السلام علیکم آج میں آپکو ایک ایسا واقعہ سنانے جا رہی ہوں جسے سن کر تمہاری روح کانپ اٹھے گی۔ یہ کہانی ہمارے ایک سبسکرائبر ، طارق بھائی، کی ہے جنہوں نے ہمیں یہ کہانی ای میل کی صورت میں سینڈ کی ہے
یہ کہانی انیس سو ننانوے سے شروع ہوتی ہے۔
اُس وقت طارق کے والد پنجاب کے شہر فیصل آباد میں کپڑے کی ایک بڑی فیکٹری میں کام کرتے تھے۔ وہ وہاں ملازم تھے۔ انہوں نے فیصل آباد کے علاقے پمپ روڈ پر ایک مکان کرائے پر لے رکھا تھا، جہاں ان کا پورا خاندان رہتا تھا۔
طارق کے گھر میں کل چھ لوگ رہتے تھے۔ خود طارق، اس کے والدین، دو بہنیں، اور ان کی چاچی سحر۔ طارق کے چاچا دبئی میں کام کرتے تھے، تو چاچی سحر ان کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔
طارق اُس وقت صرف چار برس کا تھا، اور چاچی سحر چوبیس برس کی تھیں۔ یہ ساری کہانی چاچی سحر کے گرد گھومتی ہے۔
زندگی بالکل عام سی چل رہی تھی۔ کوئی پریشانی نہیں تھی۔ لیکن پھر ایک رات، چاچی سوئیں اور اگلے دن صبح جب اُٹھیں تو انہیں شدید بخار تھا۔
گھر والوں نے سوچا شاید معمولی بخار ہے۔ پاس کے کسی ڈاکٹر کو دکھایا، دوائیاں لے آئے۔ دو دن تک دوائیاں کھائیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ الٹا بخار بڑھتا چلا گیا۔
پھر انہوں نے چاچی کو شہر کے ایک بڑے ہوسپیٹل میں داخل کروا دیا۔ سات دن وہاں رہیں، لیکن حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ گھر والوں نے سوچا کہ ہوسپیٹل میں پیسے برباد ہو رہے ہیں، تو چاچی کو رخصت کروا کر گھر لے آئے۔
اب یہاں سے اصل مصیبت شروع ہوتی ہے۔
طارق کی امی بہت فکرمند ہو گئیں۔ انہوں نے محلے کی کچھ خواتین سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا:
"لگتا ہے لڑکی کو نظر لگ گئی ہے۔ کسی عامل سے رجوع کرو۔"
ایک رشتہ دار کے ذریعے طارق کی امی کو ایک عاملہ خاتون کا پتا چلا۔ اُسے گھر بلایا۔ جب وہ آئی تو چاچی کو سامنے بٹھایا اور کچھ خاص عمل کیا۔ پھر پورے گھر میں گھومی، واپس آئی اور بولی:
"میں نے یہاں سب ٹھیک کر دیا ہے۔ اب اس لڑکی کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔"
لیکن جانے سے پہلے اُس نے ایک اور بات کہی:
"سنو، میں نے سب ٹھیک کر دیا ہے، مگر اگلے ہفتے اس لڑکی کو تین روحانی ہستیاں نظر آئیں گی۔"
طارق کی امی نے حیرانی سے پوچھا:
"کون سی ہستیاں؟"
عاملہ نے جواب دیا:
"میری مددگار روحانی طاقتیں ہیں جو میرا ساتھ دیتی ہیں۔ یہ تینوں اگلے ہفتے تمہارے گھر میں رہیں گی۔ یہ لڑکی کو کبھی کبھار نظر آ جائیں گی۔ پریشان مت ہونا، یہ صرف اسے برکت دینے آئیں گی۔ ہو سکتا ہے کبھی یہ ڈراؤنی شکل میں نظر آئیں، لیکن گھبرانا نہیں۔ ایک ہفتے بعد سب کچھ معمول پر آ جائے گا۔"
خاندان والوں نے کہا:
"ٹھیک ہے، اگر یہ ہماری بھلائی کے لیے ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔"
عاملہ چلی گئی۔ اور یہاں سے اصل ڈرامہ شروع ہوا۔
تقریباً ایک مہینہ گزر چکا تھا۔
چاچی کی طبیعت آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی تھی۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔
ایک دن، دوپہر کے تقریباً ڈھائی بجے تھے۔ چاچی اپنے کمرے میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھیں۔ پڑھتے پڑھتے انہیں پیاس محسوس ہوئی۔ بستر کے بائیں طرف میز پر پانی کی بوتل رکھی تھی۔ انہوں نے کتاب بند کی اور بوتل اٹھانے کے لیے سر اٹھایا۔
اور ان کی نظر کمرے کے بائیں کونے پر جا پڑی۔
کچھ لمحوں کے لیے چاچی بالکل خاموش ہو گئیں۔ پھر اچانک وہ زور سے چیختی ہوئی کمرے سے باہر بھاگیں۔
طارق کی امی صحن میں بیٹھی تھیں۔ چاچی سیدھی ان کے پاس بھاگیں۔ امی نے فوراً پوچھا:
"کیا ہوا سحر ؟ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟"
چاچی سانس پھولتے ہوئے بولیں:
"بھابی، میں نے کمرے کے کونے میں کسی کو دیکھا!"
"اچھا، کیا دیکھا؟"
"ایک بہت لمبا آدمی تھا، چھ فٹ سے زیادہ۔ اُس کا رنگ لال تھا اور وہ بہت خوفناک لگ رہا تھا۔ اُس کے دانت باہر کو نکلے ہوئے تھے اور وہ مجھے گھورے جا رہا تھا۔"
چاچی کے پورے جسم میں کپکپی دوڑ رہی تھی۔
طارق کی امی نے تسلی دیتے ہوئے کہا:
"اوئے، اتنا نہ گھبراؤ۔ عاملہ نے کہا تھا کہ تمہیں کبھی کبھار تین روحانی ہستیاں نظر آئیں گی۔"
چاچی نے پریشانی سے کہا:
"بھابی، عاملہ کو آئے ایک مہینہ ہو گیا! اب کیوں نظر آ رہی ہیں؟ میں بہت ڈر گئی ہوں۔ میں اکیلی کمرے میں نہیں جاؤں گی۔"
امی نے سادگی سے کہا:
"فکر مت کرو، شاید برکت دینے آئی ہو۔"
طارق کی امی نے اس واقعے کو بہت معمولی سمجھا۔ لیکن چاچی کی طبیعت، جو کچھ بہتر ہو رہی تھی، اُس دن کے بعد سے بالکل الٹ ہو گئی۔ ان کی حالت بگڑتی چلی گئی۔
اُس واقعے کے تین دن بعد۔ طارق کے والد چھٹی پر تھے۔ سارا خاندان ایک ساتھ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا، کہ اچانک چاچی نے اپنا گلا پکڑ لیا۔
انہوں نے گھبراہٹ میں کہا:
"بھابی، مجھے سانس نہیں آ رہی۔"
اور یہ کہتے ہی وہ زمین پر گر پڑیں۔
طارق بتاتا ہے:
"یار، میری چاچی ایسے رد عمل دے رہی تھیں جیسے کوئی ان کا گلا دبا رہا ہو۔ وہ اپنا گلا زور سے پکڑے ہوئے تھیں اور بار بار اپنا سینہ اوپر اٹھا رہی تھیں۔ بالکل ایسے جیسے انہیں سانس لینا مشکل ہو رہا ہو اور کسی نے ان کے سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا ہو۔"
امی نے چیخ ماری۔ ان کی آواز سن کر آس پاس کے سب لوگ دوڑتے ہوئے گھر میں آ گئے۔
سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ چاچی ایسے تڑپ رہی تھیں جیسے کسی نے ان کے ہاتھ باندھ دیے ہوں اور وہ پوری طاقت سے چھڑانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن کامیاب نہیں ہو رہیں۔ انہیں سانس لینے میں بہت زیادہ تکلیف ہو رہی تھی۔ ہر سانس لینے کے لیے وہ جدوجہد کر رہی تھیں۔
جہاں طارق رہتے تھے وہاں سے وہاں سے کچھ دور چا چی کا میکہ تھا ۔ پڑوسیوں نے طارق کے والد سے کہا:
"فوری طور پر چاچی کو وہاں لے چلو۔ وہاں قریب میں ایک مسجد ہے۔ اُس مسجد کے مولوی صاحب دم درود کرتے ہیں۔ لگتا ہے کسی باہری طاقت نے ان پر قابو پا لیا ہے۔ فوراً لے جاؤ!"
سب نے جلدی میں چاچی کو اٹھایا اور ماموں کے گھر کی طرف لے گئے۔
وہاں پہنچ کر چاچی سحر کو ایک چارپائی پر لٹایا، اور ماموں نے فوری طور پر مولوی صاحب کو بلوایا۔
جیسے ہی مولوی صاحب اندر آئے، چاچی نے اپنی گردن گھمائی اور ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں:
"تم اِسے بچاؤ گے؟ تم میں اتنی طاقت آ گئی ہے؟ تمہیں پتا بھی ہے ہم کتنے ہیں؟"
مولوی صاحب نے چاچی کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے قریب جانے کی کوشش کی۔ جیسے ہی وہ قریب پہنچے، چاچی نے ستر کلو وزنی مولوی صاحب کو گردن سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیا۔
پڑوس کے سارے لوگوں نے مل کر چاچی کو مولوی صاحب سے دور کھینچا۔
اپنی بھابھی کی یہ حالت دیکھ کر طارق کے والد رو پڑے:
"میں کیسا بیکار دیور ہوں! اپنی بھابھی کو اِس مصیبت سے نکال بھی نہیں سکتا!"
یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنے اوپر مٹی کا تیل ڈالنا شروع کر دیا اور بولے:
"میں خود کو آگ لگا لوں گا! میں اپنی بھابھی کے لیے کچھ نہیں کر سکتا!"
باقی لوگوں نے فوری طور پر طارق کے والد کو پکڑ لیا۔ انہوں نے سمجھایا:
"اس طرح ہمت ہار جانے سے کچھ حل نہیں ہوگا۔ ہمارے شہر میں کوئی ایسا عامل یا مولوی نہیں جو سحر کو ٹھیک کر سکے۔ یہاں کے سب سے بڑے مولوی صاحب کی یہ حالت ہو گئی۔ ایک کام کرو، اپنے خاندان کو کسی ایسی جگہ لے جاؤ جہاں بڑے پیمانے پر روحانی علاج ہوتا ہو۔ صرف کوئی بہت طاقتور عامل یا مولوی ہی سحر کو اس مصیبت سے نکال سکتا ہے۔"
لوگوں کی بات سن کر طارق کے والد کچھ سنبھلے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے خاندان کو کسی اور جگہ لے جانا ہوگا۔
طارق کے والد نے اپنے پورے خاندان کو فیصل آباد سے ٹوبہ ٹیک سنگھ، میں منتقل کر دیا۔ وہاں طارق کی نانی کا گھر تھا، تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ سب وہیں رہیں گے۔
اب طارق کے والد اپنے کوارٹرز میں فیصل آباد میں رہتے اور فیکٹری میں کام کرتے، اور ہر اتوار کو، جب چھٹی ہوتی، تو وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اپنے خاندان سے ملنے آتے۔
طارق بتاتا ہے:
"یار، میری چاچی کی حالت بہتر ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ ہفتے میں دو تین دن وہ ایسے عمل کرتیں جیسے انہیں سانس لینا مشکل ہو رہا ہو۔ وہ چیختیں، چلاتیں، اور کبھی کبھار اپنا سر دیوار سے ٹکراتیں۔
وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے گلا دبا لیتیں، اپنا جسم ہلاتیں اور زور زور سے چیخنے لگتیں۔ کبھی کبھار ان کی حالت اتنی خراب ہو جاتی کہ ہم سب پریشان ہو جاتے
طارق کے والدین بہت پریشان تھے۔
وہ کسی ایسے مولوی یا عامل کی تلاش میں تھے جو چاچی کو ٹھیک کر دے۔ اور اس جدوجہد میں دو سال گزر گئے ۔
طارق بتاتا ہے:
"ایک سال بعد، ہم نے نانی کے گھر کے بالکل ساتھ ہی ایک نیا گھر تعمیر کیا، اور میرا پورا خاندان اُس نئے گھر میں منتقل ہو گیا۔
جب بھی کسی رشتہ دار یا دوست سے کسی مولوی یا عامل کے بارے میں معلوم ہوتا، وہ فوری طور پر چاچی کو ان کے پاس لے جاتے۔ تین چار دن سحر ٹھیک رہتیں، پھر وہی سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا۔
وہ چیختیں، چلاتیں، کبھی ہنستیں، اور کبھی کہتیں:
'تم لوگ مجھے کبھی نہیں نکال سکتے۔ جو کرنا ہے کر لو۔'
اس طرح تین سال گزر گئے۔"
پھر آیا سال دو ہزار تین۔
جو شروع میں میں نے تمہیں بتایا تھا، وہ واقعہ اب آتا ہے۔
طارق کی امی باورچی خانے میں چائے بنا رہی تھیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو آواز دی:
"بیٹا، یہ چائے کا پیالہ لے جا کر اپنی چاچی کو دے آؤ۔"
میں نے بتایا تھا کہ طارق کے چہرے پر خوف کے آثار تھے۔ اب تمہیں سمجھ آ گیا ہوگا کہ یہ خوف کیوں تھا۔
امی کے بار بار کہنے پر، طارق نے کانپتے ہاتھوں سے چائے کا پیالہ لیا اور چاچی کے کمرے کی طرف گیا۔
دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ چاچی بستر پر ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھی تھیں۔ ان کے بال ان کے چہرے پر پھیلے ہوئے تھے۔
طارق نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا:
"چاچی، میں آپ کے لیے چائے لایا ہوں۔"
چائے لینے کی بجائے، چاچی نے طارق کا ہاتھ پکڑ لیا، دوسرے ہاتھ سے اپنے بال پیچھے کیے، اور بہت عجیب انداز میں مسکراتے ہوئے طارق کی طرف دیکھا۔
طارق کچھ سمجھ پاتا اُس سے پہلے، چاچی سحر نے اُسے اٹھا کر دیوار سے زور سے ٹکرا دیا۔
طارق کا سر دیوار سے ٹکرایا اور وہ چیختا ہوا زمین پر گر گیا۔
اُس کی چیخ سن کر طارق کی امی دوڑتی ہوئی کمرے میں آئیں۔
انہوں نے دیکھا کہ چاچی طارق کو ٹانگ سے پکڑ کر کمرے میں گھسیٹ رہی تھیں۔
پھر انہوں نے طارق کو کمرے سے باہر پھینک دیا اور دروازہ زور سے بند کر دیا۔
دروازہ بند کرتے ہی، چاچی نے کمرے میں رکھی شیشے کی تمام چیزیں باہر نکال کر توڑنا شروع کر دیں۔
اور پھر طارق کی امی نے ان کی ہنسی کی آواز سنی۔ وہ کمرے میں ناچ رہی تھیں اور بہت خوفناک آواز میں ہنسے جا رہی تھیں۔
یہ سب دیکھ کر طارق کی امی زور زور سے چیخیں مارنے لگیں۔
ان کی چیخیں سن کر محلے کے سارے لوگ گھر میں آ گئے۔
انہوں نے طارق کو دوسرے کمرے میں لے جا کر پانی پلایا۔ جب طارق ہوش میں آیا تو اُس نے سب کو پورا واقعہ بتایا۔
اب سارے پڑوسی چاچی سحر کے کمرے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگے۔ اندر سے لگاتار ان کے ناچنے اور
ہنسنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
اُس وقت ان کے پڑوسیوں میں ایک عدیل نام کا شخص تھا۔ اُس نے ایک سریا اٹھایا اور دروازے کے کنارے سے گھسا دیا۔ سریا موڑ کر کسی طرح دروازہ کھول دیا۔
جیسے ہی دروازہ کھلا، سب نے دیکھا کہ چاچی ایک کونے میں بے ہوش پڑی ہیں۔
لیکن ابھی ابھی تو وہ ناچ رہی تھیں! دروازہ کھلتے ہی اچانک کیسے بے ہوش ہو گئیں؟
جب لوگوں نے سحر کو ہوش میں لانے کی کوشش کی تو دیکھا کہ ان کی ٹانگوں میں شیشے کے ٹکڑے گھسے ہوئے ہیں۔ بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔
طارق بتاتا ہے:
"اگلے تین ماہ تک ہمارے گھر میں کوئی مسئلہ نہیں آیا۔ چاچی سحر بالکل معمول کے مطابق رہیں۔
اسی دوران، میرے والد کا بھی تبادلہ ہو گیا اور وہ بھی ہمارے ساتھ آ کر رہنے لگے۔ پورا خاندان دوبارہ اکٹھا ہو گیا۔
سب کو لگا کہ سحر مکمل طور پر ٹھیک ہو گئی ہیں۔ وہ پہلے جیسی عجیب حرکتیں نہیں کر رہیں۔
لیکن تیسرے مہینے کے آخر میں، چاچی کی پرانی حرکتیں دوبارہ لوٹ آئیں۔
اب پھر سے مولویوں، عاملوں اور پیروں کے چکر شروع ہو گئے۔"
طارق بتاتا ہے:
"میرے والد نے میری چاچی کو ساٹھ سے ستر مولویوں اور عاملوں کو دکھایا۔ لیکن ہر مرتبہ وہی کہانی دہرائی۔ چار پانچ دن ٹھیک رہتیں، پھر سب کچھ دوبارہ شروع ہو جاتا۔"
ایک دن۔
نانی کے گھر میں ایک گائے تھی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ چاچی وہاں جا کر اُس گائے کو گھورتی رہتیں۔
ایک دن، جب وہ گائے کو گھورے جا رہی تھیں، طارق کی دونوں بہنوں نے سوال کیا:
"چاچی، آپ اس گائے کو اس طرح کیوں گھور رہی ہیں؟"
یہ سنتے ہی چاچی زور سے ہنسیں اور بولیں:
"میں تین دن میں اس گائے کو مار ڈالوں گی۔"
اور بالکل ویسا ہی ہوا۔
اگلے تین دنوں میں گائے کی صحت تیزی سے بگڑتی چلی گئی اور وہ مر گئی۔
یہ دیکھ کر طارق کے خاندان والے بہت خوفزدہ ہو گئے۔
اسی دوران۔
ان کے پڑوس میں ان کے ماموں، رشید، رہتے تھے۔
ماموں رشید نے کہا:
"تم نے اتنے سارے مولوی، عامل دیکھ لیے، لیکن بالکل پاس میں جو رہتا ہے اُسے نہیں دکھایا۔ اُسے بھی دکھا کر دیکھو۔"
دراصل بات یہ تھی کہ طارق کے والد اُس مولوی کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے کیونکہ وہ بڑے پیمانے پر دم درود نہیں کرتے تھے۔
طارق کے والد سوچتے تھے:
"میں نے اتنے بڑے بڑے مولوی دیکھ لیے۔ اگر ان سے کچھ نہیں ہو سکا تو اِس سے کیا ہوگا؟"
لیکن ماموں کے بار بار کہنے پر، انہوں نے فیصلہ کیا:
"چلو، ٹھیک ہے، اُسے بھی دکھا لیتے ہیں۔"
**اُس مولوی کا نام رفیق تھا۔**
جب طارق کا خاندان چاچی کو رفیق کے پاس لے گیا، رفیق نے ان کی طرف دیکھا، پھر طارق کی امی کی طرف دیکھا اور کہا:
"اگر تم میں صبر ہے توسحر کو میرے پاس چھوڑ دو۔ ایک سال لگے گا، لیکن میں اِسے ٹھیک کر دوں گا۔
اگر صبر ہے تو یہیں چھوڑ دو۔ اگر نہیں، تو خاموشی سے چلے جاؤ۔
کوئی عامل، مولوی سحر کو نہیں بچا سکتا۔ اِس پر ایک نہیں، بہت ساری روحوں کا سایہ ہے۔ اِسے نکالنا اتنا آسان نہیں۔"
طارق کی امی نے کہا:
"میں اپنی بھابھی کو آپ کے پاس کیسے چھوڑ دوں؟ کوئی اور طریقہ بتائیں۔"
رفیق نے کہا:
"ٹھیک ہے۔ اگر چھوڑنا نہیں چاہتے تو ہر روز اِسے میرے پاس لے آؤ۔"
طارق کی امی نے کہا:
"ٹھیک ہے، میں ہر روز لاؤں گی۔ بس آپ اِسے ٹھیک کر دیں۔"
رفیق نے پھر صاف الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا:
"سنو، یہ جو بھی روح ہے، یہ جو بھی سایہ ہے، یہ تمہارے ذہنوں کے ساتھ کھیلے گی۔
یہ تمہیں یقین دلائے گی کہ کوئی دوائی، کوئی عمل، سحر پر کام نہیں کر رہا۔ اِسے یہاں لانا فضول ہے۔ تم صرف اپنا وقت برباد کر رہے ہو۔
یہ تمہارے ذہن سے کھیلے گی اور تمہیں ایسا محسوس ہوگا کہ سحر کو یہاں لانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
اگر سحر میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی تو تمہارا یقین ڈگمگا سکتا ہے، اور تم شاید اِسے میرے پاس لانا بند کر دو۔
یہ سایہ بہت چالاک اور طاقتور ہے۔ یہ تمہارے ذہن کو ہلا دے گا۔ لیکن چاہے کچھ بھی ہو، تم کئی دن تک کوئی نتیجہ نہیں دیکھو گے۔
تمہیں سحر میں کوئی بہتری نظر نہیں آئے گی، لیکن تم اِسے میرے پاس لانا بند نہیں کرو گے۔"
اب طارق کے خاندان نے کہا:
"ٹھیک ہے، ہم سحر کو آپ کے پاس لانا بند نہیں کریں گے۔"
رفیق نے کہا:
"یاد رکھو، تمہیں ایک سال انتظار کرنا ہوگا۔"
ان کے خاندان نے ہامی بھر دی اور وہ سحر کو لے کر گھر واپس آ گئے۔
اگلے دن سے۔
طارق کی امی ہر روز چاچی سحر کو رفیق کے پاس لے جانے لگیں۔
رفیق جو بھی عمل کرنا تھا، کرتا، اور ایک مہینہ گزر گیا۔
لیکن پھر وہی ہوا۔
طارق کے خاندان کو سحر میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ یعنی ایک فیصد بھی بہتری نہیں آئی۔
آہستہ آہستہ ان کے خاندان کو لگنے لگا کہ شاید یہ رفیق ان کے پیسے لوٹ رہا ہے۔ اُس نے پہلے ہی ان کے ذہن میں یہ بات ڈال دی تھی کہ یہ کام نہیں کر رہا۔
تو ان کے ذہن بدلنے لگے کہ رفیق دھوکہ دے رہا ہے۔
ایک مہینے بعد، انہوں نے سحر کو رفیق کے پاس لے جانا بند کر دیا۔
اور وہاں سے حالات مزید خراب ہوتے چلے گئے۔
پھر سے مختلف مولویوں اور عاملوں کے چکر شروع ہو گئے۔
طارق بتاتا ہے:
"بھائی، اس طرح چار سال گزر گئے۔ میرے والد نے ایسے مولویوں اور عاملوں پر دس سے بارہ لاکھ روپے خرچ کر دیے، لیکن کچھ کام نہیں آیا۔"
پھر آیا سال دو ہزار چھ۔
دسمبر کا مہینہ تھا۔ سردی تھی، تو طارق اور اس کی دونوں بہنیں چھت پر دھوپ سینکنے بیٹھے تھے۔ والدین نیچے کمرے میں تھے۔
طارق کی ایک بہن کا نام نبیلہ تھا۔
نبیلہ نے چاچی کی طرف دیکھا اور کہا:
"سنیں چاچی، آپ بس یہ سارا ڈرامہ کر رہی ہیں۔ آپ کو کچھ نظر نہیں آتا، ہے نا؟ کوئی بھوت، کوئی روح، کچھ نہیں۔ آپ بس ابو اور امی کو تنگ کرنے کے لیے یہ سارا ڈرامہ کرتی ہیں۔"
یہ سن کر چاچی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
نبیلہ نے طارق اور چھوٹی بہن کی طرف دیکھا، اور پھر دوبارہ چاچی سے کہا:
"آپ بس ڈرامہ کر رہی ہیں، ہے نا؟"
نبیلہ کا منصوبہ یہ تھا کہ چاچی کو غصہ دلائے اور ان سے سچ اگلوا لے کہ آخر وہ کیا دیکھتی ہیں۔ وہ کیوں چیختی ہیں۔
تو اُس نے چاچی کو اکسانا شروع کر دیا:
"آپ بس ڈرامہ کرتی ہیں۔ آپ ابو اور امی کو تنگ کرنا چاہتی ہیں۔ آپ ان کی حالت نہیں دیکھتیں۔ ہم پچھلے پانچ چھ سالوں سے کیسے تکلیف میں ہیں۔"
یہ سب سن کر چاچی آہستہ آہستہ غصے میں آ گئیں۔
انہوں نے نبیلہ کی طرف انگلی اٹھائی اور کہا:
"اب چپ ہو جاؤ۔ تم سچ جاننا چاہتی ہو نا؟ سنو، میں بتاتی ہوں۔
جب بھی میرے ساتھ یہ ہوتا ہے، ایک سفید کپڑے پہنے ہوئی روح میرے پاس آتی ہے۔ وہ میرے سینے پر بیٹھ جاتی ہے اور میرا گلا گھونٹنے لگتی ہے۔
اِس کے علاوہ، ایک اور روح ہے جس کا پورا جسم لال رنگ کا ہے۔ جب وہ سفید کپڑے والی میرے سینے پر بیٹھتی ہے، تو وہ لال روح میری ٹانگ پکڑ لیتی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے جیسے میرے پاؤں کے تلوے میں سوئی چبھ رہی ہو۔
اِن دونوں کے علاوہ، ایک بہت لمبا کالا سایہ بھی ہے۔ وہ آتا ہے اور میرے سر کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے اور میرا سر مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے۔
میں جتنی بھی کوشش کروں، اپنا جسم ہلا نہیں سکتی۔ میں جتنا زور سے چیختی ہوں، وہ سبز روح اتنی ہی تیزی سے میری ٹانگ میں سوئی چبھوتی ہے۔
میں ان سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن یہ بے فائدہ ہے۔ یہ تینوں بہت طاقتور ہیں اور ہمیشہ میرے ارد گرد ہیں۔
وہ ابھی طارق کے بالکل پاس بیٹھا ہے اور میری باتیں سن رہا ہے۔"
یہ بات سن کر، طارق اور دونوں بہنیں خوف سے کانپ گئے۔
چاچی نے بہت عجیب انداز میں ہنسی اور کہا:
"میں اکثر اُسے اپنے کمرے میں کھڑا دیکھتی ہوں، یا برآمدے میں، یا کسی کونے میں جہاں ہم کھانے والے کمرے میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں۔
تم لوگوں کو لگتا ہے یہ سب مذاق ہے؟
نہیں، میں نقل نہیں کر رہی۔ تم لوگ میری صورتحال نہیں سمجھتے۔ وہ مجھے بہت گندی نظروں سے گھور رہا ہے۔"
چاچی کا لہجہ اچانک بدل گیا۔
ان کی حالت دیکھ کر طارق اور دونوں بہنیں نیچے والدین کے پاس بھاگے۔
وہاں انہوں نے اپنے والدین کو سب کچھ بتایا کہ چاچی اوپر ان سے یہ سب کہہ رہی ہیں۔
تب جا کر طارق کی امی کو احساس ہوا کہ رفیق نے جو کہا تھا، کہ بہت ساری روحیں ان پر قابض ہیں، وہ بالکل سچ تھا۔
پہلی بار انہیں احساس ہوا کہ یہ مولوی، میں نے ایک ایسا شخص ڈھونڈ لیا ہے جو بالکل صحیح بتا رہا تھا کہ سحر کو کیا مسئلہ درپیش ہے۔
اگلے ہی دن۔
طارق کی امی سحر کو رفیق کے پاس لے گئیں اور سیدھا اس کے سامنے کھڑا کر دیا۔
انہوں نے کہا:
"تین سال لگیں، پانچ سال، دس سال، جتنا بھی وقت لگے، بس اسکو کو ٹھیک کر دیں۔ میں اِسے اب کسی اور کو نہیں دکھاؤں گی۔ میں ہر جگہ ناکام ہونے کے بعد آپ کے پاس آئی ہوں۔"
رفیق نے کہا:
"ٹھیک ہے۔ میں تمہاری بھابھی کو ٹھیک کر دوں گا، لیکن تمہیں صبر کرنا ہوگا۔"
پھر اُس نے کہا:
"مجھے یہ بھی پتا ہے کہ یہ لوگ تمہاری بھابھی کے ساتھ کتنے عرصے سے رہ رہے ہیں۔ یہ سب کیسے شروع ہوا تھا۔
وہ عورت جو تمہارے گھر تمہاری بھابھی کا علاج کرنے آئی تھی، اُس نے تمہیں بتایا تھا کہ اُس کے تین شیاطین ہیں جو ایک دن تمہاری بھابھی کو نظر آئیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ اُس عورت نے اِن شیاطین کو قابو میں کر رکھا تھا اور وہ انہیں اپنے حکم پر چلاتی تھی۔۔
اُس نے اِنہیں سحر کو ٹھیک کرنے کے لیے بھیجا تھا، لیکن یہ شیطان واپس جانے کو تیار نہیں تھے۔ اُسی دن سے یہ یہیں رہ گئے۔"
اُس دن سے اگلے ڈیڑھ سال تک۔
طارق کی امی ہر روز چاچی کو رفیق کے پاس لے جاتی رہیں۔
رفیق چاچی کو اپنے سامنے بٹھاتا اور ان کے جسم پر کچھ خاص عمل کرتا۔
ڈیڑھ سال بعد، چاچی سحر مکمل طور پر ٹھیک ہو گئیں۔
رفیق نے ان کے گھربھی تعویذ بند کر دیا اور اعلان کیا کہ اب کوئی روح یا شیطان ان کے گھر میں داخل نہیں ہو سکتی ۔
آخرکار، جون دو ہزار آٹھ میں۔
جب طارق کی امی نے آخری بار چاچی کو رفیق کے پاس لے گئی ، تو رفیق نے اعلان کیا:
"تمہاری بھابھی مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی ہے۔ اب اِسے دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔"
طارق بتاتا ہے:
آج ان کی ایک پندرہ سالہ بیٹی ہے۔ وہ دبئی میں اپنے شوہر کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہی ہیں۔

