اسلام علیکم
ڈیئر فرینڈز اج ہم اپ کے ساتھ مرزا امجد بیگ صاحب کی ڈائری سے ایک قیمتی کیس اپ کے ساتھ شیئر کرنے جا رہے ہیں مجھے امید ہے اپ کو بہت پسند ائے گا
تو آئیے اس کیس کا اغاز کرتے ہیں
اس کیس کا نام ہے
فتنہ سامان...
قانونی پیچیدگیاں، عدالتی کارروائی کے اہم رموز و نکات۔
زن، زر اور زمین کے تنازعوں میں جنم لینے والے مقدمات۔
راوی ...... مرزا امجد بیگ (ایڈووکیٹ)۔
تحریر ..... حسام بٹ۔
میں رات کو سونے سے پہلے مطالعے کا عادی ہوں۔ جب تک کچھ نہ کچھ پڑھ نہ لوں مجھے نیند نہیں آتی۔ اس روز بھی میں معمول کے مطابق قانون کی ایک ضخیم کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا کہ میرے گھریلو ملازم نے اطلاع دی کہ کوئی ڈاکٹر سہیل عمر مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے دیوار گیر گھڑی میں وقت دیکھا، رات کے ساڑھے گیارہ بج چکے تھے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اس وقت کوئی ڈاکٹر مجھ سے ملنے کیوں چلا آیا۔ میں سہیل عمر نامی کسی ڈاکٹر سے واقف نہیں تھا۔ حالانکہ میرے دوستوں میں کئی ڈاکٹر شامل تھے۔ میں نے سوچا ممکن ہے وہ میرے کسی دوست کے توسط سے آیا ہو۔ میں چونکہ شب خوابی کے لباس میں تھا اس لیے میں نے ملازم کو ہدایت کی کہ وہ ڈاکٹر صاحب کو ڈرائنگ روم میں بٹھائے اور خود باتھ روم میں گھس گیا۔ میں نے جلدی جلدی لباس تبدیل کیا اور ڈرائنگ روم میں چلا آیا۔
السلام علیکم وکیل صاحب !" وہ مجھے دیکھتے ہی اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ پھر معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔ ”ناوقت تکلیف دینے کے لئے معافی چاہتا ہوں۔ بس کچھ بات ہی ایسی تھی کہ " وہ اپنا جملہ نامکمل چھوڑ کر ملازم کی جانب دیکھنے لگا۔ میں نے اس کے سلام کا جواب دینے کے بعد کہا "کوئی بات نہیں، آپ تشریف رکھیں۔" پھر ملازم سے کہا کہ وہ چائے لے آئے۔ اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے وکیل صاحب " ڈاکٹر سہیل عمر نے ملازم کو اشارے سے منع کرتے ہوئے کہا۔ پھر میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا ”میں آپ کی خدمات حاصل کرنا چاہتا ہوں۔"
"کس سلسلے میں؟" میں نے پوچھا۔
بیگ صاحب! میرے ڈسپنسر کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔ آپ کو اسے اس مصیب سے نجات دلانا ہے۔"
میں نے پوچھا یہ کب کی بات ہے اور پولیس آپ کے ڈسپنسر کو کیوں لے گئی ہے ؟؟ یہ دو روز پہلے کا واقعہ ہے۔" اس نے بتایا۔ پولیس نے اسے حدود آرڈینینس کے " تحت گرفتار کیا ہے۔" "ذرا تفصیل سے بتائیں۔" میں کاغذ قلم سنبھال کر بیٹھ گیا۔ ڈاکٹر سہیل عمر نے کھنکھار کر گلا صاف کیا۔ پھر کہنا شروع کیا۔ کاشف میر ی کلینک میں قریب قریب دو سال سے کمپاؤنڈری کر رہا ہے۔ بے چارہ بدقسمتی سے کمپاؤنڈر بن گیا ہے۔ میڈیکل پڑھنے کا خواہشمند تھا، مطلوبہ مارکس نہیں آئے تو دلبرداشتہ ہو کر تعلیم ہی کو خیرباد کہہ دیا۔ کچھ عرصہ آوارہ گردی کے بعد ڈسپنسر کا کورس کر لیا۔ صبح وقت اسپتال میں بھی میرے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ شام میں میرا کلینک وہی کھولتا ہے تقریباً آدھی رات تک میرے ہی ساتھ کام کرتا ہے۔ کاشف " میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روک دیا۔ پھر کہا " آپ نے
کہا تھا کہ پولیس نے کاشف کو حدود آرڈینینس کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔" "جی ہاں، میں وہی بتانے جا رہا ہوں۔" وہ jazbuz ہو کر بولا۔ اسے احساس ہو گیا تو میں اس کی طویل گفتگو سے بوریت محسوس کر رہا ہوں اور ٹو دی پوائنٹ بات سنتا ہوں۔
بیگ صاحب! کاشف ایک باکردار اور شریف النفس انسان ہے۔ میں اسے zaati طور پر جانتا ہوں۔ وہ ایسے گھناؤنے فعل کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کا ذکر ہے۔“ اس نے بتانا شروع کیا۔ معمول کے مطابق کاشف کلینک کر کے گھر چلا گیا تھا۔ دوسرے روز وہ اسپتال نہیں آیا۔ پھر رات جب میں کلینک پر آیا وہ بند تھا۔ کلینک کی ایک چابی میرے پاس بھی ہوتی ہے۔ اس روز میں نے خود ہی کھولا۔ پھر جب مریض آنا شروع ہوئے تو مجھے معلوم ہوا کہ کاشف کے ساتھ کیا پیش آچکا تھا۔"
میں نے پوچھا "کاشف کو کس لڑکی کے ساتھ مبینہ جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے؟"
بیگ صاحب ! وہ کوئی لڑکی نہیں ہے بلکہ کاشف کی سوتیلی ماں ہے۔"
مجھے ایک جھٹکا سا لگا۔ میری رائے میں کوئی شخص اپنی سوتیلی ماں کے بارے میں ایسا کوئی قبیح قدم نہیں اٹھا سکتا۔ میں صوفے پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ "کیا کاشف کو اس کی سوتیلی ماں کے ساتھ مبینہ جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے؟" ڈاکٹر سہیل عمر نے بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ کاشف کے والد عبدالوہاب نے چھ سات ماہ قبل صاعقہ سے شادی کی ہے اور وہی اس کی سوتیلی ماں ہے۔" سوتیلی ماں ہے اور کاشف کی سگی والدہ کہاں ہے؟"
عبدالوہاب نے اسے طلاق دے دی ہے۔ " اس نے بتایا۔ " ابھی اس بات کو ایک سال بھی نہیں ہوا۔" گھر میں اور کتنے افراد ہیں؟" میں نے پوچھا۔ "میرا مطلب ہے جب یہ واقعہ پیش آیا، گھر میں کون کون تھا ؟". اس نے کہا کاشف اور اس کی سوتیلی والدہ صاعقہ کے سوا کوئی بھی نہیں تھا۔ یہ تو روز کا معمول ہے۔ اس گھر میں کل تین افراد رہتے ہیں۔ کاشف، صاعقہ اور کاشف کا والد عبدالوہاب کاشف کلینک پر آجاتا ہے۔ عبد الوہاب کباب کا ٹھیلا لگاتا ہے اور سرشام ہی گھر سے نکل جاتا ہے۔
اس کی واپسی نصف شب تک ہوتی ہے۔ کاشف بھی کم و بیش گیارہ بجے کلینک سے نکلتا ہے۔ اس دوران میں صاعقہ گھر میں اکیلی ہی ہوتی ہے۔" میں نے پوچھا "کاشف اور سوتیلی ماں صاعقہ کے درمیان تعلقات کیسے تھے؟ میرا مطلب ہے ان کے درمیان کوئی کشیدگی وغیرہ تو نہیں تھی؟" " آپ کا اندازہ بالکل درست ہے۔ " ڈاکٹر سہیل عمر نے کہا۔ ”ان کے بیچ کبھی بن کر نہیں دی۔ اکثر چھوٹے موٹے جھگڑے ہوتے ہی رہتے تھے۔" میں چند لمحے تک خاموشی سے بیٹھا چھت کو گھورتا رہا۔ پھر ڈاکٹر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گھمبیر لہجے میں پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب! ایک بات پوری دیانتداری سے بتائیں۔ " میں دانستہ اتنا کہنے کے بعد رک گیا تھا۔
ڈاکٹر نے پہلو بدل کر سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا۔ ”پوچھئے وکیل صاحب! میں نے پوچھا کیا آپ واقعی کاشف کو بے گناہ سمجھتے ہیں؟"
غیب کا علم تو صرف اللہ ہی کو ہے۔" اس نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ "مجھے یقین ہے کہ وہ ایسا لڑکا نہیں ہے۔" کیا آپ عدالت میں اس کے حق میں گواہی دینے کے لیے تیار ہیں ؟" بیگ صاحب! اگر مجھے اس کی بے گناہی کا یقین نہیں ہوتا تو میں اس وقت آپ پاس نہ آتا۔ میں آپ کی فیس خود اپنی جیب سے دوں گا۔ میں اس قسم کی صورتحال میں اسے بے یارو مددگار نہیں چھوڑوں گا جبکہ اس کا والد بھی اس کا دشمن بن چکا ہے۔ اس کی کسی قسم کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہے بلکہ خیال اس کا یہ ہے کہ کاشف واقعی اس فعل کا مرتکب ہوا ہو گا۔ وہ پوری طرح اپنی نئی نویلی بیوی صاعقہ کی مٹھی میں ہے۔ وہ اس کے اشاروں پر ناچتا ہے۔" ڈاکٹر صاحب! جس جرم میں کاشف کو گرفتار کیا گیا ہے، اس کے بارے میں اللہ کا
حکم بہت سخت ہے۔ آپ احکام خداوندی سے پوری طرح آگاہ ہیں ؟" میں ziyada تفصیلات نہیں جانتا۔ " ڈاکٹر نے کہا "آپ میری معلومات میں izafa
کیجئیے۔" میں نے کہا اس سلسلے میں ارشاد ربانی ہے۔ بدکار (زانیہ) عورت اور بدکار (زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو سو درے (کوڑے مارو اور تمہیں اللہ کے معاملے میں ان پر رحم نہیں آنا چاہئے۔ اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور ان سزا کے وقت مسلمانوں کے ایک گروہ (جماعت) کو حاضر رہنا چاہئے۔ بدکار (زانی) ۔ سوائے بدکار (زانیہ) عورت یا مشرکہ کے نکاح نہیں کرے گا اور بدکار (زانیہ) عورت سے بھی نہیں نکاح کرے گا سوائے بدکار (زانی) مرد یا مشرک اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے تو انہیں اسی درے (کوڑے مارو اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو اور وہی لوگ نا فرمان ہیں۔۔۔" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ ہے . اگر ایک کنواری عورت ایک کنوارے مرد سے زنا کرے تو ان کو سو کوڑے لگائے جائیں اور اگر ایک شادی شدہ عورت ایک شادی شدہ مرد سے زنا کرے تو ان کو سنگسار کیا جائے۔" میری بات ختم ہوئی تو ڈاکٹر سہیل عمر نے کہا " مجھے یقین ہے کہ کاشف کو کسی سازش
کے تحت پھانسا گیا ہے۔ آپ کل اس سے مل لیں۔"
میرے استفسار پر اس نے متعلقہ تھانے کا نام بتا دیا۔ میں نے پوچھا کیا آپ تھانے میں کاشف سے مل چکے ہیں؟"
میں وہاں دو بار جا چکا ہوں۔" اس نے کہا "دوسری مرتبہ ایک اے ایس آئی نے
مجھے آفر بھی دی تھی۔" کیسی آفر؟"
جب اسے پتہ چلا کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں اور کاشف کا خیر خواہ ہوں تو اس نے کہا کہ اگر میں کچھ مال خرچ کروں تو یہ لوگ کوئی ایسی دفعہ لگائیں گے کہ کاشف کی رہائی کے امکانات پیدا ہو جائیں گے اور اگر میں ان کے حسب منشا رقم ادا کروں تو کاشف سرے سے چھوٹ بھی سکتا ہے۔" انہوں نے کتنی رقم کا مطالبہ کیا ہے؟"
ہلکی دفعہ لگانے کے لیے پچاس ہزار اور ایک دم مک مکا کے لیے ایک پیٹی (ایک لاکھ روپے) طلب کر رہے ہیں۔" "آپ نے کوئی رقم دی تو نہیں؟"
ڈاکٹر نے بتایا "کاشف کو پولیس والوں کی مہمان نوازی" سے بچانے کے لیے مجبوراً مجھے پانچ سو روپے ادا کرنا پڑے تھے۔"
"ٹھیک ہے۔" میں نے کہا۔ "آپ اس کے علاوہ بھی کچھ جانتے ہوں تو مجھے بتا دیں۔ میرا مطلب ہے کاشف کی سوتیلی والدہ صاعقہ کے بارے میں اگر آپ کو کوئی خاص بات معلوم ہو تو مجھے ضرور بتائیں۔" پولیس نے کاشف کا سات روز کا ریمانڈ لیا ہوا ہے۔" اس نے بتایا۔ "آپ تھانے جا کر اس سے ملاقات کر لیں اور تمام تفصیلات سن کر ضمانت کے کاغذات تیار کر لیں، اخراجات کی آپ بالکل فکر نہ کریں۔ میں ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہوں۔" ایک لمحے کو رک کر اس نے کہا ”میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا۔"
میں نے اسے اپنی فیس بتائی۔ اس نے فوراً ادا کر دی۔ میں نے کہا "عدالت کے اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے۔ جن کے بارے میں بعد میں بات کریں گے۔" ایک لمحے کے توقف کے بعد میں نے اضافہ کیا اور کہا یہ کیس اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ میں کاشف سے ملاقات کے بعد ہی کروں گا۔"
ٹھیک ہے بیگ صاحب" وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اب مجھے اجازت دیجئے۔" میں بیرونی دروازے تک اسے چھوڑنے آیا۔ پھر وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہو گیا۔ میں واپس اپنے بیڈ روم میں پہنچا تو رات کا ایک بج رہا تھا۔ دوسرے روز عدالت کے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد میں متعلقہ تھانے پہنچ گیا خلاف توقع تھانہ انچارج "موجود تھا۔ میں نے اپنا تعارف کرانے کے بعد کاشف سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ انچارج کی اجازت سے ایک حوالدار مجھے کاشف سے ملوانے حوالات کی طرف لے آیا۔ حوالات میں کاشف کے علاوہ چار حوالاتی اور بھی موجود تھے۔ کاشف ایک سادہ مزاج نوجوان دکھائی دیتا تھا۔ اس کی عمر کا اندازہ میں نے بائیس تئیس سال لگایا۔ اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی اور آنکھوں کے گرد بے خوابی کے حلقے پڑے ہوئے تھے۔ اس کے بال گھنگریالے تھے اور وہ بھرے بھرے جسم کا گندمی رنگت کا نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر اداسی اور آنکھوں میں مجھے ویرانی کا راج نظر آیا۔ حوالات کے ننگے فرش پر ایک کونے میں بیٹھا چھت کو گھور رہا تھا۔
حوالدار نے حوالات میں داخل ہوتے ہی بڑے جارحانہ انداز میں اسے مخاطب کیا؟ ”اوئے لاٹ صاحب کے بچے ! وکیل صاحب تم سے ملنے آئے ہیں۔" کاشف نے نگاہیں اٹھا کر مجھے دیکھا، مایوسی اس کی آنکھوں سے واضح طور پر جھلک رہی تھی۔ اس نے میری جانب متوجہ ہونے کے باوجود بھی منہ سے ایک لفظ نہیں کہا میں نے دیگر حوالاتیوں کی موجودگی میں اس سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ میں حوالدار سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا حوالدار صاحب! میں ملزم سے کسی علیحدہ جگہ بات کرنا چاہتا ہوں۔"
وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا " علیحدہ جگہ کا انتظام بہت مشکل ہے۔ آپ کو جو بھی پوچھنا ہے، یہیں پوچھ لیجئے۔"
میں نے معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔ پھر جیب سے سوسو کے دو کرارے نوٹ نکال کر اس کی مٹھی میں رکھ دیئے۔ وہ کسی چابی بھرے گڈے کے مانند اثبات میں سر ہلانے لگا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد میں کاشف کے ساتھ ایک علیحدہ کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے حوالدار سے کہا کہ وہ کمرے سے نکل جائے۔ ہاں البتہ وہ چاہے تو دروازے کے باہر کھڑا رہ سکتا ہے۔ اس نے میری بات بلا چون و چرا مان لی اور کمرے سے چلا گیا۔
تنہائی میسر آتے ہی میں نے کاشف سے کہا کاشف صاحب! میرا نام مرزا امجد بیگ ایڈووکیٹ ہے۔ میرا لہجہ انتہائی دھیما اور رازدارانہ تھا۔ میں نے آواز کو اتنا ہلکا رکھا تھا کہ کمرے کے دروازے پر موجود حوالدار ہماری باتیں نہ سن سکے۔ میں نے کہا "ڈاکٹر سہیل عمر نے مجھے آپ کا وکیل مقرر کیا ہے۔ میں اسی سلسلے میں آپ سے ملنے آیا ہوں۔ اس کی آنکھوں میں امید کی شمع روشن ہو گئی اور وہ سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔
میں نے پوچھا پولیس نے آپ پر کوئی تشدد وغیرہ تو نہیں کیا ؟" وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا ”گزشتہ دو روز تک ان کا رویہ میرے ساتھ انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ تھا۔ پھر جب کل ڈاکٹر صاحب ان سے مل کر گئے ہیں، اس کے بعد ان کے روئیے میں خاصی نرمی آگئی ہے۔" وہ ایک لمحے کو سانس لینے کے لیے رکا۔ میں نے محسوس کیا وہ انتہائی مہذب اور شائستہ نوجوان تھا۔ اس مختصر توقف کے بعد اس نے بولنا شروع کیا۔ کل رات ایک اے ایس آئی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ان کی بات ہو گئی ہے۔ وہ رقم کا انتظام کرنے گئے ہیں۔"
ڈاکٹر سہیل عمر نے مجھے ایسی کوئی بات نہیں بتائی تھی۔ ممکن ہے اس نے کاشف کو پولیس والوں کے تشدد سے بچانے کے لیے ایسی کوئی بات کر دی ہو اور بعد میں مجھے بتانا بھول گیا ہو۔ کل رات جب وہ میرے پاس آیا تھا تو میں نے اس سے کہا تھا کہ وہ کل صبح یعنی آج میرے دفتر آکر بات کرے مگر اس نے اس کے لیے معذوری ظاہر کی تھی اور بتایا تھا کہ آج اسے ایک میڈیکل کنونشن میں شرکت کی غرض سے اسلام آباد جانا ہے جہاں سے اس کی واپسی اگلے روز ہی ہو سکے گی۔
میں نے کاشف سے پوچھا "ڈاکٹر صاحب نے بتایا تھا کہ انہوں نے پولیس والوں کو بطور رشوت پانچ سو روپے ادا کیے تھے؟"
"جی ہاں وکیل صاحب " اس نے مختصر سا جواب دیا۔ پھر کچھ سوچنے کے بعد کہنے ! یہاں تو کوئی شخص پیسوں کے بغیر بات ہی نہیں کرتا۔ آج میری گرفتاری کو تیسرا روز ہے مگر ابھی تک کوئی دوست، رشتے دار مجھ سے ملاقات کرنے نہیں آیا، سوائے ڈاکٹر صاحب کے۔ ڈاکٹر صاحب انتہائی مہربان اور فرشتہ سیرت انسان ہیں۔"میں نے سنا ہے، آپ کے والد کو بھی یقین ہے کہ آپ ہی قصور وار ہیں؟" میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔
وہ غیر جذباتی لہجے میں بولا " آپ نے بالکل ٹھیک سنا ہے۔"
میں نے اصل موضوع کی جانب آتے ہوئے کہا ”آپ مجھے تمام واقعات تفصیل سے سنائیں۔ وقوعہ کی رات جو کچھ اور جس طرح پیش آیا تھا، تمام جزئیات کے ساتھ بیان کریں۔" اس نے ایک طویل سانس لینے کے بعد سر جھکا لیا اور چند لمحوں تک خاموش رہا۔ میں اس کے بولنے کا انتظار کرتا رہا۔
ایک طویل توقف کے بعد کاشف نے جو حالات بیان کیے میں ان میں سے غیر ضروری باتوں کو حذف کر کے یہاں لکھ رہا ہوں تاکہ قارئین اس واقعے کے پس منظر سے پوری طرح آگاہ ہو جائیں اور عدالتی کارروائی کے دوران میں کسی بات پر ان کا زہن الجھن کا شکار نہ ہو۔ کاشف کو در حقیقت انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس ہنگامے کی ابتداء اسی وقت ہو گئی تھی جب صاعقہ سوتیلی ماں کے روپ میں اس گھر میں آئی تھی۔ صاعقہ سے عبدالوہاب یعنی کاشف کے والد کی شادی کا قصہ بھی خالی از دلچپسی ہے۔ عبدالوہاب دن بھر گھر میں رہتا تھا اور مال کی تیاری میں لگا رہتا تھا۔ سرشام ٹھیلا سجاتا تھا۔ وہ مین بازار میں رات گئے تک تکے کباب بیچا کرتا تھا۔ یہ جگہ چونکہ اس کے گھر سے زیادہ دور نہیں تھی، اس لیے بعض اوقات وہ بارہ ایک بجے رات تک اپنے کاروبار میں لگا رہتا تھا۔ اس کا کام خوب چل رہا تھا۔ گھر میں خوشحالی تھی۔ اس کے صرف دو بچے تھے۔ کاشف سے چھوٹی ایک بیٹی نزہت تھی جس کی سال بھر پہلے شادی ہو گئی تھی۔ نزہت کی زچگی کے دوران میں کوئی ایسی پیچیدگی پیدا ہو گئی تھی کہ عبد الوہاب کی بیوی فردوس بیگم آئندہ ماں بننے کے قابل نہیں رہی تھی۔
سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ صاعقہ کی آمد نے اس ہنستے بستے گھر میں طوفان پیدا کر دیا۔ صاعقہ اس محلے میں رہتی تھی اور مطلقہ تھی۔ عبدالوہاب سے شادی سے ایک سال قبل اسے طلاق ہوئی تھی۔ صاعقہ کے شوہر نجیب احمد نے اس پر بے وفائی کا الزام لگا کر اسے طلاق دے دی تھی جبکہ صاعقہ کا موقف یہ تھا کہ نجیب احمد ایک انتہائی سنگدل اور سفاک شخص تھا جو شب و روز اسے زد و کوب کرتا رہتا تھا۔ نتیجے میں ایسے ظالم سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اس نے خود طلاق کا مطالبہ کر دیا تھا اور نجیب احمد نے اس کام میں تاخیر مناسب نہ جانتے ہوئے اسے طلاق دے دی تھی۔ صاعقہ کا گھر مین بازار میں اس جگہ سے قریب تھا جہاں عبدالوہاب ٹھیلا لگاتا تھا۔ صاعقہ کے گھر کے بیرونی دروازے سے عبدالوہاب کا ٹھیلا واضح طور پر نظر آتا تھا۔ صاعقہ کے والدین کا اس کے بچپن ہی میں انتقال ہو گیا تھا اور وہ شروع ہی سے رشتے کے ایک چچا کے یہاں رہی تھی۔ طلاق کے بعد بھی وہ اسی گھر میں رہ رہی تھی۔ عبدالوہاب کے ٹھیلے سے تکے کباب بوٹیاں ، گردنیں اور پوٹے اکثر و بیشتر صاعقہ کے گھر جاتے رہتے۔
عبدالوہاب نے ہمیشہ صاعقہ کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ وہ تھی ہی ایسی کہ جو بھی اسے دیکھے پسند کرنے لگے۔ وہ بلا کی پرکشش ایک سانولی عورت تھی۔ عبدالوہاب دل ہی دل میں اسے چاہتا تھا مگر جب صاعقہ کی شادی ہو گئی تو رفتہ رفتہ عبدالوہاب کی چاہت ماند پڑنے لگی مگر وہ اسے دل سے کبھی بھی بھلا نہ سکا۔ پھر حالات نے پلٹا دکھایا اور شادی کے دو سال بعد صاعقہ کو طلاق ہو گئی۔ اس موقع پر سب سے زیادہ خوشی عبدالوہاب کو ہوئی تھی۔ کچھ ہی عرصہ بعد آمنا سامنا ہوا تو عبد الوہاب نے اپنا دل کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ دوسری جانب سے بھی مثبت اشارہ موصول ہوا تو عبد الوہاب کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
قصہ مختصر اب عبدالوہاب کی آمدنی کا بڑا حصہ صاعقہ پر خرچ ہونے لگا۔ تکے کباب بھی کثرت سے اس کے گھر جانے لگے۔ وہ اپنی آمدنی کو بے دردی سے لٹا رہا تھا۔ ایسی باتیں بھلا کب چھپی رہ سکتی ہیں۔ بیوی کو وہ روزانہ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے ٹال دیتا تھا "آج دھندا ٹھیک سے نہیں ہوا۔" " آج کی بات چھوڑیں۔" فردوس بیگم نے غصے سے کہا۔ ”یہ تو آپ کا معمول بن گیا ہے۔ پہلے سے آدھے پیسے بھی گھر میں نہیں دیتے۔ میں بھلا ان چند روپوں میں گھر کیسے چلاؤں؟"
تم فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ " اس نے بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی۔ وہ پاؤں پٹخ کر بولی "کیا خاک ٹھیک ہو جائے گا۔ میں تو اڑتی اڑتی کچھ اور بھی سن رہی ہوں۔
"کیا سن لیا ہے تم نے؟"
یہی کہ اب آپ کی آمدنی کہیں اور بھی جانے لگی ہے۔" وہ معنی خیز انداز میں بولی۔ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ بھلا میری آمدنی اور کہاں جائے گی۔" ایک لمحے کو رک کر اس نے وضاحت کی۔ وہ تو مرغی ہی اس قدر مہنگی ہو گئی ہے کہ مجھے اپنے دام میں اضافہ کرنا پڑا جس کی وجہ سے گاہک کم رہ گئے ہیں۔"
میں سب جانتی ہوں۔" فردوس بیگم پاؤں پٹخ کر بولی۔ ”دوسروں کے لیے بھی تو مرغی مہنگی ہوئی ہوگی مگر ان کا کاروبار تو حسب معمول ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ صرف آپ ہی کا کاروبار کیوں متاثر ہو رہا ہے؟"
میں تمہاری جہالت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ " عبدالوہاب نے اکتاہٹ آمیز لہجے میں کہا ” پتہ نہیں کیا انٹ شنٹ بولے جا رہی ہو۔" او ہو، تو اب میں آپ کو جاہل بھی لگنے لگی ہوں۔" فردوس بیگم نے جلے کٹے لہجے میں کہا "صاعقہ پر دل جو آگیا ہے۔"
"کون صاعقہ؟"
وہی مردود میری سوکن" فردوس نے انتہائی غصے کے عالم میں کہا " جس پر آج...
جاری ھے۔

