💔 عشق کی سزا 😭
خواتین کی زندگی پر مبنی سچی سبق آموز دردناک کہانی
👇👇👇
آج میں اپنی سہیلی عائشہ کی سچی کہانی آپ سب خواتین بہنوں سے شیئر کرنا چاہتی ہوں۔
کھیت اور باڑے میں چوری چھپے ملنے کی راہ ابھی بھی کھلی تھی۔ پھر ایک دن انہوں نے گھر سے بھاگ جانے کا منصوبہ بنایا اور ایک رات باڑے سے کھیتوں میں اور پھر وہاں سے قریبی بس اڈے جا پہنچے۔ عائشہ نے ٹوپی والا سادہ برقعہ اوڑھا ہوا تھا۔ لاری صبح چار بجے چلتی تھی۔ دونوں بس میں بیٹھ کر شہر آ گئے اور شہر سے دوسرے گاؤں جانے والی لاری میں بیٹھ کر سلمان کی خالہ کے گھر پہنچ گئے۔
یہ میری سہیلی عائشہ کی داستان ہے، جو اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں کی نظر میں مر چکی ہے، لیکن حقیقت میں زندہ ہے۔ عائشہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی، اور باقی تینوں بھائی اس سے چھوٹے تھے۔ وہ لوگ گوجرانوالہ کے قریب ایک گاؤں میں رہتے تھے۔
ان کے خاندان میں بیٹوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی، تاہم چونکہ عائشہ کے دونوں چچاؤں کے ہاں بیٹی نہیں تھی، اس لیے وہ سب کی آنکھ کا تارا بن گئی اور خاندان بھر کی لاڈلی کہلائی۔
اس نے ایک بااثر سردار خاندان میں آنکھ کھولی، جو مالی طور پر مستحکم اور معاشرے میں عزت دار تھا۔ گھر میں ہر وقت نوکروں کی چہل پہل رہتی تھی۔ عائشہ کی ماں ایک نیک دل اور سخی عورت تھی۔
مزارع کی بیوی زبیدہ تھی، اور اس کے بچے سلمان اور مریم تھے۔ عائشہ، مریم کے بجائے سلمان کے ساتھ کھیل کر زیادہ خوش ہوتی، کیونکہ وہ دو سال بڑا، سمجھ دار اور خیال رکھنے والا بچہ تھا۔
وقت گزرتا گیا اور عائشہ کی انسیت زبیدہ کے گھر، خاص طور پر سلمان سے، بڑھتی گئی۔ ہم عمری، ساتھ کھیلنا، پڑھائی میں مدد اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے نے دونوں کے درمیان ایک انجانا سا رشتہ پروان چڑھا دیا۔
میٹرک کے بعد عائشہ کا گھر سے نکلنا بند کر دیا گیا اور سلمان کو بھی صرف کام کے سلسلے میں ہی گھر آنے کی اجازت تھی۔ ماں نے سمجھایا:
“بیٹی، وہ ہمارے ملازم کا بیٹا ہے، تم دونوں اب بڑے ہو گئے ہو، احتیاط ضروری ہے۔”
مگر جوانی کب کسی کی سنتی ہے؟
عائشہ چپکے چپکے زبیدہ کے گھر جانے لگی۔ ایک دن اس نے زبیدہ کو ایک کاپی دی کہ سلمان کو دے دینا۔ اس میں ایک خط تھا:
"سلمان، اگر میں تمہیں روز نہ دیکھوں تو دل بہت اداس ہو جاتا ہے۔ تم باغ کی دیکھ بھال کے بہانے آیا کرو…"
یوں سلمان روز باغ میں آنے لگا۔ باتوں کا سلسلہ بڑھا، جذبات گہرے ہوئے، اور ایک رات حویلی کے پچھلے باڑے میں ملنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
محبت میں بے خود دو دل وہ کر بیٹھے، جس کی سزا موت سے کم نہ تھی۔
اب شادی ناگزیر ہو چکی تھی۔ مگر سوال یہ تھا کہ جاگیردار کی بیٹی اور ایک معمولی مزارع کا بیٹا — کیا یہ رشتہ کبھی قبول ہو سکتا تھا؟
ایک دن ماں کو شک ہوا اور سلمان کا باغ میں آنا بند کر دیا گیا۔ مگر باڑے میں چوری چھپے ملنے کی راہ ابھی بھی کھلی تھی۔ پھر ایک رات وہ دونوں کھیتوں کے راستے بھاگ نکلے۔
وہ سلمان کی خالہ کے گھر پہنچے۔ خالہ نے سختی سے کہا:
“بیٹے، تم نے اپنی نہیں، ہماری جان بھی خطرے میں ڈال دی ہے۔ احسن خان (اب عائشہ کے والد نواب اکبر علی) تمہیں زمین کے نیچے سے بھی نکال لے گا!”
اتنے میں سلمان کا باپ، چچا اور ماموں انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچ گئے۔ دراصل خوف کے مارے خالو نے نواب اکبر علی کو اطلاع دے دی تھی۔
دونوں کو جیپ میں بٹھا کر واپس گاؤں لے جایا گیا… 😢
گھر سے اس لڑکی کو بھگاتے وقت تم نے اپنی بہن اور ماں کا خیال بھی نہیں کیا، جو نواب اکبر علی کی زمین پر جھگی ڈالے بیٹھی ہیں۔ تم نے کیوں نہ سوچا کہ تمہارے پیچھے وہ ان کا کیا حشر کرے گا؟
سلمان سترہ اٹھارہ برس کا لڑکا تھا، اس کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہ تھا۔ وہ رونے لگا تو عائشہ نے اسے تسلی دی اور کہا کہ ڈرو نہیں، خدا سے مدد مانگو۔ خالہ کہنے لگی، تم نے ہمیں برباد کر دیا ہے۔ جذبات میں آ کر تم نے میرے بھانجے کو اس تباہی کے راستے پر ڈال دیا ہے۔
ابھی خالہ یہی سوچ رہی تھی کہ ان دونوں کو کہاں چھپایا جائے کہ سلمان کا باپ، چچا اور ماموں اسے تلاش کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئے اور دونوں کو جیپ میں بٹھا کر گاؤں واپس لے آئے۔ دراصل جان کے خوف سے خالو نے نواب اکبر علی کو اطلاع دے دی تھی کہ سلمان اور عائشہ ہمارے گھر میں ہیں، آپ انہیں لے جائیں۔
گاؤں پہنچنے کے بعد سلمان کو تو نواب اکبر علی نے کہیں غائب کروا دیا۔ بڑے لوگ عدالتوں کے قائل نہیں ہوتے، ان کے ڈیرے ہی ان کی اپنی عدالتیں ہوتے ہیں۔
ادھر عائشہ کے بارے میں یہ مشہور کر دیا گیا کہ اسے رات کی تاریکی میں ختم کر کے دفن کر دیا گیا ہے۔ دو پرانے خدمت گاروں کو حکم ملا کہ لاش ویرانے میں لے جا کر دفنا دیں۔ مگر ان میں سے ایک کی ماں نے ممتا کا واسطہ دے کر انہیں روک لیا۔ اس نے کہا کہ ایک بے گناہ لڑکی کا خون اپنے سر نہ لو۔
چنانچہ انہوں نے ایک بکری ذبح کر کے اسی جگہ دفن کر دی تاکہ صبح جب نواب کے آدمی خون اور مٹی دیکھنے آئیں تو انہیں یقین ہو جائے کہ حکم کی تعمیل ہو چکی ہے۔ عائشہ کے کچھ بال کاٹ کر زمین پر ڈال دیے گئے اور چھوٹے پتھروں کا دائرہ بنا دیا گیا تاکہ نشان باقی رہے۔ یوں عائشہ کی جان بچ گئی، مگر دنیا کی نظر میں وہ مر چکی تھی۔
سلمان کے خاندان کو ذلیل کر کے گاؤں بدر کر دیا گیا۔ گاؤں والوں کو حقیقت کا اندازہ تھا، مگر کسی میں بولنے کی ہمت نہ تھی۔ گھر کی عورتوں کو عائشہ کا سوگ منانے کی اجازت نہ تھی، مگر اس کی ماں کئی دن اپنے کمرے میں بند قرآن پڑھتی رہی اور بیٹی کی مغفرت کی دعا کرتی رہی۔
اگلے ہی دن عائشہ کا نکاح ایک دوسرے گاؤں کے ایک عمر رسیدہ شخص سے کر دیا گیا، جو اسے پشاور لے گیا۔ یہ شخص انہی خدمت گاروں میں سے ایک کا رشتہ دار تھا۔ اس نے عائشہ کو پناہ دینے کے لیے اس سے شادی کر لی تاکہ وہ کسی محفوظ سائے میں رہ سکے۔
یہ زبردستی کی شادی ایک مجبوری تھی۔ زندگی بہرحال موت سے بہتر تھی، اور عائشہ کے وجود میں ایک اور زندگی بھی پل رہی تھی۔ سات ماہ بعد اس کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام رباب رکھا گیا۔
عائشہ ایک زندہ لاش کی طرح زندگی گزار رہی تھی، مگر بچیوں کی خاطر اس نے سب کچھ قبول کر لیا۔ وہ اپنے شوہر کی پہلی بیٹیوں کو بھی پال رہی تھی اور اپنی بیٹی کو بھی۔
لیکن آزمائشیں ختم نہ ہوئیں۔ اس کے شوہر کی ایک پولیس افسر سے رنجش تھی۔ ایک جھوٹے مقدمے میں اسے گرفتار کر لیا گیا اور سات برس کی سزا ہو گئی۔ وہ صدمہ برداشت نہ کر سکا اور جیل ہی میں انتقال کر گیا۔
اب عائشہ کا کوئی سہارا نہ رہا۔ شوہر کے بیٹے نے چند دن اسے رکھا، مگر اپنی بیوی کے دباؤ میں آ کر کہہ دیا کہ وہ بچیوں کو تو رکھ سکتا ہے، مگر عائشہ کو گھر چھوڑنا ہوگا۔
عائشہ تینوں بچیوں کو لے کر نکل پڑی۔ وہ اس عورت کے گھر جانا چاہتی تھی جس نے اس کی شادی کروائی تھی۔ بس میں بیٹھتے وقت اس نے دل ہی دل میں دعا کی کہ اے خدا، یا تو کوئی سہارا دے دے یا مجھے اور میری بچیوں کو اپنے پاس بلا لے۔
ابھی بس نے تھوڑا فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ زوردار دھماکہ ہو گیا۔ کئی مسافر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جن میں عائشہ کی تینوں بچیاں بھی شامل تھیں۔ عائشہ خود شدید زخمی حالت میں بچ گئی۔
کئی دن بعد اسے ہوش آیا، مگر وہ ٹھیک سے بول نہیں سکتی تھی۔ اسے ایک فلاحی ادارے کے حوالے کر دیا گیا۔ وہاں وہ کافی عرصہ رہی۔
ایک دن ایک خدا ترس خاتون اسے اپنے ساتھ لے گئیں اور اپنے یتیم بھانجے سے اس کی شادی کر دی۔ یوں عائشہ کو ایک بار پھر ایک سہارا مل گیا۔
ایک دن میں بازار میں خریداری کر رہی تھی کہ ایک جانی پہچانی صورت نظر آئی۔ وہ عائشہ تھی۔ میں نے اسے پہچان لیا، حالانکہ زمانے نے اس کا رنگ روپ بدل دیا تھا۔ میں نے پوچھا، تم عائشہ ہو؟
وہ کچھ لمحے مجھے دیکھتی رہی، پھر میرا نام لے کر مجھ سے لپٹ گئی۔ ہم نے میٹرک ساتھ کیا تھا۔ وہ میری سہیلی تھی۔
وہ میرے گھر آئی اور اس نے اپنی پوری داستان سنائی۔ اسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
عائشہ نے ایک غلط قدم اٹھایا تھا اور اس کی سزا ساری زندگی بھگتی۔ وہ اپنے والدین کے گھر میں عزت اور آسائش سے رہ سکتی تھی، مگر جذبات کے طوفان نے اس کی دنیا بدل دی۔
عشق ایک جوا ہے۔ اگر جیت گئے تو سب کچھ مل جاتا ہے، اور اگر ہار گئے تو زندگی بھر کا پچھتاوا رہ جاتا ہے۔
والدین دشمن نہیں ہوتے۔ اکثر نادان بچیاں جذبات میں آ کر انہیں اپنا مخالف سمجھ لیتی ہیں، مگر حقیقت میں وہی سب سے بڑے خیر خواہ ہوتے ہیں۔
عائشہ آج بھی زندہ ہے، مگر اپنے ماضی سے چھپ کر۔ یہ زندگی آسان نہیں ہوتی۔ یہ وہی جان سکتے ہیں جن پر گزرتی ہے۔
مجھے امید ہے کہ آپ سب نے عائشہ کی کہانی سے سبق حاصل کیا ہوگا۔ اس کہانی کو اپنی خواتین دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ وہ بھی اس سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔
ختم شد۔ ✍️📚

