ایک قدیم ریاست تھی جہاں تخت پر بیٹھا بادشاہ دل کا برا نہیں تھا، مگر سوچ میں کمزور تھا۔ فیصلے کرنے سے پہلے گہرائی میں جانچنا اس کی عادت نہیں تھی۔ جو بات دربار میں کہہ دی جاتی، وہی اس کے لیے سچ بن جاتی۔ایک دن اسے بتایا گیا کہ جیل میں ایک قیدی قید ہے، جسے برسوں پہلے اس کے والد نے موت کی سزا سنائی تھی۔ مگر سزا پر عمل ہونے سے پہلے ہی بادشاہ کے والد کا انتقال ہو گیا، اور یوں وہ قیدی وقت کے اندھیروں میں بھلا دیا گیا۔بادشاہ نے یہ سنا تو نہ جرم پوچھا، نہ وجہ۔ بس اتنا کہا کہ جب سزا لکھی جا چکی تھی تو اب اس میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ حکم جاری ہوا کہ اگلی صبح قیدی کو پھانسی دے دی جائے۔جب یہ حکم قید خانے تک پہنچا تو وہاں خاموشی پھیل گئی۔ مگر وہ قیدی چیخا نہیں، رویا نہیں۔ وہ عام قیدیوں جیسا نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں میں خوف کے بجائے حساب کتاب تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وقت کم ہے، مگر عقل ابھی زندہ ہے۔وہ بیٹھا ہوا زمین کو دیکھتا رہا، پھر آہستہ آہستہ مسکرایا۔ وہ جانتا تھا کہ جس بادشاہ نے سوچے بغیر حکم دیا ہے، وہ سچ اور فریب کے بیچ کا فرق بھی شاید نہ کر پائے۔ اس نے دل ہی دل میں کہا کہ اگر تلوار سے بچنے کا کوئی راستہ ہے تو وہ زبان اور عقل کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔رات گہری ہوتی گئی، مگر اس قیدی کے ذہن میں ایک تدبیر روشن ہوتی چلی گئی۔ ایک ایسی تدبیر جو یا تو اس کی جان بچا سکتی تھی… یا اس کی موت کو بھی ایک مثال بنا سکتی تھی۔صبح کی ہلکی روشنی ابھی پوری طرح پھیلی بھی نہیں تھی کہ اسے تختۂ دار کے پاس لایا گیا۔ لوگوں کی نظریں اس پر جمی تھیں، مگر وہ حیرت انگیز طور پر پُرسکون کھڑا تھا۔ بادشاہ نے رسم کے مطابق پوچھا کہ مرنے سے پہلے اس کی کوئی آخری خواہش ہے؟قیدی نے سر اٹھایا اور نہایت سنجیدگی سے کہا کہ اگر اسے پھانسی دینی ہی ہے تو اس کے لیے جو دو گھوڑے لائے جائیں وہ خالص نسلی ہونے چاہئیں۔ دربار میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ بادشاہ نے حیران ہو کر پوچھا کہ اس کا اس سے کیا تعلق؟ قیدی نے بس اتنا کہا کہ موت بھی وقار سے ہونی چاہیے، اور وہ چاہتا ہے کہ اسے ایسے گھوڑوں کے سامنے لٹکایا جائے جو خالص نسل کے ہوں۔سادہ دل بادشاہ نے اس مطالبے کو عجیب ضرور سمجھا، مگر رد نہ کیا۔ حکم ہوا کہ پورے ملک سے بہترین نسلی گھوڑے تلاش کیے جائیں۔ تلاش میں وقت لگا، اور یوں پھانسی ایک دن کے لیے ملتوی ہو گئی۔ لوگ سمجھ رہے تھے کہ یہ محض ایک ضد ہے، مگر قیدی کے ذہن میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔اگلے دن دو شاندار گھوڑے لائے گئے۔ چمکتی کھال، اونچی گردن، مضبوط قدم۔ سب کو یقین تھا کہ یہ بہترین نسل کے ہیں۔ قیدی نے انہیں غور سے دیکھا، ان کے قدموں کی چاپ سنی، آنکھوں میں جھانکا، پھر اچانک بلند آواز میں کہا کہ ان میں سے ایک گھوڑا جنگلی ہے اور دوسرا خالص نسلی۔دربار میں کھلبلی مچ گئی۔ ماہرین کو بلایا گیا، پرانی نشانیاں دیکھی گئیں، نسب نامے کھنگالے گئے۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ واقعی ایک گھوڑا جنگل سے پکڑا گیا تھا اور بعد میں اسے تربیت دی گئی تھی، جب کہ دوسرا خالص نسل کا تھا۔ سچ سامنے آ گیا۔بادشاہ اس کی باریک بینی اور اعتماد پر دنگ رہ گیا۔ ایک ایسا شخص جو موت کے دہانے پر کھڑا ہو کر بھی اتنی ٹھوس بات کہہ سکتا ہے، وہ معمولی انسان نہیں ہو سکتا۔ اسی وقت اس نے اعلان کیا کہ اس کی موت کی سزا معاف کی جاتی ہے اور اسے عمر قید دی جاتی ہے۔قیدی نے سر جھکا لیا۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ وہ جانتا تھا کہ جو کچھ ہوا وہ محض اس کی عقل کا نتیجہ نہیں، بلکہ تقدیر کا فیصلہ تھا۔ اس نے دل میں کہا کہ جب تک اللہ چاہے گا، زندگی باقی رہے گی۔کچھ مہینوں بعد ایک اور معاملہ پیش آیا۔ بادشاہ کے پاس ایک قیمتی ہار لایا گیا، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کے ہیرے نایاب اور بے حد قیمتی ہیں، مگر کچھ لوگوں کو ان کی اصلیت پر شک تھا۔ بادشاہ کو فوراً اسی قیدی کی یاد آئی۔اسے دربار میں لایا گیا۔ اس نے ہار کو ہاتھ میں لیا، دیر تک غور سے دیکھا، پھر اسے سورج کی روشنی میں اٹھا کر مختلف زاویوں سے گھمایا۔ روشنی کے عکس کو پرکھا، چمک کی گہرائی دیکھی، اور نہایت اطمینان سے کہا کہ اس ہار کے زیادہ تر ہیرے نقلی ہیں۔دوبارہ جانچ پڑتال ہوئی، اور نتیجہ وہی نکلا جو اس نے کہا تھا۔ بادشاہ اس کی ذہانت سے پھر متاثر ہوا، مگر اس بار اس کا انعام عجیب سا تھا۔ خوش ہو کر اس نے اسے انعام میں پانچ روٹیاں دینے کا حکم دیا۔قیدی نے وہ روٹیاں خاموشی سے لے لیں۔ اس کے چہرے پر نہ شکوہ تھا نہ حیرت۔ شاید وہ جان چکا تھا کہ دنیا کی نظر میں اس کی قیمت پانچ روٹیوں سے زیادہ نہیں، مگر اللہ کے فیصلوں میں اس کی زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی تھیجب قیدی کو انعام میں پانچ روٹیاں دی گئیں تو وہ چند لمحے انہیں دیکھتا رہا۔ پھر اس کے ہونٹوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ آئی اور اس نے دھیمی مگر کاٹ دار آواز میں کہا کہ یہ نان بائی کا بچہ خود کو آخر سمجھتا کیا ہے۔ قید خانے میں موجود سپاہیوں نے یہ جملہ سنا تو سنا ان سنا کر دیا، مگر بات دیواروں میں نہیں رکی۔ آہستہ آہستہ یہ الفاظ دربار تک پہنچ گئے۔بادشاہ نے سنا تو اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ رگیں تن گئیں، آواز بلند ہوئی، اور اس نے حکم دیا کہ قیدی کو فوراً اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ قیدی لایا گیا تو بادشاہ نے غصے میں پوچھا کہ اس نے یہ گستاخی کیوں کی۔ قیدی نے بلا خوف سر اٹھایا اور کہا کہ اگر بادشاہ سچ جاننا چاہتا ہے تو اپنے بزرگوں سے اپنے والد کے بارے میں پوچھ لے۔ یہ سن کر دربار میں سناٹا چھا گیا۔ بادشاہ کو غصے سے زیادہ بےچینی نے آ لیا، جیسے کسی نے دل کے اندر چھپا ہوا راز چھیڑ دیا ہو۔اسی وقت حکم ہوا کہ ریاست کے بزرگوں کو جمع کیا جائے۔ سفید داڑھیوں والے، جھریوں سے بھرے چہرے، اور ماضی کے گواہ ایک ایک کر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ خاموشی ایسی تھی کہ سانسوں کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔ بادشاہ نے سوال دہرایا تو سب نے نظریں جھکا لیں۔ کافی دیر کے بعد ایک بہت بوڑھا شخص آگے بڑھا، جس کی آواز کمزور مگر الفاظ وزنی تھے۔اس نے بتایا کہ برسوں پہلے محل میں ایک نان بائی ہوا کرتا تھا، جو روٹیاں لگاتا تھا۔ ایک دن ڈاکوؤں نے پرانے بادشاہ کی بیٹی پر حملہ کیا، اور اسی نان بائی نے جان پر کھیل کر اسے بچایا۔ اس بہادری کے صلے میں پرانے بادشاہ نے اسے تخت سونپ دیا، مگر شرط یہ تھی کہ وہ اپنی اصل پہچان چھپائے رکھے۔ وقت گزرتا گیا، حقیقت پردے میں رہی، اور آج کا بادشاہ اسی شخص کا بیٹا تھا۔یہ سنتے ہی دربار میں کھلبلی مچ گئی۔ بادشاہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اسے محسوس ہوا جیسے زمین اس کے قدموں کے نیچے سے سرک رہی ہو۔ وہی بات جسے ایک قیدی نے طنز میں کہا تھا، اب سچ بن کر اس کے سامنے کھڑی تھی۔ اس لمحے اسے اندازہ ہوا کہ عقل، سچ اور تقدیر کا کھیل کتنا گہرا ہوتا ہے، اور یہ بھی کہ بعض اوقات ایک قیدی، تخت پر بیٹھے بادشاہ سے زیادہ آزاد ہوتا ہے۔دربار ابھی سچ کے بوجھ سے سنبھلا بھی نہ تھا کہ قیدی نے ایک گہری سانس لی اور آہستہ مگر صاف آواز میں بولنا شروع کیا۔ اس نے کہا کہ اب ایک بات اور سن لو، کیونکہ آدھا سچ سن کر فیصلہ کرنا بھی ناانصافی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ کوئی عام قیدی نہیں، بلکہ اسی پرانے بادشاہ کا نواسہ ہے جس کے تخت پر بعد میں وہ نان بائی بٹھایا گیا تھا۔ اس نے کہا کہ اسی لیے اسے اور اس کے ماں باپ کو خاموشی سے قید کر دیا گیا تھا، تاکہ وہ کبھی اپنے حق کا دعویٰ نہ کر سکیں اور تاریخ ہمیشہ ایک جھوٹے سکون میں دفن رہے۔یہ سنتے ہی بادشاہ کی نظریں زمین پر جم گئیں۔ اب غصہ نہیں تھا، اب غرور نہیں تھا، صرف شرمندگی تھی۔ اسے سمجھ آ گیا کہ وہ برسوں سے جس تخت پر بیٹھا ہے، وہ وراثت نہیں بلکہ ایک امانت تھی، اور وہ امانت غلط ہاتھوں میں رہی۔ اس نے قیدی کی طرف دیکھا، وہی شخص جسے اس نے سوچے سمجھے بغیر موت کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا، آج اس کے سامنے اصل وارث بن کر کھڑا تھا۔بادشاہ تخت سے اٹھا، تاج اتارا، اور لرزتے ہاتھوں سے وہ سب کچھ اس شخص کے سامنے رکھ دیا جس کا حق برسوں پہلے چھین لیا گیا تھا۔ دربار میں کوئی شور نہیں تھا، کوئی جشن نہیں تھا، صرف ایک خاموش سچ تھا جو سب پر غالب آ چکا تھا۔ قیدی نے تاج اٹھایا تو اس کی آنکھوں میں غرور نہیں تھا، بس شکر تھا۔کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، بلکہ یہاں سے ایک بات دل میں اترتی ہے۔ انسان اپنی عقل سے راستے تو بنا لیتا ہے، تدبیریں بھی کر لیتا ہے، مگر انجام وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ وقت آنے پر نہ تخت جھوٹ بچا پاتا ہے، نہ طاقت، اور نہ ہی چالاکی۔ ہر انسان کی اصل فطرت، اس کے فیصلوں کے ذریعے خود ہی سامنے آ جاتی ہے، چاہے وہ قیدی ہو یا بادشاہ۔
➤ مزید پڑھیں: حسد، بادشاہ اور وزیر کی سبق آموز کہانی

