اس کہانی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو پاکستان کے قیام کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آ بسا تھا۔ تاہم، اس واقعے کی جڑیں پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد کے زمانے سے جا ملتی ہیں۔ یہ داستان جنگِ عظیم کے اختتام سے لے کر قیامِ پاکستان 1947ء تک، جلندھر سے لے کر راہوں تک مختلف صورتوں میں بیان کی جاتی رہی ہے۔
راہوں ہندوستان کا ایک قدیم، تاریخی اور معروف قصبہ ہے۔ اس واقعے کی تصدیق اُن لوگوں نے بھی کی جو اپنی زندگی میں اس کے عینی شاہد یا سامع رہے تھے۔ یہ کہانی ایک خوشحال، باعزت اور کھاتے پیتے سادات خاندان کی ہے، جو جلندھر شہر میں سکونت پذیر تھا۔
اس خاندان کا ایک نوجوان، تنویر علی، پہلی جنگِ عظیم کے اختتام کے بعد لیفٹیننٹ کے عہدے سے بطور ریزرو فوجی ریٹائر ہو کر اپنے وطن واپس آیا۔ ان لوگوں کی قصبہ راہوں کے قریب واقع گاؤں "سودا آسمان" میں خاصی وسیع اراضی موجود تھی۔ خاندان کے اکثر مرد سرکاری عہدوں پر فائز تھے، اسی وجہ سے انہوں نے اپنی مستقل رہائش جلندھر ہی میں رکھی ہوئی تھی۔
تنویر علی ایک جوان، خوش شکل، صحت مند اور وجیہہ شخص تھا۔ ابھی تک اس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ جب وہ فوجی خدمات سے سبکدوش ہو کر گھر واپس آیا تو اس کے والدین کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہوئی۔ انہوں نے تنویر سے اس بارے میں بات کی اور کہا کہ اگر وہ خاندان میں کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے تو انہیں آگاہ کرے۔
تنویر علی کو ایک لڑکی پسند تھی، جس کے ساتھ وہ بچپن سے کھیلتا کودتا جوان ہوا تھا۔ اس لڑکی کا نام فردوس تھا۔ فردوس نہایت حسین، باوقار اور بااخلاق لڑکی تھی۔ اس نے اسلامی تعلیمات گھریلو ماحول میں اُس وقت کے ایک جید عالمِ دین، قاضی احسان الحق صاحب، سے حاصل کی تھیں۔
فردوس نہ صرف تنویر کی پسند تھی بلکہ اس کے والدین کو بھی بہت پسند آئی۔ جب انہوں نے باقاعدہ رشتہ بھیجا تو فردوس کے گھر والوں نے نہایت خوشی سے اسے قبول کر لیا۔ یوں تنویر علی اور فردوس کی شادی انجام پائی، اور دونوں ایک خوشگوار اور پُرسکون ازدواجی زندگی گزارنے لگے۔
اسی طرح خوشیوں بھرے ایام گزرتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے تین سال بیت گئے۔ اس عرصے میں ان کے ہاں دو جڑواں بیٹے پیدا ہوئے، اور اس کے بعد ایک بیٹی نے جنم لیا۔ فردوس کی عمر اس وقت محض چوبیس سال تھی، مگر وہ تین بچوں کی ماں ہونے کے باوجود نہایت کم عمر اور شاداب دکھائی دیتی تھی۔
اس کے حسن، شائستگی، بزرگوں کے ساتھ ادب اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کے چرچے جلندھر، راہوں اور سودا آسمان کے معزز گھرانوں میں عام ہونے لگے۔ اس کے سلیقے، نفاست اور عمدہ اخلاق کا ہر شخص معترف تھا۔
قصبہ راہوں میں تنویر علی کے آباؤ اجداد نے ایک عظیم الشان حویلی تعمیر کروائی تھی، جو اب غیر آباد پڑی تھی۔ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث وہ آہستہ آہستہ کھنڈر میں تبدیل ہوتی جا رہی تھی۔ اس قصبے اور اس کے گرد و نواح میں راجاؤں، مہاراجاؤں اور مغلیہ دور کے کئی شاندار محلات بھی وقت کے ساتھ کھنڈرات میں بدل چکے تھے۔
ان عمارتوں کے اردگرد جھاڑ جھنکار اور گھنے جنگلات ہونے کی وجہ سے ایک نہایت پراسرار ماحول قائم ہو گیا تھا۔ اس ویرانی اور سناٹے نے اس جگہ کو خوف اور تجسس کی علامت بنا دیا تھا۔ یہاں تک مشہور ہو چکا تھا کہ ان کھنڈرات میں جنّات اور بھوتوں کا بسیرا ہے، اسی لیے لوگ ان عمارتوں کے قریب جانے سے بھی کتراتے تھے۔
تنویر علی نے اپنی زمینداری پر بھرپور توجہ دی اور ذمہ داری کے ساتھ ساتھ آڑھت کا کاروبار بھی شروع کر دیا۔ اس نے اپنے کاروبار کو تحصیل نواں کوٹ تک وسعت دی، اور وہاں زمینوں کی دیکھ بھال اور کاروباری آمد و رفت کے لیے ایک خوبصورت حویلی بھی تعمیر کروائی۔ یہ مقام قصبہ راہوں اور اس کے سسرال کے نسبتاً قریب تھا۔
یہ 1926ء کا زمانہ تھا، اور اس وقت تک ان کی شادی کو آٹھ برس گزر چکے تھے۔ ایک روز تنویر علی کو سودا آسمان جانا پڑا۔ ان دنوں امیر اور معزز گھرانوں کی خواتین پالکی یا بیل گاڑی میں اپنی خادماؤں کے ساتھ سفر کیا کرتی تھیں۔ چنانچہ فردوس بیگم بھی اپنے گاؤں سے قصبہ راہوں تک ایک ملازمہ کے ہمراہ بیل گاڑی میں سوار ہو کر پہنچیں، جبکہ تنویر علی اپنے گھوڑے پر سوار ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔
راہوں پہنچ کر انہوں نے ایک رات اپنی حویلی میں قیام کیا۔ اگلے روز وہاں سے سودا آسمان روانہ ہونا تھا۔ تنویر علی نے اپنی بیگم کے لیے ایک پالکی کا انتظام کیا۔ فردوس بیگم پالکی میں سوار ہو گئیں، اور چاروں قہاروں نے اسے اٹھا کر سودا آسمان کی طرف سفر شروع کر دیا۔
سودا آسمان ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جو جنگل کے قریب واقع تھا۔ اس کے اطراف میں قدیم تاریخی محلات اور عمارتوں کے کھنڈرات بڑی تعداد میں موجود تھے، جو وقت کے ساتھ مسمار ہو چکے تھے۔ یہ گاؤں قصبہ راہوں سے زیادہ دور نہ تھا، اس لیے وہ لوگ جلد ہی وہاں پہنچ گئے اور تین روز قیام کیا۔
تین دن بعد انہوں نے واپسی کا ارادہ کیا۔ جلدی واپس آنے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے بچے ساتھ نہیں تھے، اور فردوس بیگم بچوں کی جدائی میں اداس ہو گئی تھیں۔ چنانچہ واپسی پر فردوس بیگم دوبارہ پالکی میں سوار ہوئیں، اور قافلہ روانہ ہو گیا۔ تنویر علی حسبِ معمول گھوڑے پر سوار ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
دوپہر کے قریب یہ قافلہ ایک مسمار شدہ محل کے نزدیک پہنچا۔ انہوں نے وہاں کچھ دیر آرام کرنے کا فیصلہ کیا اور محل کے قریب ایک بہت بڑے برگد کے درخت کے سائے تلے قیام کیا۔ چاروں قہار پالکی کو زمین پر رکھ کر سستانے کے لیے دوسرے درختوں کے نیچے چلے گئے۔ گرمی شدید تھی، اس لیے تنویر علی بھی گھوڑے سے اتر کر اس کی لگام ایک درخت سے باندھ کر ٹہلنے لگا، اور یوں ہی محل کا جائزہ لیتے لیتے اندرونی حصے میں داخل ہو گیا۔
ادھر فردوس بیگم اپنی ملازمہ کے ساتھ پالکی سے اتر کر برگد کی ٹھنڈی چھاؤں میں گھاس پر بیٹھ گئیں۔ انہوں نے پیازی رنگ کے خوبصورت گوٹا کناری والے کپڑے پہن رکھے تھے، جو ان پر بے حد جچ رہے تھے اور ان کی خوبصورتی کو اور بھی نکھار رہے تھے۔ ان کی ملازمہ بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
اچانک "میاؤں میاؤں" کی آواز سنائی دی۔ فردوس بیگم اور ان کی ملازمہ نے ادھر ادھر نظر دوڑائی، مگر کچھ دکھائی نہ دیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر بلی کے بولنے کی آواز آئی۔ اس بار اندازہ ہو گیا کہ آواز برگد کے درخت کی جانب سے آ رہی ہے۔
فردوس بیگم نے درخت کی طرف دیکھا تو ایک جھکی ہوئی ٹہنی پر ایک بلی بیٹھی نظر آئی۔ وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ وہ بلی سنہری کھال والی، موٹی تازی اور نہایت خوبصورت تھی۔ مگر اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جس نے فردوس بیگم کے دل میں ایک ہلکا سا خوف پیدا کر دیا۔
بلی مسلسل انہیں گھورے جا رہی تھی، پھر آہستہ آہستہ دم ہلاتی ہوئی نیچے اتر آئی اور ان کے قریب آنے لگی۔ فردوس بیگم نے احتیاط سے اسے پچکارا تو وہ فرمانبرداری سے آگے بڑھی اور ان کے قدموں میں لوٹنے لگی۔ قریب آنے پر محسوس ہوا کہ وہ عام بلی نہیں بلکہ ایک نر بلا ہے، اور کسی گھر کا پالا ہوا معلوم ہوتا ہے۔
ملازمہ نے کہا، "بیگم صاحبہ، لگتا ہے اسے اس کے مالکوں نے چھوڑ دیا ہے، اسی لیے یہ بیچارہ اس ویران جنگل میں رہ رہا ہے۔ انسانوں کو دیکھ کر ہی یہ ادھر چلا آیا ہے۔"
ملازمہ کی بات سن کر فردوس بیگم نے کچھ جھجکتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور بلے کے سر پر نرمی سے ہاتھ پھیرا۔ یہ دیکھتے ہی بلا خوشی سے مچل اٹھا اور زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ کبھی کروٹ بدلتا، کبھی زمین سے لپٹ جاتا، اور پھر لوٹتے ہوئے ان کے قدموں میں آ کر آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔
فردوس بیگم اس کی ان معصوم حرکتوں کو دیکھ کر محظوظ ہونے لگیں۔ کچھ ہی دیر میں ان کا خوف کم ہو گیا، اور انہوں نے محبت سے اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیا اور پیار کرنے لگیں۔
"میں اسے اپنے ساتھ ہی لے جاؤں گی،" فردوس بیگم نے اپنی ملازمہ سے کہا، "بیچارہ نہ جانے کب سے اس ویران جگہ پر رہ رہا ہے۔"
کچھ دیر بعد تنویر علی واپس آ گیا اور روانگی کا کہا۔ فردوس بیگم نے ملازمہ کو اشارہ کیا، بلے کو ساتھ لیا، اور پالکی میں سوار ہو گئیں۔ تنویر علی کو اس بلے کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا۔
جب وہ قصبہ راہوں پہنچے اور فردوس بیگم پالکی سے اتریں تو ان کی گود میں بلا تھا۔ تنویر علی اسے دیکھ کر حیران رہ گیا اور بولا، "یہ کہاں سے آ گیا؟"
فردوس بیگم نے ساری بات بتائی تو وہ کچھ خفا ہونے لگا اور بولا، "تم اسے کیوں لے آئیں؟"
فردوس بیگم نے نرمی سے جواب دیا، "حضور، بچے اسے دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔ آخر اسے گھر میں رکھنے میں حرج ہی کیا ہے؟"
تنویر علی نے اس بات کا کوئی واضح جواب نہ دیا اور خاموش ہو گیا۔
راہوں سے آگے وہ لوگ بیل گاڑی پر سوار ہو کر اپنے فارم والی حویلی پہنچ گئے۔ بچوں نے جیسے ہی بلے کو دیکھا، وہ واقعی بے حد خوش ہوئے اور اس کے ساتھ کھیلنے لگے۔ بلا بھی فوراً ہی بچوں کے ساتھ مانوس ہو گیا اور اچھل کود کرنے لگا، گویا خوشی سے ناچ رہا ہو۔ اگرچہ وہ بچوں کے ساتھ کھیلتا، مگر زیادہ تر وقت فردوس بیگم کے آس پاس ہی گزارتا تھا۔
یہ ایک خوشحال خاندان تھا۔ تنویر علی کو حلوہ بہت پسند تھا، اس لیے ان کے گھر میں اکثر حلوہ پکتا رہتا تھا۔ اس بلے کو بھی حلوہ بے حد پسند آ گیا۔ جب بھی حلوہ بنتا، وہ خوب پیٹ بھر کر کھاتا۔ اس کی یہ عادت سب کے لیے حیرت کا باعث تھی کہ یہ کیسا بلا ہے جو روٹی، گوشت اور دودھ کے بجائے حلوہ شوق سے کھاتا ہے۔
جب اسے بھوک لگتی تو اس کی آواز کچھ یوں محسوس ہوتی جیسے وہ "میاؤں میاؤں" کے بجائے "حلوہ حلوہ" کہہ رہا ہو۔ دودھ اور حلوہ اس کی مرغوب غذا بن چکے تھے۔
فردوس بیگم نہایت پابندِ صوم و صلوٰۃ تھیں اور اکثر نماز کے بعد تسبیح پڑھتی رہتی تھیں۔ جب وہ عبادت میں مشغول ہوتیں تو بلا ان کے قریب ٹھہر نہیں پاتا، بلکہ کسی قدر بےچین ہو کر بچوں کے ساتھ کھیلنے لگتا۔
فردوس بیگم کے سسر، مبارک علی، ایک نہایت تجربہ کار، جہاندیدہ اور عمر رسیدہ شخص تھے۔ وہ کسی زمانے میں کوتوال کے عہدے پر فائز رہ چکے تھے۔ اس دور میں کوتوال کو موجودہ تھانیدار کی حیثیت حاصل ہوتی تھی اور اس عہدے کی خاصی اہمیت تھی۔ وہ نہایت دلیر اور معاملہ فہم انسان تھے۔
انہی دنوں مبارک علی نے ضلع حصار سے اعلیٰ نسل کی گائیں اور بیل منگوائے۔ یہ جانور نہایت خوبصورت اور قیمتی تھے۔ فردوس بیگم کو انہیں دیکھنے کا اشتیاق ہوا، چنانچہ وہ زنان خانے کی بڑی ڈیوڑھی میں چلی گئیں۔ بلا بھی حسبِ عادت ان کے پیچھے پیچھے آ گیا۔
جوں ہی ایک گائے کی نظر بلے پر پڑی، وہ اچانک بدک اٹھی اور رسیاں تڑا کر بھاگنے کی کوشش کرنے لگی، حالانکہ اس سے پہلے وہ سکون سے کھڑی جگالی کر رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر مبارک علی سخت حیران ہوا۔
فردوس بیگم واپس لوٹ آئیں اور بلا بھی ان کے ساتھ چلا گیا۔ ان کے جانے کے بعد مبارک علی نے اپنے ایک ملازم کو بلایا۔ یہ ملازم ایک ریٹائرڈ فوجی تھا، نہایت دلیر اور مضبوط اعصاب کا مالک۔
مبارک علی نے اسے حکم دیا کہ وہ اس بلے کو پکڑ کر بوری میں بند کرے اور راہوں کے قریب واقع جنگل میں موجود ایک پرانے محل کے کھنڈرات میں چھوڑ آئے۔
جب فردوس بیگم اور بچوں کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے سخت مخالفت کی اور کہا کہ بلے کو گھر میں ہی رہنے دیا جائے، کیونکہ وہ ان کا پسندیدہ بن چکا ہے۔ مگر مبارک علی اپنے فیصلے پر قائم رہا۔
چنانچہ ان کی خواہش کے برخلاف، ملازم نے بلے کو پکڑ کر بوری میں ڈال دیا، اس کا منہ مضبوطی سے باندھا اور بوری اٹھا لی۔ جب وہ گھوڑے پر سوار ہونے لگا اور بوری کو گھوڑے پر رکھا، تو گھوڑا اچانک بدک اٹھا۔ وہ زور زور سے ہنہنانے لگا اور ایک جھٹکے سے لگام چھڑا کر سرپٹ بھاگ نکلا۔
ملازم یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ آخرکار اس نے بوری کندھے پر لٹکائی اور پیدل ہی جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہ مسلسل چلتا ہوا راہوں کے قریب واقع جنگل تک پہنچ گیا۔ جب وہ وہاں موجود پرانے محل کے کھنڈرات کے قریب پہنچا تو شام ڈھل چکی تھی۔
کھنڈرات کے پاس پہنچ کر اسے اچانک محسوس ہوا کہ بوری غیر معمولی طور پر ہلکی ہو گئی ہے۔ اس نے فوراً بوری کو زمین پر رکھا اور اس کا منہ کھولا تاکہ بلے کو باہر نکالے—مگر یہ دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے کہ بوری بالکل خالی تھی، حالانکہ اس نے اپنے ہاتھوں سے بلے کو اس میں بند کیا تھا۔
اور اس نے بوری کا منہ بڑی مضبوطی سے باندھا تھا۔ اس نے سوچا کہ شاید بوری میں کہیں کوئی سراخ ہو گیا ہوگا اور بلا اس میں سے نکل گیا ہوگا۔ اس نے غور سے بوری کا جائزہ لیا، مگر بوری بالکل درست حالت میں تھی اور اس میں کہیں کوئی سراخ موجود نہ تھا۔
یہ دیکھ کر اس فوجی نوجوان کے پسینے چھوٹ گئے، مگر اس نے خود کو سنبھالا، اپنی گھبراہٹ پر قابو پایا، آیت الکرسی پڑھی اور الٹے پاؤں وہاں سے بھاگ نکلا۔ وہ تیزی سے قصبہ راہوں پہنچا۔ وہاں پہنچ کر سیدھا مسجد گیا، وضو کیا، عشاء کی نماز ادا کی اور وہیں لیٹ کر سو گیا۔
صبح سویرے وہ واپس حویلی پہنچ گیا۔ مبارک علی فکرمندی سے اس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ نوجوان نہایت سمجھدار تھا، اس لیے جب مبارک علی نے اس سے پوچھا تو اس نے صرف اتنا بتایا کہ وہ حکم کے مطابق بلے کو بوری کا منہ کھول کر محل کے کھنڈرات میں چھوڑ آیا تھا۔
اس واقعے کو ابھی دو ہی دن گزرے تھے کہ بلا دوبارہ گھر واپس آ گیا۔ وہ بلند آواز میں میاؤں میاؤں کر رہا تھا، اور اس کی آواز میں ایک عجیب سی اذیت اور ناراضی جھلک رہی تھی۔ سب لوگ حیران تھے کہ وہ اتنی دور سے واپس کیسے آ گیا۔
بچے اور فردوس بیگم بلے کی واپسی پر بے حد خوش تھے، گویا گھر کی رونق دوبارہ لوٹ آئی ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے بلے کو گھر آئے دو سال گزر گئے۔ اس عرصے میں فردوس بیگم کو اس خوبصورت جانور سے خاص انسیت ہو گئی تھی۔
بلا بھی فردوس بیگم سے غیر معمولی محبت کرتا تھا۔ وہ جہاں جاتیں، بلا ان کے ساتھ ساتھ رہتا۔ وہ ان سے زیادہ دیر تک دور رہنا پسند نہیں کرتا تھا اور ان کی جدائی میں بے چین ہو جاتا تھا۔
کچھ عرصے بعد فردوس بیگم نے ایک اور بیٹی کو جنم دیا، اور اس طرح ان کے بچوں کی تعداد چار ہو گئی۔ نئی بیٹی کی پیدائش کے بعد فردوس بیگم کی زیادہ تر توجہ اسی کی طرف مرکوز ہو گئی، جس کے باعث وہ بلے کو کچھ نظر انداز کرنے لگیں۔
اس تبدیلی کا اثر بلے پر واضح نظر آنے لگا۔ وہ اداس رہنے لگا، سست ہو گیا، اور بچوں کے ساتھ بھی کم کھیلتا۔ پہلے کی طرح شرارتیں کرنے کے بجائے وہ اکثر ایک طرف چپ چاپ پڑا رہتا، جیسے کسی گہری اداسی میں مبتلا ہو۔
جب بچی کچھ بڑی ہو گئی تو بلے کو دوبارہ فردوس بیگم کے قریب رہنے کا موقع ملنے لگا۔ وہ اکثر چھلانگ لگا کر ان کی گود میں آ بیٹھتا اور ننھی منی بچی کے ساتھ کھیلنے لگتا۔ بلے کی ان معصوم حرکتوں کو دیکھ کر گھر کے تمام افراد خوش ہوتے تھے۔
البتہ ایک شخص ایسا تھا جو اس منظر سے خوش نہیں ہوتا تھا، اور وہ تھا فردوس بیگم کا سسر، مبارک علی۔ وہ اس بلے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا تھا اور اس کے بارے میں کسی نہ کسی وہم اور خوف میں مبتلا رہتا تھا۔ دوسری طرف بلا بھی جیسے اسے ناپسند کرتا تھا اور کبھی بھول کر بھی اس کے قریب نہ جاتا۔
ایک دن گھر میں کچھ مہمان آئے۔ ان کی خاطر مدارت کے لیے طرح طرح کے پکوان تیار کیے گئے، جن میں مزیدار حلوہ بھی شامل تھا۔ فردوس بیگم مہمانوں کی خدمت اور کھانے کی تیاری میں اس قدر مصروف رہیں کہ تھکن سے چور ہو گئیں۔
مہمانوں کے رخصت ہونے کے بعد جب وہ باورچی خانے میں آئیں تو بلے نے زور زور سے میاؤں میاؤں کر کے اپنی ناراضی کا اظہار شروع کر دیا۔ فردوس بیگم نے سمجھا کہ شاید وہ حلوے کے لیے شور مچا رہا ہے، چنانچہ انہوں نے فوراً ایک رکابی میں حلوہ ڈال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔
مگر بلے نے حلوے کی طرف دیکھا تک نہیں، بلکہ بے چینی سے ادھر ادھر ہونے لگا۔ دراصل وہ فردوس بیگم کی گود میں بیٹھنا چاہتا تھا۔ ان کے اور بلے کے درمیان حلوے سے بھری ایک پرات رکھی تھی۔ بلے نے وہیں سے چھلانگ لگائی، مگر اس کے پچھلے دونوں پاؤں پرات میں جا پڑے اور حلوے میں لت پت ہو گئے۔
اسی حالت میں وہ چھلانگ لگا کر فردوس بیگم کی گود میں جا بیٹھا۔ اس وقت فردوس بیگم نے نہایت قیمتی ریشمی لباس پہن رکھا تھا، جو بلے کے حلوے سے لتھڑے پاؤں کی وجہ سے خراب ہو گیا۔ اس کے علاوہ وہ پہلے ہی شدید تھکی ہوئی تھیں، اس لیے بلے کی اس حرکت پر انہیں سخت غصہ آ گیا۔
انہوں نے جھٹکے سے بلے کو گود سے نیچے پھینک دیا۔ مگر بلا پھر سے ان کی گود میں آنے کے لیے آگے بڑھا تو فردوس بیگم نے طیش میں آ کر قریب پڑا ہوا چمٹا اٹھایا اور اس پر دے مارا۔
چمٹا بلے کے سر پر لگا، جس سے اس کے سر سے خون بہنے لگا۔ شدید تکلیف کے باعث بلا ایک خوفناک آواز میں چیخنے لگا۔ پہلے وہ کچھ فاصلے پر کھڑا رہا، جیسے صدمے میں ہو، پھر آہستہ آہستہ باورچی خانے سے باہر نکل گیا۔
کچھ دیر بعد جب فردوس بیگم کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انہیں اپنی حرکت پر گہرا افسوس ہونے لگا۔ انہیں خیال آیا کہ بلا تو بیچارہ بلاوجہ ان کے ہاتھوں زخمی ہو گیا۔ وہ اس سے بہت محبت کرتی تھیں اور اس سے پہلے کبھی اسے ڈانٹا تک نہ تھا۔
بلے کے زخمی ہونے کے بعد وہ نہ جانے کہاں غائب ہو گیا۔ زنان خانے میں تمام گھر والے اور نوکرانیاں اسے ڈھونڈتی رہیں، جبکہ مردان خانے کے نوکر بھی اس کی تلاش میں لگے رہے، مگر وہ کہیں نہ ملا۔
"چلو اچھا ہوا، وہ منحوس یہاں سے دفع ہو گیا،" فردوس بیگم کے سسر، مبارک علی نے قدرے اطمینان سے کہا، "ان شاء اللہ اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔"
بلے کو بہت تلاش کیا گیا، مگر اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔
اسی رات آدھی رات کے وقت حویلی کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا جانے لگا۔ آواز ایسی تھی جیسے کوئی دروازہ توڑنے پر تُلا ہوا ہو۔ سب گھر والے گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور پریشان ہو گئے کہ اس وقت کون آ گیا ہے۔
تنویر علی اٹھ کر زنان خانے سے باہر ڈیوڑھی کے دروازے تک آیا۔ وہاں پہنچ کر وہ حیران رہ گیا۔ ڈیوڑھی میں ایک لمبا چوڑا آدمی کھڑا تھا۔ تنویر علی اسے دیکھ کر ششدر رہ گیا، کیونکہ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ اس نے خود رات کو ڈیوڑھی کا دروازہ اندر سے بند کیا تھا، اور اس کے بعد کوئی بھی اس طرف نہیں آیا تھا۔
پھر یہ دروازہ کس نے کھولا؟ اور یہ آدمی اندر کیسے آ گیا؟
یہی سوالات اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے، اور وہ خوفزدہ ہو گیا۔
اس آدمی کا سر غیر معمولی طور پر بڑا تھا، اور اس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اس نے گہری آواز میں کہا، "تنویر علی، ڈرو نہیں۔ میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ مگر میری بات غور سے سنو۔ میں انسان نہیں ہوں، بلکہ ایک جن ہوں۔"
یہ سن کر تنویر علی کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
وہ شخص بولتا رہا، "میں کئی سالوں سے تمہارے گھر میں ایک بلے کا روپ دھار کر رہ رہا تھا۔ میں تمہاری خوبصورت بیوی پر اس وقت عاشق ہو گیا تھا، جب تم لوگ برسوں پہلے جنگل سے گزر رہے تھے اور ایک ویران محل کے کھنڈرات کے پاس کچھ دیر کے لیے رکے تھے۔ تمہاری حسین بیوی برگد کے درخت کے نیچے بیٹھی ہوئی تھی، اور میں وہیں موجود تھا۔ میں پہلی ہی نظر میں اس پر فریفتہ ہو گیا تھا۔"
وہ کچھ لمحے رکا، پھر بولا، "میں نے اسے زبردستی اپنے قابو میں کرنے کے بجائے ایک بلے کا روپ اختیار کیا اور اس کے قریب رہنے لگا۔ وہ مجھے اس قدر پسند آ گئی کہ میں نے ساری زندگی اسی روپ میں اس کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ بھی مجھ سے محبت کرنے لگی تھی… لیکن آج اس نے غصے میں آ کر بڑی بے دردی سے مجھے زخمی کر دیا۔"
اب اس کی آواز میں سختی آ گئی، "اب میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں یہاں نہیں رہوں گا۔ تمہاری بیوی کو میرے ساتھ چلنا ہوگا، جہاں میں چاہوں گا۔"
یہ سن کر تنویر علی سکتے میں آ گیا۔ پھر وہ کانپتے ہوئے اس جن کی منت سماجت کرنے لگا۔ اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا، "خدا کے لیے میرے بچوں پر رحم کرو! وہ اپنی ماں کے بغیر کیسے رہیں گے؟ میں تباہ ہو جاؤں گا، میرا خاندان برباد ہو جائے گا۔ لوگوں میں کیا منہ دکھاؤں گا؟ تمہیں میرے بچوں کا واسطہ، یہ ظلم نہ کرو!"
جن نے سرد لہجے میں جواب دیا، "یہ ناممکن ہے۔ میں ہر حال میں فردوس کو لے کر جاؤں گا۔ میں نے اپنے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کی قسم کھائی ہے کہ اپنے عشق کی خاطر، جب تک فردوس زندہ رہے گی، میں اس کے ساتھ رہوں گا۔"
وہ مزید بولا، "تمہارے والد مبارک علی کو تقریباً یقین ہو چکا تھا کہ میں انسان نہیں ہوں، بلکہ ایک بلے کے بھیس میں یہاں رہ رہا ہوں۔ اور اب، فردوس نے مجھے زخمی کر کے میرے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ اس کی سزا یہی ہے کہ اسے اس کے شوہر، بچوں اور خاندان سے جدا کر دیا جائے۔"
پھر اس نے دھمکی آمیز انداز میں کہا، "تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ آج سے دو دن بعد، رات کے پچھلے پہر، فردوس کو درمیانی کمرے میں بھیج دینا۔ اسے کہنا کہ وہ دیکھ آئے کہ تمہاری جیب گھڑی کارنر پر پڑی ہے یا نہیں۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا، تو تم اور تمہارے بچوں کی بھیانک لاشیں فردوس کو دیکھنا پڑیں گی۔"
یہ کہہ کر وہ جن تنویر علی کی آنکھوں کے سامنے غائب ہو گیا۔
اب اس میں کوئی شک نہ رہا تھا کہ وہ بلا دراصل ایک جن تھا، اور اگر اس کی بات نہ مانی گئی تو وہ پورے خاندان کو تباہ کر سکتا ہے۔
اس خوفناک کشمکش نے تنویر علی کی نیندیں حرام کر دیں۔ وہ ہر وقت انہی سوچوں میں گم رہنے لگا کہ کیا کرے۔ بہت غور و فکر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کے پاس جن کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
جب اس نے یہ فیصلہ کر لیا تو اگلے دو دن اس نے اپنی فرمانبردار بیوی کی خوب خدمت کی اور اس کا دل خوش کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ فردوس بیگم اپنے شوہر کے بدلے ہوئے رویے اور پریشان حال چہرے کو دیکھ کر خود بھی تشویش میں مبتلا ہو گئیں۔
فردوس بیگم نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آخر کیا بات ہے، مگر تنویر علی نے طبیعت کی خرابی کا بہانہ بنا کر بات ٹال دی۔
پھر وہ منحوس رات آ پہنچی، جب اس جن نے فردوس بیگم کو لینے آنا تھا۔ اس نے تنویر علی کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی بیوی سے کہے کہ نہا دھو کر خوبصورت لباس پہنے اور خوشبو لگا کر تیار ہو جائے۔
تنویر علی نے فردوس بیگم سے کہا کہ وہ نہا دھو کر، اچھے کپڑے پہن کر اور خوشبو لگا کر اس کے پاس آئے۔ فردوس بیگم اپنے شوہر کی خوشنودی کے لیے بن سنور کر اس کے پاس آ گئیں، مگر انہوں نے دیکھا کہ تنویر علی دوسری طرف کروٹ لیے لیٹا ہے، جیسے سو رہا ہو۔ چنانچہ وہ بھی اس کے پاس لیٹ گئیں اور کچھ ہی دیر میں انہیں نیند آ گئی۔
حقیقت یہ تھی کہ تنویر علی سو نہیں رہا تھا، بلکہ دوسری طرف منہ کیے خاموشی سے آنسو بہا رہا تھا۔
جب آدھی رات گزر گئی تو اس نے فردوس بیگم کو جگایا اور کہا، "ذرا درمیان والے کمرے میں جا کر دیکھو، شاید میری جیب گھڑی کونے میں پڑی ہو، اسے لے آؤ۔"
فردوس بیگم نیم خوابیدہ حالت میں اٹھیں اور آنکھیں ملتی ہوئی درمیانی کمرے کی طرف چل پڑیں۔ جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئیں، ایک ہولناک چیخ سنائی دی—اور پھر ہر طرف سناٹا چھا گیا۔
تنویر علی گھبرا کر فوراً اس کمرے کی طرف دوڑا۔ جب وہ اندر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ کمرہ خالی ہے—نہ فردوس بیگم تھیں اور نہ وہ جن۔
اچانک اس کی نظر چھت کی طرف گئی۔ اس نے دیکھا کہ چھت پھٹی ہوئی ہے اور وہاں ایک بہت بڑا سوراخ بن چکا ہے۔
یہ منظر دیکھ کر تنویر علی پر سکتہ طاری ہو گیا، اور وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔
گھر کے دیگر افراد نے بھی شور سنا تو وہ دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے اور بے ہوش تنویر علی کو اٹھایا۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے گھر والوں کو ساری حقیقت بتا دی۔
مگر جیسے ہی اس نے فردوس بیگم کے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے کا ذکر کیا، وہ صدمہ برداشت نہ کر سکا۔ اس پر دوبارہ غشی طاری ہوئی—اور اس بار وہ کبھی نہ سنبھل سکا۔
یوں تنویر علی اپنی محبوب بیوی کی جدائی کا غم سہ نہ سکا اور اس کی جان نکل گئی۔
یہاں ہم اکثر لوگوں کی بھیجی گئی سچ پر مبنی کہانیاں سناتے ہیں۔

