آئیے سنتے ہیں خوف اور دہشت سے بھرپور ایک ٹرک ڈرائیور کی وہ بھیانک کہانی جس نے اسے رُوح تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
میں ہوں فرزانہ خان ...
اگر آپ نے ابھی تک چینل کو سبسکرائب نہیں کیا تو جلدی سے سبسکراب کریں تو آئیے شروع کرتے ہیں خوفناک کہانی جمیل کی زبانی ...
میرا نام جمیل ہے اور میں کراچی کا رہائشی ہوں۔ پیشے کے اعتبار سے ایک ٹرک ڈرائیور ہوں اور سچ تو یہ ہے کہ میری زندگی کا بیشتر حصہ پہیوں پر ہی گزرا ہے۔ شہروں کی روشنیاں ہوں، گاؤں کی سادگی یا پھر طویل اور سنسان شاہراہوں کی وحشت—یہ سب میری زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ میں جو واقعہ آپ کو سنانے والا ہوں، یہ تقریباً ایک سال پہلے پیش آیا تھا۔ یہ کوئی معمولی قصہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا عذاب تھا جس نے میری روح کو لرزا دیا اور اس کے نشانات آج بھی میرے ذہن پر نقش ہیں۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ مجھے ایک سیٹھ صاحب کا مال لوڈ کروا کر بلوچستان کے ایک دور دراز علاقے 'بندر' لے کر جانا تھا۔ یہ کوئی نیا کام نہیں تھا، میں پہلے بھی کئی بار بلوچستان کے پھیرے لگا چکا تھا۔ لیکن اس بار معاملہ کچھ الگ تھا۔ میرے کئی ساتھی ڈرائیور، جو اس راستے کے پرانے مسافر تھے، مجھے بار بار ٹوک چکے تھے کہ بندر کا علاقہ سخت آسیب زدہ ہے۔ وہ ان دیکھی مخلوقات، سڑک پر بھٹکتی روحوں اور رات کے اندھیرے میں پیش آنے والے ناقابلِ یقین واقعات کے قصے سناتے تھے۔
میں عموماً ان باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا تھا۔ سوچتا کہ ڈرائیور لوگ ہیں، سفر کی تھکن اور تنہائی میں نہ جانے کیا کچھ سوچ لیتے ہیں۔ مگر اس بار ان کے لہجے میں ایک عجیب سی سنجیدگی اور خوف تھا، جیسے وہ مجھے کسی یقینی خطرے سے آگاہ کر رہے ہوں۔ ایک پرانے ڈرائیور، چاچا شیر خان نے تو میرا کندھا تھپتھپا کر یہاں تک کہہ دیا تھا:
> "جمیل پتر! پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ جان ہے تو جہان ہے۔ اس راستے پر رات کو سفر کرنے سے بچنا، خاص کر جب موسم خراب ہو۔"
>
مگر اس چکر کے مجھے پیسے بہت اچھے مل رہے تھے اور گھر میں کچھ ضروریات بھی آن پڑی تھیں۔ میں نے سوچا کہ اللہ کا نام لے کر نکل پڑتا ہوں، اگر ایسی باتوں پر دھیان دیا تو روزی روٹی کمانا مشکل ہو جائے گا۔ میں ہمیشہ محتاط رہنے والا انسان ہوں اور جان بوجھ کر خطرہ مول نہیں لیتا، اس لیے خود کو تسلی دی کہ اللہ پر بھروسہ رکھوں گا اور آیۃ الکرسی کا ورد کرتا رہوں گا۔
مغرب کا وقت ہو رہا تھا جب میں نے حب چوکی سے ٹرک نکالا۔ مال زیادہ نہیں تھا لیکن سفر طویل اور کٹھن تھا۔ میں اکیلا تھا کیونکہ میرا کلینر چھٹی پر تھا۔ چلتے چلتے رات کا سیاہ اندھیرا ہر سو پھیل گیا۔ جنوری کا مہینہ تھا؛ کراچی میں تو اتنی سردی نہیں پڑتی، لیکن جیسے جیسے میں بلوچستان کی حدود میں داخل ہو رہا تھا، ٹھنڈ کی شدت بڑھتی جا رہی تھی۔ ہوا میں ایسی کاٹ تھی جو ہڈیوں میں اترتی محسوس ہوتی تھی۔ خوش قسمتی سے میں نے احتیاطاً اپنا گرم کوٹ اور ایک بھاری اونی شال ساتھ رکھ لی تھی۔
شروع کا سفر کافی اچھا گزرا۔ میں جہاں سے گزر رہا تھا، وہاں چھوٹی موٹی آبادیاں تھیں۔ کہیں کہیں بازار اور دکانیں کھلی نظر آ رہی تھیں اور لوگ سڑک کنارے ہوٹلوں پر چائے پیتے اور گپیں لگاتے دکھائی دے رہے تھے۔ میں بھی اپنے پرانے ٹیپ ریکارڈر پر محمد رفیع کے گانے سنتے ہوئے، ہشاش بشاش انداز میں گنگناتا ہوا ٹرک چلا رہا تھا۔
لیکن تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد آبادی کا سلسلہ یکسر ختم ہو گیا۔ اب میرا ٹرک بلوچستان کی اس اصل، ویران اور سنگلاخ سڑک پر چل پڑا تھا جہاں میلوں تک کوئی ذی روح موجود نہ تھا۔ یہاں منظر بالکل بدل چکا تھا۔ چاروں طرف ایسا گھپ اندھیرا تھا جیسے کسی نے کائنات پر سیاہی کی بالٹی الٹ دی ہو۔ میرے ٹرک کی ہیڈ لائٹس ہی میرا واحد سہارا تھیں، جن کی روشنی سڑک کے ایک محدود حصے کو منور کر رہی تھی۔ راستہ اس قدر خاموش اور پرہول تھا کہ خود میرے ٹرک کے انجن کی آواز مجھے ڈرانے لگی۔
میں ایک تجربہ کار ڈرائیور تھا، میں نے زندگی میں ہزاروں میل کا سفر کیا تھا، لیکن آج کی یہ رات مجھے ایک بہت ہی انوکھا اور خوفناک احساس دے رہی تھی... جیسے کوئی اندھیرے میں میرا تعاقب کر رہا ہو۔
وہاں شدید یخ بستہ اور برفانی ہوائیں چل رہی تھیں، جن کی 'سائیں سائیں' کی آواز جب ٹرک کے کیبن سے ٹکراتی تو ایک عجیب و غریب اور دہشت ناک سماں پیدا کر دیتی۔ تھوڑی دور آگے بڑھا تو آسمان پر گہرے سیاہ بادل اس طرح چھا گئے جیسے کسی بپھرے ہوئے لشکرمیں حملہ کر دیا ہو۔ یکایک آسمانی بجلی کڑکی، اور اس کی چند لمحوں کی چمک میں اطراف کا جو منظر نظر آیا، اس نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ سڑک کے دونوں جانب برف سے ڈھکے سفید پہاڑ بجلی کی اس کوند میں ایسے دکھائی دیتے تھے جیسے سفید کفن اوڑھے دیو قامت لاشیں قطار بنا کر کھڑی ہوں۔
چلتے چلتے میں ایک ایسی شاہراہ پر آن پہنچا جہاں دور دور تک ٹریفک کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ وہ سڑک اتنی سنسان تھی کہ گماں ہوتا تھا جیسے میں اس دنیا سے کٹ کر کسی دوسری ہی جگہ آ گیا ہوں۔ اب وہاں نہ کوئی آبادی تھی، نہ کوئی دوسری گاڑی اور نہ ہی زندگی کا کوئی سراغ۔ بس میں تھا، میرا ٹرک تھا اور وہ خوفناک حد تک خاموش سڑک۔
رات کے شاید دو بج رہے تھے۔ تقریباً دو گھنٹے سے میں مسلسل ڈرائیونگ کر رہا تھا، مگر وہ راستہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ تنہائی اور اندھیرے کے اس سنگم پر مجھے بار بار اپنے ساتھیوں کی وہ باتیں یاد آ رہی تھیں جنہیں میں نے ہنسی میں اڑا دیا تھا۔ اس ویرانے میں ہوا کی ہر سرسراہٹ اب ایک آہٹ محسوس ہو رہی تھی، اور میرا دل غیر محسوس طریقے سے زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔
اچانک موسم نے ایک بار پھر کروٹ لی اور بادل وحشت ناک انداز میں برسنے لگے۔ پہلے تو ہلکی بوندا باندی شروع ہوئی، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس نے طوفانی بارش کی شکل اختیار کر لی۔ بارش کی موٹی موٹی بوندیں ٹرک کی چھت پر اس زور سے پڑ رہی تھیں جیسے کوئی پتھر برسا رہا ہو۔ پہاڑی راستہ ہونے کی وجہ سے وہاں خطرناک موڑ تھے، لہٰذا میں نے ٹرک کی رفتار انتہائی کم کر دی۔
میں ایک ایسے راستے پر رواں تھا جہاں ایک طرف بلند و بالا سیاہ پہاڑ تھے اور دوسری طرف گھنا، ویران جنگل، جس کے درخت ہوا کے تھپیڑوں سے اس طرح جھوم رہے تھے جیسے کوئی ماتم کر رہا ہو۔ میں جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا، بارش کی شدت بڑھتی جا رہی تھی۔ اچانک بادل اس زور سے گرجے کہ بجلی کی ایک کڑک قریبی جنگل پر گری۔ اس کی آواز اتنی شدید تھی کہ ایک لمحے کے لیے میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا اور میرے ہاتھ سٹیرنگ پر کانپنے لگے۔ بارش کی وجہ سے سامنے کا شیشہ اتنا دھندلا گیا تھا کہ وائپر چلنے کے باوجود کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ ان خطرناک موڑوں پر سفر جاری رکھنا خودکشی کے مترادف تھا، چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ دیر رک کر بارش تھمنے کا انتظار کروں۔
میں نے سڑک سے تھوڑا ہٹ کر ٹرک کو جنگل کی طرف ایک کچی جگہ پر کھڑا کر دیا اور اندر ہی بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ میں نے اپنا موبائل فون اٹھایا کہ شاید کسی سے رابطہ کر لوں یا وقت گزاری کے لیے کچھ دیکھ لوں، مگر وہاں سگنل بالکل غائب تھے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے نیٹ ورک کا نہ ہونا کوئی نئی بات نہ تھی۔ میں نے مایوس ہو کر موبائل دوبارہ بند کر دیا۔
مجھے وہاں کھڑے ہوئے تقریباً آدھا گھنٹہ گزرا ہوگا۔ باہر بارش کی جھڑی لگی تھی اور ہوا کا شور تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میں اپنی ہی سوچوں میں گم، گھر والوں کو یاد کر رہا تھا کہ اچانک میرے ٹرک کے دروازے پر کسی نے زور سے دستک دی:
'تھک... تھک... تھک!'
اس غیر متوقع اور پُرزور دستک پر میرا سانس رک گیا۔ اس ویرانے میں، اس طوفانی رات میں بھلا کون ہو سکتا تھا؟ میرے ذہن میں پہلا خیال ڈاکوؤں کا آیا۔ میں بری طرح ڈر گیا اور بالکل ساکت بیٹھ گیا۔ میں نے دروازہ نہ کھولا، لیکن ایک منٹ کی مکمل خاموشی کے بعد دوبارہ دستک ہوئی، اور اس بار پہلے سے کہیں زیادہ زور دار، جیسے کوئی دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔ میں نے ڈرتے ڈرتے ہمت مجتمع کی اور کانپتی آواز میں پوچھا: "کون ہے؟"
باہر سے کوئی جواب نہ آیا، صرف بارش اور ہوا کا شور تھا۔ میں نے دوبارہ ذرا بلند آواز میں پکارا: "کون ہے بھائی؟ کیا بات ہے؟"
اس بار بھی مکمل خاموشی رہی۔ میرا دل بری طرح دھڑک رہا تھا اور ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد پھر دستک ہوئی، مگر اس بار دستک میں ایک بے قراری اور عجلت تھی۔ میں نے دل میں آیت الکرسی کا ورد شروع کیا اور 'جو ہوگا دیکھا جائے گا' سوچ کر آہستہ سے دروازے کا لاک کھولا اور باہر جھانکا۔
جو منظر میری آنکھوں کے سامنے تھا، وہ کسی بھیانک خواب سے کم نہ تھا۔ بارش کی تیز بوچھاڑ میں ایک نوجوان اور خوبصورت لڑکی کھڑی تھی۔ اس نے مکمل سفید لباس پہنا ہوا تھا جو بارش میں بھیگ کر اس کے جسم سے چپک گیا تھا۔ اس نے ایک بڑی سی سفید چادر بھی اوڑھ رکھی تھی جس سے اپنا آدھا چہرہ چھپایا ہوا تھا، مگر اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں اندھیرے میں بھی چمک رہی تھیں۔ اس کی حالت دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ نہ جانے کب سے اس طوفان میں بھٹک رہی ہو۔ اسے دیکھ کر میرا خوف کچھ کم ہوا اور اس کی جگہ ہمدردی نے لے لی۔
میں نے پوچھا: "کون ہو تم؟ اور اتنی رات کو اس سنسان جگہ پر کیا کر رہی ہو؟"
وہ پہلے تو بالکل خاموش رہی اور اپنی گہری، خالی خالی نظروں سے مجھے دیکھتی رہی۔ اس کی خاموشی بڑی عجیب اور پُراسرار تھی۔ پھر اس کی دھیمی اور قدرے کانپتی ہوئی آواز میرے کانوں میں پڑی:
"میں یہاں سے آگے ایک علاقہ ہے 'بندر'، وہاں جا رہی ہوں۔ میں پچھلے تین گھنٹوں سے یہاں سواری کا انتظار کر رہی تھی مگر کوئی گاڑی نہیں ملی۔ کیا... کیا آپ مجھے وہاں تک چھوڑ دیں گے؟"
'بندر' کا نام سنتے ہی میں چونک گیا۔ میرے دماغ میں چاچا شیر خان کی باتیں گونجنے لگیں۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں مجھے مال پہنچانا تھا۔ ایک لمحے کے لیے دل میں کھٹکا ہوا، مگر اس کی بے بسی دیکھ کر میرا دل پسیج گیا۔ میں نے احترام سے کہا: "بہن! بارش بہت زیادہ ہے، میں خود رکنے کا انتظار کر رہا ہوں۔ آپ ٹرک میں آ کر بیٹھ جائیں، جیسے ہی بارش تھمتی ہے، میں آپ کو منزل پر چھوڑ دوں گا۔"
وہ کچھ کہے بغیر دھیرے سے سر ہلا کر میرے ساتھ ٹرک میں آ کر بیٹھ گئی۔ اس کے بیٹھتے ہی کیبن کا ماحول یکدم بدل گیا۔ ایک عجیب سی ناقابلِ بیان ٹھنڈک اور نمی کا احساس میرے پورے وجود میں سرایت کر گیا۔ حالانکہ میں نے ہیٹر چلا رکھا تھا، لیکن مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے برف کی سل میرے پاس رکھ دی ہو۔ اتنی شدید سردی میں بھی مجھے پسینے آنے لگے اور میرا دم گھٹنے لگا۔
وہ لڑکی خاموشی سے کھڑکی سے باہر اندھیرے میں گھور رہی تھی۔ اس نے خود کو چادر میں اس طرح لپیٹا ہوا تھا کہ اس کے ہاتھ تک نظر نہیں آ رہے تھے۔ اس کی یہ پُراسرار خاموشی مجھے بے چین کر رہی تھی۔ میں نے سوچا شاید یہ کوئی مقامی بلوچی لڑکی ہے اور یہاں کے لوگ پردے کا بہت خیال رکھتے ہیں، اسی لیے بات نہیں کر رہی۔ لیکن میرے ذہن میں یہ سوال بار بار آ رہا تھا کہ جب میں یہاں آ کر رکا تھا، تب تو دور دور تک کوئی نہیں تھا، پھر یہ لڑکی اچانک کہاں سے نمودار ہو گئی؟
خیر، کہتے ہیں کہ جو مصیبت لکھی ہو، وہ کسی نہ کسی بہانے آ کر ہی رہتی ہے۔ بیس منٹ کی طویل اور گھٹن زدہ خاموشی کے بعد مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے بات شروع کی: "بہن! آپ بندر میں کہاں رہتی ہیں؟ گھر والے پریشان ہو رہے ہوں گے۔"
وہ میری طرف دیکھے بغیر باہر گھورتے ہوئے بولی: "میرا شوہر میرا انتظار کر رہا ہو گا۔"
میں نے بات بڑھانے کے لیے پوچھا: "اچھا، وہ کیا کام کرتے ہیں؟"
اس نے ایک لمحے کا توقف کیا اور پھر ایک ایسی بات کہی جس نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ وہ بولی: "میرا شوہر قبرستان میں کام کرتا ہے۔"
یہ سن کر میرے حلق میں جیسے کانٹے چبھنے لگے۔ میں نے گھبراتے ہوئے کہا: "ک... کیا مطلب؟ قبرستان میں کیا کام کرتا ہے؟"
میری بات سن کر وہ ہنسنے لگی۔ یہ ہنسی عام انسانوں جیسی نہیں تھی؛ یہ ایک سرد، کھوکھلی اور بے جان ہنسی تھی جو رات کی وحشت میں اضافہ کر رہی تھی۔ مجھے اس پر غصہ بھی آیا کہ اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے، لیکن پھر وہ خود ہی بولی: "وہ قبریں پکی کرتا ہے۔"
یہ سن کر میں چپ ہو گیا۔ میں نے سوچا شاید گورکن ہوگا یا قبروں پر پتھر لگانے کا کام کرتا ہوگا۔ میں نے مزید بات کرنا مناسب نہ سمجھا اور باہر دیکھنے لگا۔ اب بارش تقریباً
رک چکی تھی اور صرف ہلکی سی پھوار باقی تھی۔
👇👇
ٹرک ڈرائیور کی خوفناک کہانی آخری قسط

