ بند کر لیا۔ اس رات انہوں نے آنکھ نہیں لگائی۔
اس کے بعد یہ معمول بن گیا۔
روز رات کو وہی دستک، وہی خوف…
لیکن میری امی خاموشی سے سو جاتی تھیں اور دروازہ نہیں کھولتیں۔
آخرکار ایک دن میری امی ایک بابا کے پاس گئیں اور ساری صورتحال انہیں بتا دی۔ بابا نے چِلّہ کاٹا، کچھ پڑھا، پھر سنجیدہ آواز میں کہا،
“یہ چڑیل تمہارے بیٹے پر عاشق ہو چکی ہے۔ یہ روز اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتی ہے، اسی وجہ سے تمہارا بیٹا دن بہ دن کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو ایک مہینے کے اندر اندر تمہارے بیٹے کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔”
یہ سن کر میری امی کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔
بابا نے کہا،
“میں ایک تعویذ دیتا ہوں، یہ اپنے بیٹے کو پہنا دینا۔ اور آج رات تم یہاں سے چلی جانا۔ میں آج رات اس چڑیل کو حاضر کروں گا اور تمہارے بیٹے کی جان اس کے قبضے سے چھڑوا دوں گا۔”
امی نے بابا سے تعویذ لیا، گھر آ کر وہ تعویذ مجھے پہنا دیا۔
اس کے بعد آہستہ آہستہ میری طبیعت سنبھلنے لگی۔ کمزوری ختم ہونے لگی، اور سب سے بڑی بات…
وہ چڑیل دوبارہ کبھی ہمارے گھر نظر نہیں آئی۔
میں ہوں فرزانہ خان،
اور آپ دیکھ رہے ہیں ہمارا یوٹیوب چینل Karim Voice۔
اگر آپ اس طرح کی سچ پر مبنی خوفناک کہانیاں سننے کا شوق رکھتے ہیں، تو ہمارے چینل کو سبسکرائب کرنا اور بیل آئیکن کو پریس کرنا مت بھولیے گا۔
اور اگر آپ بھی اپنی کوئی سچی کہانی، اپنی آپ بیتی، یا اپنے کسی قریبی دوست کی حقیقی کہانی ہمیں بھیجنا چاہتے ہیں، تو ہمارا واٹس ایپ نمبر ڈسکرپشن میں موجود ہے۔
آپ وہاں ہمیں اپنی کہانی سینڈ کر سکتے ہیں، ان شاء اللہ میں آپ کی کہانی اسی چینل پر پڑھوں گی۔
جزاکم اللہ۔

