حضرت شیخ سعدی بیان کرتے ہیں،
میرے جاننے والوں میں ایک منشی روزگار نہ ملنے سے بہت پریشان تھا۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا اور اپنا حال بیان کرنے کے بعد کہا کہ بادشاہ کے دربار میں آپ کی رسائی ہے۔ کسی عہدیدار سے کہہ سن کر کوئی کام دلوادیں۔ اس کی بات سن کر میں نے کہا: بھائی ، بادشاہوں کی ملازمت خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔
نان ہاتھ آنے کی امید کے ساتھ جان جانے کا امکان بھی ہوتا۔حضرت شیخ شیدی بیان کرتے ہیں ب******
میں نے یہ نصیحت اس کی بھلائی کے خیال سے کی تھی لیکن اس نے خیال کیا کہ میں اسے ٹالنے کی کوشش کررہا ہوں۔ کہنے لگا،یہ بات ٹھیک ہوگئی لیکن جو لوگ ایمانداری اور محنت سے اپنا کام کریں انھیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے !آپ نے سنا ہوگا کہ میلے کپڑے ہی کو دھوبی پٹرے پر مارتا ہے۔
میں نے اسے پھر سمجھایا کہ تو ٹھیک کہتا ہے۔ سانچ کو آنچ نہیں، بہت مشہور بات ہے۔ لیکن بادشاہوں اور حاکموں کے بارے میں لومڑی کی سی احتیاط برتنی چاہیے جو گرتی پڑتی بھاگتی چلی جاتی تھی۔کسی نے پوچھا کہ خالہ لومڑی کیا مصیبت پڑی ہے جویوں بھاگی چلی جارہی ہو؟ لومڑی بولی ، میں نے سنا ہے بادشاہ کے سپاہی اونٹ بیگار میں پکڑرہے ہیں۔ اس نے ہنس کر کہا عجب بے وقوف ہے !
اگر اونٹ پکڑے جارہے ہیں تو تجھے کیا ڈر؟ تو تو لومڑی ہے لومڑی نے جواب دیا ، تیری بات ٹھیک ہے لیکن اگر کسی دشمن نے کہہ دیا کہ یہ اونٹ کا بچہ ہے، اسے بھی پکڑ لو تو میں کیا کروں گی؟ جب تک یہ تحقیق ہوگی کہ میں لومڑی ہوں یا اونٹ کا بچہ ، میرا کام تمام ہوچکا ہوگا مثل مشہور ہے کہ جب تک عراق سے تریاق آئے گا، وہ بیمار چل بسا ہوگا جس کے لیے تریاق منگوایا گیا ہوگا۔
میر ی بات بلکل درست تھی لیکن وہ اپنے خیال پر قائم رہا اور میں نے اس کی حالت کا اندازہ کر کے اسے بادشاہ کے دربار میں ملازمت دلوادی شروع شروع تو اسے ایک معمولی ساکام ملا لیکن چونکہ آدمی قابل تھا اس لیے بہت تر قی کر گیا اور عزت و آرام کے ساتھ زندگی گزارنے لگا۔
کچھ دن بعد میں ایک قافلے کے ساتھ حج کے سفر پر روانہ ہوگیا اور جب اس مبارک سفر سے واپس آیا تو وہ شخص کئی منزل چل کر میرے استقبال کے لیے آیا لیکن میں نے دیکھا کہ اس کی حالت سے پریشانی ظاہر ہوتی تھی حالات پوچھے تو اس نے بتایا کہ مجھے اب معلوم ہوا کہ آپ نے جو بات کہی تھی وہ بالکل ٹھیک تھی۔ میں نے اپنی قابلیت اور محنت سے ترقی کی تو حسد کرنے والوں کو یہ بات بری لگی اور انھوں نے مجھ پر الزام لگا کر قید کر دیا ۔ اب حاجیوں کے قافلے کی خیریت سے لوٹنے کی خوشی میں قیدیوں کو آزاد کیا گیا ہے۔ تو مجھے بھی رہائی نصیب ہوئی ۔ ورنہ بادشاہ نے تو یہ تحقیق کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہ کی تھی کہ میں گناہگار ہوں یا بے گناہ ۔
میں نے کہا: افسوس ! تو نے میری بات نہ مانی میں نے تو تجھے پہلے ہی سمجھایا تھا کہ بادشاہ کا قرب سمندر کے سفر کی مانند ہوتا ہے کہ اس سے انسان کو بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں لیکن ساتھ جان جانے کا اندیشہ بھی ہوتاہے۔
ہوش مندوں کی نصیحت پر نہیں دھرتا جو کان
آخر اک دن بیڑیاں ہوتی ہیں اسکے پاؤں میں
زہر کا آزاد سہنے سہی اگر طاقت نہ ہو
مرد ناداں ہے جو آئے بچھوؤں کے گاؤں میں
سبق:- حضرت سعدی نے اس حکایت میں بھی بادشاہوں کا قرب حاصل کرنے کی جگہ قناعت اور صبر کی زندگی بسر کرنے کا فضل بتایا ہے ان کے اپنے زمانے کے مطلق العنان بادشاہوں کے انداز فکرو عمل کے بارے میں تو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ ان کی ہر الٹی سیدھی بات قانون کی حیثیت رکھتی تھی ۔ یہ بات آج کے صاحب اختیار لوگوں کے بارے میں بھی بالکل درست ہے کہ جب تک پوری صلاحیت اور اہلیت حاصل نہ ہو ان کا قرب خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔
(شیخ سعدی اور انکی حکایتں۔)

