یہ 2013 کی بات ہے۔ میرے بڑے بھائی کی شادی کو ابھی تین چار ماہ ہی گزرے تھے۔ گھر میں نئی بہو کی آمد سے جیسے بہار آ گئی تھی۔ بھابی نرم مزاج، خوش اخلاق اور ہر ایک کا خیال رکھنے والی تھیں۔ بھائی بھی ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہم سب ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے کہ اچانک ایک ایسی مصیبت نے دروازہ کھٹکھٹایا جس نے ہماری خوشیوں کو نگل لیا۔
ایک رات کا واقعہ ہے۔ میں، میرے بھائی اور والدہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے ڈرامہ دیکھ رہے تھے۔ بھابی اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھیں۔ اچانک کمرے کی طرف سے ایک دل دہلا دینے والی چیخ سنائی دی۔ وہ چیخ ایسی تھی جیسے کوئی شدید تکلیف میں ہو یا کسی نے اسے ڈرا دیا ہو۔
ہم سب گھبرا کر فوراً ان کے کمرے کی طرف دوڑے۔
دروازہ آدھا کھلا تھا۔ جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے، ہمارے قدم وہیں رک گئے۔ بھابی بیڈ کے ایک کونے میں سمٹی ہوئی تھیں، بال بکھرے ہوئے، آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی، اور وہ کسی کو دیکھ کر مسلسل چیخ رہی تھیں۔
لیکن کمرے میں کوئی اور موجود نہیں تھا۔
"وہ... وہ یہاں تھا!" بھابی ہانپتے ہوئے بولیں، "وہ مجھے دیکھ رہا تھا…"
بھائی نے فوراً انہیں سنبھالا، پانی پلایا اور تسلی دی، "کوئی نہیں ہے یہاں، تم نے خواب دیکھا ہوگا۔"
ہم نے بھی یہی سمجھا کہ شاید کوئی برا خواب تھا۔ لیکن یہ صرف آغاز تھا۔
اگلے چند دنوں میں بھابی کا رویہ عجیب ہونے لگا۔ وہ اکثر اکیلے میں باتیں کرتی نظر آتیں، کبھی ہنسنے لگتیں اور کبھی اچانک رونے لگتیں۔ رات کو انہیں نیند نہیں آتی تھی اور وہ بار بار یہی کہتیں کہ "وہ" انہیں دیکھ رہا ہے۔
ایک دن میں نے خود ان سے پوچھا، "بھابی، آپ کس کی بات کر رہی ہیں؟"
وہ کچھ دیر خاموش رہیں، پھر دھیرے سے بولیں، "ایک آدمی… سیاہ کپڑوں میں… اس کا چہرہ دھندلا ہے… وہ دیوار کے ساتھ کھڑا مجھے دیکھتا رہتا ہے۔"
میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
ہم نے سوچا شاید ذہنی دباؤ ہے۔ بھائی انہیں ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ یہ اینزائٹی یا ڈپریشن ہو سکتا ہے اور دوائیں دے دیں۔
کچھ دن سب ٹھیک رہا… لیکن پھر ایک رات سب کچھ بدل گیا۔
اس رات بارش ہو رہی تھی۔ بجلی بھی بار بار جا رہی تھی۔ ہم سب اپنے اپنے کمروں میں تھے کہ اچانک پھر وہی چیخ سنائی دی—اس بار پہلے سے بھی زیادہ خوفناک۔
ہم دوڑ کر کمرے میں گئے۔
اس بار منظر اور بھی ہولناک تھا۔
بھابی بیڈ سے نیچے گری ہوئی تھیں، ان کے ہاتھوں پر خراشیں تھیں جیسے کسی نے زور سے پکڑا ہو۔ وہ چیخ رہی تھیں، "وہ مجھے لے جائے گا! وہ مجھے چھوڑے گا نہیں!"
بھائی نے فوراً انہیں اٹھایا، لیکن جیسے ہی انہوں نے بھابی کا ہاتھ پکڑا، بھابی نے زور سے اپنا ہاتھ جھٹک دیا اور عجیب آواز میں بولیں:
"تم اسے نہیں روک سکتے… وہ آ چکا ہے…"
یہ آواز بھابی کی نہیں تھی۔
ہم سب سہم گئے۔
اگلے دن گھر میں ایک بزرگ کو بلایا گیا جو روحانی علاج کرتے تھے۔ انہوں نے کمرے کا جائزہ لیا، کچھ پڑھائی کی، اور پھر سنجیدہ لہجے میں کہا:
"یہ عام بات نہیں ہے… اس جگہ پر کچھ ہے…"
یہ سن کر ہمارے ہوش اڑ گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے گھر میں پہلے کوئی واقعہ ہوا ہو یا کسی چیز کے ذریعے یہ اثر آیا ہو۔ انہوں نے کچھ وظائف دیے اور کہا کہ احتیاط کریں۔
ہم نے ان کی ہدایت پر عمل شروع کیا۔ چند دن تک سب ٹھیک لگنے لگا۔ بھابی بھی نارمل ہونے لگیں۔
لیکن ایک رات…
میں پانی پینے کے لیے اٹھا تو دیکھا کہ بھابی لاؤنج میں کھڑی ہیں۔ اندھیرا تھا، صرف ہلکی سی روشنی کھڑکی سے آ رہی تھی۔
میں نے آہستہ سے کہا، "بھابی… آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟"
انہوں نے آہستہ سے میری طرف سر گھمایا۔
ان کی آنکھیں… خالی تھیں۔
انہوں نے دھیرے سے کہا، "وہ تمہیں بھی دیکھ رہا ہے…"
میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میں فوراً بھائی کو بلانے بھاگا۔
جب ہم واپس آئے تو بھابی وہاں نہیں تھیں۔
وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر سو رہی تھیں… جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اگلے دن ہم نے فیصلہ کیا کہ اس گھر کو چھوڑنا ہوگا۔
ہم نے نیا گھر ڈھونڈ لیا اور وہاں شفٹ ہو گئے۔ شروع میں ہمیں ڈر تھا کہ کہیں وہ چیز ہمارے ساتھ نہ آ جائے، لیکن آہستہ آہستہ سب کچھ ٹھیک ہونے لگا۔
بھابی مکمل طور پر صحت یاب ہو گئیں۔ ان کا وہ خوف، وہ عجیب باتیں سب ختم ہو گئیں۔
کچھ مہینوں بعد ہم نے پرانے گھر کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
پتا چلا کہ اس گھر میں کئی سال پہلے ایک شخص نے خودکشی کی تھی۔ وہ اکثر سیاہ کپڑے پہنتا تھا… اور کہا جاتا تھا کہ مرنے کے بعد بھی اس کی روح وہاں بھٹکتی ہے۔
یہ سن کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
آج بھی جب ہم اس واقعے کو یاد کرتے ہیں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔
ہمیں یقین ہو گیا کہ دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں… اور کبھی کبھی وہ ہمارے بہت قریب آ جاتی ہیں۔
اور وہ چیخ…
آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے۔
ٹرک ڈرائیور کی خوفناک کہانی

