ٹرک ڈرائیور اور چڑیلوں کی بستی 💀
تو آئیے سنتے ہیں اس ویڈیو میں خوف اور دہشت سے بھرپور ایک ٹرک ڈرائیور کی بھیانک داستان میرا نام یامین ہے اور میں پیشے کے اعتبار سے ایک ٹرک ڈرائیور ہوں میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں اور بالاکوٹ کے ایک چھوٹے سے نواہی گاؤں میں رہتا ہوں ہم لوگ پہاڑی لوگ ہیں میرے والدین نے مجھے بڑی محنتوں سے پالا اور مشکل سے ہی مجھے پڑھایا تاکہ میں کچھ بن سکوں مجھے بچپن ہی سے یہ لگن تھی کہ میں اپنے ماں باپ کا بڑھاپے کا سہارا بن سکوں میں ایک غریب گھر سے بلانگ کرتا تھا اور اپنے گھر کے حالات بہتر کرنا چاہتا تھا میں نے ایک کمپنی میں کام شروع کیا وہاں میرا کام سامان کی ٹرانسپورٹیشن اور ڈرائیونگ کا تھا مجھے سامان کو بالاکوٹ سے ناران کاغان لے کر جانا تھا میں نے ٹرک ڈرائیونگ پہلے بھی کی ہوئی تھی اس لیے میں اس کام میں نیا نہیں تھا میرا ایک چھوٹا سا ٹیسٹ تھا کمپنی کی طرف سے جو کہ میں نے آسانی سے پاس کر لیا تھا کیونکہ جس جگہ ہمیں سامان پہنچانا تھا وہ جگہ اور وہ راستہ کافی خطرناک تھا اپ کو بتاتا چلوں کہ بالاکوٹ ناران کاغان یہ ایسے علاقے ہیں جہاں بہت زیادہ برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے چونکہ میں خود بھی پہاڑی علاقے کا رہنے والا تھا تو ایسے راستوں کا عادی تھا اس لیے میں نے ٹیسٹ بڑا آسانی سے پاس کر لیا تھا کمپنی مجھے بڑا اچھا معاوضہ دے رہی تھی میں بڑا خوش تھا میرا سفر شروع ہو گیا تھا میرے ساتھ میرا معاون ایک لڑکا تھا وہ میرے علاقے کا ہی رہنے والا تھا میں نے اس سے اپنے ساتھ بطور کنٹیکٹر رکھ لیا تھا دسمبر کی سخت سردی کے دن تھے اور پہاڑی علاقوں میں تو برف باری اور بارشیں بہت زیادہ ہوتی تھیں۔
میں ٹرک لے کر نکلا میرے ساتھ جو کنڈکٹر لڑکا تھا اس کا نام گلشیر تھا وہ میرے علاقے کا ہی رہنے والا تھا وہ میری طرح بھی ایڈونچر پسند تھا اس کے کہنے پر میں نے اسے اپنے ساتھ رکھ لیا تھا میں بھی اس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے بہت خوش اور مطمئن تھا یہ کام ہمارے لیے کمپنی کی طرف سے ایک چیلنج تھا کیونکہ ہمیں سامان کو ان پر خطر راستوں سے لے جا کر باحفاظت ناران پہنچانا تھا ہمیں اس ٹاکس کو پورا کرنے کی خاص تاکید کی گئی تھی کمپنی کی طرف سے ورنہ پھر ہمیں دوسری صورت میں بڑا نقصان ہو سکتا تھا میرا ٹرک ہائی وے کے راستے پر چل پڑا تھا میں نے برف باری اور سخت سردی کی پرواہ کیے بغیر اپنا سفر شروع کر دیا تھا اگر ہم اس ٹاکس کو کامیابی سے پورا کر لیتے تو آگے ہمارے لیے کامیابی کی راہیں کھل جاتی ہمارا ٹرک ایک راستے پر چل رہا تھا سارا روڈ برف سے ڈھکا ہوا تھا بہت زیادہ برف باری ہو رہی تھی اور ارد گرد چاروں طرف برف ہی برف سارا علاقہ برف سے سفید پڑا ہوا تھا دن ختم ہو کر اب شام شروع ہو گئی تھی چلتے چلتے ہر طرف ویرانی اور سناٹا چھایا ہوا تھا اب شام بھی ڈھلتی جا رہی تھی ہم آبادی سے دور نکل گئے تھے برف سے ہم دونوں ہی لطف اندوز ہو رہے تھے برف کے گول گول گالے ہمارے ٹرک کے شیشوں سے ٹکرا رہے تھے میں ٹرک کو آہستہ آہستہ آگے کو بڑھا رہا تھا کیونکہ سلپلن زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹرک کو سلو چلا رہا تھا چلتے چل تے اب برف باری اور بھی زیادہ تیز ہو گئی تھی اور میں یہ سوچے جا رہا تھا کہ اتنی زیادہ برف باری میں ہم کہیں پھنس ہی نہ جائیں اور راستہ بہت زیادہ پر خطر تھا ہر طرف خطرناک موڑ تھی گلشیر بھی کافی گھبرایا ہوا لگ رہا تھا میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد اسے تسلی دیتا تھا کہ فکر نہ کرو میرا تجربہ ہے ان راستوں پر ڈرائیونگ کا رات تیزی سے بڑھ رہی تھی اور ہر طرف ویرانی اور سناٹا چھا گیا تھا ہم جس راستے سے گزر رہے تھے یہ راستہ کافی ہیوی ڈرائیونگ کا راستہ تھا۔
اور زیادہ تر اسی راستے سے ٹرالی ٹرک وغیرہ گزرتی تھی مگر اس رات اس ہائی وے پر دور دور تک کوئی ٹریفک نہ تھی ہتے نگاہ بس صرف برف ہی برف نظر آرہی تھی تیز اور طوفانی ہواؤں پر شور اب بڑھتا جا رہا تھا اب برفانی ہوائیں اور زیادہ تیز چلنا شروع ہو گئیں تھیں زیادہ برف کی وجہ سے میرے ٹرک کی رفتار اب کم ہوتی جا رہی تھی ہر طرف گہری دھند کا راج تھا ہر طرف بھوبکا عالم تھا راستہ کافی طویل اور خطرناک تھا اور ہم اس راستے پر بالکل تنہا تھے ایک تو موسم بہت زیادہ خراب اور اوپر سے مجھے یہ فکر لاحق تھی کہ وقت پر سامان کو باحفاظت پہنچانا تھا لیکن برف باری کی وجہ سے میرا ٹرک بس اب چلنے کی بجائے رینگ رہا تھا مجھے اب بہت زیادہ گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی کچھ چیزیں جو انسان کو بہت آسان لگتی ہیں لیکن وہ آسان نہیں تھیں میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا میں عادی تھا اس راستے کا لیکن کبھی برف باری میں اس طرف آنے کا موقع نہیں ملا اور اس راستے پر زیادہ تر ڈرائیور حضرات کم ہی آیا کرتے تھے برف اتنی زیادہ تھی کہ چاروں طرف کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا راستے کی بالکل بھی سمجھ نہیں آرہی تھی جہاں تک نظر جاتی بس برف ہی برف ہر طرف بڑے بڑے گھنے درخت اور وہ بھی برف سے ڈھکے ہوئے دور تک ایسا لگتا تھا کہ جیسے یہ وادی برف کی چادر میں لپٹی ہوئی ہے سردی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اور ہم دونوں ہی کانپ رہے تھے کہ ہمیں جانوروں کی مختلف آوازیں آنے لگیں ۔ لگتا تھا کہ یہاں جنگلی جانور بھی ہمیں نظر آئیں گے ہمیں چاروں طرف کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگی میں سوچنے لگا کہ یہ نہ ہو کہ یہ جنگلی جانور ہم پر حملہ کر دیں ۔ اور میرا ٹرک بھی سلو سلو چل رہا تھا ہماری تو مکمل طور پر کلفی جم چکی تھی پورا جسم فریز ہو چکا تھا کہ چلتے چلتے میری نظر بہت دور ایک روشنی پر پڑی۔
یہ روشنی بہت دور سے آرہی تھی میں نے اپنے ٹرک کو دوسری سائیڈ پر موڑ دیا یہ دوسری طرف کو ایک چھوٹا سا راستہ مڑتہ تھا ۔ میں دیکھ کر حیران ہو گیا کہ پاس ہی ایک چھوٹا سا قبرستان بنا ہوا تھا اور قبرستان کے مین گیٹ کی دوسری طرف تھوڑے فاصلے پر ایک لکڑی کا چھوٹا سا مکان بنا تھا لیکن میں حیران تھا کہ ایسا بہادر انسان کون ہے جس نے قبرستان کے قریب گھر بنایا ہوا ہے ہمارے پاس ایک ٹارچ موجود تھی میں نے غور سے دیکھا کہ ایک لالٹین جو کہ چل رہی تھی وہ گھر کے باہر ایک کیل کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی ہم لوگ قبرستان سے گزرتے ہوئے بچتے بچاتے اس قبرستان سے نکلے حیران کر دینے والی بات یہ تھی کہ پہلے یہ قبرستان اتنا بڑا نہیں لگ رہا تھا لیکن جب ہم اس کے اندر گئے تو اچانک سے قبرستان بہت بڑا لگنے لگا ہمیں لگا کہ جہاں ہمارے پاؤں پڑتے وہیں پر قبریں موجود ہوتی ہمارے اندر ایک خوف کی لہر دوڑ گئی ہم اس لکڑی سے بنے گھر تک پہنچ گئے جہاں سے روشنی آرہی تھی ہم پہنچے تو روشنی اس لالٹین سے آرہی تھی میں بولا کہ لگتا ہے کہ اس گھر میں کوئی موجود ہے تبھی تو یہ لالٹین بھی جل رہی ہے رات بھی کافی ہو گئی تھی نہ ہم پیچھے مڑ کر جا سکتے تھے اور نہ آگے جا سکتے تھے میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور فیصلہ کیا کہ رات یہی پر اسٹے کر لیتے ہیں صبح فجر کے ٹائم ہم روانہ ہو جائیں گے کچھ ریسٹ ہو جائے گا اور شاید صبح تک برف باری بھی کم ہو جائے یہ سوچ کر میں گھر کے دروازے پر چلا گیا اور دستک دی لیکن کوئی جواب نہ آیا ہم نے گھر کی طرف دیکھا یہ لکڑی کا بنا تھا اور کافی پرانا لگ رہا تھا اور کچھ عجیب طرح کا بنا ہوا تھا میں نے دوبارہ دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ کسی نے ایک دم سے کھول دیا میں نے دیکھا کہ وہ کوئی 20 22 سال کی ایک بہت خوبصورت لڑکی تھی اس نے کالے رنگ کا اور کوٹ پہنا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک لالٹین پکڑی تھی اس نے ہماری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اس کی آنکھیں بڑی بڑی اور عجیب سی تھی وہ ہمیں دیکھ کر بولی کس سے ملنا ہے آپ کو اس کی آواز میں ایک گرج تھی میں نے تھوڑا گھبراتے ہوئے اسے بتایا کہ ہمیں رات گزارنے کے لیے پناہ چاہیے۔
کیونکہ برف باری کی وجہ سے ہم آگے نہیں جا سکتے صبح ہوتے ہی ہم چلے جائیں گے اس نے میری بات کو سنا اور پھر کچھ سوچا اور ہمیں اندر آنے کے لیے راستہ دے دیا میں اور گل شیر مکان کے اندر داخل ہو گئے ہم نے دیکھا کہ یہ مکان اندر سے کافی بڑا تھا ایک سائڈ پر چار کمرے بنے ہوئے تھے سارا ضرورت کا سامان پڑا تھا وہ ہمیں ایک کمرے میں لائی اور بولی آپ لوگ اس کمرے میں رہ سکتے ہیں میں اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ اس گھر میں رہتی ہوں میں نے اس سے کہا کہ اس گھر میں آپ کے ساتھ اور کوئی نہیں رہتا تو وہ پہلے مجھے کچھ دیر تک گھورتی رہی پھر بولی کہ نہیں بوڑھی ماں کے علاوہ میرا اس دنیا میں اور کوئی بھی نہیں ہے میں نے ان سے دیکھ کر پوچھا کہ یہاں پر آپ کے مکان کے علاوہ اور کوئی بھی مکان کیوں نہیں ہے وہ بولی نہیں اور بھی مکان ہے یہاں اور بھی لوگ رہتے ہیں میں اس کی بات سن کر حیران رہ گیا کیونکہ اس ویران جگہ پر یہ مکان واحد مکان تھا اور اس مکان کے علاوہ یہاں پر اور کوئی بھی گھر نہیں تھا سوائے اس قبرستان کے لڑکی یہ کہہ کر چلی گئی اور ہم اس عجیب سے کمرے میں کھڑے تھے ہم نے دیکھا کہ کمرے کی دیواریں بہت بوسیدہ لگ رہی ہیں اور ایک عجیب سی بدبو کمرے سے آرہی تھی۔
شاید کمرے میں سیلنگ کی بدبو تھی ہم نے پہلے کمرے کو چاروں طرف سے دیکھا کمرے کا جائزہ لیا تو وہاں دو چارپائیاں پڑی تھیں ہمنے اپنے جوتے اتارے جو کہ برف سے اٹے ہوئے تھے ان کو برف سے صاف کر کے ایک سائیڈ پر رکھ دیا ہمارا تھکاوٹ سے برا حال تھا گلشیر تو ایک دم سے چارپائی پر لیٹ گیا مجھے کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا شاید کہ میری چھٹی حس مجھے یہ محسوس کروا رہی تھی کہ یہاں پر کچھ خطرہ ہے اور کچھ ہمارے ساتھ ایسا برا ہونے والا ہے میں بھی ادھر ادھر دیکھتے ہوئے لیٹ گیا گل شیر اب سو چکا تھا اور اس کے خراٹوں کی آوازیں بند کمرے میں سنائی دے رہی تھی میں بھی بہت زیادہ تھکا ہوا تھا کچھ دیر میں بھی گہری نیند کی آغوش میں چلا گیا ابھی میری آنکھ لگی ہی تھی کہ مجھے لگا کہ کسی نے میری چارپائی کو زور سے ہلایا میں گہری نیند میں تھا میں ہڑبڑا کر اٹھ کر بیٹھ گیا میں نے چاروں طرف دیکھا گلشیر گہری نیند میں سویا ہوا تھا۔
میں شاید تھکا ہوا تھا دوبارہ سوگیا ۔
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ کسی نے میرے پاؤں کا انگوٹھا زور سے کھینچا میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا ادھر ادھر چاروں طرف دیکھا لیکن کمرے میں میرے اور گلشیر کے علاوہ اور کوئی نہ تھا میرا دل بہت زیادہ گھبرا رہا تھا میں اٹھا اور کمرے کا دروازہ کھول کر باہر دیکھنے لگا مجھے لگا کہ ایک سایہ تیزی سے میرے آگے کو گزرا وہ سایہ اتنا تیزی سے گزرا تھا کہ میں اس سے ٹھیک طرح سے دیکھ نہیں سکا میں نے اپنی گھڑی پر ٹائم دیکھا تو رات کے دو بجے تھے اف خدایا ابھی صبح ہونے میں کافی ٹائم تھا میں دل میں سوچ رہا تھا کہ نہ جانے کب اس پراصرار گھر سے باہر نکلیں گے وہ کیا تھا جو تیزی سے گزرا تھا میں بالکل سمجھ نہیں پایا تھا میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا یہ شاید لاؤنج تھا جہاں فرنیچر پڑا ہوا تھا لیکن فرنیچر پر سے ایسے گرد پڑی تھی کہ جیسے ایک عرصے سے کوئی نہ رہتا لیکن وہ لڑکی میں سوچنے لگا کہ یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے پھر وہ لڑکی جو ہمہیں گھر کے اندر لے کر آئی تھی وہ کون تھی اور اب کہاں ہے وہ تو کہہ رہی تھی کہ وہ اور اس کی بڑھی ماں اس گھر میں اکیلے رہتے ہیں لیکن اب وہ نہ لڑکی تھی اور نہ اس کی بوڑھی ماں بس ہر طرف خاموشی کا راج تھا اتنے میں میرے کندھوں پر کسی نے ہاتھ رکھا میں خوف کے مارے اچھل پڑا مڑ کر دیکھا تو میرے پیچھے گلشیر کھڑا تھا مجھے حیرت سے دیکھ رہا تھا میں نے اس سے اپنی جاگنے کی وجہ بتائی تو وہ بھی خوف سے ادھر ادھر دیکھنے لگا جس نے مجھے بتایا کہ اسے بھی کسی نے اسی طرح سے جگایا ہے اب نیند تو ہماری آنکھوں سے کوسوں دور چلی گئی تھی ہم لوگ چلتے چلتے ایک کمرے کے دروازے پر رک گئے وہ دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا اور کچھ روشنی کے کرنے باہر کی طرف پڑ رہی تھی۔
ہمنے ہمت کی اور ۔۔۔
اور ہاتھ سے ہلکا سا دروازے کو کھولا لیکن اندر کوئی نہ تھا۔ مکمل طور پر کمرہ ویران تھا اور میری سمجھ سے بالاتر تھا کہ روشنی کہاں سے آ رہی تھی اور وہ روشنی تھوڑی دیر بعد ختم ہو گئی اور کچھ خوفناک سی آوازیں سنائی دینے لگی اور پھر وہ آوازیں تیز سے تیز ہوتی گئی وہ آوازیں بہت قریب سے آ رہی تھی ہوا کا ایک تیز جھونکا کمرے میں داخل ہوا حالانکہ پہلے کمرے میں بالکل خاموشی تھی اب یہ ہوا کا جھونکا کہاں سے آیا ۔
کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں تھی بے ہنگم ہواؤں کا شور سنائی دے رہا تھا اس کمرے کی دیواریں بھی جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھیں اور کمرے کے چاروں طرف جالے لگے ہوئے تھے میں حیران تھا کہ اگر کوئی اس گھر میں رہتا تھا تو پھر جالے کیوں نہیں صاف کیے میری اور گل شیر کی کیفیت کچھ عجیب سی تھی میں کمرے کی دیواروں کو غور سے دیکھ رہا تھا مجھے کچھ عجیب سی شکلیں دیواروں میں نظر آرہی تھیں مجھے پھر لگا کہ کوئی کالے رنگ کا سایہ گزرا ہو اور اب وہ سایہ ہمارے ایک طرف آ کر کھڑا ہو گیا اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہ سایہ ایک بھیانک عورت کا روپ اختیار کر گیا ہماری تو خوف کے مارے چیخیں نکل گئیں
خوف سے ہمارے منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکل رہی تھی وہ ایک بہت بھیانک شکل کی عورت تھی اس نے ہمیں دیکھ کر ایک بلند قہقہہ لگایا اس کا قد اوپر چھت کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا ۔ اور اس کے لمبے سیاہ بال اس کے پاؤں تک زمین پر لٹک رہے تھے میں سمجھ گیا تھا کہ ہم لوگ یہاں پر بری طرح سے پھنس چکے ہیں ۔ کہ اچانک سے ہمارے پیچھے سے ایک دم سے دروازہ بند ہو گیا اب مجھے اپنی موت کا 100 پرسنٹ یقین ہو گیا تھا کہ ہمیں اس گھر میں ہماری موت ہی لے کر آئی ہے وہ بھیانک شکل والی عورت ہمارے سامنے کھڑی تھی اور زور زور سے ہنس رہی تھی اس عورت نے ایک دم مجھ پر حملہ کر دیا اس نے میرے گلے پر ہاتھ ڈالا اور میں ہوا میں تھا میرے پاؤں نیچے لٹک رہے تھے میرا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا مجھے بہت چکر آ رہے تھے گل شیر مجھے اس مخلوق سے بچانے کے لیے ہاتھ پیر مار رہا تھا میری آنکھوں کے گرد اندھیرا چھانے لگا اور پھر اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں جب آنکھ کھلی تو ہم اس گھر کے باہر قبرستان کے ایک سائیڈ پر تھے مجھے دیکھ کر گلشیر نے مجھے اٹھایا ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہم یہاں کیسے پہنچے تھے رات کا سارا واقعہ مجھے یاد آنے لگا وہ لڑکی جو ہمیں گھر کے اندر لے کر گئی تھی وہ لڑکی جو ہمیں گھر کے اندر لے کر گئی تھی پھر وہ بھیانک شکل کی عورت وہ سایہ جو تیزی سے گزر جاتا سارا واقعہ مجھے یاد آنے لگا ہم گھر سے باہر کیسے آئے مجھے یاد نہیں آیا کہ اس بھیانک عورت نے تو مجھ پر حملہ کیا تھا میں نے اپنے گلے پر ہاتھ رکھا تو مجھے بڑی تکلیف محسوس ہوئی میرے بازوں گلے اور سارے جسم پر بڑے بڑے نیل تھے اور وہ نیل بہت درد کر رہے تھے میرے بازو پر اس طرح سے نشانات بنے تھے کہ جیسے کسی نے ناخنوں سے مجھے پنجے مارے ہوں ۔
ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے گرتے پڑتے وہاں قبرستان سے گزرتے ہوئے اپنے ٹرک کے پاس پہنچے اور فوراً سے اپنے ٹرک میں سوار ہو گئے میں نے جلدی سے ٹرک کو اسٹارٹ کیا گل شیر نے مجھے کہا کہ جلدی سے یہاں سے نکلو یہاں کی ہر چیز آسیب زدہ لگ رہی ہے میں نے دیکھا کہ اس ویران بستی میں یہ واحد مکان تھا اس کے علاوہ اور کوئی بھی گھر نہ تھا ہر طرف گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا میں جلدی سے وہاں سے نکلنا چاہتا تھا میں نے ٹرک کی رفتار کو تیز کر دیا سردی سے بری حالت تھی گلشیر نے تھرمس سے کہوہ دو کپوں میں ڈالا اور ایک کپ مجھے تھما دیا تاکہ کچھ جسم میں حرارت پیدا ہو ابھی ہم آگے چلے ہی تھے اس بستی سے تھوڑا آگے ہمارے ٹرک کو ایک زوردار چھٹکا لگا میری نظر سامنے مرر پر تھی اچانک میری ٹرک کے سامنے وہی لڑکی ہاتھ میں لالٹین پکڑی اور ساتھ میں ایک بوڑھی عورت کھڑی تھی وہ ہاتھ کے اشارے سے ہمیں روک رہیں تھیں مجھے گلشیر نے کہا کہ یامین بھائی ٹرک کو بھگاؤ یہ ساری جگہ آسیب زدہ ہیں میں نے تیزی سے ٹرک کو آگے بڑھا دیا میں نے کچھ ہی دیر بعد مڑ کر دیکھا تو مجھے اس لڑکی کا سایہ لمبا ہوتا دکھائی دیا
میرا تو خون ہی خشک ہو گیا تھا میں تیزی سے اپنے ٹرک کو بھگا رہا تھا ہمارا ٹرک ویران سڑک پر تھا کہ اچانک ہم نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جنازہ لیے جا رہے ہیں سب نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اپنے چہرے کسی کپڑے سے ڈھکے ہوئے تھے لیکن ایک بات کہ ان کے قد بہت لمبے تھے میں نے ان کو دیکھا اور ٹرک کی رفتار کو آہستہ کر لیا وہ ہمارے سامنے سے گزرے لیکن انہوں نے ہمیں نہیں دیکھا تھا وہ خاموش ہمارے آگے سے گزر گئے میں یہ تو جان گیا تھا کہ یہ کوئی انسان نہیں تھے اور یہ اور یہ ساری جگہ ہی آسیب زدہ تھی اور ایک کے بعد ایک واقعات ہمارے ساتھ پیش آرہے تھے مجھے جو بھی قرآنی آیات یاد تھیں وہ میں پڑھنے لگا ہمارا دماغ اس ساری سچویشن کو سمجھنے سے قاصر تھا کہ اتنے میں ہمیں ایک طرف کو آبادی نظر آنے لگی اور میں نے ٹرک کو ویرانے سے موڑ کر دوسرے سمت روانہ کر دیا ہم لوگ بال بال بچے قریب ہی پیٹرول پمپ تھا تھوڑے دیر کے لیے ہم وہاں اترے وہاں چارپائیاں پڑی تھی ہم بھی جا کر بیٹھ گئے پیٹرول پمپ کا جو مالک تھا اس نے ہم سے پوچھا کہ آپ لوگ کہاں سے آ رہے ہو تو میں نے ان کو سارا واقعہ بتایا تو اس نے ہمیں بتایا کہ آپ غلط راستے پر چل نکلے تھے وہاں تو کوئی بستی بھی نہیں ہے وہ ایک ویران جگہ ہے وہاں صرف قبرستان ہے اور وہاں پر چڑیلوں کا بسیرا ہے وہاں کوئی بھی انسان نہیں جاتا ۔ اس کی باتیں سن کر میں نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہمیں زندہ رکھا اور خیریت سے صحیح سلامت پہنچا دیا ورنہ پتہ نہیں کیا ہو جاتا پھر سامان آف لوڈ کر کے ہم اپنے گھر پہنچے اور کافی عرصے تک میں اس واقعے کی وجہ سے خوفزدہ رہا اور پھر ان راستوں پر کبھی نہیں گیا میں جب بھی آنکھیں بند کرتا ہوں تو وہ سارا منظر میری آنکھوں کے آگے آ جاتا ہے اور خوف سے میں اب بھی کانپ جاتا ہوں جب اس واقعے کو یاد کرتا ہوں ۔۔

