السلام علیکم دوستو…
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ روزہ آخر شروع کہاں سے ہوا؟
تحریر: فرزانہ خان
کیا یہ صرف چودہ سو سال پرانی عبادت ہے… یا اس کی جڑیں انسان کی تخلیق تک جاتی ہیں؟
آج ہم وقت کی سرحدوں کو پار کرتے ہوئے ایک ایسے سفر پر نکلیں گے جو صرف بھوک اور پیاس کی کہانی نہیں، بلکہ انسان کے نفس، خواہش اور رب سے تعلق کی داستان ہے۔
ذرا آنکھیں بند کیجیے…
تصور کیجیے ایک انسان کھڑا ہے۔
سورج سر پر ہے، گرمی شدت اختیار کر رہی ہے، حلق خشک ہے، پیٹ خالی ہے۔
سامنے ٹھنڈا پانی رکھا ہے۔
کوئی دیکھنے والا نہیں، کوئی روکنے والا نہیں۔
اگر وہ چاہے تو ایک لمحے میں گلاس اٹھا سکتا ہے…
مگر وہ نہیں اٹھاتا۔
کیوں؟
کیونکہ اس کے دل میں ایک یقین زندہ ہے…
کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔
بس… یہی روزہ ہے۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ روزہ صرف چودہ سو سال پہلے فرض کیا گیا۔
لیکن جب ہم تاریخ کی گہرائی میں جھانکتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبادت انسان کی تخلیق کے آغاز سے جڑی ہوئی ہے۔
یہ صرف ایک مذہبی رسم نہیں، بلکہ انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔
یہ سفر شروع ہوتا ہے جنت سے…
وہ جنت جہاں نہ بھوک تھی، نہ پیاس، نہ تھکن، نہ بیماری۔
ہر نعمت میسر تھی۔
حضرت آدم علیہ السلام کو مکمل آزادی دی گئی:
کھاؤ، پیو، جہاں چاہو رہو۔
مگر اسی مکمل آزادی کے درمیان ایک حد مقرر کی گئی…
ایک درخت، جس کے قریب جانے سے منع کیا گیا۔
سوچیے…
جب بھوک ہی نہ تھی تو روکنے کا کیا مطلب تھا؟
یہیں Raaz چھپا ہے۔
روزہ ضرورت چھوڑنے کا نام نہیں…
بلکہ خواہش چھوڑنے کا نام ہے۔
جنت میں وہ درخت… دراصل روزے کی پہلی علامت تھا۔
وہ پیغام تھا کہ سب کچھ حلال نہیں ہوتا۔
ہر خواہش پوری کرنا تمہارے لیے نہیں۔
یہ انسان کے ارادے کا امتحان تھا…
کیا وہ اپنی چاہت کو حکمِ الٰہی کے سامنے جھکا سکتا ہے؟
پھر وہ لمحہ آیا…
جب وسوسہ غالب آ گیا۔
انسان سے لغزش ہوئی…
اور جنت کی راحت چھن گئی۔
زمین کی سخت زندگی شروع ہو گئی۔
اب محنت تھی…
تھکن تھی…
بھوک تھی…
پیاس تھی…
اور سب سے بڑھ کر پچھتاوا تھا۔
زمین پر اترنے کے بعد پہلی بار انسان نے بھوک کو شدت سے محسوس کیا۔
پہلی بار پیاس نے گلا جلایا۔
پہلی بار تنہائی نے دل کو توڑا۔
یہی وہ مقام تھا جہاں توبہ کا دروازہ کھلا۔
روایات میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی رضا کے لیے مخصوص دنوں میں روزے رکھے۔
چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ۔
یہ دن بعد میں “ایامِ بیض” کہلائے۔
جب وہ روزہ رکھتے تو ان کے دل میں نور بڑھتا۔
گویا جسم کمزور ہوتا جاتا…
مگر روح طاقتور ہوتی جاتی۔
یہ زمین پر انسانیت کا پہلا شعوری روزہ تھا۔
یہ سزا نہیں تھی…
یہ تربیت تھی۔
یہ پیاس تکلیف نہیں تھی…
یہ پاکیزگی تھی۔
وقت گزرتا گیا۔
نسلیں بڑھتی گئیں۔
قومیں بنتی گئیں۔
مگر روزے کی روح باقی رہی۔
حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں زمین گناہوں سے بھر گئی۔
طوفان آیا…
دنیا پانی میں ڈوب گئی۔
ایک کشتی امید کا چراغ بن کر لہروں سے لڑتی رہی۔
جب وہ کشتی کوہِ جودی پر رکی…
اور نئی زندگی کا آغاز ہوا…
تو شکرانے کے طور پر روزہ رکھا گیا۔
یہ پیغام تھا کہ نجات کے بعد بھی بندہ اپنے رب کو یاد رکھے۔
پھر حضرت داؤد علیہ السلام کا زمانہ آیا۔
انہوں نے عبادت میں توازن کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
ایک دن روزہ…
ایک دن افطار۔
نہ جسم پر مسلسل سختی…
نہ نفس کو مکمل آزادی۔
یہ “صومِ داؤدی” تھا۔
استقامت اور اعتدال کی اعلیٰ مثال۔
اب ہم اس روحانی سفر میں ایک اور اہم موڑ پر آتے ہیں۔
جب بنی اسرائیل آزمائشوں، غلامی، ہجرت اور معجزات کے درمیان اپنی شناخت تلاش کر رہے تھے…
اور اس دور کے مرکز میں ایک عظیم پیغمبر کھڑے تھے…
حضرت موسیٰ علیہ السلام۔
روزہ صرف اسلام کی شریعت تک محدود نہیں تھا۔
بلکہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں بھی روزے کا تصور روحانی گہرائی کے ساتھ موجود تھا۔
جب وہ فرعون کی غلامی میں تھے،
ان کی زندگیاں ظلم، مشقت اور خوف سے بھری تھیں۔
لیکن اندھیرے میں بھی عبادت کا چراغ بجھنے نہیں دیا گیا۔
وہ خوشی کے وقت بھی روزہ رکھتے…
مصیبت کے وقت بھی روزہ رکھتے…
اور جب کوئی اجتماعی آفت آتی، تو پوری قوم روزہ رکھتی۔
ان کے لیے روزہ صرف بھوک نہیں تھا۔
وہ ندامت کا اظہار تھا۔
وہ اجتماعی توبہ تھی۔
وہ عاجزی کا اعلان تھا۔
جب بڑی آزمائش آتی تو وہ کھانے پینے سے رک جاتے،
اپنے رب کے سامنے جھک جاتے،
اور اجتماعی طور پر معافی مانگتے۔
یہ صرف عبادت نہیں تھی…
یہ پوری قوم کی اجتماعی انکساری تھی۔
جب ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہیں…
تو ایک عظیم واقعہ سامنے آتا ہے۔
فرعون سے نجات کا دن۔
وہ لمحہ… جب اللہ تعالیٰ نے سمندر کو چیر دیا۔
پانی کے بیچ راستہ بنا دیا۔
اور بنی اسرائیل کو محفوظ پار کرا دیا۔
اور پھر…
فرعون اور اس کا غرور…
اسی سمندر میں ہمیشہ کے لیے غرق ہو گیا۔
یہ صرف نجات نہیں تھی…
یہ اللہ کی قدرت کا زندہ معجزہ تھا۔
یہ دن شکرانے کا دن بن گیا۔
روایات میں آتا ہے کہ اس عظیم نجات کے شکر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا۔
اور بنی اسرائیل بھی اس دن روزہ رکھتے تھے۔
یہی دن بعد میں “عاشورہ” کے نام سے معروف ہوا۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے،
تو آپ نے دیکھا کہ یہودی اس دن روزہ رکھتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کیسا روزہ ہے؟
انہوں نے جواب دیا:
یہ وہ دن ہے جب اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی،
اس لیے ہم شکرانے کے طور پر روزہ رکھتے ہیں۔
یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
“ہم موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ حق دار ہیں۔”
اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس دن روزہ رکھا۔
یہ اس بات کی واضح دلیل ہے…
کہ روزہ ایک مسلسل روحانی وراثت ہے۔
ایک نبی سے دوسرے نبی تک منتقل ہونے والی عبادت۔
اب ذرا ایک اور عظیم منظر تصور کیجیے…
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کوہِ طور پر بلایا۔
وہاں انہیں وحی عطا ہونی تھی۔
انہیں تورات دی جانی تھی۔
شریعت کا نزول ہونا تھا۔
قرآن میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے تیس راتوں کا وعدہ کیا…
پھر اسے دس اور بڑھا دیا۔
یوں یہ مدت چالیس راتوں پر مکمل ہوئی۔
یہ چالیس دن صرف قیام نہیں تھے…
مفسرین کے مطابق، یہ عبادت… خلوت… اور روزے کا زمانہ تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام دنیا سے کٹ گئے تھے۔
کھانے پینے سے دور ہو گئے تھے۔
اور مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی قربت میں تھے۔
سوچیے…
چالیس دن کی تنہائی…
چالیس دن کی عبادت…
چالیس دن کی روحانی تیاری…
اور پھر… براہِ راست کلامِ الٰہی کا شرف۔
یہ روزے کی سب سے اعلیٰ شکل تھی۔
جب انسان اپنے رب سے ہم کلام ہونے کی تیاری کر رہا ہو۔
لیکن جب حضرت موسیٰ علیہ السلام واپس آئے…
تو ان کی قوم آزمائش میں پڑ چکی تھی۔
انہوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کر دی تھی۔
یہ واقعہ ہمیں ایک گہرا سبق دیتا ہے…
کہ روزہ انسان کو مضبوط کرتا ہے،
مگر انسان کو ہمیشہ اپنے ایمان کی حفاظت کرنی ہوتی ہے۔
بنی اسرائیل پر بعض اوقات روزے کے احکام ہم سے زیادہ سخت تھے۔
کچھ روایات کے مطابق،
اگر کوئی شخص افطار کے بعد سو جاتا…
تو اگلے دن تک دوبارہ کھانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔
یعنی افطار کا وقت محدود ہوتا تھا۔
کچھ حالات میں مکمل خاموشی بھی عبادت کا حصہ ہوتی تھی۔
یہ سختی ان کی تربیت کے لیے تھی۔
کیونکہ وہ ایک ایسی قوم تھی…
جو بار بار نافرمانی میں مبتلا ہو جاتی تھی۔
جبکہ امتِ محمدیہ پر اللہ تعالیٰ نے آسانی فرمائی۔
پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ آیا۔
ان کی زندگی سادگی… زہد… اور دنیا سے بے رغبتی کی علامت تھی۔
روایات میں آتا ہے کہ نبوت سے پہلے،
وہ طویل خلوت اختیار کرتے تھے۔
تنہائی میں عبادت کرتے…
اور دنیاوی آسائشوں سے دور رہتے تھے۔
انجیل کی روایات کے مطابق،
انہوں نے اپنی دعوت کے آغاز سے پہلے چالیس دن تک روزہ رکھا۔
ویرانے میں قیام کیا۔
اور مکمل یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ رہے۔
یہ روزہ صرف بھوک برداشت کرنے کا نام نہیں تھا…
یہ نفس کی آزمائش تھی۔
یہ صبر کی تربیت تھی۔
یہ روحانی استقامت کا اعلان تھا۔
ان کی قوم، جو بعد میں نصاریٰ کہلائی، وہ بھی روزے کو عبادت کا اہم حصہ سمجھتی تھی۔ وہ توبہ، غم اور روحانی تجدید کے لیے روزہ رکھتے۔ ان کے ہاں ایک مخصوص مدت، یعنی 40 دن، عبادت، پرہیزگاری اور خود احتسابی کے لیے مقرر کی گئی، جسے بعد میں "لینٹ" کے نام سے جانا جانے لگا۔ اس عرصے میں وہ کھانے پینے میں سادگی اختیار کرتے، بعض اوقات گوشت یا مخصوص غذائیں ترک کرتے، اور اپنی زندگی کو زیادہ عبادت اور خیرات کی طرف موڑ دیتے۔
پھر حضرت زکریا علیہ السلام کا واقعہ سامنے آتا ہے۔ انہیں خاموشی کا حکم دیا گیا، تین دن تک گفتگو نہ کرنا۔ یہ صومِ صمت تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ صرف پیٹ کا نہیں، زبان کا بھی ہوتا ہے۔ اگر زبان آزاد ہو، تو بھوک بے فائدہ ہے۔ اسلام سے پہلے عرب میں بھی عاشورہ کا روزہ معروف تھا۔ قریش اس دن روزہ رکھتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ہجرت سے پہلے اس کا اہتمام کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ روزہ انسانیت کی مشترکہ روحانی وراثت ہے۔
پھر مدینہ کی سرزمین پر وہ تاریخی لمحہ آیا، جب رمضان کے روزے فرض ہوئے۔ ہجرت کے دوسرے سال شعبان میں یہ حکم نازل ہوا۔ اب روزہ ایک باقاعدہ فریضہ تھا۔ مقصد واضح تھا: تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ مدینہ کی پہلی سحری کا منظر تصور کیجیے۔ سادگی، خاموشی، چند کھجوریں، تھوڑا سا پانی۔ نہ شور، نہ تکلف، مگر دلوں میں ایمان کی حرارت۔ پہلی افطاری بھی سادہ تھی، مگر آنکھوں میں شکرگزاری کے آنسو تھے۔
اسی رمضان میں بدر کا میدان سجا۔ ایک طرف ہزار کا لشکر، دوسری طرف 313 جانثار۔ بظاہر طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں، مگر دلوں میں یقین تھا۔ وہ روزہ دار تھے، خالی پیٹ، مگر روحیں بھرپور۔ نتیجہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ روزہ کمزوری نہیں دیتا، بلکہ ارادے کو فولاد بنا دیتا ہے۔ جب انسان اپنی بنیادی خواہش پر قابو پا لیتا ہے، تو وہ بڑی آزمائشوں میں بھی ڈگمگاتا نہیں۔
روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ میں کھا سکتا ہوں، مگر نہیں کھاؤں گا۔ میں پی سکتا ہوں، مگر نہیں پیوں گا۔ میں بول سکتا ہوں، مگر خاموش رہوں گا، اگر بات میرے رب کو پسند نہ ہو۔ یہ خود پر حکمرانی کی مشق ہے۔ جب پیٹ خالی ہوتا ہے، تو دل نرم ہو جاتا ہے۔ انسان غریب کی بھوک کو سمجھتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں درد آتا ہے۔ وہ صدقہ کرتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے، دوسروں کی مدد کرتا ہے۔ روزہ ایک سماجی انسان بھی پیدا کرتا ہے۔
رمضان کا اصل مقصد صرف 30 دن بھوکا رہنا نہیں، بلکہ اصل مقصد تبدیلی ہے۔ اگر رمضان گزر جائے اور انسان ویسا ہی رہے جیسا پہلے تھا، تو اس نے صرف بھوک برداشت کی، روزہ نہیں رکھا۔ روزہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی عارضی ہے۔ جیسے ہم غروبِ آفتاب کا انتظار کرتے ہیں، ویسے ہی ایک دن موت کا سورج غروب ہوگا۔ جیسے ہم اذانِ مغرب کا انتظار کرتے ہیں، ویسے ہی جنت کی اذان کا انتظار کرنا چاہیے۔
جدید تحقیق بھی بتاتی ہے کہ وقفے سے بھوکا رہنا جسم کے لیے مفید ہے، مگر مومن کے لیے اصل فائدہ روحانی ہے۔ یہ عبادت انسان کو خود احتسابی سکھاتی ہے۔ رات کے آخری پہر کی سحری میں ایک عجیب سکون ہوتا ہے۔ خاموش دعا، استغفار، اور قبولیت کا لمحہ۔ روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی۔ دنیا سے ایک کنارہ کشی، مسجد کے گوشے میں بیٹھ کر انسان خود کو ٹٹولتا ہے، اپنے دل کی صفائی کرتا ہے۔ شبِ قدر کی تلاش میں راتیں جاگتا ہے، وہ رات جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
روزہ دراصل ایک مکمل تربیتی نظام ہے۔ آنکھوں کا روزہ، زبان کا روزہ، دل کا روزہ، خیالات کا روزہ۔
اے اللہ، ہمیں ایسا روزہ عطا فرما جس میں صرف بھوک اور پیاس نہ ہو، بلکہ تقویٰ ہو۔ ہمارے دلوں کو پاک کر دے، ہمارے نفس کو قابو میں کر دے، ہمیں صبر دے، اخلاص دے، استقامت دے۔ ہمیں ایسا بنا دے کہ جب ہم تنہائی میں ہوں، تب بھی تیرے حکم کی پاسداری کریں۔ ہماری عبادتوں کو قبول فرما، اور ہمیں اپنی رضا نصیب فرما۔
آمین یا رب العالمین۔

