رات کی تاریکی میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں… جو سنائی تو دیتی ہیں… مگر ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔
کچھ سواریاں ایسی ہوتی ہیں… جو ٹیکسی میں بیٹھتی تو ہیں… مگر وہ انسان نہیں ہوتیں۔
رات کے اُس پہر… جب پوری دنیا نیند میں ڈوبی ہوتی ہے… کچھ لوگ رزق کی تلاش میں سڑکوں پر نکلے ہوتے ہیں…
اور بعض اوقات… اُن کا سامنا کسی ایسے وجود سے ہو جاتا ہے… جسے دیکھنے کے بعد اُن کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہے۔
آج کی کہانی بھی ایک ایسے ہی کیب ڈرائیور کی ہے… جس نے لاہور کی ایک سرد اور دھند بھری رات میں… ایک ایسی مخلوق کو اپنی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بٹھایا… جسے یاد کر کے آج بھی اُس کا جسم کانپ اٹھتا ہے…
السلام علیکم…
میں ہوں فرزانہ خان… اور آپ دیکھ رہے ہیں Karim Voice۔
آج کی یہ خوفناک کہانی ہمیں لاہور، پاکستان سے ایک شخص نے بھیجی ہے… جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
ہم اس کہانی میں ان کا نام تبدیل کر کے عامر رکھ دیتے ہیں۔
آئیے… سنتے ہیں اُنہی کی زبانی… یہ خوفناک واقعہ…
میرا نام عامر ہے… اور میں لاہور میں رہتا ہوں۔
دن کے وقت میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں آفس بوائے کی نوکری کرتا ہوں… اور شام سے لے کر دیر رات تک اپنی پرانی سی گاڑی پر رائیڈ ہیلنگ ایپ چلا کر اپنا گزارا کرتا ہوں۔
یہ واقعہ پچھلے سال دسمبر کی ایک شدید سرد اور دھند بھری رات کا ہے۔
لاہور کی سردی اور دھند کا اپنا ہی ایک خوف ہوتا ہے… جب ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا… اور سڑکوں پر جلتی لائٹس ایسے محسوس ہوتی ہیں… جیسے ہوا میں معلق نارنجی رنگ کے دھندلے گولے تیر رہے ہوں۔
گھڑی پر رات کے 3 بج کر 15 منٹ ہو رہے تھے۔
میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک سگنل کے پاس اپنی گاڑی سائیڈ پر لگا کر کھڑا تھا۔
میری آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں… اور جسم تھکن سے ٹوٹ رہا تھا۔
میں اسٹیئرنگ وہیل پر سر رکھے اپنی آمدنی کا حساب لگا رہا تھا۔
ہاسٹل کی فیس… کھانے کے اخراجات… اور گاڑی کی مینٹیننس نکالنے کے بعد جو رقم بچتی… وہ مجھے گاؤں اپنی امی کو بھیجنی ہوتی تھی۔
لیکن حساب کسی صورت برابر نہیں آ رہا تھا۔
میرے ذہن میں یہی خیال گردش کر رہا تھا کہ اگر آج کی رات ایک یا دو اچھی رائیڈز مل جائیں… تو شاید کچھ اضافی پیسے بن جائیں۔
باہر دھند اس قدر گہری تھی کہ مجھے سڑک کا کنارہ بھی مشکل سے نظر آ رہا تھا۔
رِنگ روڈ کی طرف جانے والی ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔
سناٹا اس قدر گہرا تھا کہ مجھے اپنی گاڑی کے انجن کی ہلکی سی کمپن بھی واضح محسوس ہو رہی تھی۔
اچانک میرے موبائل کی اسکرین روشن ہوئی…
اور رائیڈ ریکویسٹ کی پنگ کی آواز نے اُس خوفناک خاموشی کو توڑ دیا۔
میں نے چونک کر اسکرین کی طرف دیکھا۔
پک اپ لوکیشن کچھ عجیب تھی۔
عام طور پر ایئرپورٹ کی رائیڈز ارائیول یا ڈیپارچر لین سے آتی ہیں…
لیکن یہ پن ایئرپورٹ کی باؤنڈری وال کے ساتھ… کارگو کمپلیکس کے پیچھے ایک کچی سڑک پر لگا ہوا تھا۔
وہ علاقہ عام طور پر رات کے وقت بالکل سنسان ہوتا ہے… اور وہاں کوئی آبادی بھی نہیں ہے۔
میرا پہلا خیال یہی تھا کہ شاید کوئی اسٹاف ممبر یا سیکیورٹی گارڈ ہوگا… جس کی ڈیوٹی ختم ہوئی ہو۔
مزید پڑھیں خبیث جن زادیاں
میں نے چند لمحے سوچا…
اور پھر رائیڈ قبول کر لی۔
دل میں یہی سوچا…
کہ یہ آج کی آخری رائیڈ ہوگی…
…دل میں خیال آیا کہ Ride ختم ہوتے ہی سیدھا Township اپنے کمرے جا کر سو جاؤں گا۔
میں نے گاڑی Gear میں ڈالی… Airport چوک سے U-Turn لیا… اور اُس کچی سڑک کی طرف بڑھ گیا جہاں Pickup Location Pin لگی ہوئی تھی۔
جیسے جیسے میں Main Road سے دور ہوتا گیا… دھند اور گہری ہوتی گئی۔
Street Lights ختم ہو چکی تھیں… اور اب صرف میری گاڑی کی Headlights سامنے اُڑتی ہوئی دھند کو چیر رہی تھیں۔
راستہ کچا اور اونچا نیچا تھا۔ دونوں طرف سرکنڈا اس قدر گھنا تھا کہ گاڑی کی باڈی سے ٹکرا رہا تھا۔
Navigation Map پر میں Pin کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔
وہاں دور دور تک کوئی Building نہیں تھی۔ صرف Airport کی لمبی Boundary Wall… اور دوسری طرف کھیتوں کا اندھیرا۔
میں نے گاڑی کی رفتار آہستہ کر دی۔
Headlights کی روشنی میں مجھے ایک سوکھا ہوا پرانا کیکر کا درخت نظر آیا…
اور اُس درخت کے نیچے… دھند میں لپٹا ہوا ایک سایہ کھڑا تھا۔
میں نے گاڑی درخت کے قریب روک دی۔
غور سے دیکھا تو وہ ایک بزرگ آدمی تھے۔
اُن کا حلیہ دیکھ کر میں تھوڑا حیران ہوا۔
انہوں نے ایک پرانی طرز کی مٹی آلود، Dust-covered شیروانی پہن رکھی تھی… جو شاید کبھی سفید رہی ہو… مگر اب میلی زردی مائل رنگ کی ہو چکی تھی۔
سر پر Karakul ٹوپی تھی… اور پاؤں میں پرانے چمڑے کے کھُسّے۔
ہاتھ میں ایک بھاری لکڑی کی لاٹھی تھی… جس کا Handle چاندی کا معلوم ہوتا تھا۔
وہ بالکل بُت کی طرح ساکت کھڑے تھے۔
دھند اُن کے گرد اس طرح لپٹی ہوئی تھی… جیسے وہ خود دھند کا حصہ ہوں۔
میں نے شیشہ نیچے کیا۔
السلام علیکم، بابا جی… آپ نے Ride Request کی تھی؟
انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بس اپنی تھرتھراتی انگلی سے گاڑی کے پچھلے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
اُن کا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا تھا… جیسے کوئی کاغذ مروڑ کر دوبارہ سیدھا کر دیا گیا ہو۔
آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی… اور اُن میں ایک عجیب سی ویرانی تھی۔
میں نے Door Lock کھولا۔
وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھے۔
اُن کے پاس زمین پر ایک لوہے کا صندوق رکھا ہوا تھا۔
یہ آج کل کے Bags جیسا نہیں تھا… بلکہ پرانے زمانے کا Heavy Metal Trunk تھا… جس پر زنگ لگا ہوا تھا… اور ایک بڑا سا تالا لٹک رہا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ صندوق کئی دہائیوں پرانا ہو۔
میں نے دل میں سوچا… اتنا بھاری صندوق یہ بزرگ کیسے اٹھائیں گے؟
میں Seat Belt کھول کر باہر نکلا… تاکہ اُن کی مدد کر سکوں اور صندوق کو گاڑی کی Diggi میں رکھ دوں۔
بابا جی لائیے… میں یہ Diggi میں رکھ دیتا ہوں… آپ آرام سے بیٹھ جائیں۔
میں نے ادب سے کہا اور ہاتھ بڑھایا۔
جیسے ہی میرا ہاتھ صندوق کے Handle کے قریب پہنچا…
اُن بزرگ نے اچانک اپنی لاٹھی میرے ہاتھ کی طرف اس انداز میں بڑھائی… جیسے مارنے والے ہوں۔
وہ اتنی تیزی سے حرکت میں آئے کہ میں گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔
اُن کی آواز پہلی بار نکلی…
خشک… بھاری… اور سرد۔
"نہ…"
اُن کی آواز بھاری اور گرجدار تھی… لیکن اُس میں ایک عجیب سی کھڑکھڑاہٹ بھی تھی… جیسے کوئی بہت پرانی، زنگ آلود چیز حرکت کر رہی ہو۔
انہوں نے دھیرے مگر سخت لہجے میں کہا…
"اے… ایہ میرے کول ہی رہو گا… میرے نال…"
یہ وہ پنجابی تھی… جو آج کے لاہور میں کم ہی سننے کو ملتی ہے…
یہ لہجہ اُن بزرگوں کا تھا… جو Partition سے پہلے کے زمانے کی یادگار ہوتے ہیں… خالص… بھاری… اور عجیب طور پر خوفناک۔
میں تھوڑا گھبرا گیا۔
بابا جی… یہ لوہے کا ہے… Seat پھٹ جائے گی… اور آپ کو بھی تکلیف ہوگی…
میں نے نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی۔
لیکن اُنہوں نے میری طرف ایسی نظروں سے دیکھا… کہ میری زبان وہیں رک گئی۔
اُن کی آنکھوں میں غصہ بھی تھا… اور ایک عجیب سا خوف بھی۔
وہ صندوق کو اپنے سینے سے اس طرح لگائے ہوئے تھے… جیسے اُس میں دنیا کی سب سے قیمتی چیز ہو۔
ٹھیک ہے بابا جی… جیسے آپ کی مرضی…
میں نے ہار مان لی… اور واپس Driving Seat پر آ کر بیٹھ گیا۔
وہ بڑی مشکل سے صندوق اٹھا کر پچھلی Seat پر بیٹھ گئے۔
صندوق واقعی بہت بھاری تھا… کیونکہ جیسے ہی انہوں نے اسے Seat پر رکھا… گاڑی کے Suspension نے ہلکی سی کراہ جیسی آواز نکالی۔
انہوں نے صندوق اپنی Lap میں رکھا… اور دونوں ہاتھوں سے اسے مضبوطی سے جکڑ لیا۔
میں نے گاڑی Start کی… اور App پر Start Ride کا بٹن دبا دیا۔
کہاں جانا ہے بابا جی؟
میں نے پوچھا… حالانکہ App پر Drop-off Location نظر آ رہی تھی۔
انہوں نے آہستہ سے کہا…
"ہڈیارا… پرانے کھوہ کول…"
یہ بھی وہی پرانی پنجابی تھی… بھاری… اور غیر مانوس۔
ہڈیارا لاہور کے Border Area کے قریب ایک علاقہ ہے… یہاں سے کافی دور… Ring Road سے اتر کر… برکی روڈ کے راستے وہاں پہنچنا تھا۔
میں نے Heater On کیا… کیونکہ Door کھلنے سے گاڑی کے اندر سردی بھر گئی تھی۔
لیکن عجیب بات یہ ہوئی… کہ Heater چلنے کے باوجود گرم ہوا نہیں آئی۔
Blower تو چل رہا تھا… مگر اُس میں سے برف جیسی ٹھنڈی ہوا نکل رہی تھی۔
میں نے فوراً Knob چیک کیا… وہ Red پر ہی تھا۔
یہ ابھی تو ٹھیک چل رہا تھا…
میں نے آہستہ سے خود سے کہا۔
اسی دوران… گاڑی کے اندر ایک عجیب سی بدبو پھیلنے لگی۔
یہ بدبو ایسی تھی… جیسے کسی پرانی Library میں رکھی صدیوں پرانی کتابوں سے آتی ہے…
پرانے کاغذ… نمی… اور بند کمرے کی گھٹن بھری بو۔
یہ بدبو اتنی شدید تھی… کہ مجھے اپنی ناک پر ہاتھ رکھنا پڑا۔
میں نے Rear View Mirror میں دیکھا۔
بابا جی بالکل خاموش بیٹھے تھے۔
اُن کا سر جھکا ہوا تھا… اور وہ مسلسل صندوق کو گھور رہے تھے۔
اُن کے کپڑوں سے گرد جھڑ رہی تھی… جو Seat پر گر رہی تھی۔
میں نے App پر دوبارہ Drop-off Location دیکھی۔
Pin ہڈیارا کے قریب تو تھی… لیکن کسی Road پر نہیں تھی۔
Map کے مطابق وہ جگہ کھیتوں کے درمیان تھی… جہاں کوئی راستہ نہیں جاتا تھا۔
بابا جی… یہ Map تو کھیتوں میں لے جا رہا ہے… کیا وہاں Road ہے؟
میں نے ہمت کر کے پوچھا۔
انہوں نے سر نہیں اٹھایا…
بس سخت لہجے میں کہا…
"تو گڈی چلا… مینوں راہ پتہ اے… سیدھا Ring Road تے چڑھ جا…"
میرا دل بے چین ہونے لگا تھا۔
رات کے 3:30 بج رہے تھے…
دھند اپنے عروج پر تھی…
اور میں ایک عجیب و غریب مسافر کو لے کر… ایک انجان منزل کی طرف جا رہا تھا۔
لیکن پیسوں کی مجبوری… اور اُن کے بزرگ ہونے کا لحاظ… مجھے خاموش رکھے ہوئے تھا۔
میں نے دل ہی دل میں سورۃ الفاتحہ پڑھی…
اور گاڑی کو واپس Main Road کی طرف موڑ لیا۔
مجھے اُس وقت بالکل اندازہ نہیں تھا…
کہ یہ سفر… میری زندگی کا سب سے لمبا… اور سب سے خوفناک سفر بننے والا ہے۔
گاڑی کا ماحول کسی قبر کی طرح ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
اور پچھلی Seat پر بیٹھا شخص… اب مجھے ایسا محسوس ہونے لگا تھا…
کہ وہ اکیلا نہیں ہے…
اُس صندوق میں کچھ ایسا تھا…
جس کا بوجھ… میری گاڑی کا Engine بھی محسوس کر رہا تھا۔
میں نے Steering مضبوطی سے پکڑا…
اور کچی سڑک سے نکل کر Lahore Ring Road کی Slip Lane پر چڑھ گیا۔
میں نے سوچا… شاید روشن Road پر آ کر میرا خوف کم ہو جائے گا۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔
Ring Road اس وقت بالکل سنسان تھی۔
دور دور تک کوئی گاڑی… کوئی Truck… کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔
Orange Lights دھند میں پھیل کر ایک عجیب… غیر حقیقی منظر بنا رہی تھیں۔
جیسے میں کسی اور ہی دنیا میں داخل ہو چکا ہوں…
جیسے ہی گاڑی کی رفتار بڑھی… Tyres کی آواز سنائی دینے لگی…
Ring Road کا Asphalt بالکل نیا تھا…
اور ہر گزرتا لمحہ… میرے دل کی دھڑکن کو اور تیز کر رہا تھا…
لیکن میری گاڑی کے Tyres سڑک پر ایسے شور کر رہے تھے… جیسے کوئی چیز انہیں نیچے سے پکڑ کر کھینچ رہی ہو۔ یہ آواز بالکل کسی دل کی دھڑکن جیسی تھی… بھاری… اور مسلسل۔ گاڑی کے اندر کا سناٹا اتنا گہرا تھا کہ مجھے اپنی سانسوں کی آواز بھی شور محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے شیشہ تھوڑا سا نیچے کیا تاکہ باہر کی ہوا اندر آئے۔
لیکن باہر سے بھی وہی قبر جیسی خاموشی اندر داخل ہوئی۔ پچھلی Seat پر بیٹھے بابا جی بالکل ساکت تھے۔ میں Rear View Mirror میں انہیں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا… مگر دھندلے شیشے اور اندھیرے کی وجہ سے وہ صاف نظر نہیں آ رہے تھے۔ اچانک گاڑی کے اندر ایک نئی آواز گونجی… اور میرا دھیان فوراً پیچھے کی طرف گیا۔
بابا جی اپنی چاندی کے Handle والی لاٹھی گاڑی کے فرش پر مار رہے تھے۔ وہ زور سے نہیں مار رہے تھے… بلکہ ایک خاص Rhythm میں… ایک عجیب سی Lay کے ساتھ۔ یہ آواز میرے دل کی دھڑکن کے ساتھ مل چکی تھی۔ جتنی تیز میری دھڑکن ہوتی… اتنی ہی تیزی سے وہ لاٹھی فرش پر لگاتے۔
مجھے لگا شاید وہ بے چین ہیں… یا جلدی اپنی منزل پر پہنچنا چاہتے ہیں۔ میں نے ماحول کو تھوڑا نارمل کرنے کے لیے بات شروع کی۔ بابا جی… آپ کی Flight Late ہو گئی تھی کیا؟ آپ کہاں سے آ رہے ہیں؟ میں نے سوچا شاید وہ UK یا Dubai سے آئے ہوں گے… کیونکہ اکثر بزرگ وہاں سے واپس آتے ہیں۔
لیکن انہوں نے میرے سوال کا کوئی سیدھا جواب نہیں دیا۔ اُن کی نظریں سامنے نہیں تھیں… بلکہ خلا میں جمی ہوئی تھیں۔ پھر انہوں نے آہستہ آہستہ بڑبڑانا شروع کیا… "گڈی نکل گئی سی… امرتسر دی آخری گڈی نکل گئی سی…" اُن کی آواز میں اتنا درد… اور اتنا خوف تھا… کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
"سکینہ نوں کہنا… صندوق سنبھال کے رکھے… اس وچ زیور نہیں… عزتاں نیں…"
میں نے حیرت سے Mirror میں دیکھا۔ بابا جی… امرتسر؟ وہ تو India میں ہے… کیا آپ وہاں سے آئے ہیں؟ لیکن انہوں نے میری بات سنی ہی نہیں۔ وہ اپنے ہی کسی اور زمانے میں کھوئے ہوئے تھے۔ "آگ… ہر پاسے آگ لگی ہوئی اے… بچے رو رہے نیں… بھاگو… مسلمانوں بھاگو…"
میرا دماغ گھومنے لگا۔ یہ بزرگ شاید Demensia کے مریض تھے… یا کسی گہرے صدمے میں تھے۔ وہ 1947 کی باتیں کر رہے تھے… جیسے یہ سب کچھ ابھی ہو رہا ہو۔ میں نے انہیں خاموش کروانے کے لیے غور سے Rear View Mirror میں دیکھا… لیکن جو میں نے دیکھا… اُس نے میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے کر دیے۔
Mirror میں پچھلی Seat بالکل صاف نظر آ رہی تھی۔ Seat کا Cover… اُس پر جمی گرد… Seat Belt کا Buckle… سب کچھ واضح تھا۔ لیکن بابا جی کا چہرہ… دھندلا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے Mirror اُن کے چہرے پر Focus ہی نہیں کر پا رہا۔ اُن کا جسم وہاں موجود تھا… شیروانی بھی نظر آ رہی تھی… مگر چہرہ ایسے ہل رہا تھا… جیسے دھواں ہوا میں تیر رہا ہو۔
میں نے اپنی آنکھیں ملیں۔ عامر… خود کو سنبھال… شاید تجھے نیند آ رہی ہے۔ میں نے خود کو سمجھایا۔ میں نے سوچا شاید Mirror گندا ہے۔ اسی دوران ہم Ring Road سے اتر کر برکی روڈ کے Interchange پر پہنچ چکے تھے۔ برکی روڈ لاہور کے دیہاتی علاقوں کی طرف جاتی ہے… اور آگے Border کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔
جیسے ہی گاڑی Ring Road سے اتر کر برکی روڈ کے سنگل Track پر آئی… اندھیرا اچانک بڑھ گیا۔ یہاں Street Lights بالکل نہیں تھیں۔ دونوں طرف گہرے کھیت تھے… اور درختوں کے جھنڈ… جو دھند میں کسی بھوت کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ دھند اس قدر گہری تھی کہ مجھے Bonnet سے آگے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔
میں نے گاڑی کی رفتار کم کر کے تقریباً 20 Km/h کر دی۔ میں Steering Wheel پر جھک کر شیشے سے باہر دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا… کہ کہیں گاڑی سڑک سے نیچے نہ اتر جائے۔ تبھی اچانک گاڑی کا Radio خود بخود On ہو گیا۔
میں نے Radio On نہیں کیا تھا۔ وہ خود ہی چل پڑا تھا۔ سناٹے میں اس اچانک آواز نے مجھے بری طرح چونکا دیا۔ میں نے فوراً ہاتھ بڑھایا تاکہ اسے بند کر سکوں… لیکن Volume Knob کام نہیں کر رہا تھا۔ Static کی آواز کے درمیان سے کچھ آوازیں ابھرنے لگیں…
یہ کوئی گانا نہیں تھا…
یہ خبریں تھیں…
"بکتر بند گاڑیاں لاہور پہنچ چکی ہیں… فسادات پھیل چکے ہیں… ریل گاڑی کو روک لیا گیا ہے…"
یہ آواز کسی پرانے Radio Presenter کی تھی… بالکل ویسی… جیسی 1940 کی پرانی Recordings میں سنائی دیتی ہے۔ صاف اردو… مگر انگریزوں والا لہجہ۔ میں نے گھبرا کر Volume کم کرنے کی کوشش کی… مگر آواز کم ہونے کے بجائے اور زیادہ بلند ہو گئی… اور پھر اچانک News رک گئی۔
اور اُس کے بعد… شور شروع ہو گیا۔ عورتوں کی چیخیں… بچوں کے رونے کی آوازیں… لوہے کے ٹکرانے کی آوازیں… تلواروں کی جھنکار… اور ایک Train کی لمبی سیٹی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میری گاڑی کے اندر جنگ ہو رہی ہو۔
"بند ہو جا!" میں نے گھبرا کر Dashboard پر زور سے مکا مارا۔ بابا جی… یہ Radio خراب ہو گیا ہے… میں ابھی اسے بند کرتا ہوں… میں نے اونچی آواز میں کہا… تاکہ شاید انہیں تسلی ملے۔ لیکن جیسے ہی میں نے سانس لی… مجھے محسوس ہوا کہ گاڑی کی فضا بدل چکی ہے۔
پہلے جو پرانی Library اور کاغذوں جیسی بو تھی… وہ ختم ہو چکی تھی۔ اب اُس کی جگہ ایک نئی بو نے لے لی تھی۔ تازہ خون کی بو… بالکل ویسی… جیسی کسی قصائی کی دکان پر ہوتی ہے… مگر اُس سے کہیں زیادہ تیز… زیادہ گھٹن والی۔ اور اُس کے ساتھ… جلی ہوئی لکڑی اور گوشت کی بدبو۔
میرا دم گھٹنے لگا۔ میں نے فوراً گاڑی کے چاروں شیشے نیچے کر دیے… مگر باہر سے تازہ ہوا آنے کے بجائے… دھند اور وہی بدبو مزید اندر داخل ہو گئی۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ "عامر… گاڑی روک… اور بھاگ جا…" میرا ذہن چیخ رہا تھا۔
میں نے دوبارہ Mirror میں دیکھا۔ بابا جی اب سیدھے بیٹھے تھے۔ اُن کا سر جھکا ہوا تھا… جیسے وہ سو رہے ہوں… یا شاید رو رہے ہوں۔ Radio پر چیخیں اب بھی جاری تھیں… مگر اب وہ گاڑی کے Speakers سے نہیں… بلکہ میرے کانوں کے اندر سے آ رہی تھیں۔
اچانک… بابا جی نے اپنا سر اٹھایا۔ اندھیرے میں… میں نے اُن کی آنکھیں دیکھیں… اور میرا خون جم گیا۔ اُن کی آنکھوں میں Pupils نہیں تھیں… سیاہ حصہ غائب تھا۔ صرف سفید گولے تھے… جو اندھیرے میں ہلکا سا چمک رہے تھے… جیسے Radium ہو۔
اُن کا چہرہ اب جھریوں والا نہیں لگ رہا تھا… بلکہ عجیب طرح سے تن گیا تھا… جیسے کسی ناقابلِ برداشت درد میں ہو۔ انہوں نے Mirror کے ذریعے سیدھا میری آنکھوں میں دیکھا… اور پھر اپنا منہ کھولا…
"روک…"
یہ آواز کسی ایک بزرگ کی نہیں تھی۔ یہ آواز ایک دھماکہ تھی… جس میں سینکڑوں آوازیں شامل تھیں۔ مرد… عورتیں… بچے… سب ایک ساتھ چیخ رہے تھے۔ میری پوری Cultus بری طرح ہلنے لگی… جیسے کسی نے باہر سے پکڑ کر اسے زور سے جھنجھوڑ دیا ہو۔ Dashboard کی Lights Flicker کرنے لگیں… Engine نے ایک خوفناک سی آواز نکالی… جیسے وہ بھی ڈر گیا ہو۔
میں نے گھبرا کر Brake پر زور سے پاؤں رکھ دیا۔ Tyres سڑک پر گھسٹتے ہوئے چیخے… اور گاڑی گھومتی ہوئی کچی مٹی پر اتر گئی… اور ایک زوردار جھٹکے سے رک گئی۔ اسی لمحے Radio بند ہو گیا… Engine بند ہو گیا… اور ہر چیز پر اچانک موت جیسی خاموشی چھا گئی۔
میرے ہاتھ Steering Wheel پر جم چکے تھے۔ سانس تیز اور بے قابو تھی۔ میں نے آہستہ سے اِدھر اُدھر دیکھا… ہم برکی روڈ سے اتر چکے تھے۔ گاڑی ایک سنسان Dirt Track پر کھڑی تھی۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا… صرف Headlights سامنے کھڑے گنے کے کھیت کو روشن کر رہی تھیں۔
میں نے ہمت کر کے پچھلی Seat کی طرف دیکھا۔ بابا جی وہیں بیٹھے تھے۔ اُن کی آنکھیں اب نارمل تھیں۔ وہ اب غصے میں نہیں لگ رہے تھے… بلکہ کھڑکی سے باہر اندھیرے کھیتوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ اُن کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔
"پہنچ گئے…" انہوں نے سرگوشی کی۔
اُن کی آواز اب بالکل مختلف تھی… جیسے سوکھے پتے پیروں کے نیچے کچلے جا رہے ہوں۔ میں نے اُس طرف دیکھا جہاں وہ اشارہ کر رہے تھے۔ دھند کے پار… اندھیرے میں… ایک ٹوٹی ہوئی… جلی ہوئی اینٹوں کی دیوار کھڑی تھی۔ وہ کسی پرانی حویلی کا حصہ لگ رہی تھی… جو شاید صدیوں پہلے جل چکی تھی۔
اور تب… مجھے احساس ہوا… کہ میں کہاں ہوں… اور میری گاڑی کی پچھلی Seat پر کون بیٹھا ہے۔
میرا جسم سن ہو چکا تھا۔ مگر خوف ابھی ختم نہیں ہوا تھا… اصل خوف تو اب شروع ہونے والا تھا… جب وہ گاڑی سے اترنے والے تھے۔ Engine بند تھا… مگر میری سانسیں کسی Train کے Engine کی طرح چل رہی تھیں۔ پسینہ میری پیشانی سے بہہ کر آنکھوں میں جا رہا تھا… مگر میں ہاتھ ہلانے کی ہمت بھی نہیں کر پا رہا تھا۔
بابا جی نے آہستہ سے اپنا ہاتھ نیچے کیا… اور پھر دوبارہ اُس جلی ہوئی دیوار کی طرف اشارہ کیا۔ گاڑی کے اندر کا Temperature اچانک گر چکا تھا۔ خون اور جلی ہوئی لکڑی کی بدبو اب اور زیادہ شدید ہو گئی تھی۔
انہوں نے آہستہ سے اپنی گردن میری طرف موڑی… اُن کا چہرہ بالکل سپاٹ اور بے جان تھا۔ اُن کے ہونٹ حرکت میں آئے…
"او اُ
دھر نے… او انتظار کر رہے نیں…"
اُن کی آواز اب انسانی نہیں لگ رہی تھی… بلکہ ایسی… جیسے دو خشک ہڈیاں آپس میں رگڑ کھا رہی ہوں۔
"کون بابا جی…؟ کون انتظار کر رہا ہے…؟" میں نے کانپتی آواز میں پوچھا۔
انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس اپنی شیروانی کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالا… اور ایک پرانا سا سکہ نکالا… پھر میرا ہاتھ پکڑا… اور وہ سکہ میری ہتھیلی پر رکھ دیا…
اُن کا ہاتھ… برف کی طرح ٹھنڈا نہیں تھا۔ وہ آگ کی طرح گرم تھا۔ ایسا لگا جیسے کسی نے جلتا ہوا کوئلہ میری ہتھیلی پر رکھ دیا ہو۔ میں چیخنا چاہتا تھا، ہاتھ کھینچنا چاہتا تھا، مگر میرا جسم سن ہو چکا تھا۔
"اے تیرا کرایا پُتر، مہربانی…" انہوں نے کہا۔ اور پھر ایک ایسی پھرتی کے ساتھ، جو اُس عمر کے بزرگ میں ناممکن لگتی ہے، وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئے۔ انہوں نے وہ بھاری لوہے کا صندوق، جسے اٹھانے کے لیے مجھے پہلے مدد کرنی پڑی تھی، ایک ہاتھ سے ایسے اٹھا لیا جیسے وہ ماچس کی ڈبیا ہو۔
وہ دھند میں اتر گئے۔ میں نے فوراً گاڑی کی cabin light ON کی اور اپنی ہتھیلی دیکھی۔ وہاں ایک پرانا چاندی کا سکہ پڑا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا، یہ ₹1 کا سکہ تھا۔ اُس پر برطانوی بادشاہ King George VI کی تصویر بنی ہوئی تھی اور سال لکھا تھا… 1947۔
وہ سکہ ابھی تک گرم تھا، جیسے ابھی ابھی بھٹی سے نکلا ہو۔ میری ہتھیلی کی کھال سرخ ہو رہی تھی۔ میں نے گھبرا کر وہ سکہ dashboard پر پھینک دیا۔ میں نے سر اٹھا کر کھڑکی سے باہر دیکھا کہ بابا جی کہاں گئے؟ ابھی انہیں گاڑی سے اترے ہوئے مشکل سے پانچ سیکنڈ گزرے ہوں گے… مگر وہ وہاں نہیں تھے۔
گاڑی کے آس پاس، کچی سڑک پر، کھیتوں میں دور دور تک کوئی نہیں تھا۔ اتنی جلدی کوئی کہاں جا سکتا ہے؟ وہ بھی اتنا بھاری صندوق اٹھا کر؟ اور زمین پر اُن کے قدموں کے نشان بھی نہیں تھے، حالانکہ وہاں گیلی مٹی تھی۔ میں ابھی یہ سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ اچانک ایک کان پھاڑ دینے والی سیٹی کی آواز آئی۔
یہ پولیس کی سیٹی نہیں تھی۔ یہ کسی factory کا siren نہیں تھا۔ یہ Steam Engine… بھاپ والے انجن کی سیٹی تھی۔ آواز اتنی زور دار اور اتنی قریب تھی کہ مجھے لگا جیسے ریل گاڑی میری گاڑی کے بالکل اوپر سے گزرنے والی ہے۔
لیکن میں جانتا تھا… برکی کے ان کھیتوں میں میلوں دور تک کوئی railway track نہیں ہے۔ میرا دل سینے سے باہر آنے لگا۔ میں نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ ریل گاڑی کے پہیوں کی آواز زمین سے آ رہی تھی۔ میری گاڑی ہل رہی تھی… اور پھر دھند کا رنگ بدلنے لگا۔
سفید دھند… اچانک سیاہ دھوئیں میں بدل گئی۔ وہ بو… جلے ہوئے گوشت کی بو… اب ناقابلِ برداشت ہو چکی تھی۔ میں نے اُس ٹوٹی ہوئی دیوار کی طرف دیکھا، جہاں بابا جی نے اشارہ کیا تھا۔ وہاں… اُس دیوار کے پیچھے سے سائے نکل رہے تھے۔ ایک نہیں… دو نہیں… درجنوں۔
وہ انسان تھے… یا کبھی انسان تھے۔ دھوئیں اور اندھیرے میں میں اُن کے چہرے صاف نہیں دیکھ پا رہا تھا، مگر اُن کی حالت نظر آ رہی تھی۔ اُن کے کپڑے جلے ہوئے تھے… پھٹے ہوئے تھے… کچھ کے جسم پورے نہیں تھے… کسی کا بازو نہیں تھا… کوئی لنگڑا کر چل رہا تھا۔
وہ سب اُس دیوار سے نکل کر میری گاڑی کی طرف آ رہے تھے۔ خاموشی سے… بغیر کسی آہٹ کے… صرف وہ chuk-chuk کی آواز background میں چل رہی تھی۔ اُن میں سب سے آگے وہی بابا جی تھے… مگر اب اُن کے ہاتھ میں صندوق نہیں تھا۔ اُن کے ہاتھ خالی تھے… اور پھیلے ہوئے تھے… جیسے وہ کسی کو بلا رہے ہوں۔
اُن کے پیچھے اور لوگ تھے۔ عورتیں، جنہوں نے اپنے سینے سے کچھ چمٹایا ہوا تھا۔ بچے، جو رو رہے تھے… مگر اُن کی کوئی آواز نہیں تھی۔ وہ سب میری طرف بڑھ رہے تھے… نہیں… وہ شاید گاڑی کی اُس روشنی کو دیکھ رہے تھے… جو میں نے cabin میں جلائی تھی۔
"یا اللہ… یا اللہ…" میری زبان سے بے اختیار نکلا۔ میرا پورا جسم خوف سے ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ مگر دماغ نے کہا… بھاگ اویس… ورنہ یہ تجھے بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے۔
میں نے گاڑی start کرنے کے لیے چابی گھمائی… مگر engine نے start ہونے سے انکار کر دیا۔ وہ سائے قریب آ رہے تھے۔ اب میں اُن کے جلے ہوئے چہرے دیکھ سکتا تھا۔ اُن کی آنکھیں… وہی سفید، بے نور آنکھیں۔ اُن میں غصہ نہیں تھا… صرف بے پناہ غم اور تکلیف تھی… ایسی تکلیف… جو موت کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
"Start ہو جا… بھائی… Start ہو جا…" میں نے steering پر ہاتھ مارا۔ میں نے Ayat-ul-Kursi پڑھنا شروع کی۔ آواز حلق سے نکل ہی نہیں رہی تھی… بس ہونٹ ہل رہے تھے۔ "Allahu la ilaha illa huwa al-hayyul qayyum…"
جیسے ہی میں نے "Al-Hayyul Qayyum" کہا… engine نے ایک جھٹکا لیا… اور Start ہو گیا۔ سامنے والے سائے اب گاڑی کے bonnet سے صرف چند فٹ دور تھے۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے گاڑی کو reverse gear میں ڈالا اور accelerator پر پاؤں رکھ دیا۔
Tyres گیلی مٹی میں گھومنے لگے… گاڑی پھنس گئی تھی۔ میرے سامنے ایک عورت کا سایہ… گاڑی کے bonnet پر ہاتھ رکھنے ہی والا تھا۔ میں نے پوری طاقت سے "یا اللہ!" چیخا اور accelerator کو زور سے دبایا۔
اچانک tyres کو grip ملی… اور گاڑی اچھلتی ہوئی پیچھے کی طرف بھاگ نکلی۔ میں نے گاڑی کو اندھادھند، blind reverse کیا۔ میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں بس اُس منحوس جگہ سے دور جانا چاہتا تھا۔
میں نے گاڑی گھمائی… اور برکی روڈ کی طرف پوری رفتار سے دوڑا دی۔ میرا پاؤں accelerator سے ہٹ نہیں رہا تھا۔ speedometer 80… 90… 100 پر پہنچ گیا۔ دھند ابھی بھی تھی… مگر اب وہ سیاہ دھواں نہیں تھا۔
وہ chuk-chuk کی آواز آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی… اور پھر مکمل غائب ہو گئی۔ مگر وہ بو… وہ اب بھی گاڑی کے اندر موجود تھی۔ میں روتا جا رہا تھا… اور پڑھتا جا رہا تھا۔ میرا جسم بری طرح کانپ رہا تھا۔
مجھے لگ رہا تھا جیسے وہ سائے اب بھی میری پچھلی seat پر بیٹھے ہیں۔ میں نے mirror میں دیکھنے کی ہمت نہیں کی۔ میں بس سامنے دیکھتا رہا۔ تقریباً پندرہ منٹ بعد، مجھے دور نیلی اور لال بتیاں نظر آئیں۔
وہ DHA Phase 8 کا border check post تھا۔ وہاں police اور فوجی کھڑے تھے۔ زندہ انسان… اُنہیں دیکھ کر میری جان میں جان آئی۔ میں نے گاڑی slow کی اور check post سے گزر گیا۔
جب میں روشن سڑکوں پر پہنچا… تب جا کر میں نے گاڑی side پر روکی۔ میرے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے… سانس بے قابو تھا… اور دل ابھی تک یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ میں زندہ ہوں۔
اور آج تک… وہ 1947 کا سکہ… میرے پاس موجود ہے۔ مگر میں نے اُس رات کے بعد… کبھی دوبارہ برکی روڈ پر اکیلے جانے کی ہمت نہیں کی۔ کیونکہ کچھ راستے… صرف راستے نہیں ہوتے… وہ وقت کے زخم ہوتے ہیں… جو کبھی نہیں بھرتے۔
اگر آپ بھی اپنی کوئی خوفناک کہانی ہمارے ساتھ share کرنا چاہتے ہیں… تو ہمارا WhatsApp number description میں موجود ہے۔ اپنی کہانی ہمیں ضرور ۔بھیجیں… شاید آپ کی کہانی… اگلی آواز بن جائے
اگر اپ اور بھی ایک خوفناک کہانی پڑھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیا گیا لنک کھولیں اور پڑھیں

