فتنہ سامان۔
آخری قسط۔
قانونی پیچیدگیاں، عدالتی کارروائی کے اہم رموز و نکات۔
زن، زر اور زمین کے تنازعوں میں جنم لینے والے مقدمات۔
راوی ...... مرزا امجد بیگ (ایڈووکیٹ)۔
تحریر ..... حسام بٹ۔
میں اپنے معمول کے مطابق گھر آیا تھا۔" وہ پر اعتماد لہجے میں بولا اور دو معزز شہری اس بات کی گواہی دے چکے ہیں۔
کاشف صاحب" وکیل سرکار نے سلسلہ سوالات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا وقوعہ کی رات جب آپ کو گرفتار کیا گیا تو آپ کے کرتے کے دامن پر خون کا ایک دھبہ نمایاں پایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟"
اس رات ہمارے کلینک پر آنے والا آخری پیشنٹ ایک زخمی شخص تھا جو تقریباً سوا دس بجے کلینک میں داخل ہوا تھا۔ اس کی کہنی پر ایک گہرا زخم تھا۔ اس کی ڈریسنگ کرتے ہوئے میرا دامن داغ دار ہو گیا تھا۔"
میں نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کہا ”جناب عالی یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ ڈسپنسر حضرات کے ساتھ اکثر ایسا ہو جاتا ہے۔ میرے فاضل دوست خوامخواہ اسے ایشو بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔"
یور آنر میری موکلہ کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ میڈیکل رپورٹ اس کی تصدیق کرتی ہے۔" میں میڈیکل رپورٹ سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔" میرے اس جملے نے عدالت کے کمرے میں سنسنی پھیلا دی مگر میرا موکل بے گناہ ہے۔" وکیل سرکار نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوراً سوال کیا۔ اگر آپ میڈیکل رپورٹ کو درست تسلیم کرتے ہیں اور اس بات کو مانتے ہیں کہ میری موکلہ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو پھر آپ کا موکل بے گناہ کیسے ہو سکتا ہے؟" جج میرے دلائل میں گہری دلچسپی لے رہا تھا۔ میں نے وکیل سرکار کا جواب دیتے کا ہوئے کہا "میرا موکل اسی طرح بے گناہ ہے جیسے آپ اس معاملے میں بے گناہ ہیں یا جیسے میں بے گناہ ہوں۔" میرے جواب نے اسے بوکھلا دیا تھا۔ اس نے جھنجھلاہٹ آمیز لہجے میں پوچھا ”میرا اور آپ کا اس واردات سے تو کوئی تعلق نہیں ہے۔"
"میرے موکل کا بھی اس واردات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"
"کیا مطلب؟"
مطلب میں مناسب وقت آنے پر واضح کر دوں گا۔ انتظار فرمائیے! اس کے ساتھ ہی عدالت کا وقت ختم ہو گیا۔
آئندہ پیشی پر ہمارے حصے میں صرف دس منٹ کا وقت آیا تھا۔ اس قلیل مدت میں قدح و جرح کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ بس نئی تاریخ ہی لی جا سکتی تھی۔ میں نے جج سے درخواست کی "یور آنر معزز عدالت سے میری استدعا ہے کہ اگلی پیشی پر استغاثہ کے تمام گواہان کو پیش کرنے کے لئے سمن جاری کیے جائیں۔ میں جلد از جلد اس کیس کو نمٹانا چاہتا ہوں۔" عدالت کو کوئی اعتراض نہیں ہے، یہ تو آپ لوگوں پر منحصر ہے۔" جج نے کہا عدالت تو یہی چاہے گی کہ تمام گواہان ایک ہی پیشی پر نمٹ جائیں۔" اس کے بعد جج نے متعلقہ عدالتی عملے کو ہدایت کی کہ اس کیس میں استغاثہ کے تمام گواہان کے نام سمن جاری کر دیئے جائیں۔ پھر دس دن بعد کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کردی۔
وہ دس روز میں نے بڑی مصروفیت کے گزارے تھے۔ ڈاکٹر سہیل عمر اور اپنے موکل کاشف کے تعاون سے میں نے خاصی کام کی باتیں معلوم کر لی تھیں۔ مجھے خاص طور پر ایک دو چکر صدر کے بھی لگانا پڑے تھے۔ ایک معروف آرٹسٹ کو میں نے دگنا معاوضہ دے کر ایک نہایت ہی اہم کام کروایا تھا اور اس نے اپنی مہارت سے میری مشکل آسان کر دی تھی۔ اس دوران میں ایک چکر میں نے عبدالوہاب کے گھر کا بھی لگایا تھا اور وقوعہ کا نقشہ اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لیا تھا۔
اگلی پیشی پر استغاثہ کے درجن بھر افراد میں سے صرف تین گواہ عدالت میں پیش ہوئے۔ ان تینوں نے باری باری سچ بولنے کا حلف اٹھانے کے بعد جو بیان دیا، وہ کم و بیش ایک ہی جیسا تھا۔ میں صفحات کی کمی کا احساس کرتے ہوئے صرف ایک گواہ چاند میاں کے بیان یہاں تحریر کر رہا ہوں۔ چاند میاں کی عمر چالیس پینتالیس سال کے لگ بھگ تھی۔ وہ ٹیلی فون کے محکمے میں کسی اچھی پوسٹ پر ملازم رہا تھا اور اب ریٹائرڈ لائف گزار رہا تھا۔ چاند میاں نے عدالت کو بیان دیا تھا۔ وقوعہ کی رات میں اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ حسب معمول تاش کی بازی میں مصروف تھا۔ ہم روزانہ گلی کے نکڑ پر بنے ہوئے تھڑے پر تاش کھیلتے ہیں۔ (واضح رہے کہ مذکورہ تھڑا عبدالوہاب کے گھر سے پندرہ بیس گز کی دوری پر تھا) بلیک کوئین کی بازی سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ جب ایک شخص دوڑتے ہوئے ہمارے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ عبدالوہاب کبابیے کے گھر سے کسی عورت کے چیخنے کی آوازیں آرہی ہیں۔ ہم سب نے فور پتے پھینک دیئے اور عبدالوہاب کے گھر کی جانب لپکے۔ پھر وہاں جا کر جو منظر ہماری آنکھوں نے دیکھا اس پر ابھی تک یقین نہیں آرہا۔ کیا کوئی بیٹا اس حد تک بھی گر سکتا ہے۔ توبہ توبہ قرب قیامت کی نشانیاں ہیں۔" پھر وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر خاموش ہو گیا۔
چاند میاں کا بیان ختم ہوا تو وکیل سرکار نے جرح کا آغاز کیا۔ کیا آپ اس عورت کو پہچانتے ہیں جو عبدالوہاب کے گھر میں چیخ رہی تھی؟"
وہ عبدالوہاب کی بیوی تھی جناب!" جب آپ عبدالوہاب کے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں اس کی بیوی کے علاوہ اور کون کون تھا؟"
چاند میاں نے جواب دیا۔ عبدالوہاب کا بیٹا کاشف تھا۔ صاعقہ اور کاشف ایک دوسرے سے بری طرح لپٹے ہوئے تھے۔ صاعقہ کا لباس کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا اور وہ مسلسل چیخے جا رہی تھی۔ اسی دوران میں وہ کاشف کو دونوں ہاتھوں سے مار بھی رہی تھی۔
جب پولیس وہاں پر پہنچی تو آپ موجود تھے؟"
"جی ہاں!"
آپ کے علاوہ اور کتنے لوگ وہاں موجود تھے؟"
پہلے تو ہم چاروں ہی وہاں پہنچے تھے۔ باقی لوگ اس کے بعد آئے تھے۔" وکیل سرکار نے پوچھا۔ پولیس نے آپ سے بیان لیتے وقت آپ کو بستر کی آلودہ چادر اور ملزم کا خون آلود کرتا دکھایا تھا؟"
"جی ہاں۔" وکیل سرکار اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا تو میں نے گواہ چاند میاں کے کٹہرے کے قریب جا کر سوالات کا سلسلہ شروع کیا۔
چاند میاں صاحب! آپ نے پولیس کو بیان دیا تھا اور ابھی ابھی عدالت کو بھی بتایا ہے کہ آپ حسب معمول تھڑے پر بیٹھے تاش کھیل رہے تھے تو ایک شخص نے آپ کو آکر اطلاع دی کہ عبدالوہاب کے گھر سے چیخوں کی آواز آرہی ہے؟"
"جی ہاں، میں نے یہی بیان دیا ہے۔" میں نے پوچھا " کیا آپ اس مبینہ شخص کو جانتے ہیں جس نے آپ لوگوں کو یہ اطلاع بہم پہنچائی تھی ؟"
جی نہیں۔ میں نے اسے اس روز سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔" جب آپ لوگ گھر میں داخل ہوئے تو دروازہ کس نے کھولا تھا؟" میں نے اس
کیس کا سب سے اہم سوال کیا۔
"می" وہ ایک لمحے کے لئے گڑ بڑا گیا پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا "دروازہ تو کھلا ہوا تھا....
یعنی جب آپ عبدالوہاب کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ کو دروازہ کھلا ہوا ملا؟"
"جی ہاں مجھے اچھی طرح یاد ہے۔"
میں نے جج کی جانب مڑتے ہوئے کہا نوٹ اٹ یور آنر۔"
پھر گواہ سے سوال کیا ”چاند میاں صاحب! آپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پولیس کے آنے تک آپ موقع پر موجود رہے تھے اور اپنا بیان دینے کے بعد ہی وہاں سے گئے تھے؟"
"جی ہاں میں تقریباً بارہ بجے وہاں سے گیا تھا۔ " اس نے بتایا۔
میں نے پوچھا اس دوران میں آپ نے اس شخص کو بھی وہاں موجود پایا جس نے آپ کو اس واقعے کی اطلاع دی تھی ؟" وہ ذہن پر زور دے کر سوچنے لگا۔
"نہیں۔
سوچئیے خوب اچھی طرح یاد کیجئے۔" میں نے کہا "آپ کے بیان کی بہت اہمیت ہے۔
نہیں جناب۔" چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے جواب دیا۔ ”میں نے اس شخص کو وہاں نہیں دیکھا۔"
اچھا یہ بتائیں ، وہ شخص آپ کے ساتھ ہی گھر میں داخل ہوا تھا ؟" مجھے یاد نہیں۔" چاند میاں نے کہا " تھڑے سے وہ ہمارے ساتھ چلا تو تھا لیکن اس
کے بعد مجھے خیال نہیں رہا۔" یاد کرنے کی کوشش کیجئے۔"
وہ معذرت خواہانہ انداز میں بولا۔ ”میں اس سلسلے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔
"ٹھیک ہے۔" میں نے کہا، پھر پوچھا اگر وہ شخص دوبارہ آپ کے سامنے آجائے تو
کیا آپ اس کو پہچان لیں گے؟"
وہ ایک لمحے کے تذبذب کے بعد بولا ہاں میں پہچان لوں گا۔" میں نے اگلا سوال کیا ”آپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وقوعہ پر سب سے پہلے آپ لوگ ہی پہنچے تھے یعنی آپ اور آپ کے ساتھی۔ باقی تمام لوگ بعد میں آئے تھے۔ کیا آپ نے کاشف اور صاعقہ کے علاوہ بھی وہاں کسی اور شخص کو دیکھا تھا ؟" "جی نہیں، وہ دونوں اکیلے ہی تھے۔"
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پولیس کو فون کس نے کیا تھا ؟"
جی نہیں۔ مجھے کچھ معلوم نہیں۔" اس نے جواب دیا۔
چاند میاں صاحب" میں نے جرح کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ”اس مقدمے سے قطع نظر آپ کی ملزم کاشف کے بارے میں کیا رائے ہے؟ میرا مطلب ہے وہ آپ کا محلے دار ہے۔ آپ کی نظر میں اس کا چال چلن کیسا ہے ؟"
وہ بولا ” میں نے اس سے پہلے کاشف میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔
وقوعہ کے روز آپ نے جو کچھ دیکھا اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟" پہلے تو مجھے یقین نہیں آیا مگر سب کچھ روز روشن کی طرح عیاں تھا۔ یقین نہ کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ شیطان تو بڑے بڑے پارساؤں کو بہکا دیتا ہے۔ کاشف تو کل کا بچہ تھا۔" میں نے جج کی جانب مڑتے ہوئے کہا۔ "یور آنر میں گواہ چاند میاں سے ایک نہایت ہی اہم سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ اسی سلسلے میں میری معزز عدالت سے درخواست ہے کہ
وہ مظلومہ صاعقہ کو کچھ دیر کے لئے عدالت کے کمرے سے باہر بھیج دے۔" وکیل سرکار نے بیچ میں ٹانگ اڑائی۔ ایسا کون سا سوال ہے جو مظلومہ کے سامنے نہیں کیا جا سکتا ؟"
میں نے متحمل لہجے میں کہا " آپ کو کوئی اعتراض ہے کیا؟"
یہ میری موکلہ کی توہین ہے جناب عالی۔" وہ جج سے مخاطب ہو کر بولا " ایک تو اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور اس پر ....." جج نے وکیل سرکار کی بات قطع کرتے ہوئے کہا "بیگ صاحب نے عدالت سے جو درخواست کی ہے اس سے مظلومہ کی توہین کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ ہاں اگر آپ کو اس
بات پر کوئی اعتراض ہے تو اپنے اعتراض کی وضاحت کریں۔" مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے یور آنر ۔ " اس نے کھسیانے انداز میں کہا، پھر اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ کافی دیر سے وکیل سرکار کی بری حالت تھی۔ میں نے استغاثہ کے گواہ چاند میاں پر اپنی جرح کے دوران میں بہت سی ایسی باتیں ، اگلوا لی تھیں جو مظلومہ کے خلاف جاتی تھیں۔ وکیل سرکار کو اپنی شکست واضح نظر آرہی تھی، اس لئے وہ جھنجھلا رہا تھا اور پیچ و تاب کھا رہا تھا۔
جج کی ہدایت کے مطابق مظلومہ صاعقہ عدالت کے کمرے سے باہر چلی گئی تو میں نے باہر اپنی فائل میں سے آٹھ بائی دس سائز کی ایک تصویر نکال کر گواہ چاند میاں کو دکھاتے ہوئے سوال کیا چاند میاں صاحب! کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ تصویر کس کی ہے؟" میں نے اپنی آواز دھیمی رکھی تھی تاکہ کمرے سے باہر آواز نہ جا سکے۔
وہ تھوڑی دیر تک تصویر کا جائزہ لیتا رہا، پھر مایوسی سے سر ہلا کر بولا ”نہیں جناب میں کوشش کے باوجود اسے پہچان نہیں سکا۔"
"شکریہ" میں نے اس کے ہاتھ سے تصویر واپس لیتے ہوئے کہا۔ پھر اپنے قلم سے اس تصویر پر ایک کا ہندسہ لکھ کر اسے جج کی جانب بڑھا دیا۔ ”جناب عالی، آپ بھی اس
تصویر کو دیکھئے۔"
وکیل سرکار بار بار اپنی جگہ پر پہلو بدل رہا تھا۔ میرا پراسرار انداز اسے بے چینی میں مبتلا کر رہا تھا۔
جج نے تصویر کا سرسری جائزہ لینے کے بعد اسے اپنے سامنے رکھ دیا۔ پھر سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھا۔ میں نے اپنی فائل میں سے ایک دوسری تصویر نکال کر چاند میاں کی طرف بڑھا دی۔ ”ذرا اسے غور سے دیکھئے۔"
اس نے میرے ہاتھ سے تصویر لے کر اس پر ایک نظر ڈالی۔ پھر چونک کر میری جانب دیکھنے لگا۔ "جناب یہ تو اسی شخص کی تصویر ہے۔" اس نے لرزتے ہوئے لہجے میں بتایا وہی جس نے وقوعہ کی رات ہمیں اطلاع دی تھی کہ عبدالوہاب کے گھر میں کوئی عورت چیخ رہی ہے۔"
کیا تمہیں یقین ہے کہ یہ وہی شخص ہے ؟" میں نے بدستور دھیمے لہجے میں تصدیق چاہی۔
"جی ہاں، میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہی شخص ہے۔" میں نے اس کے ہاتھ سے تصویر واپس لے کر اس پر اپنے قلم سے دو کا ہندسہ بنایا۔ پھر اسے بھی پہلی تصویر کی طرح جج کی جانب بڑھا دیا ۔ جج نے اس تصویر کو بھی ایک نظر دیکھ کر اپنے سامنے رکھ لیا۔ پہلی تصویر کی طرح اس کا سائز بھی آٹھ ہائی دس کا تھا۔ "جناب عالی" میں نے جج سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ”مظلومہ صاعقہ کو عدالت کے کمرے میں بلایا جائے۔ میں کچھ سنسنی خیز انکشافات کرنا چاہتا ہوں۔“ تھوڑی ہی دیر کے بعد صاعقہ عدالت میں موجود تھی۔ میری فرمائش پر جج نے اسے کمرے میں آنے کی ہدایت کی۔ میں نے جج کی اجازت سے دونوں تصویریں صاعقہ کے اندر آنے سے پہلے ہی اٹھالی تھیں۔ میں نے تصویر نمبر دو صاعقہ کو دکھاتے ہوئے کہا۔ "صاعقہ صاحبہ یہ ایک شخص کی قلمی تصویر ہے۔ آپ اسے پہچانتی ہیں کیا ؟" تصویر کو دیکھتے ہی اسے ایک جھٹکا سا لگا مگر دوسرے ہی لمحے وہ سنبھل گئی اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے قطعیت سے بولی۔ " میں نہیں جانتی اس شخص کو۔" انکار کرتے ہوئے اس کی آواز اتنی بلند ہو گئی تھی کہ یہ بات عدالت میں موجود ہر شخص نے محسوس کی۔ جج نے صاعقہ کے اس ردعمل کو خصوصاً نوٹ کیا تھا۔
میں نے آگے بڑھ کر تصویر نمبر ایک صاعقہ کو تھمادی۔ ایک نظر اسے بھی دیکھئے۔" تصویر پر نظر پڑتے ہی اس نے نفرت سے منہ دوسری جانب پھیر لیا۔ میں نے پوچھا " آپ اس شخص کو پہچانتی ہیں ؟"
میں اس کی صورت دیکھنے کی بھی روادار نہیں ہوں۔"
گویا آپ اسے جانتی ہیں؟"
" مجھے اس سے شدید نفرت ہے۔" وہ زہریلے لہجے میں بولی۔
جج نے ذرا سخت لہجے میں کہا "بی بی وکیل صاحب کے سوال کا جواب ہاں یا نہ میں دیں۔
”ہاں ہاں میں اسے جانتی ہوں۔ اسے پہچانتی ہوں۔" وہ جذباتی لہجے میں چیخ کر بولی یہ وہی مردود ہے جو مجھ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑا کرتا تھا۔ میں اب اس کا نام لینا بھی گوارا نہیں کرتی۔ آپ مجھ سے کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟"
میں نے اس کے سوال کے جواب میں کہا "آپ اس کا نام چاہے نہ لیں مگر سوال کا جواب ضرور دیں۔" پھر میں نے سوال کیا۔ "یہ آپ کے سابق شوہر نجیب احمد کی تصویر ہے؟"
وہ خاموش رہی تو جج نے کہا ”بی بی وکیل صاحب آپ سے کچھ پوچھ رہے ہیں؟" صاعقہ نے پہلے اثبات میں سر ہلا کر اور پھر زبان سے تصدیق کر دی کہ تصویر نمبر ایک اس کے سابق شوہر نجیب احمد ہی کی تھی۔ میں نے جج سے کہا ”جناب عالی تصویر نمبر ایک کو گواہ چاند میاں پہچاننے سے انکار کر چکا ہے جبکہ مظلومہ صاعقہ نے تصدیق کی ہے کہ یہ اس کے سابق شوہر کی تصویر ہے۔ دوسری طرف تصویر نمبر دو کو صاعقہ پہچاننے سے انکاری ہے جو گواہ کے بقول اسی شخص کی تصویر ہے جس نے انہیں عبدالوہاب کے گھر میں ہونے والے ہنگامے کی اطلاع دی اس سے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ وکیل سرکار نے میری بات کاٹ کر کہا۔ "میرے معزز دوست" میں نے دونوں تصویروں کو وکیل سرکار کی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے کہا۔ "میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ دونوں تصویریں در حقیقت ایک ہی شخص کی ہیں یعنی مظلومہ کے سابق شوہر نجیب احمد کی۔"
میرے الفاظ نے عدالت میں دھماکہ کر دیا۔ حاضرین آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ وکیل سرکار نے جلدی سے کہا "عدالت ان فرضی باتوں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ عدالت میں ہر بات کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔"
تھینک یو مائی ڈیئر کونسلر " میں نے مہذب لہجے میں کہا۔ "آپ نے میری
معلومات میں اضافہ کیا میں آپ کا شکر گزار ہوں۔"
جج نے براہ راست مجھ سے استفسار کیا آپ کے پاس اپنے دعوے کا کیا ثبوت ہے۔ یور آنر یہ دونوں قلمی تصاویر صدر کے ایک معروف آرٹسٹ منظور الہی کی تخلیق ہیں۔" میں نے کہا ”دونوں تصویروں میں معمولی سا فرق ہے۔ اگر کوئی شخص باریک بینی سے ان کا جائزہ لے تو اسے وہ فرق محسوس ہو جائے گا۔ تصویر نمبر ایک یعنی وہ تصویر جسے مظلومہ صاعقہ نے اپنے سابق شوہر نجیب احمد کی حیثیت سے شناخت کیا ہے اس تصویر پر اگر بھاری مونچھیں بنا دی جائیں اور ناک کے قریب ایک بڑا سا مسا بنا دیا جائے تو وہ تصویر نمبر دو بن جائے گی یعنی وہ تصویر جسے گواہ چاند میاں نے اس شخصیت کی حیثیت سے شناخت کیا ہے، جس نے انہیں وقوعہ والی رات ہنگامے کی اطلاع دی تھی۔ " تصویر نمبر ایک میں نجیب احمد کلین شیو تھا۔ میں نے دونوں تصویریں جج کی جانب بڑھا دیں۔ وہ دلچسپی سے تصویروں کا جائزہ لینے کے بعد میری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے دلائل دیتے ہوئے کہا ”جناب عالی، آرٹسٹ منظور الہی اس وقت عدالت میں موجود ہے جس نے میرے کہنے پر نجیب احمد کی ایک پاسپورٹ سائز تصویر سے دو آٹھ بائی دس کی قلمی تصویریں اس طرح تیار کیں کہ ایک تو ہوبہو ویسی ہی بنائی اور دوسری میں اس نے مونچھیں اور مسے کا اضافہ کر دیا۔ تھڑے پر تاش کھیلنے والے ان افراد نے (بشمول چاند میاں) پولیس کو اپنے بیان میں انہیں اطلاع دینے والے شخص کا جو حلیہ بتایا تھا میں نے اس کے مطابق آرٹسٹ سے نجیب احمد کی تصویر میں تبدیلیاں کروائی ہیں۔ میری بات کے ثبوت کے لئے منظور الہی کو گواہوں کے کٹہرے میں بلایا جا سکتا ہے۔"
جج کے حکم پر منظور الہی نے کٹہرے میں آکر میری بات کی تصدیق کر دی۔ میں نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا "یور آنر اب ہر بات واضح ہو چکی ہے۔ میرے موکل کو ایک گہری سازش میں پھانسنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس سازش کے مرکزی کردار دو افراد مظلومہ صاعقہ اور اس کا سابق شوہر نجیب احمد ہیں۔ تمام حالات و واقعات میرے موکل کے حق میں جاتے ہیں۔ وقوعہ کی رات میرے موکل نے ٹھیک ساڑھے دس بجے کلینک بند کیا۔ ڈاکٹر سہیل عمر اس کی تصدیق کر چکے ہیں۔ اس کے بعد میرے موکل نے چکن کارن سوپ نوش کیا۔ عبدالشکور اس سلسلے میں گواہی دے چکے ہیں۔ اگر میرے موکل نے بہت جلدی بھی سوپ پیا ہوگا تو کم از کم پانچ منٹ تو لگے ہی ہوں گے یعنی میرے موکل نے دس پینتیس پر سوپ ختم کیا۔ وہاں سے اس کے گھر کا راستہ پندرہ منٹ کا ہے۔ ہم سمجھ لیتے ہیں کہ اس نے یہ فاصلہ دس منٹ میں طے کر لیا ہوگا، پھر بھی گھر پہنچتے پہنچتے اسے پونے گیارہ بج گئے ہوں گے۔
جناب عالی! پولیس کو اس واقعے کی اطلاع ٹھیک دس بجکر پینتالیس منٹ پر دی گئی ہے۔ یہ بات پولیس کے روزنامچے میں موجود ہے یعنی اگر میرا موکل جلدی سے جلدی بھی آگیا تھا تو ٹھیک اس کے گھر پہنچنے کے وقت پولیس کو فون کیا گیا۔ یہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کا شاخسانہ ہے۔ پھر گواہ چاند میاں کا بیان بھی میرے موکل کے حق میں جاتا ہے اور مظلومہ صاعقہ کے بیان کی نفی کرتا ہے۔ چاند میاں کے بیان کے مطابق جب وہ اور اس کے ساتھی عبدالوہاب کے گھر میں داخل ہوئے تو بیرونی دروازہ کھلا ہوا تھا۔" "جناب عالی! میرا موکل اگر مظلومہ صاعقہ کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کا ارادہ رکھتا تھا تو کیا وہ اتنا ہی نادان تھا کہ گھر کا بیرونی دروازہ کھلا چھوڑ دیتا۔ یہ بات نہ تو سمجھ میں آتی ہے اور نہ ہی کسی منطقی کسوٹی پر پوری اترتی ہے۔ کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ کے مطابق مظلومہ کو نشہ آور دوا پلائی گئی ہے اور چائے کی ایک پیالی میں بھی نشہ آور دوا کی خاصی مقدار ملی ہے۔ اگر مظلومہ صاعقہ کی بیان کردہ کہانی کو سچ مان لیا جائے تو یہ سب کچھ وقت گزرے بغیر ہونا کیسے ممکن ہے۔"
لیکن میڈیکل رپورٹ کے مطابق میری موکلہ ملزم کاشف کی زیادتی کا شکار ہوئی ہے۔ وکیل سرکار نے احتجاجی لہجے میں کہا۔
میں نے بھی جواباً سخت لہجے میں کہا "میڈیکل رپورٹ صرف یہ بتاتی ہے کہ مسمات صاعقہ کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے مگر اس بات کی نشاندہی نہیں کرتی کہ وہ زیادتی کاشف نے کی ہے۔"
ملزم کاشف موقع پر رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا ہے۔" وکیل سرکار نے آخری کوشش کی آپ ابھی تک لکیر پیٹ رہے ہیں میرے فاضل دوست۔" میں نے مسکراتے ہوئے کہا "سانپ نکل گیا ہے۔ ذرا ہوش میں آئیے۔"
آئی ول سی یو۔"
خوشی سے۔" میں نے بدستور مسکراتے ہوئے کہا۔
" آرڈر پلیز۔ " جج کی رعب دار آواز نے ہماری باہمی تکرار کو بریک لگا دیئے۔ یور آنر" میں نے روئے سخن جج کی جانب موڑتے ہوئے کہا "گواہوں کے بیانات حالات و واقعات کی روشنی میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ میرا موکل بے گناہ ہے۔ اسے ایک سازش کے تحت اس گھناؤنے جرم میں پھانسنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ زنا بالجبر کا نہیں بلکہ زنا بالارادہ کا کیس ہے اور اس کیس میں مظلومہ کے سابق شوہر کی حیثیت بھی مشکوک ہو چکی ہے، لہذا فاضل عدالت سے میری استدعا ہے کہ نجیب احمد کو پابند گواہ کی حیثیت سے عدالت میں حاضر ہونے کے لئے سمن جاری کیا جائے تاکہ اس کیس کو جلد از جلد فائنل ٹچ دیا جا سکے۔" پھر میں اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا۔
جج میرے دلائل سے خاصا متاثر نظر آرہا تھا۔ میں نے وکیل مخالف کا جائزہ لیا۔ اس کے چہرے پر مجھے برہمی کے آثار نظر آئے۔ اب اسے یقین ہو چلا تھا کہ بازی اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ صاعقہ کی مضطرب نظریں پورے کمرے میں گردش کر رہی تھیں۔ پریشانی اس کے چہرے سے ہویدا تھی۔ وہ کبھی اپنے شوہر عبدالوہاب اور کبھی سرکاری وکیل کی جانب ہراساں نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ کاشف اس کی اس کیفیت سے روحانی تسکین محسوس کر رہا تھا۔
جج کافی دیر تک اپنے سامنے پھیلے ہوئے کاغذات کو الٹ پلٹ کر ان کا جائزہ لیتا رہا۔
پھر متعلقہ عدالتی عملے کو نجیب احمد کے نام سمن جاری کرنے کی تاکید کر دی۔ اس کے بعد عدالت کا وقت ختم ہو گیا۔
جج نے ایک ہفتے کی تاریخ دے کر عدالت برخاست کر دی۔
سمن کی تعمیل کے لئے جانے والے بیلف کے نجیب احمد تک پہنچنے سے پہلے ہی نجیب احمد سول اسپتال پہنچ گیا۔ ایک سڑک عبور کرتے ہوئے وہ تیز رفتار موٹر سائیکل کی لپیٹ میں آگیا تھا اور شدید زخمی ہونے کے بعد آئی سی یو میں پڑا تھا۔ اس کی حالت خطرے سے باہر نہیں تھی۔ دو روز اس نے موت و زیست کی کشمکش میں گزار دیئے۔ تیسرے روز اسے ہوش آیا مگر سانسیں پوری ہو چکی تھیں۔ آخری سانسوں میں اس نے اپنے گناہ کا اقرار کر لیا۔ موت جس شخص سے ایک سانس کی دوری پر ہو کہتے ہیں وہ جھوٹ نہیں بولتا، لہذا نجیب احمد کے اقرار گناہ کو بھی سچ مان لیا گیا۔ اکھڑی ہوئی سانسوں میں اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں جو بیان دیا تھا، اس کے مطابق کاشف ان دونوں کے راستے کا کانٹا تھا۔ اسے راستے سے ہٹانے کے لئے انہوں نے ایک جال تیار کیا جس میں کاشف کو پھانس کر وہ ہمیشہ کے لئے اس سے نجات حاصل کر سکتے تھے مگر کاتب تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا لہذا ان کی بساط الٹ گئی۔ وقوعہ کی رات انہوں نے کاشف کے آنے سے دس منٹ پہلے اپنی اپنی پوزیشن سنبھال لی تھی۔ شرمناک کھیل سے فارغ ہونے کے بعد صاعقہ وہیں کاشف کے بستر پر چادر تان کر لیٹ گئی اور نجیب احمد ڈرائنگ روم میں چلا آیا۔ یہیں سے اس نے پولیس کو فون کیا۔ پولیس اسٹیشن وہاں سے اتنے فاصلے پر تھا کہ پولیس آدھے گھنٹے سے پہلے وہاں نہیں پہنچ سکتی تھی اور کاشف کے آنے میں چند منٹ ہی باقی رہ گئے تھے۔
اس سے پہلے اپنے ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے چائے کی ایک پیالی میں نجیب نے نشہ آور دوا بھی ملا دی تھی۔ وہ خود نشے کا عادی تھا۔ آدھی پیالی چائے کی اس نے خود پی اور ایک آدھ گھونٹ صاعقہ کو بھی پلا دیا۔ حالانکہ وہ اپنی چائے کی پیالی خالی کر چکی تھی۔ نجیب نے نشہ ملی پیالی میں چائے کی کچھ مقدار چھوڑ دی تھی تاکہ پولیس کا کام آسان ہو جائے اور کاشف پوری طرح ان کے شکنجے میں پھنس جائے۔ کاشف جب معمول کے مطابق گھر آیا اور اس نے بیرونی دروازے کو اندر سے کنڈی لگاری اور اپنے کمرے کی جانب بڑھا تو نجیب احمد پوری طرح تیار ہو گیا۔ پھر جیسے ہی اندرونی کمرے سے صاعقہ کی چیخیں بلند ہو ئیں ، وہ چپکے سے گھر کا بیرونی دروازہ کھول کر باہر نکل آیا مگر بوکھلاہٹ میں اس سے ایک بہت بڑی غلطی سرزد ہو گئی۔ وہ باہر آتے ہوئے بیرونی دروازہ کھلا ہی چھوڑ آیا تھا۔ اس نے جلدی سے تھڑے پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو مطلع کیا کہ عبدالوہاب کے گھر کے اندر سے چیخ و پکار کی آوازیں آرہی ہیں۔ پھر جیسے ہی وہ لوگ اپنے پتے پھینک کر مذکورہ گھر کی جانب دوڑے، نجیب احمد موقع سے فائدہ اٹھا کر نو دو گیارہ ہو گیا۔ اسے یقین کامل تھا کہ کوئی بھی اسے پہچان نہیں سکے گا کیونکہ اس نے بڑی بڑی جعلی مونچھیں اور ایک بڑا سا مسا اپنے چہرے پر لگا لیا تھا۔ وہ اپنے منصوبے میں وقتی طور پر کامیاب ہو گیا تھا مگر تقدیر کے کھیل بھی عجیب ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ دنیا کی عدالت سے سزا پاتا آسمانی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔
انگلی پیشی پر جج نے صاعقہ کو پولیس کی تحویل میں دے کر نیا چالان پیش کرنے کا حکم دیا اور کاشف کو باعزت طور پر بری کرنے کا اعلان کر دیا۔
ختم شُد۔
فرینڈز اگر اپ کو ہماری یہ کہانی پسند ائی ہو تو ہمارا چینل ہے وہاں پر اس طرح کی کرائم سٹوریز اپلوڈ ہوتی ہیں اواز میں اگر اپ سننا پسند کریں تو نیچے دیا گیا نام کاپی کریں اور یوٹیوب پر سرچ کریں ہمارا چینل وزٹ کریں بہت شکریہ 👇👇
@Karimvoice2.0

