تحریر: فرزانہ خان
میرے ایک دوست کو "بلی آنکھوں والی لڑکی" پسند تھی۔ ایسی کوئی لڑکی تھی نہیں، مگر اس کا آئیڈیل تھا کہ وہ بلی آنکھوں والی لڑکی سے شادی کرے گا۔ جن کو نہیں پتہ ان کے لیے بتا دوں کہ پنجابی میں بلی آنکھیں دراصل براؤن آنکھوں کو کہتے ہیں۔
ایک روز اس نے بہت خوش ہو کر بتایا کہ اس کی ایک لڑکی سے (فون پر) پر بات ہوئی ہے اور وہ بہت جلد اس سے ملنے والا ہے۔ اور اگر وہ اس کو پسند آ گئی تو بس فوراً منگنی شادی وغیرہ ۔ ۔
"کیا اس کی آنکھیں بلی ہیں؟"، میں نے فوراً پوچھا، کیونکہ اس کی یہ ڈیمانڈ اس قدر واضح تھی اور وہ اس کا اتنا اظہار کر چکا تھا کہ سب دوست اس بارے میں جانتے تھے۔
اس نے خوشی سے زور زور سے سر ہلایا اور بتایا کہ ہاں اس کی آنکھیں بلی ہی ہیں۔ میں نے کہا، بس پھر تو کام بن گیا۔ وہ بولا، کام تب بنے گا جب ملاقات ہوگی، اور تم نے میرے ساتھ جانا ہے۔ یہ تب کی بات ہے جب کسی انجان لڑکی سے ملاقات میں ڈر ہوتا تھا کہ اس کے بھائی پکڑ کر پھینٹا نہ لگا دیں۔ ۔ ۔ خیر مرد حضرات جانتے ہیں کہ ایسے موقعوں پر آپ دوست کو انکار نہیں کر سکتے ۔ ۔ بقول زاکر خان کامیڈین، "دوست ہمیں مار کھانے کے لیے بلاتے ہیں، ۔ ۔ اور ہم جاتے ہیں ۔ ۔ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ بھی پٹے گا، اور ہم بھی" ۔ ۔ تو ہم کو جانا پڑتا ہے۔
خیر قصہ مختصر، مقررہ دن وہ مجھے لے کر اپنی گاڑی میں مقررہ مقام پر پہنچا۔ ملاقات کا اہتمام اس طرح سے تھا کہ کسی جگہ اس لڑکی کی میڈیکل اپائنٹمنٹ تھی، اس پرائیویٹ کلینک کے ویٹنگ روم کے ساتھ ہی کہیں دوسرے کمرے میں ملاقات کا انتظام تھا۔ شائد وہ کلینک کا عملہ اس لڑکی کا واقف تھا۔ میں گاڑی ہی میں انتظار کرنے لگا، کہ دوست کی چیخوں کی آواز آئے تو میں مار کھانے میں حصہ ڈالنے پہنچوں۔ ۔ ۔ دوست چالیس پینتالیس منٹ میں واپس آ گیا۔ اس کا چہرہ بجھا بجھا تھا۔
میں نے پوچھا کیا ہوا، ملاقات نہیں ہوئی؟
وہ گاڑی اسٹارٹ کر کے ریورس کرتے بولا، نہیں ملاقات تو ہو گئی۔
تو پھر؟ میں نے کہا، اتنا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے؟ خوبصورت نہیں ہے، دل کو نہیں لگی؟
نہیں خوبصورت ہے، ٹھیک ٹھاک ہے؟ دوست اسی بجھے بجھے لہجے میں کہنے لگا۔
اب میں خاموش ہو گیا، مجھے سمجھ نہیں آئی۔
کافی دیر گاڑی چلتی رہی، ہم دونوں خاموش رہے۔ ۔
پھر دوست کی آواز آئی، یار اس کی آنکھیں بلی نہیں تھیں، اس نے مجھ سے جھوٹ کہا تھا۔
میں نے فوراً دوست کی طرف نظریں گھمائیں، مگر وہ سیدھا سڑک پر دیکھ کر گاڑی چلا رہا تھا۔
یہ بالکل سچا واقعہ ہے۔ آپ کو اس لیے سنا رہا ہوں کہ آپ شادی، محبت، اٹریکشن کی نفسیات کا ایک اور پہلو سمجھ سکیں۔
عام طور پر ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ فلاں کی طلاق معمولی بات پر ہو گئی۔ جبکہ وہ معمولی بات اس بندے کے لیے ہرگز معمولی بات نہیں ہوتی۔
کوئی عورت جب اپنے خاوند کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو ہم اکثر روٹی کپڑا مکان گن کر کہتے ہیں کہ اس کو کس چیز کی کمی ہے؟ جو یہ اپنے خاوند کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔
کوئی مرد اپنی بیوی سے بیزار رہتا ہے تو بیوی حیرانی سے ہر ایک سے سوال کرتی پھرتی ہے کہ بھلا مجھ میں کیا کمی تھی، یا کمی ہے جو یہ بندہ باہر منہ مارتا پھرتا ہے۔
یاد رکھیے! شادی اس دنیا کا واحد رشتہ ہے جو انسانوں کے درمیان سب سے انوکھا، مشکل، اور بےشمار پہلو لیے ہوئے ہے۔ اس میں آپ دیکھیں گے کہ دو انسان بڑے سے بڑے فرق کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ بڑے خوش رہ رہے ہیں، یا دو انسان بڑے بہترین ہیں، مگر ایک دوسرے سے بیزار اور رشتہ ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
اس جوڑ یا توڑ کی وجہ بہت معمولی ہو سکتی ہے۔ چہرے کا ایک تل۔ سانس کی ایک آواز، مسکراہٹ کا ایک زاویہ، کھانا کھانے کے بعد ڈکار کا طریقہ ۔ ۔ کوئی ایک بات ۔ ۔ ۔ صرف ایک بات اس رشتے کو توڑنے کے لیے کافی ہے، یا اس رشتے کو باندھے رکھنے میں مددگار ہے۔
اور ہاں، اوپر والے واقعے سے ایک اور بہت بڑا سبق یہ بھی ملتا ہے کہ کبھی کسی سے جھوٹ پر رشتہ مت شروع کریں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ وقتی طور پر دھوکہ دے کر پھر آپ سنبھال لیں گے، ممکن ہے جس چیز پر آپ جھوٹ بول رہے ہیں، وہ دوسرے کے لیے رشتے میں سب سے اہم بات ہو۔ ۔

