فتنہ سامان۔
دوسری قسط۔
قانونی پیچیدگیاں، عدالتی کارروائی کے اہم رموز و نکات۔
زن، زر اور زمین کے تنازعوں میں جنم لینے والے مقدمات۔
راوی ...... مرزا امجد بیگ (ایڈووکیٹ)۔
تحریر ..... حسام بٹ۔
"کون صاعقہ؟"
وہی مردود میری سوکن" فردوس نے انتہائی غصے کے عالم میں کہا " جس پر آج کل تم دونوں ہاتھوں سے لٹا رہے ہو۔" وہ غصے میں "آپ" سے "تم" پر آگئی تھی۔ عبدالوہاب نے بھی جوابا برہم لہجے میں کہا "کون صاعقہ ! میری سمجھ میں نہیں آرہا تم کیا بکواس کیے جا رہی ہو؟" اب میں بکواس کرنے لگی۔" فردوس بیگم نے اچانک رونا شروع کر دیا ” مجھ میں کیا کمی ہے جو پرائی عورت سے دل لگا بیٹھے۔"
عبدالوہاب نے بات بگڑتے ہوئے دیکھی تو سمجھانے والے انداز میں کہا " تمہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے۔ کسی نے تمہیں میرے خلاف بھڑکا دیا ہے۔"
کوئی مجھے کیوں بھڑکانے لگا۔ میں نے خود اس خرافہ کو تمہارے ٹھیلے پر کھڑے تم سے ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔"
میں تو اپنے ہر گاہک سے ہنس کر ہی باتیں کرتا ہوں۔"
مگر صاعقہ ٹھیک عورت نہیں ہے۔ اسے اس کی انہی حرکتوں کی وجہ سے طلاق "ہو چکی ہے۔" تم خوامخواہ مجھ پر شک کر رہی ہو۔" عبدالوہاب نے سخت لہجے میں کہا۔ ”ورنہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔"
فردوس بیگم نے بھی جوابا سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا۔ "اگر ابھی تک ایسی کوئی بات نہیں ہے تو ایسی بات ہونے میں کون سی دیر لگتی ہے۔ تم جس سمت میں سفر کر رہے ہو اس کا انجام مجھے بڑا بھیانک نظر آرہا ہے۔"
عبد الوہاب نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی اختیار کرلی۔ بظاہر بات آئی گئی ہو گئی تھی مگر درحقیقت فردوس بیگم نے در پردہ اپنی سرگرمیاں تیز کر دی تھیں۔ وہ بہانے بہانے سے روزانہ ایک آدھ چکر عبدالوہاب کے ٹھیلے کا ضرور لگا لیا کرتی تھی۔ عبدالوہاب بھی اس دن سے خاصا محتاط ہو گیا تھا اور اس نے اس روز ہونے والی بدمزگی سے صاعقہ کو بھی آگاہ کر دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ وہ اس کے ٹھیلے کا رخ نہ کرے کسی وقت بھی چھاپہ پڑ سکتا ہے مگر صاعقہ ایسی باتوں کو خاطر میں لانے والی نہیں تھی۔ وہ تو اسم با مسمی تھی۔ آسمانی بجلی کے مانند گرتی تھی اور سب کچھ جلا کر خاکستر کر دیتی تھی۔ (عربی زبان میں صاعقہ کے معنی برقی یعنی آسمانی بجلی کے ہیں) پھر ایک روز اس نے فردوس بیگم کی ازدواجی زندگی کو بھی تہ و بالا کر دیا۔
فردوس بیگم کی جاسوسی جاری تھی کہ ایک روز اسے موقع مل گیا۔ حالانکہ عبدالوہاب کے سمجھانے بجھانے کے بعد صاعقہ نے اس کے ٹھیلے پر آنا کم کر دیا تھا مگر آمد و رفت بالکل موقوف نہیں کی تھی۔ فردوس بیگم نے صاعقہ کو اپنے میاں کے ٹھیلے پر کھڑے دیکھ لیا تھا۔ وہ دانستہ انجان بن گئی اور تھوڑے ہی فاصلے پر موجود ایک گوشت کی دکان سے قیمہ خریدنے لگی مگر اس کا سارا دھیان صاعقہ پر ہی لگا ہوا تھا اور وہ اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہی تھی۔ فردوس بیگم نے دیکھا کہ عبدالوہاب نے تیار شدہ تکے اور بوٹیوں والا ایک خاصا بڑا شاپنگ بیگ صاعقہ کو تھما دیا۔ صاعقہ نے مسکراتے ہوئے وہ بیگ لے لیا اور کچھ کہا بھی جو فردوس بیگم سن نہ سکی۔ پھر جب صاعقہ پیسے ادا کیے بغیر وہاں سے جانے لگی تو فردوس بیگم اچانک لپک کر اس کے سامنے آگئی۔ عبدالوہاب اسے وہاں دیکھ کر گھبرا گیا تھا مگر صاعقہ کے چہرے پر پریشانی کا شائبہ تک نہ تھا۔
یہ اس کی بے باکی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ فردوس بیگم کا غصہ ساتویں آسمان تک جا پہنچا اور اس نے وہاں موجود لوگوں کی پرواہ کیے بغیر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اس وقت وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھی۔ اس کے منہ سے گالیوں کا ایک طوفان ابل رہا تھا۔ وہ خونخوار شیرنی کے مانند صاعقہ کی جانب بڑھی۔ "اچھا تو وہ منحوس تو ہے جس نے میرے میاں کو اپنے جال میں پھانس رکھا ہے؟" صاعقہ کا اعتماد دیدنی تھا۔ وہ اس صورتحال سے ذرا بھی نہیں بو کھلائی تھی۔ نہایت ہی اطمینان سے بولی "کیا کہہ رہی ہو بہن۔ میں کیوں تمہارے میاں کو اپنے جال میں پھانسنے لگی۔ تم کیا بکواس کر رہی ہو ؟" میں پندرہ منٹ سے تم دونوں کے درمیان ہنسی مذاق دیکھ رہی ہوں۔" فردوس بیگم نے دانت کچکچاتے ہوئے کہا۔ صاعقہ نے پرسکون انداز میں کہا شاید تمہاری نظر خراب ہو گئی ہے۔ میں تو تکے کباب لینے آئی تھی۔"
کیا یہاں تکے کباب مفت میں بٹتے ہیں جو یوں پیسے دیئے بغیر جا رہی ہو؟" فردوس بیگم نے ایک اور انداز سے وار کیا۔ تمہاری نظر واقعی کمزور ہو چکی ہے۔ تم ان سے پوچھو، میں نے پیسے دیئے ہیں یا نہیں؟ پھر اس نے روئے سخن عبدالوہاب کی جانب موڑتے ہوئے کہا ”آپ کیوں خاموش ہیں جناب اپنی بیوی کو بتاتے کیوں نہیں ہیں کہ میں یہ تکے پیسے ادا کرنے کے بعد لے جا رہی ہوں۔ میں کوئی مفت خور نہیں ہوں۔"
میں عبد الوہاب نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
یہ کیا بتائیں گے۔" فردوس بیگم نے دہاڑ کر کہا۔ ”ان کی خبر تو میں گھر جا کر لوں گی۔صاعقہ نے کہا "خیر یہ تم لوگوں کا آپس کا معالمہ ہے۔ ہم تو چلتے ہیں۔ تم آپس میں نمٹتے رہو۔"
اتنا کہہ کر صاعقہ پلٹ کر وہاں سے جانے لگی تو فردوس بیگم نے لپک کر اسے چٹیا سے پکڑ لیا۔ ” جانے کی ایسی بھی کیا جلدی ہے چھمک چھلو۔" اس نے چٹیا کو ایک زبردست جھٹکا مارا۔ تکلیف کی شدت سے صاعقہ کے حلق سے کراہ برآمد ہوئی۔ فردوس بیگم نے کہا گھر کا معالمہ تو میں گھر میں نمٹا ہی لوں گی۔ پہلے ذرا تم کو بھی تو دیکھ لوں خرافہ زمانہ "
چھوڑ دو میرے بال " صاعقہ غصے سے چلائی۔ فردوس بیگم قوت اور جسامت میں صاعقہ سے کہیں زیادہ تھی۔ اس نے بہ آسانی صاعقہ کو چٹیا سے کھینچ کر زمین پر گرا لیا۔ پھر اس کے اوپر سوار ہو کر دو ہتھڑوں سے اس کو مارنے لگی۔
ذرا سی دیر میں وہاں جمگھٹا لگ گیا تھا۔ دونوں عورتوں میں قدیم و جدید گالیوں اور کوسنوں کا برملا تبادلہ ہو رہا تھا۔ فردوس بیگم گالیوں کے درمیان اپنے دونوں ہاتھوں کا آزادانہ استعمال بھی جاری رکھے ہوئے تھی۔ صاعقہ کی اس کے سامنے کوئی پیش نہیں چل رہی تھی۔ چشم فلک نے ایسا نظارہ کاہے کو دیکھا ہو گا۔
لوگوں کے کہنے اور حوصلہ دلانے پر عبدالوہاب آگے بڑھا اور اس نے فردوس بیگم کو زبردستی کھینچ کر صاعقہ کے اوپر سے اتارا۔ صاعقہ نے اٹھتے ہی فورا اپنے کپڑے جھاڑے۔ اتنے لوگوں کے سامنے اس کی جو درگت بنی تھی، اس کا احساس ہوتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ ایک لمحہ بھی وہاں نہیں رکی اور تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے گھر کا رخ کیا۔
فردوس بیگم کچھ دیر تک خاموش کھڑی اپنے شوہر کو گھورتی رہی، پھر وہاں سے چلی گئی۔ عبد الوہاب نے اپنے ٹھیلے پر کام کرنے والے لڑکے کو کچھ ضروری ہدایات دیں اور گھر کی جانب روانہ ہو گیا۔ فردوس بیگم نے اس کی محبوبہ کو جس طرح بے عزت کیا تھا اس پر عبدالوہاب کا خون کھول اٹھا تھا۔ جلد سے جلد گھر پہنچ کر وہ فردوس بیگم کو اس گستاخی" کا مزہ چکھانا چاہتا تھا۔ ٹھیک ہے، فردوس بیگم اس کی بیوی تھی مگر یہ معاملہ گھر میں بیٹھ کر بھی طے ہو سکتا تھا۔ بھرے بازار میں ہنگامہ آرائی کر کے فردوس بیگم نے اس کی عزت خاک میں ملا دی تھی اور صاعقہ کی رسوائی کا سامان الگ سے کر دیا تھا۔ وہ کچھ سوچتا ہوا گھر پہنچ گیا۔
وہ اس وقت انتہائی غصے میں تھا۔ غصہ انسان کو پاگل بنا دیتا ہے۔ غصے میں انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب ہو کر رہ جاتی ہیں۔ شاید اسی لیے غصے کو حرام قرار دیا ہے۔ اس حرام شے کے زیر اثر گھر پہنچ کر اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ فردوس بیگم پر ہات اٹھایا اور وہ بھی جوان بیٹے کی موجودگی میں۔ کاشف ابھی کلینک نہیں گیا تھا اور گھر میں تھا۔
عبدالوہاب کے دونوں ہاتھ مشینی انداز میں چل رہے تھے۔ فردوس بیگم بری طر پٹتے ہوئے بار بار کہہ رہی تھی "تم مجھے اس بازاری عورت کی خاطر مار رہے ہو۔" تم اپنی ناپاک زبان بند رکھو۔" وہ اسے بدستور مارتے ہوئے بولا ورنہ میں تمہاری جان لے لوں گا۔" ” مجھے اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے مگر میں تمہیں اس کمینی کے ساتھ یوں سرے عام گلچھرے نہیں اڑانے دوں گی۔"
کاشف نے بیچ بچاؤ کر کے اپنی ماں کو باپ کے چنگل سے چھڑا لیا تھا اور اسے ایک طرف لے گیا تھا۔ وہ اس دنگے فساد کے پس منظر سے نا آشنا تھا اور ماں باپ کو زندگی میں پہلی مرتبہ یوں جھگڑتے دیکھ کر حیرت زدہ بھی تھا۔
عبدالوہاب تھوڑی دیر وہاں رک کر اپنے ٹھیلے پر چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد فردوس بیگم نے بلا کم و کاست کاشف کو تمام حالات سے آگاہ کر دیا۔ کاشف کے دل میں پہلی مرتبہ اپنے باپ کے لیے نفرت کے جذبات نے سر ابھارا مگر اس نے فی الفور ان جذبات کو دبا دیا اور دل میں فیصلہ کیا کہ وہ باپ کو کسی مناسب موقع پر سمجھانے کی کوشش کرے گا۔
لیکن وہ مناسب موقع آنے سے پہلے ہی ایک نا مناسب موقع آگیا۔ محلے ہی کی ایک عورت نے ایک روز فردوس بیگم کو اطلاع دی کہ اب عبدالوہاب نے صاعقہ کے گھر جانا شروع کر دیا تھا۔ یہ سنتے ہی اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس نے دل میں تہیہ کر لیا کہ آج وہ اپنے شوہر سے دو ٹوک بات کرے گی۔ رات کو کام سے فارغ ہونے کے بعد عبد الوہاب گھر پہنچا تو فردوس بیگم نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ اب تم نے اس حرامزادی کے گھر بھی جانا شروع کر دیا ہے؟" عبدالوہاب بستر پر دراز ہوتے ہوئے نہایت ہی پر سکون لہجے میں بولا ”میں اس سے قطع تعلق نہیں کر سکتا۔"
فردوس بیگم کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے تیز دھار آلے سے اس کے دل کو لاتعداد حصوں میں تقسیم کر دیا ہو مگر وہ دو ٹوک بات کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ اس نے نہایت ہی ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا "آخر تم نے سوچا کیا ہے؟"
میں صاعقہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔" "میری زندگی میں وہ اس گھر میں نہیں آسکتی۔" وہ بھرا کر بولی ”یا وہ اس گھر میں آئے گی یا میں رہوں گی۔ تمہیں دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔" وہ جوابا بولا ” میں دونوں کو رکھنا چاہتا ہوں۔"
یہ ممکن نہیں ہے۔ تمہیں کسی ایک کو چھوڑنا ہوگا۔" میں صاعقہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔" وہ قطعیت سے بولا۔
فردوس بیگم نے طنزیہ انداز میں قہقہہ لگایا۔ گویا مجھے چھوڑ سکتے ہو؟"
" تم جو جی میں آئے، سمجھتی پھرو۔ میں نے تو ایک صاف اور سیدھی بات کی ہے۔" عبد الوہاب نے گویا بات ہی ختم کر دی۔
" جسے ابھی اپنایا نہیں، اسے چھوڑنے کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے اور میں جو تئیس سال سے تمہارے ساتھ قدم بہ قدم چل رہی ہوں، ہر اچھے برے وقت میں تمہارا ساتھ دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ تمہارے دو بچوں کی ماں بھی ہوں۔ میں نے تمہاری خاطر ان گنت قربانیاں دی ہیں۔ اس دو ٹکے کی بازاری عورت کی خاطر تم مجھے چھوڑنے پر تیار ہو گئے ہو۔ تم نے اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر لیا ؟"
میں نے جو کہنا تھا سو کہہ دیا۔ خوامخواہ مجھ سے بحث نہ کرو۔"
تو یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے؟"
ہاں۔"
فردوس بیگم نے غصے سے کہا "میرے جیتے جی وہ عورت اس گھر میں قدم نہیں رکھ سکتی۔ یہ میرا بھی آخری فیصلہ ہے۔"
"وہ یہاں ضرور آئے گی اور میری بیوی بن کر آئے گی۔ تم جو بگاڑ سکتی ہو ، بگا ڑ لینا۔
عبدالوہاب نے بھی جوابا غصے سے کہا۔
اگر وہ یہاں آئے گی تو پھر میں یہاں نہیں رہوں گی۔"
تم جاؤ جہنم میں۔" تم اس بازاری عورت کے لیے مجھے چھوڑ دو گے؟" فردوس بیگم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
تم بار بار صاعقہ کو بازاری عورت کہہ کر اس کی توہین کر رہی ہو۔" عبدالوہاب نے پھینکار کر کہا۔ وہ عورت تم سے کہیں زیادہ اچھی ہے۔" فردوس بیگم اپنی تذلیل پر تلملا کر رہ گئی۔ کم مائیگی کے احساس نے اس کے تن بدن میں آگ سی لگا دی۔ اس کا شوہر ایک معمولی عورت کو اس پر ترجیح دے رہا تھا۔ یہ اس کے لیے ڈوب مرنے کا مقام تھا۔ غصے کی شدت اور ذلت کے احساس نے اسے بے قابو کر دیا تھا۔ وہ لرزتی ہوئی آواز میں چیخ چیخ کر کہنے لگی ہاں، صاعقہ بازاری عورت ہے ۔وہ بازاری عورت ہے۔ وہ بازاری عورت ہے۔ تم ایک دن بری طرح پچھتاؤ گے۔ جو عورت اپنے شوہر کی نہ ہو سکی وہ تمہاری کیسے ہو جائے گی۔ اس کے لچھنوں کے سبب اس کے شوہر نے اسے طلاق دیدی۔ اب تم اس گناہ کی پوٹ کو اپنے گھر لے آؤ۔۔۔۔۔
نہیں بہت ثواب ملے گا۔"
عبدالوہاب نے بیوی کے کوسنوں کو نظر انداز کرتے ہوئے نہایت ہی متحمل لہجے میں کہا۔ صاعقہ کتنی اچھی ہے یا کتنی بری ہے، یہ سوچنا میرا کام ہے۔ تم خوامخواہ اپنے ذہن کو نہ تھکاؤ۔"
"کیسے نہیں تھکاؤں میں اپنے ذہن کو۔" وہ ہاتھ نچا کر بولی۔ " تئیس سال تک تمہارا ساتھ نبھایا ہے مگر تم نے میری خدمات کا یہ صلہ دیا ہے۔ اللہ تم سے پوچھے گا۔" زیادہ بکواس کی ضرورت نہیں ہے۔ عبدالوہاب نے اکتاہٹ آمیز غصے سے کہا۔ وہ ترکی بہ ترکی بولی ”میں نے بہت برداشت کیا ہے مگر اب اور برداشت نہیں کر سکتی۔ تم جب صاعقہ سے دستبردار نہیں ہونا چاہتے تو میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔
تمہیں مجھے چھوڑنا ہو گا۔"
" تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کہ تم کیا کہہ رہی ہو؟" مجھے خوب اندازہ ہے۔" وہ طیش کے عالم میں بولی ”میں تمہارے جیسے بے وفا شخص
کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ اگر تم اسے نہیں چھوڑ سکتے تو مجھے چھوڑ دو۔" عبدالوہاب نے کہا میں تو تمہیں بے یارو مددگار نہیں چھوڑنا چاہتا تھا لیکن اگر تمہاری مرضی یہی ہے تو یونہی سہی لیکن میں تمہیں ایک آخری موقع دے رہا ہوں۔ اب اچھی طرح سوچ لو۔" سوچنے سمجھنے کا وقت تو اب گزر چکا ہے۔ جب تمہیں میرا کوئی خیال نہیں ہے تو کیا سوچوں۔ تم تو۔" فردوس بیگم نے شوہر کی شان میں ایک ناقابل برداشت لفظ استعمال کیا تو عبدالوہاب آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً تین طلاقیں اسی وقت دے دیں
اس کے بعد کی کہانی وہی ہے جو ایسے موقعوں پر ہوا کرتی ہے۔ فردوس بیگم تئیس سال کی ازدواجی رفاقت کے خاتمے کے بعد اپنے ایک بھائی کے یہاں چلی گئی۔ اس دوران میں اس کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا۔ صاعقہ اس واقعے کے دو ماہ بعد عبدالوہاب کی دوسری بیوی اور گھر کی نئی مالکن کے روپ میں کاشف کی سوتیلی ماں بن کر یہاں چلی آئی۔
اس اندوہناک واقعے کے بعد کاشف نے دل میں ٹھان لی تھی کہ وہ بھی باپ کا گھر چھوڑ کر ماں کے ساتھ رہے گا مگر کاشف کے ماموں نے اسے مشورہ دیا ”بیٹا تمہیں کسی جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے ورنہ سرا سر تمہارا ہی نقصان ہوگا۔ اگر تم نے جذبات میں گھر چھوڑ دیا تو تمہاری سوتیلی ماں کو کھلی چھوٹ مل جائے گی اور اسے پوری طرح گھر پر حکمرانی حاصل ہو جائے گی۔؟
ماموں کی بات کاشف کی سمجھ میں آگئی اور اس نے فی الحال گھر چھوڑنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ ابتدا ہی سے کاشف کا رویہ اپنی سوتیلی ماں سے سرد مہری کا سا تھا۔ وہ بہت کم اس سے بات کرتا تھا۔ باپ کی طرف سے بھی اس کے دل میں گرہ بیٹھ گئی تھی۔ اب اکثر بیشتر ان میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہونے لگا تھا۔ کاشف نے کئی بار سوچا کہ وہ گھر چھوڑ کر کہیں چلا جائے مگر بنیادی طور پر وہ ایک صلح جو اور فرمانبردار لڑکا تھا اس لیے اپنے خیال کو عملی جامہ نہ پہنا سکا۔
یہ کوئی شادی کے دو ماہ بعد کی بات ہے۔ ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ کاشف انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو گیا۔ وہ جنوری کا مہینہ تھا۔ سردیوں میں کاشف دس ساڑھے دس بجے کلینک بند کر دیتا تھا مگر اس روز ڈاکٹر کلینک پر نہیں آیا تھا اور مریض اس کی غیر موجودگی کا سن سن کر واپس جا رہے تھے۔ مجبوراً کاشف نے نو بجے ہی کلینک بند کرنے کا فیصلہ کر لیا اور گھر چلا آیا۔ کلینک سے وہ بمشکل دس منٹ میں گھر پہنچ جاتا تھا۔ گھر کا بیرونی دروازہ اندر سے بند نہیں تھا۔ صرف وہ معمولی سی چٹخنی لگی ہوئی تھی اندر باہر دونوں جانب سے کھولی جا سکتی تھی۔ کاشف نے سوچا شاید صاعقہ کہیں آس پڑوس میں گئی ہوگی۔ وہ اکثر و بیشتر محلے اور خصوصاً اپنی گلی کے گھروں میں گئی رہتی تھی اس نے آہستگی سے چٹخنی ہٹائی اور دروازہ کھول کر اندر قدم رکھتے ہی وہ ٹھٹک گیا۔ کمرے کی ایک کھڑکی بیرونی دروازے کی طرف کھلتی تھی۔ اسی کھڑکی سے دو افراد کے باتیں کرنے کی آواز آرہی تھی۔ آواز اگرچہ زیادہ بلند نہیں تھی، تاہم صاعقہ کی آواز پہچاننے میں اسے کوئی دشواری محسوس نہیں ہوئی۔ دوسری آواز مردانہ تھی اور خاصی بھاری تھی۔ دونوں میں کسی بات پر تکرار ہو رہی تھی۔ فطری تجسس نے کاشف کے پاؤں پکڑ لیے تھے اور وہ وہیں جم کر کھڑا ہو گیا تھا۔ وہ کان لگا کر پوری توجہ سے اندر ابھرنے والی آوازوں کو سننے کی کوشش کر رہا تھا۔ صاعقہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ کاشف اتنی جلدی بھی گھر آ سکتا تھا۔ اسی لیے وہ بے فکری سے کسی کو لیے ڈرائنگ روم میں بیٹھی باتوں میں مصروف تھی۔ وہ کہہ رہی تھی۔تمہیں ایسی باتیں کرتے ہوئے شرم آنا چاہئے نجیب! سب کچھ بھول جاؤ اب میں کسی اور کی بیوی ہوں۔"
نجیب کے نام پر کاشف چونک پڑا۔ نجیب احمد صاعقہ کے سابق شوہر کا نام تھا، تو یہ کہانی چل رہی ہے! کاشف نے دل میں سوچا اور تمام تر توجہ کے ساتھ ان کی باتیں سننے لگا۔
میں تمہیں کیسے بھول جاؤں جان من " نجیب کی بھاری بھرکم آواز آئی۔ ”میں تمہیں کھو کر بہت پچھتا رہا ہوں، رات دن تم مجھے یاد آتی رہتی ہو۔ میں خود پر قابو نہیں رکھ سکا تو تم سے ملنے چلا آیا۔" صاعقہ نے کہا "مگر اب وقت بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ ہمارے درمیان فاصلے کی ایک وسیع خلیج حائل ہے۔ اب ہم کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔ ہم ریل کی دو پٹریوں کے مانند ہیں جو کبھی آپس میں نہیں مل سکتیں، چاہے ہزاروں لاکھوں میل کا فاصلہ طے کر لیں۔" میں تمہاری بات سے اتفاق کرتا ہوں۔" نجیب نے کہا۔ " ریل کی دو پنڑیاں کبھی ایک دوسرے سے نہیں مل سکتیں مگر اس کے باوجود بھی وہ پاس پاس رہتی ہیں۔ میں بھی تمہارے آس پاس رہنا چاہتا ہوں۔ تم بھی مجھے اپنے قرب سے محروم نہ کرو۔" میں اب تمہاری باتوں میں نہیں آسکتی۔ کیا وہ دن بھول گئے ہو جب مار مار کر میرا حلیہ بگاڑ دیتے تھے۔ اب مجھ سے ملنے کا تمہارا مقصد کیا ہے؟ جو مرد عورت پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے، وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ میں تمہاری صورت دیکھنے کی بھی روادار نہیں ہوں۔" اس کے لہجے میں وہ سختی نہیں تھی جو ہونا چاہئے تھی۔
نجیب نے ذرا نرم پڑتے ہوئے کہا ”میں اپنے سابق رویئے پر نادم ہوں اور تمہیں بھی زیب نہیں دیتا کہ مجھے بار بار اس ناخوشگوار واقعے کی یاد دلاؤ بلکہ میرا تو یہ خیال کہ تمہیں ایک طرح سے میرا شکر گزار ہونا چاہئے۔"
شکر گزار !" صاعقہ کی حیرت میں ڈوبی ہوئی آواز ابھری۔ کس بات کے لیے؟" اس لیے کہ میں نے تمہیں آزاد کر دیا۔ تم میرے ساتھ ، بقول تمہارے ایک جہنم کی سی زندگی گزار رہی تھیں۔" نجیب نے کہا۔ " مجھے امید ہے کہ اب تم اپنے نئے شوہر کے ساتھ اپنی پسند کی زندگی گزار رہی ہوگی اور بہت خوش بھی ہو گی۔" صاعقہ نے گلوگیر آواز میں کہا "مہربانی کر کے میرا پیچھا چھوڑ دو۔ میں اپنے ذاتی معاملات پر تم سے کوئی گفتگو نہیں کرنا چاہتی۔"
میں تمہارے ذاتی معاملات پر نہیں بلکہ اپنے ذاتی معاملات پر بات کر رہا ہوں۔ نجیب نے ذرا سخت لہجے میں کہا۔ پھر دوسرے ہی لمحے ذرا نرمی سے بولا " تمہیں میری تجویز پر غور کرنا پڑے گا۔" " مجھے تمہاری صورت سے بھی نفرت ہے۔۔
وہ بولا "کاش میں بھی ایسا کہہ سکتا یا ایسا محسوس کر سکتا۔"
بس اب تم یہاں سے چلے جاؤ اور مجھے زیادہ پریشان نہ کرو۔" صاعقہ نے روہانسے انداز میں کہا۔ "کاشف کے آنے کا وقت ہو گیا ہے۔ اگر اس نے تمہیں یہاں دیکھ لیا قیامت آجائے گی۔ وہ پہلے ہی مجھ پر ادھار کھائے بیٹھا ہے۔ اگر اس نے تمہارے بارے میں اپنے والد کو بتا دیا تو میں کہیں کی نہیں رہوں گی۔ خدا کے لیے اب چلے جاؤ۔" نجیب نے کہا " تمہیں اتنا زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کاشف دس بجے سے پہلے کسی بھی صورت نہیں آئے گا اور عبدالوہاب کا تو بارہ بجے سے پہلے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں دیکھ بھال کر ہی یہاں آیا ہوں۔" ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں تمہارا جینا حرام
کر دوں گا۔"
میں اپنے شوہر سے بے وفائی نہیں کر سکتی۔" وہ باقاعدہ رونے لگی تھی۔
جاری ھے۔

