۔خزانہ
دوسری قسط
راوی ؛ ملک صفدر حیات
پرانے وقتوں کے اس کا قبرستان میں جھاڑیاں اور درخت کثرت سے اگے ہوئے تھے ۔۔قبروں میں کوئی ترتیب نہیں تھی اور پیشتر قبریں بارش کی وجہ سے بیٹھ گئی تھیں۔۔
خوشی محمد ایک قبر کے سامنے جا ٹھہرا اور بولا۔۔۔۔ جناب یہ ہے ان کے دادا کی قبر۔۔۔
قبر کھدی ہوئی تھی اور خالی تھی۔۔میں نے دیکھا کہ لحد کے نیچے کی زمین بھی کھدی ہوئی تھی۔۔
میں نے صادق علی سے پوچھا۔۔۔ کیا تمہیں یقین ہے کہ تمہارے والد کو اسی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔۔۔؟
اس نے قبر کے سرہانے کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک چھوٹی سی تختی گڑی ہوئی تھی۔۔اس پر متوفی کا نام اور تاریخ وفات وغیرہ لکھی تھی۔۔ یہ تختی میں نے اپنے ہاتھ سے یہاں گاڑی تھی۔۔
گورکن نے تصدیق کرتے ہوئے کہا۔۔۔ قبر تو یہی ہے جی۔۔
میں نے گورکن سے کہا۔۔۔ اور تمہارا کہنا یہ ہے کہ اس قبر سے تم نے مردے کو نکل کر جاتے دیکھا تھا۔۔
اللہ ہی بہتر جاننے کہ وہ کیا چیز تھی۔۔مردہ تھا کوئی فرشتہ تھا یا کوئی انسان۔۔وہ جو کوئی بھی تھا سفید چادر میں لپٹا ہوا تھا۔۔اللہ گواہ ہے میں قبرستان میں کھڑا ہوں۔ مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں۔ میں نے اسے اسی قبر سے نکلتے دیکھا تھا۔۔وہ سامنے میرا مکان ہے ۔۔اس نے ایک نیم پختہ مکان کی طرف اشارہ کیا جو قبرستان کی قریبی دیوار کے ساتھ بنا ہوا تھا ۔۔دیوار محض تین فٹ اونچی تھی اور اسے ایک بچہ بھی پھلانگ سکتا تھا۔مکان کے قریب اندر داخل ہونے کا راستہ بھی نظر آ رہا تھا۔اسے راستہ ہی کہا جا سکتا تھا کیونکہ اس میں کوئی دروازہ یا پھاٹک نہیں تھا۔۔
دوسری بار آنکھ کھلنے کے بعد میں قبرستان میں داخل ہوا اور چند قدم اندر پہنچ کر رک گیا۔۔خوشی محمد بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔۔
آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ وہاں سے اس قبر تک زیادہ فاصلہ نہیں ہے ۔۔ اس وقت اچھا خاصہ اندھیرا تھا لیکن پھر بھی مجھے کفن میں لپٹا ہوا مردہ نظر آگیا ۔۔وہ اس قبر سے نکلا اور اس طرف چلا گیا میری جگہ کوئی اور ہوتا تو اس کا دم ہی نکل جاتا۔۔
جس طرف اس نے اشارہ کیا تھا اس طرف قبرستان سے پرے مکان نظر آ رہے تھے ۔۔ میں دوبارہ قبر کا جائزہ لینے لگا قبر کو باقاعدہ کھودا گیا تھا۔۔ ساری مٹی باہر پڑی تھی۔بالفرض اگر کوئی زندہ انسان قبر میں داخل ہو جاتا تو وہ باہر نہیں نکل سکتا تھا۔۔ تاہم اگر وہ اپنی روحانی اور جسمانی قوتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے باہر نکل بھی جاتا تو اسے ساری مٹی نکالنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔
تھانے دار صاحب۔۔ یہ جھوٹ بولتا ہے ۔۔صادق علی نے کہا ۔۔سوچنے کی بات ہے کبھی مردے بھی قبروں سے نکلے ہیں ۔ اور بات صرف لاش نہیں ہے ۔۔۔
کیا مطلب۔۔؟ میں نے پوچھا۔۔
دوسری باتوں کو چھوڑیں۔۔ اباجی۔۔ اکرم نے جلدی سے کہا۔۔۔ قبروں کی رکھوالی کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔۔ اگر دادا جی کی لاش نہ ملی تو ہم اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔۔
مجھے محسوس ہوا کہ بیچ میں کوئی گڑبڑ ضرور تھی۔کوئی خفیہ راز تھا جسے وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ اور وہ راز یا تو قبر سے تعلق رکھتا تھا یا اس لاش سے۔ ۔
میں نے کہا۔۔۔ خوشی محمد یہ تو کسی تگڑے آدمی کا کام معلوم ہوتا ہے ۔۔۔لحد بھی کھدی ہوئی ہے۔مردے میں اتنی جان کہاں سے آگئی۔۔ اور پھر اس کو نیچے کھدائی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔؟
جناب ۔۔۔یہ بات تو وہی جانے جس نے یہ کام کیا ہے ۔۔خوشی محمد نے کہا ۔۔۔ یا اللہ جانے۔۔۔ میں نے تو جو دیکھا تھا وہ آپ کو بتا دیا ہے۔۔۔ اس سے زیادہ مجھے معلوم نہیں۔۔
اس کے لہجے میں عاجزی تھی۔۔ وہ جھوٹا نہیں معلوم ہوتا تھا۔۔
میں صادق علی کو ایک طرف لے گیا اور کہا۔۔صادق علی۔۔ اس معاملے میں کوئی گھنڈی ضرور ہے۔میں اس بات میں تمہارے ساتھ اتفاق کرتا ہوں کہ قبر باہر سے کھودی گئی ہے۔کسی نے باقاعدہ لاش نکالی ہے۔۔ لیکن اس میں خوشی محمد کا ہاتھ نظر نہیں آتا۔مجھے یہ بتاؤ کہ لاش کے جسم پر کوئی قیمتی چیز تو نہیں تھی۔۔؟کوئی سونے یا ہیرے کی انگوٹھی وغیرہ۔؟
بات کرتے وقت میری نظر اس کے چہرے پر تھی ۔۔وہاں مجھے ایسے تاثرات نظر آئے جو میرے اندازے کی تصدیق کرتے تھے۔۔
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ۔۔اس نے تامل کرتے ہوئے کہا۔۔۔کوئی شخص ایک انگوٹھی کے لیے پوری لاش غائب نہیں کر سکتا۔۔
یہ بات بھی معقول تھی۔۔ تب ہی مجھے وہ چاندی کی انگوٹھی یاد آگئی جو ولی محمد نامی شخص نے مجھے دکھائی تھی۔میں نے سوچا ہو سکتا ہے کہ اس انگوٹھی کا مرنے والے سے کوئی تعلق ہو اگرچہ وہ اتنی قیمتی انگوٹھی نہیں تھی لیکن اس کی کوئی عملی اہمیت بھی ہو سکتی تھی۔یعنی وہ کسی بزرگ کا تحفہ یا کوئی کراماتی انگوٹھی بھی ہو سکتی تھی۔۔
لاش کی گمشدگی کی بات بستی میں پھیل چکی تھی اور لوگ قبرستان میں اکٹھا ہونا شروع ہوگئے تھے۔۔
میں نے صادق علی کو ساتھ لیا اور ولی محمد کا پتہ پوچھتے ہوئے اس کے دروازے پر پہنچ گیا۔۔
وہ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوا ۔۔اس نے ہمیں بیٹھک میں بٹھایا اور جلدی سے شربت بنا کر لے آیا۔۔۔ پھر اس نے جنات کی کہانی شروع کر دی۔ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔ ولی محمد میں وہ چاندی کی انگوٹھی دوبارہ دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔
وہ اندر گیا اور پیلے رومال میں لپٹی ہوئی انگوٹھی لے آیا۔انگوٹھی کے ساتھ خوشبودار پھر بری بھی موجود تھی۔۔
میں نے وہ چاندی کی انگوٹھی صادق علی اور اس کے بیٹے کو دکھائیں اور پوچھا۔۔۔کیا تم نے یہ انگوٹھی پہلے بھی کبھی دیکھی ہے۔۔۔؟
صادق علی نے انگوٹھی دیکھ کر بھویں سکیڑیں اور اپنے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔ پتر اکرم۔۔۔یہ انگوٹھی تو۔۔۔۔۔۔
ہاں جی۔۔۔ یہ تو چاندی کی انگوٹھی ہے ۔۔اکرم نے جلدی سے کہا۔۔ ہم نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔۔
نوجوان اپنے باپ سے زیادہ ہوشیار نظر آتا تھا ۔۔اس نے دوسری دفعہ باپ کی بات کا رخ بدلا تھا ۔۔۔واضح طور پر دونوں نے اس انگوٹھی کو پہچان لیا تھا۔۔ لیکن میں نے اس موضوع کو زیادہ نہیں چھیڑا اور دونوں کو رخصت کر دیا۔۔۔
ولی محمد نے کہا۔۔۔۔ ملک صاحب۔۔۔۔ آپ وقوعہ کا معائنہ بھی کرتے جائیں۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ ادھر سے کوئی اور بات آپ کے ہاتھ لگ جائے۔۔۔
میں نے کہا۔۔۔چلو وقوعہ بھی دیکھ لیتے ہیں۔۔۔
وہ مجھے صحن کی طرف سے باڑے میں لے گیا ۔۔خاصا کشادہ باڑہ تھا۔۔ایک طرف پتھر کے نیچے کھرلی بنی ہوئی تھی اور ساتھ ہی ایک کچا کوٹھا تھا جس کے قریب ایک نلکا تھا۔۔داہنی طرف والی دیوار کے اوپر سے قبرستان نظر آتا تھا۔۔درمیان میں ایک کچی سڑک تھی۔باڑے کے بیرونی دروازے کا ایک پٹ ٹوٹا ہوا تھا۔۔جس کا یہ مطلب تھا کہ کوئی بھی شخص بہ آسانی اندر آ سکتا تھا۔۔
باڑا سنسان پڑا تھا۔۔ادھر ادھر سوکھا چارا بکھرا پڑا تھا۔۔میں نے نلکا چلا کر دیکھا ۔۔وہ ٹھیک کام کرتا تھا۔کھرے میں لال مٹی نظر آ رہی تھی۔وہاں کسی نے کیچڑ آلود ہاتھ یا پیر دھوئے تھے۔۔
میں نے ولی محمد سے پوچھا۔۔کیا یہاں کسی نے ہاتھ پیر دھوئے تھے۔۔؟
جنات نے دھوئے ہوں گے۔۔اس نے جواب دیا۔۔جب سے جنات کی مشہوری ہوئی ہے اس کے بعد سے کوئی بندہ ادھر نہیں آتا۔۔
میں نے کچے کوٹھے میں نظر ڈالی۔۔اندر سوائے ایک کدال کے اور کچھ نہیں تھا۔۔
ولی محمد نے جھجکتے ہوئے اندر نظر ڈالی اور بولا ۔۔یہ کدال پتا نہیں کس کی ہے ۔۔ !
میں کدال کو اٹھا کر باہر لے آیا اور اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔۔۔یہ بھی جنات کی معلوم ہونی ہے۔۔
کدال کے پھل پر مٹی لگی ہوئی تھی جس سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ اسے حال میں ہی استعمال کیا گیا تھا۔۔۔واضح طور پر سخاوت علی کی قبر اسی کدال سے کھودی گئی تھی۔۔میں ٹوٹے ہوئے دروازے کے قریب گیا اور وہاں سے قبرستان کی طرف نگاہ دوڑائی۔۔خوشی محمد گورکن نے قبر سے نکلنے والے شخص کا جو رخ بتایا تھا وہ باڑے کی عمومی سمت میں تھا ۔۔
میرے ذہن میں صورتحال کا نقشہ کچھ یوں بنا۔سخاوت علی کی قبر کھودنے والا شخص اپنا کام مکمل کرنے کے بعد باڑے میں آیا تھا۔۔اس نے کدال کوٹھے کے اندر رکھ دی تھی اور نلکے پر ہاتھ پر دھوئے تھے۔۔ہاتھ دھوتے وقت اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر کھرے کے کنارے پر رکھ دی تھی اور جاتے وقت اسے اٹھانا بھول گیا تھا۔۔خوشبودار پھر بری غالباً اس کے کان سے گر گئی تھی۔۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ سخاوت علی کی لاش کہاں تھی۔۔؟ولی محمد کے بیان سے یہی اندازہ ہوتا تھا کہ جاتے وقت وہ خالی ہاتھ تھا۔۔ کم از کم اس کے پاس لاش جیسی بھاری چیز کوئی نہیں تھی۔۔کدال ہلکی چیز تھی اور بوجہ تاریکی نظر نہیں آئی ہوگی۔۔
یہ ثبوت ملنے کے بعد گورکن کی پوزیشن تقریبا صاف ہو گئی تھی۔لیکن اس نے سفید پوش شخص کو دیکھ کر جو اندازہ لگایا تھا وہ ٹھیک نہیں تھا۔۔
میں نے ولی محمد کو تسلی دی اور اسے یقین دلایا کہ اس کے باڑے پر کسی جن کا قبضہ نہیں ہے۔۔وہ سونے کی انگوٹھی پر پیسے ضائع نہ کرے۔۔۔ چاندی کی انگوٹھی اور پھر یری کو میں نے رومال میں لپیٹ کر جیب میں رکھ لیا۔۔۔
جب میں باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ گورکن ہاتھ ہلاتا ہوا میری طرف آ رہا تھا۔۔ اس کے چہرے پر پائی جانے والی چمک سے اندازہ ہوتا تھا کہ اسے کوئی نئی بات معلوم ہوئی تھی۔۔۔
میں رک گیا۔۔۔
اس نے قریب پہنچ کر کہا۔۔ جناب۔۔۔ میرا خیال ہے لاش کا پتہ چل گیا ہے ۔۔اگر آپ اجازت دیں تو ہم قبر کھود کر دیکھ لیں۔۔۔
کیا مطلب۔قبر کھود کر دیکھ لیں۔۔؟
آپ میرے ساتھ آئیں۔۔ اس نے کہا۔ یہ بات موقع پر ہی سمجھ میں آئے گی۔۔
میں اس کے ہمراہ دوبارہ کھدی ہوئی قبر پر پہنچ گیا۔۔
جناب میرا دماغ ہی چکرایا ہوا تھا۔۔ ورنہ یہ بات مجھے پہلے ہی نظر آجاتی۔۔ بات یہ ہے کہ میں ایک قبر پہلے ہی تیار رکھتا ہوں۔۔ یہ جو قبر آپ دیکھ رہے ہیں۔۔ دراصل یہ خالی قبر تھی۔۔ اس نے ایک نئی بنی ہوئی قبر کی طرف اشارہ کیا۔۔لیکن کسی نے اسے بند کر دیا ہے۔۔میرا خیال ہے کہ جس کسی نے یہ حرکت کی ہے اس نے بوڑھے کی لاش اس قبر میں دفن کر دی ہے۔۔اگر آپ اجازت دیں تو اسے کھود کر دیکھ لیا جائے۔۔۔
اچھی طرح سوچ لو۔۔ میں نے کہا ۔۔ایسا نہ ہو کہ یہ کسی اور کی قبر ہو۔۔
مجھے پورا یقین ہے جناب۔۔۔
اتنے میں صادق علی اور اس کا بیٹا اکرم لوگوں کو ہٹاتے ہوئے ہمارے قریب پہنچے۔ان کے چہروں سے فکر مندی اور پراگندگی عیاں تھی۔۔ دونوں گورکن کو گھورنے لگے۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔؟ اکرم نے پوچھا ۔۔۔سنا ہے کہ دادا جی کی لاش کا پتہ چل گیا ہے۔۔۔
گورکن نے انہیں نئی قبر کے بارے میں بتایا ۔۔ انہوں نے قبر کا جائزہ لیا اور آپس میں مشورہ کرنے لگے۔۔
یہ قبر تو واقعی خالی تھی۔۔۔ صادق علی نے کہا۔۔۔ یہ بات تو مجھے بھی یاد ہے۔۔۔ یہ تو کوئی معجزہ ہی لگتا ہے ۔۔
آس پاس کھڑے ہوئے کچھ اور لوگ بھی گفتگو میں شامل ہو گئے اور اس واقعے کو غیب کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔۔۔
ایک شخص جو۔۔ ان پڑھ فاضل۔ معلوم ہوتا تھا بولا۔۔یہ سب قدرت کا کرشمہ ہے۔۔سخاوت علی بڑا ذکر فکر کرنے والا بندہ تھا۔۔ایسے بندوں کا انتظام اللہ خود کرتا ہے۔وہ جگہ اس فانی فی اللہ بندے کے لئے موزوں نہیں تھی۔۔اللہ نے اس کے لیے یہ جگہ پسند کی ہے۔۔
پاس کھڑے ہوئے لوگ سبحان اللہ۔۔۔۔ سبحان اللہ کا ورد کرنے لگے۔۔ہماری قوم اس قسم کی باتوں سے فوراً متاثر ہوجاتی ہے اور رفتہ رفتہ ترمیم و اضافے سے اسے معجزہ بنا دیتی ہے ۔۔جب کوئی۔۔ عینی گواہ ۔۔اس قسم کی کرامت کا ذکر کرتا ہے تو اکثر صورتوں میں درحقیقت وہ اپنی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہوتا ہے اور اپنے زور بیان کے ذریعے وہ تمام سقم دور کر دیتا ہے جن پر اعتراض وارد ہو سکتا ہو۔۔۔
سخاوت علی کے معاملے میں بھی ایسی ہی صورت پیدا ہو سکتی تھی لیکن دو تین روز کے اندر بعض ایسے حیرت انگیز اور عبرت اثر حقائق منظر عام پر آئے کہ سارا معاملہ ہی الٹ گیا۔۔۔
اس قبر کو اب کوئی ہاتھ نہ لگائے۔۔ مذکورہ ان پڑھ فاضل شخص بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔۔۔ صادق علی یہاں سنگ مرمر کا عمدہ سا کتبہ لگوا دو اور ہر جمعرات کو اپنے باپ کی نزر نیاز نکال دیا کرو ایسے کراماتی بندے بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔۔
ایک شخص بولا۔۔اللہ۔۔اللہ۔۔کیسے کیسے نیک بندے دنیا سے اٹھ جاتے ہیں۔۔۔
واہ واہ اور سبحان اللہ کے شور میں ایک شخص نے کہا۔۔۔سخاوت علی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ اس کا خزانہ اس کے ساتھ ہی قبر میں جائے گا۔۔۔ شاید وہ قبر خزانے کے لیے ٹھیک نہیں تھی ۔
یہ بات دیگر باتوں کے شور میں دب گئی تھی۔۔ لیکن میں نے دیکھا کہ اکرم نے یہ بات بڑے غور سے سنی تھی اور وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا اور اس بات نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔
تھانیدار صاحب۔۔یہ معاملہ ختم ہی سمجھنا چاہیے۔۔۔ اکرم نے مجھ سے کہا۔۔ہمیں افسوس ہے کہ آپ کو تکلیف اٹھانا پڑی۔۔
اگرچہ میں مطمئن نہیں تھا۔۔لیکن میں واپس آگیا۔۔
شام کے وقت ہیڈ کلرک نے مجھے بتایا کہ جس شخص کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی گئی تھی وہ واپس آ گیا ہے۔۔
کس شخص کی بات کر رہے ہو۔۔۔؟ میں نے پوچھا۔۔۔
اس کا نام غلام عباس ہے۔۔ ہیڈ کلرک نے کہا۔۔۔ آپ کو یاد ہوگا صبح اس کی بیوی رپورٹ درج کروانے آئی تھی اس کا بیٹا اطلاع لے کر آیا ہے۔۔ادھر میرے کمرے میں بیٹھا ہے۔۔
اس کو میری طرف بھیجو ۔۔
وہ باہر گیا اور ایک نوجوان کو ساتھ لے کر واپس آیا۔۔
نوجوان کو دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ صبح وہ اپنی ماں کے ساتھ گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے آیا تھا اس کا نام تنویر عباس تھا ۔۔۔
تمہارا باپ کدھر ہے۔۔؟ میں نے پوچھا۔۔
جی وہ گھر پر ہیں۔۔۔۔ اس نے جواب دیا۔۔۔ انہیں کوئی ضروری کام تھا جس کی وجہ سے وہ صبح صبح گھر سے نکل گئے تھے۔۔ ہم یہ سمجھے کہ وہ رات کو گھر واپس نہیں آئے۔۔۔
انہیں یہ اطلاع دینے خود آنا چاہے تھا۔۔میں نے کہا۔۔۔انہیں کہنا کہ وہ کل تھانے آ کر اپنی گمشدگی کا حال بتا جائیں اور آئندہ احتیاط کرنا ۔۔سوچ سمجھ کر رپورٹ لکھوائی چاہیے۔۔ ہم لوگ اتنے فالتو نہیں ہیں۔۔
اس نے جلد بازی پر افسوس کا اظہار کیا اور سلام کر کے رخصت ہو گیا۔۔
چند منٹ کے بعد ایک سپاہی نے مجھے بتایا کہ وہ نوجوان صادق علی کا بھتیجا تھا۔۔
کون سا صادق علی۔۔؟ میں نے پوچھا۔۔
جناب وہی صادق علی جس کے باپ کی لاش گُم ہوگئی تھی!
میں نے چونک کر پوچھا۔۔تم نے یہ بات مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی۔۔
میں سمجھا کہ آپ کو یہ بات معلوم ہوگی۔۔
اس انکشاف سے میرے ذہن میں کئی سوالات پیدا ہوئے اور ان سوالات کے جواب معلوم کرنے کے لیے غلام عباس سے ملنا ضروری ہو گیا تھا۔۔
ضروری کاموں سے فارغ ہوتے ہوتے رات کے آٹھ بج گئے ۔تھانے سے فارغ ہوکر میں پہلے گھر گیا۔ وہاں کھانا کھایا تھوڑا سا آرام کیا اور لباس تبدیل کرکے غلام عباس کے گھر پہنچ گیا۔۔دستک کے جواب میں ایک لڑکی نے دروازہ کھولا اور میرے استفسار پر بولی۔۔ ابا جی تو گھر پر نہیں ہیں۔۔۔
کہاں گئے ہیں۔۔؟ میں نے پوچھا۔۔
میں پوچھ کر آتی ہوں۔۔وہ دروازہ بھیڑ کر اندر چلی گئی۔۔
تھوڑی دیر بعد اس کی ماں دروازے پر آئی پہلے تو اس نے مجھے پہچانا ہی نہیں۔۔۔ میں نے اپنا تعارف کرایا تو بولی۔۔۔ وہ تو اس وقت نہیں ہے۔۔۔لڑکے نے آپ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔۔ میں اسے صبح تھانے بھیج دوں گی۔۔
کیا وہ آج بھی سیر کرنے گیا ہے۔۔؟
اس نے تامل کرتے ہوئے کہا۔۔وہ کسی کام سے لائلپور گیا ہے۔۔صبح تک واپس آ جائے گا۔۔
معلوم ہوتا ہے کہ اسے اپنے باپ کی موت کا کوئی دکھ نہیں ہے۔۔ کل اس کا باپ فوت ہوا ہے اور وہ سیر کرتا پھر رہا ہے۔۔
ایسی تو بات نہیں ہے جی۔۔ زرینہ بیگم نے جواب دیا۔۔ وہ ابا جی کی وفات کے سلسلے میں ہی گیا ہے۔۔
میں نے جیب سے چاندی کی وہ انگوٹھی نکالی جو ولی محمد کے باڑے سے ملی تھی اور اسے دکھا کر پوچھا۔۔۔اس انگوٹھی کو پہچانتی ہو ۔۔؟
وہ رات کا وقت تھا اور صحن میں لگے ہوئے بلب کی مدہم روشنی دروازے تک پہنچتی تھی۔۔زرینہ نے انگوٹھی ہاتھ میں لے کر دیکھی تو اس کے چہرے پر الجھن نمودار ہوگی ۔۔
چاندی کی انگوٹھی لگتی ہے۔۔ اس نے انگوٹھی واپس کرتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔یہ کس کی انگوٹھی ہے ۔۔۔؟
زرینہ بی بی۔۔ یہ بات تو میں نے تم سے پوچھی ہے۔۔ کیا تم نے اس انگوٹھی کو پہچانا نہیں۔۔۔؟
وہ تامل کرتے ہوئے بولی۔۔ایسی ایک انگوٹھی میرے آدمی کے پاس بھی ہے ۔۔ پر پتا نہیں۔۔۔۔۔۔
اس نے وہ انگوٹھی پہچان لی تھی لیکن وہ اپنی پہچان کا اظہار کرنے میں ہچکچا رہی تھی۔۔یہی معاملہ صادق علی اور اس کے بیٹے کے ساتھ بھی تھا ۔انہوں نے بھی انگوٹھی پہچان لی تھی لیکن اقرار نہیں کیا تھا۔
بی بی۔۔تمہارے گھر کوئی خوشبو وغیرہ تو ضرور ہوگی۔۔
خوشبو۔۔۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔۔۔
میرا مطلب ہے کوئی عطر شطر۔۔ میں نے کہا ۔۔۔
میں آپ کا مطلب نہیں سمجھی۔۔
مطلب یہ ہے کہ اندر جاکر عطر کی شیشی لے آؤ۔۔۔ تمہارا آدمی عطر کا تو بہت شوقین ہے۔۔
وہ ہچکچاتی ہوئی اندر گئی اور ایک چھوٹی سی عطر کی شیشی اٹھا لائی۔۔میں نے اس کے ہاتھ سے شیشی لے کر اسے سونگھا پھر جیب سے روئی کی پھر یری نکال کر اسے بھی سونگھا۔۔دونوں کی خوشبو ایک سی تھی۔۔غالبا وہ چنبیلی کا عطر تھا۔۔
اب اس بات میں کوئی شک نہیں رہ گیا تھا کہ قبر کھودنے والا غلام عباس ہی تھا۔۔ تاہم یہ بات ہنوز تفتیش طلب تھی کہ اس نے ایسا کیوں کیا تھا۔۔۔
تمہیں اپنے سسر کی قبر کا معاملہ تو معلوم ہوچکا ہوگا۔ میں نے کہا۔۔۔گزشتہ رات کیسی نے اس کی قبر کھود کر لاش دوسری قبر میں دفنا دی ہے۔۔تمھارا دیور اس سلسلے میں تھانے آیا تھا مگر تمہارا میاں نظر نہیں آیا۔۔
ہمیں اس معاملے کا کوئی علم نہیں ہے جی۔۔یہ حرکت صادق علی نے ہی کی ہوگی۔۔ ہمارا ان سے زیادہ میل جول نہیں ہے۔۔
لاش غائب ہونے والی بات تو ساری بستی میں مشہور ہو چکی ہے۔۔ میں نے کہا۔۔۔ لوگ قبرستان کا چکر لگا رہے ہیں۔۔
میرا بیٹا تنویر بھی پتہ کرنے گیا تھا۔۔ وہ کہتا ہے کہ قبر کے بارے میں غلط فہمی ہو گئی تھی۔۔ میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگوں کو وہم ہو گیا ہے۔۔ بھلا کبھی لاش بھی غائب ہوتی ہے۔۔
غلام عباس لائلپور کیا کرنے گیا ہے۔۔؟
اس نے مجھے بتایا نہیں۔۔ مردوں کے کام مرد ہی جانیں۔۔
میں عطر کی شیشی ساتھ لے جا رہا ہوں۔۔ میں نے کہا۔۔ تمہارے آدمی کے ہاتھ واپس بھجوا دوں گا ۔۔وہ جیسے ہی واپس آئے اسے تھانے بھیج دینا۔۔
ابھی تک سارا معاملہ پولیس کے دائرہ اختیار سے باہر تھا۔۔آدھی رات کے وقت قبر کھودنا۔ لاش کو دوسری قبر میں دفن کرنا یا کسی ویران باڑے کے نلکے پر ہاتھ پیر دھونا کوئی جرم نہیں تھا۔۔لیکن میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ اس معاملے کی تہہ میں کہیں نہ کہیں کوئی جرم چھپا ہوا تھا۔
میرا اندازہ ٹھیک ہی نکلا۔۔ علی الصبح قتل کی ایک اطلاع ملی۔۔ ایک شخص قبرستان میں قتل ہو گیا تھا۔۔
مقتول ایک ایسی قبر پر پڑا تھا جو آدھی کھدی ہوئی تھی۔۔ اس کی ٹانگیں قبر کے اندر تھیں اور اوپر کا دھڑ باہر تھا ۔۔ اسے کسی تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا ۔۔۔ اس کا خون قبر کی مٹی میں جذب ہو چکا تھا۔۔۔
اے ایس آئی نے مجھے سلام کیا اور میرے استفسار پر بتایا کہ مقتول کا نام غلام عباس تھا اور جس قبر میں وہ پڑھا تھا وہ اس کے باپ کی تھی۔۔تب ہی میں نے غور سے قبر کا جائزہ لیا ۔یہ وہی قبر تھی جس میں مبینہ طور پر بوڑھے سخاوت علی کی لاش دفن کی گئی تھی۔۔
میرا خیال ہے کہ اس شخص کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا۔۔میں نے مقتول کے بارے میں اظہار خیال کیا۔۔کل رات اس نے اپنے باپ کی لاش اصل قبر سے نکال کر اس قبر میں دفن کی تھی۔آج یہ غالبا اسے واپس اصل قبر میں دفن کرنا چاہتا تھا اور لوگوں کا بھی یہی خیال ہے۔۔
اے ایس آئی میری گزشتہ روز والی تفتیش کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔میں نے اس سے پوچھا۔۔ غلام عباس کے قتل کے بارے میں لوگوں کا کیا خیال ہے۔۔۔؟
زیادہ تر لوگ اسے قدرت کا انتقام قرار دے رہے ہیں۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ غلام عباس نے قدرت کے کام میں دخل دے کر خود بھی موت کو آواز دی تھی۔۔
میں نے ہجوم کی طرف دیکھا تو مجھے اس شخص کا چہرہ نظر آیا جس نے گزشتہ روز خزانے کی بات کی تھی۔۔وہ ادھیڑ عمر کا پڑھا لکھا شخص معلوم ہوتا تھا۔میں نے اسے اشارے سے قریب بلایا اور نام پوچھا ۔۔اس نے اپنا نام ساجد بتایا۔۔۔
میں اسے ایک طرف لے گیا۔۔ساجد حسین۔کل تم نے کسی خزانے کا ذکر کیا تھا۔۔
وہ تھوڑا سا گھبرایا۔بولا۔۔وہ تو صرف سنی سنائی بات تھی۔۔
میں بھی یونہی پوچھ رہا ہوں۔۔۔پوری بات کیا ہے۔۔؟
پوری بات تو۔۔۔۔۔۔چاچا امام بخش کو ہی معلوم ہوگی۔۔اس نے جواب دیا۔۔اس کی اور سخاوت علی کی بڑی پرانی دوستی تھی ۔میں نے اسی سے یہ بات سنی تھی۔۔۔
میں نے اس سے چاچا امام بخش کا پتا پوچھ کر ڈائری میں نوٹ کر لیا اور اسے فارغ کردیا۔۔
ایک طرف غلام عباس کے رشتے دار پریشان کھڑے تھے۔ان میں اس کا بھائی صادق علی بھی تھا اور بیٹا تنویر بھی تھا۔۔میں نے ان سے سرسری گفتگو کی ۔۔۔وہ سب بھی قدرت کے انتقام کی بات کر رہے تھے۔۔خاصے توہم پرست لوگ تھے۔۔
ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میں نے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی۔۔موقع کے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے اور ایک اے ایس آئی کے ہمراہ غلام عباس کے گھر پہنچ گیا۔۔
میں نے غلام عباس کی بیوہ ۔زرینہ بیگم کو الگ بلا کر کہا۔۔۔مجھے تمہارے شوہر کی موت پر بہت افسوس ہے اور میں تمہارے غم میں برابر کا شریک ہوں۔۔اگرچہ غم کی وجہ سے تمہاری حالت ٹھیک نہیں ہے مگر ہمیں اپنی کارروائی بھی مکمل کرنا ہے اور اس سلسلے میں تم سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں۔۔
اب سوال جواب سے کیا فائدہ۔۔اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔۔جو ہونا تھا سو ہو چکا ۔۔۔
یہ تو ٹھیک ہے کہ ہم تمہارے شوہر کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتے لیکن اس کے قاتل کو قانون کے سامنے تو پیش کر سکتے ہیں۔۔
ہم نے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔۔ جس نے یہ ظلم کیا ہے اسے اللہ پکڑے کرے گا اور انشاءاللہ جلد پکڑے گا ۔۔
زرینہ بی بی۔۔۔۔ کل جب تم اپنے شوہر کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے آئی تھی تو تم نے میرے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ تم لوگ زبانی کلامی دشمنی سے کبھی آگے نہیں بڑھے مگر آج بات زبانی کلامی سے آگے بڑھ چکی ہے تمہارے خیال میں یہ حرکت کس کی ہے۔۔۔؟
تھانے دار صاحب ۔۔۔میں کسی کا نام نہیں لے سکتی میں کسی پر شک کر کے کیوں گناہ گار بنوں۔۔
پرسوں رات تمہارا شوہر گھر پر نہیں تھا مگر تم لوگوں نے غلط بیانی سے کام لیا اور کہا کہ وہ صبح صبح گھر سے نکل گیا تھا۔۔ کل رات تم نے مجھے بتایا کہ تمہارا شوہر کسی ضروری کام سے لائلپور گیا ہوا ہے لیکن وہ اس وقت گھر میں ہی تھا ۔۔۔
یہ تو آپ ہم پر ہی شک کر رہے ہیں۔۔۔
میرے پاس ثبوت موجود ہے کہ پرسوں رات بھی تمہارا شوہر قبرستان میں تھا اور اس نے اپنے باپ کی قبر کھودی تھی۔۔کل بھی وہ قبر ہی کھود رہا تھا لیکن قاتل نے اسے کام مکمل نہیں کرنے دیا۔۔زرینہ بی بی کیا تمہارا شوہر پاگل ہو گیا تھا۔۔؟
نہیں وہ بلکل ٹھیک ٹھاک تھا۔۔۔
پھر اس نے اپنے باپ کی قبر کیوں کھودی تھی۔۔؟کیا اسے قبر کے اندر سے کوئی خزانہ ملنے کی امید تھی۔۔؟
خزانے کے ذکر سے اس کے چہرے پر تھوڑی سی تبدیلی نظر آئی۔بولی۔۔مجھے اس بات کا کوئی علم نہیں۔۔
تمہارے سسر کہاں رہتے تھے۔۔؟
میرے دیور کے گھر میں رہتے تھے۔۔ میرے آدمی کے ساتھ ان کی بالکل نہیں بنتی تھی۔۔ قدرے توقف کے بعد اس نے اضافہ کیا۔بنتی تو کسی کے ساتھ بھی نہیں تھی لیکن صادق علی نے دولت کے لالچ میں انہیں اپنے پاس رکھ لیا تھا۔۔۔
کیا تمہارے سسر کے پاس بہت دولت تھی۔۔۔؟
ہوگی ۔۔ہم نے تو کھبی نہیں دیکھی۔۔۔جھوٹ کیوں بولوں۔۔۔
کو
ئی جائداد وغیرہ بھی نہیں۔۔۔؟
جائداد بھی تھی لیکن انھوں نے تھوڑی تھوڑی کر کے سب بیچ ڈالی تھی۔۔۔
یعنی جو کچھ بھی تھا ۔۔نقدی وغیرہ کی صورت میں تھا۔۔
یہ باتیں تو آپ صادق علی سے ہی پوچھیں۔۔
لیکن میں صادق علی سے پہلے امام بخش سے ملنا چاہتا تھا۔
یہاں کلک کر کے تیسری قسط پڑھیں

