The Dead of Night Shift
رات کے ٹھیک دو بج رہے تھے۔
ہوا میں عجیب سی سنسناہٹ تھی۔ سردیوں کی رات، وہ بھی شہر کے کنارے واقع “الفلاح ہائی سکیورٹی قبرستان” میں۔ برفیلے جھونکے لوہے کے دروازوں سے ٹکرا کر ایسی آواز پیدا کر رہے تھے جیسے کوئی دور کہیں آہستہ آہستہ سسک رہا ہو۔
میں ہوں فرزانہ خان...
آج کی یہ خوفناک کہانی ایک گارڈ کی ہے۔
تو آئیے سنتے ہیں یہ خوفناک کہانی راشد علی کی زبانی۔
آٹھ سال کی نائٹ ڈیوٹی
میں—راشد علی—اس قبرستان کا نائٹ گارڈ ہوں۔
پچھلے آٹھ سالوں سے۔
اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں:
“رات کو قبرستان میں ڈر نہیں لگتا؟”
میں ہنس کر کہہ دیتا ہوں،
“ڈرنوں سے نہیں، زندوں سے لگتا ہے۔”
لیکن اس رات… میں غلط تھا۔
2:03 AM — خاموشی میں ڈوبا گارڈ روم
گارڈ روم کے اندر ہیٹر کی مدھم سی گرمی پھیل رہی تھی۔ کمرہ چھوٹا سا تھا—ایک میز، دو کرسیوں، ایک پرانا سی سی ٹی وی مانیٹر اور دیوار پر لگی لینڈ لائن۔
یہ لینڈ لائن کبھی نہیں بجتی تھی۔
یہ صرف انتظامیہ کے لیے تھی، اور وہ بھی دن کے وقت۔
میں کیمرے کی اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ ہر اسکرین پر قطار در قطار قبریں، سفید سنگِ مرمر کے کتبے، اور ان کے درمیان اندھیرا۔
دن کی عجیب تدفین
اس دن ایک خاص تدفین ہوئی تھی۔
ایک نوجوان آدمی—عمر کوئی پینتیس سال کے قریب۔
نام: فہد عمران۔
کہا گیا کہ ہارٹ اٹیک سے اچانک انتقال ہو گیا۔
لیکن تدفین کے وقت جو ماحول تھا… وہ نارمل نہیں تھا۔
اس کی بیوی کی آنکھوں میں آنسو کم اور الجھن زیادہ تھی۔
اس کے بھائی آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے۔
ایک بوڑھی ماں قبر کے پاس بیٹھ کر بار بار ایک ہی جملہ دہرا رہی تھی:
“یہ ابھی زندہ تھا… یہ ابھی زندہ تھا…”
مجھے تب لگا شاید صدمے میں کہہ رہی ہو۔
میں نے قبر کو خود مانیٹر کیا تھا۔
مٹی برابر کی گئی۔
پتھر ٹھیک لگایا گیا۔
سب کچھ معمول کے مطابق۔
کم از کم میں یہی سمجھ رہا تھا۔
2:11 AM — وہ فون کال
اچانک…
ٹررررررر… ٹررررررر…
لینڈ لائن بجی۔
میرا دل جیسے ایک لمحے کو رک گیا۔
میں نے اس فون کو رات میں کبھی نہیں سنا تھا۔
ایک سیکنڈ… دو سیکنڈ…
رنگ مسلسل بج رہا تھا۔
میں نے ہچکچاتے ہوئے ریسیور اٹھایا۔
“ہیلو… الفلاح قبرستان سکیورٹی…”
چند لمحے خاموشی۔
قبر سے آنے والی آواز
پھر ایک مدھم سی، دبی ہوئی آواز سنائی دی۔ ایسی جیسے کوئی کپڑے کے پیچھے سے بول رہا ہو، یا جیسے مٹی میں دبی ہوئی سانس ہو۔
“ہ… ہیلپ… خ… خدا کے لیے…”
میرے ہاتھ میں ریسیور کانپنے لگا۔
“کون بول رہا ہے؟”
چند لمحے سانسوں کی تیز آوازیں سنائی دیں۔ پھر خراش کی آواز… جیسے ناخن کسی سخت چیز پر رگڑ رہے ہوں۔
“راشد… مجھے نکالو…”
میرے جسم میں بجلی سی دوڑ گئی۔
“تم… تم میرا نام کیسے جانتے ہو؟”
جو جواب آیا، اس نے میرا خون جما دیا۔
“میں… فہد ہوں…”
ریسیور میرے ہاتھ سے تقریباً چھوٹ گیا۔ فہد عمران۔ وہی شخص جسے میں نے چند گھنٹے پہلے دفن ہوتے دیکھا تھا۔ میں نے خود اس کی قبر پر آخری مٹی ڈالی تھی۔
2:14 AM — ناممکن کال
“یہ مذاق ہے؟ کون ہے تم؟”
میری آواز سخت تھی، لیکن اندر سے میں ٹوٹ رہا تھا۔ دوسری طرف سے رونے کی آواز آئی۔
“راشد بھائی… میں زندہ ہوں… انہوں نے غلطی کی ہے… مجھے سانس نہیں آ رہی… اندھیرا ہے… خدا کے لیے…”
پھر زور زور سے کسی چیز پر ضرب لگنے کی آواز آئی۔
ٹھک… ٹھک… ٹھک…
جیسے کوئی لکڑی کے تابوت کو اندر سے پیٹ رہا ہو۔
میرے دماغ میں طوفان چلنے لگا۔ یہ ناممکن ہے۔ قبر میں فون کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کے پاس فون تھا بھی یا نہیں؟
میں نے جلدی سے سی سی ٹی وی کی اسکرین کھولی، کیمرہ نمبر سات—جہاں فہد کی قبر تھی۔ سب کچھ نارمل تھا۔ خاموش۔ مٹی برابر۔ کوئی حرکت نہیں۔
لیکن فون پر آواز جاری تھی۔
“مجھے مت چھوڑو… میری سانس بند ہو رہی ہے… وہ جھوٹ بول رہے تھے…”
“کون جھوٹ بول رہا تھا؟!” میں چیخا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر سرگوشی آئی۔
“میرا بھائی…”
اچانک لائن پر زوردار چیخ گونجی۔ ایسی چیخ جو سیدھا دل میں اتر جائے۔ پھر… مکمل خاموشی۔
فون کٹ گیا۔
2:20 AM — قبر کی طرف
میں پسینے میں بھیگ چکا تھا، حالانکہ باہر درجہ حرارت صفر کے قریب تھا۔ میں نے فوراً قبرستان کے مین گیٹ کی چابی اٹھائی اور ٹارچ پکڑی۔
میرا دل کہہ رہا تھا کہ یہ مذاق ہے۔ لیکن دماغ کہہ رہا تھا—اگر نہیں؟
اگر واقعی وہ زندہ ہو؟ اگر ڈاکٹروں نے غلطی کی ہو؟ اگر اسے زندہ دفنا دیا گیا ہو؟
میں قبرستان کے اندر چل پڑا۔ ہر قدم کے ساتھ بجری چرچرا رہی تھی۔ ہوا اور تیز ہو گئی تھی۔ درختوں کی شاخیں ایسے ہل رہی تھیں جیسے کوئی سایہ ان کے پیچھے چھپا ہو۔
میں کیمرہ سات کے سامنے پہنچا۔ فہد کی قبر میرے سامنے تھی۔ خاموش۔ ساکت۔
میں نے ٹارچ کی روشنی قبر پر ڈالی۔ مٹی ویسی ہی تھی۔
لیکن ایک چیز عجیب تھی۔
قبر کے سرہانے والی مٹی تھوڑی سی ابھری ہوئی لگ رہی تھی… جیسے نیچے سے کسی نے زور لگایا ہو۔
میں نے کان لگا کر سنا۔ پہلے کچھ نہیں۔
پھر…
بہت ہلکی سی… کھردری آواز۔
“ٹھک…”
میں پیچھے ہٹ گیا۔
“نہیں… یہ میرا وہم ہے…” میں نے خود کو سمجھایا۔
پھر دوبارہ…
“ٹھک… ٹھک…”
اس بار واضح۔ جیسے کوئی اندر سے ہاتھ مار رہا ہو۔
میرا سانس رک گیا۔
2:27 AM — فیصلہ
میں نے فوراً انتظامیہ کو کال کرنے کا سوچا۔ لیکن اگر یہ سب میرا وہم ہو؟
اگر میں قبر کھود دوں اور کچھ نہ نکلے؟
نوکری گئی۔ عزت گئی۔
لیکن اگر وہ واقعی زندہ ہو؟
میں نے بیلچہ سٹور روم سے نکالا۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
“یا اللہ… اگر یہ سچ ہے تو مجھے ہمت دے…”
میں نے پہلی ضرب مٹی پر لگائی۔
مٹی نرم تھی۔ تازہ۔
دو… تین… چار ضربیں۔
اچانک نیچے سے زور دار دھماکہ سا ہوا۔ مٹی اندر سے ہلی۔
اور ایک دبی ہوئی چیخ سنائی دی۔
“راشد!!! جلدی کرو!!!”
میں بیلچہ گرا بیٹھا۔ یہ وہم نہیں تھا، یہ حقیقت تھی۔ 2:31 AM پر میں پاگلوں کی طرح مٹی ہٹانے لگا۔ ہاتھوں سے، بیلچے سے، جیسے بھی ہو سکتا تھا۔ سانسیں تیز تھیں اور دل بے قابو ہو کر دھڑک رہا تھا۔ اسی دوران اچانک میرے فون نے جیب میں وائبریٹ کیا۔ میں نے نکال کر دیکھا تو نامعلوم نمبر تھا۔ کانپتے ہاتھوں سے کال اٹھائی اور بمشکل کہا، “ہیلو؟”
دوسری طرف سے ایک مانوس آواز سنائی دی۔ انتظامیہ کے چیف، حامد صاحب۔ انہوں نے سخت لہجے میں پوچھا، “راشد، تم قبرستان کے اندر کیا کر رہے ہو؟” میرا دل جیسے ڈوب گیا۔ میں ہکلاتے ہوئے بولا، “سر… میں… میں…” انہوں نے فوراً کہا، “ہم کیمرے دیکھ رہے ہیں، تم قبر کیوں کھود رہے ہو؟” میں نے گھبرا کر قریبی کیمرے کی طرف دیکھا۔ سرخ لائٹ جل رہی تھی۔ وہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔
میں نے ہمت کر کے کہا، “سر… فہد زندہ ہے۔ اس نے مجھے فون کیا تھا—” دوسری طرف مکمل خاموشی چھا گئی۔ چند لمحوں بعد حامد صاحب کی آواز بہت سرد ہو گئی۔ “راشد… فہد کے پاس کوئی فون نہیں تھا۔ اور پوسٹ مارٹم ہو چکا ہے۔ وہ مر چکا تھا۔” میرا گلا خشک ہو گیا۔ اسی لمحے میرے پیروں کے نیچے کی مٹی اچانک بیٹھ گئی اور تابوت کا اوپری حصہ نظر آنے لگا۔
تابوت کے اندر سے ناخنوں کے رگڑنے کی واضح آواز آ رہی تھی۔ “راشد… جلدی…” میں نے گھبرا کر فون میں چیخ کر کہا، “سر وہ زندہ ہے!” مگر دوسری طرف سے صرف ایک جملہ آیا، “قبر کو ہاتھ مت لگانا۔ فوراً واپس آؤ۔” اور پھر لائن کٹ گئی۔ میں تابوت کے اوپر کھڑا تھا اور اندر سے آوازیں اب کمزور ہوتی جا رہی تھیں۔ “را… شد…”
میرا دماغ چیخ رہا تھا کہ اگر میں رک گیا تو وہ مر جائے گا۔ لیکن اگر میں نے تابوت کھولا اور اندر کچھ اور نکلا تو؟ ہوا اچانک بالکل بند ہو گئی تھی۔ پورا قبرستان ساکت تھا۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے تابوت کا ڈھکن چھوا ہی تھا کہ اندر سے اچانک زوردار ضرب آئی اور آواز گونجی، “ابھی!!!”
میں نے پوری طاقت سے ڈھکن کھولنے کی کوشش کی، لیکن اسی لمحے میرے پیچھے سے ایک آہستہ سی آواز آئی، “راشد… تم دیر کر چکے ہو…” میں جم گیا۔ یہ آواز میرے پیچھے سے آئی تھی، قبر کے اندر سے نہیں۔ میں نے آہستہ آہستہ مڑ کر دیکھا تو تین قبروں کے درمیان سفید کفن میں لپٹا ایک سایہ کھڑا تھا۔ چہرہ مٹی سے بھرا ہوا، آنکھیں کھلی ہوئی، اور ہونٹوں پر مٹی کے ساتھ ایک عجیب سی مسکراہٹ۔
وہ فہد تھا۔ لیکن فہد تو میرے قدموں کے نیچے تابوت میں ہونا چاہیے تھا۔ اندر سے اب کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔ مکمل خاموشی تھی۔ وہ سایہ آہستہ آہستہ میری طرف بڑھا اور بولا، “میں نے تمہیں فون کیا تھا… راشد…” میرا جسم سن ہو گیا۔ پھر وہی سرد آواز آئی، “لیکن تم نے بہت دیر کر دی…”
ہوا اچانک رک گئی تھی۔ قبرستان، جو چند لمحے پہلے سرد جھونکوں سے گونج رہا تھا، اب ایسے خاموش تھا جیسے کسی نے پوری دنیا کا ساؤنڈ بند کر دیا ہو۔ میں تابوت کے کنارے کھڑا تھا، نیچے اندھیرا اور اندر مکمل خاموشی۔ اور میرے پیچھے… وہ کھڑا تھا۔ فہد۔ سفید کفن میں لپٹا، مٹی سے بھرا چہرہ، اور آنکھیں غیر معمولی حد تک کھلی ہوئی، جیسے پلک جھپکنا بھول گیا ہو۔
“میں نے تمہیں فون کیا تھا… راشد…” اس کی آواز اب صاف تھی۔ وہ فون والی دبی ہوئی، گھٹی ہوئی آواز نہیں تھی بلکہ بالکل نارمل، مگر عجیب حد تک سرد۔ میرا گلا خشک ہو چکا تھا۔ میں نے بمشکل کہا، “ت… تم تو اندر ہو…” اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور اس نے آہستہ سے کہا، “اندر؟”
اس نے سر جھکایا تو میری نظر خود بخود تابوت کی طرف چلی گئی۔ میں نے ٹارچ کی روشنی اندر ڈالی۔ تابوت خالی تھا۔ میرا دماغ جیسے پھٹ گیا۔ “نہیں… یہ ممکن نہیں…” میں نے اپنی آنکھیں ملیں اور دوبارہ روشنی ڈالی۔ خالی۔ کفن کا کوئی ٹکڑا نہیں، لاش نہیں، کچھ بھی نہیں۔
میں نے جھٹکے سے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ جہاں وہ کھڑا تھا وہاں اب کوئی نہیں تھا۔ صرف تین قبروں کے درمیان خالی جگہ تھی۔ 2:41 AM پر میری سانس بے ترتیب ہو چکی تھی۔ میں نے ٹارچ ادھر ادھر گھمائی اور پکارا، “فہد؟!” مگر کوئی جواب نہیں آیا۔
اسی لمحے اچانک سی سی ٹی وی کیمروں کی لائٹس ایک ساتھ چمکیں۔ پھر قبرستان کے ایک کونے سے موبائل کی رنگ ٹون سنائی دی۔ وہی لینڈ لائن والی مخصوص آواز۔ ٹرررررر… ٹرررررر… میں جم گیا۔ آواز قبرستان کے اندر سے آ رہی تھی، مگر فہد کی قبر سے نہیں بلکہ پرانی قبروں کے حصے سے۔
وہ حصہ جہاں پچاس سال پرانی قبریں تھیں اور جہاں کوئی کیمرہ نہیں لگا تھا۔ رنگ مسلسل بج رہی تھی اور میں جیسے کسی ٹرانس میں اس آواز کی طرف چل پڑا۔ 2:46 AM پر پرانی قبروں کے درمیان اندھیرا اور بھی گہرا تھا۔ درختوں کی جڑیں زمین سے باہر نکلی ہوئی تھیں اور کئی پتھر ٹوٹے ہوئے تھے، جن پر لکھے نام مٹ چکے تھے۔
اچانک رنگ بند ہو گئی۔ میں رک گیا۔ چاروں طرف خاموشی تھی۔ پھر ایک بہت ہلکی سی سرگوشی سنائی دی، “ادھر…” میں نے ٹارچ نیچے کی۔ ایک قبر کے اوپر لینڈ لائن کا ریسیور رکھا تھا۔ وہی سیاہ ریسیور جو گارڈ روم میں لگا تھا۔ میرا دل زور سے دھڑکا اور میں نے فوراً پیچھے دیکھا۔
گارڈ روم یہاں سے کم از کم دو سو میٹر دور تھا۔ وہ ریسیور یہاں کیسے آ سکتا تھا؟ میں آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ ریسیور ہلکا سا ہل رہا تھا، جیسے ابھی رکھا گیا ہو۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے اسے اٹھایا اور کہا، “ہیلو…” دوسری طرف سے صرف سانسوں کی آواز آ رہی تھی۔
پھر اچانک ایک آواز آئی، “تم نے غلط قبر کھودی ہے، راشد…” میرا جسم سن ہو گیا۔ میں نے ہکلاتے ہوئے پوچھا، “ک… کیا مطلب؟” جواب آیا، “فہد اندر نہیں تھا۔ وہ کبھی اندر تھا ہی نہیں…” میرا دماغ تیزی سے دوڑنے لگا۔ میں نے گھبرا کر پوچھا، “تو پھر… تابوت خالی کیوں تھا؟”
چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر بہت آہستہ آواز آئی، “کیونکہ تمہیں دکھایا گیا تھا کہ وہ مر چکا ہے…” میرا دل جیسے نیچے گر گیا۔ میں نے فوراً پوچھا، “کس نے؟” جواب آیا، “جس نے مجھے مارا…” اور اسی لمحے ریسیور سے تیز خراش کی آواز آئی، جیسے کوئی تار کاٹ رہا ہو۔ پھر لائن اچانک مردہ ہو گئی۔
میں نے ریسیور کو غور سے دیکھا۔ میرے ہاتھ کانپ گئے۔ اس میں کوئی تار ہی نہیں تھی۔ وہ مکمل طور پر کٹا ہوا تھا۔ 2:52 AM پر میری ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی اور میں فوراً گارڈ روم کی طرف دوڑ پڑا۔ قدم پھسل رہے تھے، سانس تیز ہو رہی تھی، مگر میں رکا نہیں۔
گارڈ روم کا دروازہ اندر سے لاک تھا۔ میں نے چابی نکالی، تالا کھولا اور اندر داخل ہوا۔ سب کچھ اپنی جگہ پر تھا۔ لینڈ لائن دیوار پر لگی ہوئی تھی اور اس کا ریسیور بھی اپنی جگہ پر۔ میں نے اسے اٹھایا تو ڈائل ٹون آ رہی تھی۔ میری نظریں فوراً میز پر رکھی سی سی ٹی وی اسکرین پر جا ٹھہریں۔
کیمرہ سات خود بخود آن تھا۔ اسکرین پر فہد کی قبر دکھائی دے رہی تھی۔ مٹی ہٹی ہوئی تھی اور تابوت کھلا ہوا تھا۔ اور کیمرے کے سامنے ایک شخص کھڑا تھا۔ میں۔ میں خود۔ لیکن میں تو گارڈ روم میں کھڑا تھا۔ اسکرین پر والا “میں” آہستہ آہستہ کیمرے کی طرف جھکا اور مسکرایا۔
میرے ہاتھ سے ریسیور گر گیا۔ اسکرین پر والا میں بولا، “تم دیر سے آئے ہو، راشد…” اس کی آنکھیں سیاہ تھیں، بالکل خالی۔ میں نے فوراً مانیٹر بند کرنے کی کوشش کی مگر اسکرین جم گئی۔ پھر اچانک سب کیمرے ایک ساتھ آن ہو گئے۔
ہر اسکرین پر ایک ہی منظر تھا۔ ہر قبر کے پاس ایک سفید کفن میں لپٹا شخص کھڑا تھا۔ سب کے چہرے مٹی سے بھرے ہوئے تھے، سب کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، اور سب کی نظریں سیدھی کیمرے کی طرف تھیں۔ پھر بیک وقت سب کے ہونٹ ہلے اور ایک ہی جملہ گونجا، “ہم زندہ تھے…”
میری ٹانگوں سے طاقت نکل گئی۔ ٹھیک 3:00 AM پر دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔ “راشد! دروازہ کھولو!” یہ حامد صاحب کی آواز تھی۔ میں نے دروازہ کھولا تو وہ دو سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ اندر آئے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا، “تم پاگل ہو گئے ہو؟ کیمروں میں کیا کر رہے تھے تم؟”
میں نے کانپتے ہوئے اسکرین کی طرف اشارہ کیا۔ “سر… آپ نے دیکھا؟” انہوں نے اسکرین کی طرف دیکھا مگر سب نارمل تھا۔ کوئی کفن پوش نہیں، کوئی عجیب منظر نہیں۔ صرف خالی قبریں۔ حامد صاحب نے میری آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا، “راشد… تم ٹھیک ہو؟”
میں کچھ بول نہ سکا۔ اسی لمحے ایک اہلکار نے گھبرا کر کہا، “سر… قبر نمبر 317…” میرا دل رک گیا۔ وہی فہد کی قبر۔ حامد صاحب نے پوچھا، “کیا ہوا؟” اہلکار نے کانپتی آواز میں کہا، “سر… وہ قبر دوبارہ بند ہے۔ بالکل سیدھی۔ جیسے کبھی کھودی ہی نہ گئی ہو…”
میرا سر گھوم گیا۔ ہم سب فوراً باہر نکلے۔ میں دوڑ کر قبر نمبر 317 پر پہنچا۔ مٹی بالکل برابر تھی، پتھر سیدھا تھا، اور کہیں کوئی نشان نہیں تھا۔ میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور مٹی کو ہاتھ لگایا۔ وہ سخت اور جمی ہوئی تھی، جیسے کئی دن پرانی ہو۔
میں نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ تین قبروں کے درمیان دور ایک سایہ کھڑا تھا۔ فہد۔ اس نے آہستہ سے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا… آؤ۔ میں نے پلک جھپکی۔ وہ غائب ہو گیا۔
3:12 AM پر حامد صاحب نے میرا بازو پکڑا اور کہا، “راشد، تم آج گھر جاؤ۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔” میں کچھ بول نہ سکا۔ لیکن جیسے ہی ہم واپس گارڈ روم کی طرف مڑے، میرے جیب میں موبائل وائبریٹ ہوا۔ میں نے نکالا… اسکرین پر نام لکھا تھا:
Fahad Imran
میرے ہاتھ سے فون تقریباً گر گیا۔ میں بمشکل بول سکا،
“کیسے…؟ اس کا نمبر تو… دفن ہو چکا تھا…”
حامد صاحب نے فوراً پوچھا، “کس کا فون ہے؟”
میں نے خاموشی سے اسکرین ان کے سامنے کر دی۔ ان کا رنگ اچانک اڑ گیا۔
“یہ… یہ نمبر تو پولیس نے ضبط کیا تھا…”
فون مسلسل بج رہا تھا۔ اس خاموش قبرستان میں اس کی گھنٹی عجیب طرح گونج رہی تھی۔
میں نے کانپتے ہاتھوں سے کال اٹھائی۔ دوسری طرف مکمل خاموشی تھی۔
پھر اچانک… بالکل میرے پیچھے سے وہی آواز سنائی دی،
“اس بار دیر مت کرنا، راشد…”
میں جھٹکے سے مڑا۔ پیچھے کوئی نہیں تھا۔
لیکن زمین… میرے قدموں کے نیچے… آہستہ آہستہ نرم ہو رہی تھی۔
جیسے اندر سے کوئی اوپر آنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اور اسی لمحے پورے قبرستان کی بجلی ایک ساتھ بند ہو گئی۔
اندھیرا۔
مکمل اندھیرا۔
صرف ایک آواز باقی رہ گئی—
مٹی کے اندر سے کچھ کھرچنے کی۔
اندھیرا مکمل تھا۔ ایسا اندھیرا جو صرف آنکھوں پر نہیں بلکہ دماغ پر بھی چھا جائے۔
بجلی جاتے ہی پورا قبرستان ساکت ہو گیا تھا، لیکن ایک آواز مسلسل باقی تھی۔
مٹی کے اندر سے کچھ کھرچنے کی آواز…
“کھررر… کھررر…”
میں ساکت کھڑا تھا۔ حامد صاحب اور دوسرے گارڈز موبائل کی لائٹس آن کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اچانک میرے قدموں کے نیچے زمین ہلکی سی دھنس گئی۔
“راشد پیچھے ہٹو!” کسی نے زور سے چیخا۔
میں لڑکھڑا کر پیچھے ہٹ گیا۔
زمین کا وہ حصہ جہاں میں کھڑا تھا، اندر سے جیسے سانس لے رہا تھا۔
پھر مٹی پھٹی… اور ایک ہاتھ باہر نکلا۔
مٹی میں لپٹا ہوا ہاتھ، جس کی انگلیوں کے ناخن ٹوٹ چکے تھے اور جلد جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئی تھی۔
حامد صاحب کے منہ سے بے اختیار نکلا، “یا اللہ…”
چند لمحوں بعد دوسرا ہاتھ بھی باہر آیا۔
پھر آہستہ آہستہ سر…
وہ فہد تھا۔
اس کی آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھیں، مگر ان میں زندگی نہیں تھی۔
ان میں صرف ایک سوال تھا۔
وہ آہستہ آہستہ زمین سے باہر آیا، جیسے مٹی نے خود اسے جنم دیا ہو۔
ہم میں سے کوئی چیخ بھی نہ سکا۔ ہم سب پتھر بن چکے تھے۔
فہد نے سیدھا میری طرف دیکھا۔
“تم نے دیر کی…”
اس کی آواز اس بار صاف تھی۔ نہ دبی ہوئی، نہ گھٹی ہوئی۔
اس نے آہستہ سے کہا،
“میں نے تمہیں فون کیا تھا…”
میں نے ہمت کر کے پوچھا،
“تم… تم زندہ تھے؟”
وہ ہلکا سا مسکرایا۔ وہی مٹی سے بھری مسکراہٹ۔
پھر آہستہ سے بولا،
“میں مرنا نہیں چاہتا تھا…”
سچ کا پہلا دروازہ
حامد صاحب نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا،
“یہ ناممکن ہے۔ پوسٹ مارٹم ہوا تھا۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ ہے۔”
فہد نے آہستہ سے حامد صاحب کی طرف دیکھا۔
“آپ نے رپورٹ نہیں پڑھی تھی۔”
یہ سن کر حامد صاحب کا رنگ اڑ گیا۔ میں نے حیرانی سے پوچھا،
“کیا مطلب؟”
فہد میری طرف ایک قدم بڑھا۔
“میری نبض کمزور تھی… بہت کمزور۔ ڈاکٹر نے کہا تھا دوبارہ چیک کرو۔ مگر میرے بھائی نے جلدی مچا دی۔”
میرے ذہن میں فوراً وہ دن گھوم گیا۔ جلدی میں تدفین… بھائی کا بے چینی سے اصرار… اور ماں کی وہ آواز جو بار بار کہہ رہی تھی،
“یہ زندہ ہے…”
فہد نے سرد لہجے میں کہا،
“اس نے رشوت دی تھی۔ رپورٹ بند کر دی گئی… اور مجھے مردہ قرار دے دیا گیا۔”
میرا گلا خشک ہو گیا۔
“کیوں؟”
فہد کی آنکھوں میں پہلی بار غصہ چمکا۔
“انشورنس… جائیداد… سب کچھ اس کے نام ہو جاتا۔”
قبرستان پر ایک بھاری خاموشی چھا گئی۔
اصل دہشت
میں نے آہستہ سے پوچھا،
“پھر… تم نے مجھے فون کیسے کیا؟”
فہد کی نظریں بدل گئیں۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سایہ آیا۔
“میں نے فون نہیں کیا تھا…”
میرے دل کی دھڑکن جیسے رک گئی۔
“پھر؟”
وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔
“جب مجھے دفن کیا گیا… میں زندہ تھا۔ میں نے تابوت پیٹا، چیخا، خون نکلا، ناخن ٹوٹ گئے… مگر کوئی نہیں آیا۔”
اس کی آواز بھاری ہو گئی۔
“پھر سانس ختم ہونے لگی۔ اندھیرا بڑھ گیا۔ اور اس اندھیرے میں… کوئی اور تھا۔”
ہوا دوبارہ چلنے لگی۔ درخت زور سے ہلنے لگے۔
میں نے سرگوشی کی،
“کون؟”
فہد نے سیدھا میری آنکھوں میں دیکھا۔
“وہ… جو ان سب کو واپس بلاتا ہے۔”
اچانک پورے قبرستان کی قبریں ہلنے لگیں۔ زمین میں ہلکی ہلکی دراڑیں پڑنے لگیں۔
حامد صاحب چیخے،
“یہ کیا ہو رہا ہے؟!”
فہد کی آواز اب بدل چکی تھی۔ گہری… اور دوہری۔
“جب کوئی زندہ دفن ہوتا ہے… تو زمین اسے تنہا نہیں چھوڑتی…”
فون کال کا راز
اسی لمحے میری جیب میں موبائل دوبارہ بجا۔
میں نے نکالا۔ اسکرین پر کوئی نام نہیں تھا۔
صرف ایک لفظ لکھا تھا: Below
میں نے کانپتے ہاتھوں سے کال اٹھائی۔
دوسری طرف سے وہی دبی ہوئی آواز آئی،
“راشد… ہمیں نکالو…”
میں چیخ پڑا،
“ہمیں؟!”
اچانک میرے اردگرد زمین جگہ جگہ سے پھٹنے لگی۔ ہر دراڑ سے ہاتھ نکلنے لگے۔ پرانی قبریں… نئی قبریں… ہر طرف سے۔
مٹی میں لپٹے چہرے باہر آنے لگے۔ سب کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ سب کے ہونٹ ہل رہے تھے۔
“ہم زندہ تھے…”
میرا دماغ چکرا گیا۔
“یہ سب… زندہ دفن کیے گئے تھے؟”
فہد نے آہستہ سے سر ہلایا۔
“کچھ غلطی سے… کچھ لالچ سے… اور کچھ سازش سے۔ لیکن زمین سب یاد رکھتی ہے…”
اچانک ایک ہاتھ حامد صاحب کے پاؤں سے لپٹ گیا۔ وہ چیخے اور زمین پر گر پڑے۔
مٹی سے ایک بوڑھے شخص کا چہرہ باہر آیا۔
“تم نے رپورٹ بدلی تھی…”
حامد صاحب کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔
“سر…؟”
ان کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔
“میں مجبور تھا… فہد کے بھائی نے پیسے دیے تھے… ڈاکٹر نے بھی سائن کر دیا تھا… میں نے صرف فائل بند کی…”
فہد کی آنکھوں میں دکھ تھا۔
“آپ نے دروازہ بند کیا تھا… جس کے پیچھے میں سانس لے رہا تھا…”
آخری فیصلہ
زمین اب مکمل طور پر بیدار ہو چکی تھی۔ درجنوں چہرے مٹی سے باہر تھے۔ وہ چیخ نہیں رہے تھے… بس دیکھ رہے تھے۔
میری طرف۔
فہد نے آہستہ سے کہا،
“تم نے سنا تھا… تم نے فون اٹھایا تھا۔”
میں کانپ گیا۔
“میں نے کوشش کی—”
وہ بولا،
“لیکن تم رکے تھے۔ تم نے اجازت مانگی تھی۔”
وہ سچ تھا۔
اگر میں فوراً تابوت کھول دیتا… شاید سب کچھ بدل جاتا۔
فہد نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔
“اب بھی دیر نہیں ہوئی۔”
میں نے پوچھا،
“کیسے؟”
“سچ باہر لاؤ۔ سب کے سامنے۔ ورنہ زمین سب کو لے لے گی۔”
میں نے فوراً موبائل نکالا اور لائیو ویڈیو آن کر دی۔
“یہ الفلاح قبرستان ہے۔ اگر میں صبح تک زندہ نہ رہوں… تو جان لو کہ یہاں زندہ لوگوں کو دفن کیا گیا…”
میں نے کیمرہ قبروں کی طرف کر دیا۔ سب کچھ ریکارڈ ہو رہا تھا۔
حامد صاحب روتے ہوئے سب کچھ اقرار کرنے لگے۔ رشوت… رپورٹ بدلنا… اور جلدی تدفین۔
اچانک زمین کی حرکت رک گئی۔
ہاتھ آہستہ آہستہ واپس مٹی میں جانے لگے۔ چہرے بھی ایک ایک کر کے غائب ہونے لگے۔
فہد نے مجھے دیکھا۔ اس بار اس کی آنکھوں میں سکون تھا۔
“شکریہ…”
میں نے دھیرے سے پوچھا،
“کیا تم… اب جا رہے ہو؟”
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
“میں کبھی واپس نہیں آنا چاہتا تھا…”
ہوا میں ہلکی سی روشنی پھیلی… اور پھر وہ بھی مٹی میں تحلیل ہو گیا۔
صبح — 5:47 AM
پولیس، ایمبولینس اور میڈیا قبرستان پہنچ چکے تھے۔
میری ویڈیو وائرل ہو چکی تھی۔ قبرستان کو فوراً سیل کر دیا گیا۔
قبریں کھودی گئیں۔
کچھ تابوتوں میں عجیب نشان ملے… اندر سے خراشیں… ٹوٹے ہوئے ناخن… پھٹے ہوئے کپڑے۔
فہد کے تابوت میں…
وہ اندر ہی لیٹا تھا۔ پرامن۔
جیسے کبھی ہلا ہی نہ ہو۔
لیکن اس کے ناخن ٹوٹے ہوئے تھے۔
آخری کال
میں نے اس رات کے بعد نوکری چھوڑ دی۔
ایک ہفتے بعد میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ سب کچھ خاموش تھا۔
اچانک لینڈ لائن بجی۔
ٹررررر…
میں ساکت رہ گیا۔
چند لمحوں بعد میں نے ریسیور اٹھایا۔
دوسری طرف خاموشی تھی۔
پھر ایک مانوس، نرم آواز سنائی دی۔
“اس بار تم نے دیر نہیں کی…”
لائن کٹ گئی۔
میں نے ریسیور آہستہ سے رکھ دیا۔
کھڑکی کے باہر ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ اور کہیں دور… مٹی بالکل ساکت تھی۔
کچھ لوگ کہتے ہیں یہ سب اجتماعی وہم تھا۔
کچھ کہتے ہیں زمین نے انصاف کیا۔
اور کچھ کہتے ہیں یہ صرف ایک ڈراؤنی کہانی ہے۔
لیکن اگر کبھی رات کے دو بجے آپ کے فون پر کسی ایسے شخص کی کال آئے… جسے آپ نے دفن ہوتے دیکھا ہو…
تو یاد رکھنا—
ہر قبر میں خاموشی نہیں ہوتی۔
کچھ قبریں انتظار کرتی ہیں…
کسی ایسے شخص کا…
جو سن سکے۔

