خزانہ۔۔۔
راوی : ملک صفدر حیات
تیسری قسط
امام بخش کی عمر 80 اور 90 برس کے آس پاس معلوم ہوتی تھی ۔۔اس کے کندھے کشادا اور قد لمبا تھا۔۔ اس کا ڈھانچہ بتا رہا تھا کہ وہ جوانی میں خاصا مضبوط شخص رہا ہوگا۔۔ لیکن اب وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا ۔۔اس نے ململ کا کرتا پہن رکھا تھا جس میں اس کی پسلیاں نمایاں طور پر نظر آ رہی تھیں۔۔۔میں نے اسے غور سے دیکھا اور سمجھ گیا کہ وہ ماضی میں کیا تھا۔۔۔
او کاکا۔۔تھانے دار صاحب کے لیے کوئی لسی پانی لے کر بوڑھے امام بخش نے پاٹ دار آواز میں کہا ۔۔۔اس نے ایک لڑکے کو کہا۔۔
امام بخش نے کہا۔۔۔ بندہ کچھ بھی کرلے آخر ایک دن اس کی پھونک نکل جاتی ہے ۔ جب میں جوان تھا تو بڑا رعب راب بڑا تھا میرا۔۔شریف شرفاء مجھے دیکھ کر کان پکڑ لیا کرتے تھے لکین اب میں حرکت کرتا ہوں تو ہڈیاں کھڑ کھڑ کرتی ہیں۔۔ایک بچہ بھی مجھے دھکا دے دے تو مجھ سے اٹھا نہ جائے۔۔
میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔چاچا جوانی کے قصے تو کھبی ختم نہیں ہوتے ۔۔۔ہم تم سے سخاوت علی کے بارے میں کچھ پوچھنے آئے ہیں۔۔۔
سخاوت علی عرف سکھے ڈاکو کے بارے میں۔۔۔؟
میں غلام عباس اور صادق علی کے باپ کی بات کر رہا ہوں جس کا تین دن پہلے انتقال ہوگیا تھا۔۔
بوڑھے امام بخش نے ہنسنے کی کوشش کی مگر کھانسی روک بن گئی۔۔ سنبھل کر بولا ۔۔۔میں بھی اسی کی بات کر رہا ہوں۔۔ ایک ہیں ساتھی رہ گیا تھا ۔۔بڑا جی دار بندہ تھا۔۔ چیتے کی طرح تیز اور لومڑی کی طرح مکار۔۔۔ سکھے کی موت کے بعد اب میں بھی زیادہ دن زندہ نہیں رہوں گا ۔۔ وہ ملنے آ جاتا تھا تو پرانی باتیں کر کے جی بہل جاتا تھا مگر اب میری باتیں سننے والا کوئی نہیں رہا۔۔۔
میں نے سنا ہے۔۔۔ سخاوت علی عرف سکھے کے پاس کوئی خزانہ تھا جسے وہ چھپا کر رکھتا تھا۔۔
یہ بڑی لمبی کہانی ہے کبھی فرصت میں آنا تو سناؤں گا اس وقت تو تم جلدی میں معلوم ہوتے ہو۔۔
آپ کہانی سنائیں۔۔ہمیں کوئی جلدی نہیں۔۔۔
بوڑھے امام بخش نے خاصی لمبی چوڑی کہانی سنائی۔ میں اس کا خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں۔۔۔۔
بیسویں صدی کے اوائل میں سخاوت علی عرف سکھے ڈاکو کا کام خاصا زوروں پر تھا۔ چوری ڈکیتی اور راہزنی اس کا پیشہ تھا ۔۔اس نے بڑے بڑے سیٹھوں کی تجوریاں خالی کی تھیں اور بے حساب دولت لوٹی تھی لیکن یہ دولت اس کے ہاتھ میں کبھی رکی نہیں تھی۔۔جیسے آتی تھی ویسے ہی نکل جاتی تھی۔۔۔
جب اس کی جوانی ڈھلنے لگی تو اسے گھر کی آرام کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔۔ اس نے امام بخش سے اس بات کا ذکر کیا۔۔ امام بخش نے بھی اس کی تائید کی۔۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ دو چار لمبے ہاتھ مارنے کے بعد انہیں کوئی کاروبار شروع کر دینا چاہیے۔۔
لیکن ہم اپنے علاقے میں کاروبار نہیں کر سکتے ۔۔۔سکھے نے خیال ظاہر کیا۔۔ یہاں پولیس ہمیں ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھنے دے گی۔۔ چوری ڈکیتی کی ہر واردات ہمارے کھاتے میں ڈال دے گی ۔۔۔اور ایک بات اس کے علاوہ بھی ہے ۔۔۔۔
وہ کیا۔۔؟ امام بخش نے پوچھا۔۔
وہ یہ کہ یہاں کوئی شریف آدمی ہمیں بیٹی نہیں دے گا ۔۔۔
تو کیا تو شادی کرنا چاہتا ہے۔۔؟
دیکھ امام بخش شرافت سے زندگی گزارنے کے لیے شادی بہت ضروری ہے۔۔ اگر آدمی اکیلا ہوں تو محلے والے اسے ٹیڑھی نظروں سے دیکھتے ہیں۔۔
دیکھ یار سکھے۔۔۔میں یہ جھنجھٹ نہیں پالنا چاہتا۔۔میں نے سنا ہے کہ بندہ جب بھی مار کھاتا ہے بیوی سے کھاتا ہے۔۔
اوئے ۔۔۔فکر نہیں کر۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔
بہرحال۔۔دونوں نے بڑی دیکھ بھال کے بعد ایک علاقہ منتخب کیا اور وہاں جائیداد بنانے شروع کر دی۔۔ جب وہ اس علاقے میں جاتے تو شریفوں والا حلیہ بنا لیتے اور آنکھیں نیچی رکھتے ۔۔چند سالوں میں انہوں نے وہاں اچھی خاصی جائیداد بنا لی اور بھینسیں پال کر دودھ کا کاروبار شروع کر دیا۔ چونکہ وہ اپنے آپ کو عزت دار ثابت کرنا چاہتے تھے اس لیے ہر شخص کے ساتھ بڑی خوش اخلاقی سے پیش آتے ۔۔تھوڑے ہی عرصے میں بھینسوں کا کاروبار خوب چل نکلا اور دونوں نے شادیاں کر لیں۔
لیکن ان کی بدقسمتی سے ان کا ایک پرانا سا تھی جس کا نام جمال تھا۔۔ جیل سے فرار ہو کر ان کے پاس پہنچ گیا ۔۔
کچھ عرصہ خیریت سے گزر گیا ۔۔۔ایک رات جمال نے دو ساتھیوں کے ہمراہ ایک قریبی گاؤں میں ڈکیتی کی واردات کی۔۔۔ جب وہ واردات مکمل کر کے نکل رہے تھے تو گاؤں والوں نے ان پر ہلہ بول دیا ۔ انہوں نے جم کر مقابلہ کیا۔۔۔ جمال زخمی ہوگیا اور گاؤں کے دو آدمی مارے گئے۔۔۔
جمال کے ساتھیوں نے اسے سخاوت علی کے پاس چھوڑا اور اپنا حصہ لے کر راتوں رات وہاں سے نکل گئے۔۔۔ اگلی صبح پولیس گاؤں میں پہنچی اور جمال کے ساتھ سخاوت اور امام بخش کو بھی گرفتار کر لیا۔۔ اس وقت تک کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ سخاوت اور امام بخش پیشہ ور ڈکیت تھے۔۔۔
اس بات کا سب سے زیادہ صدمہ سخاوت علی کی بیوی فاطمہ کو ہوا ۔۔اس وقت وہ دو بچوں کی ماں بن چکی تھی۔۔
سخاوت علی اور امام بخش نے سزا سے بچنے کے لیے اپنی ساری جائیداد داؤ پر لگا دی لیکن چونکہ ان کا پچھلا ریکارڈ اچھا نہیں تھا اس لئے صفائی کی مضبوط شہادتوں کے باوجود دونوں کو تین سال قید بامشقت ہوگئ۔۔
جب وہ جیل سے باہر آئے تو خالی ہاتھ تھے ۔۔ان کے تمام پونجی قانونی کاروائیوں کی نظر ہو چکی تھی۔۔ اس پر مستزاد یہ کہ دونوں کی بیویاں ناراض ہو کر میکے تھیں۔۔اور اب ان کے ساتھ رہنے پر تیار نہیں تھیں۔۔
یہ صورتحال دیکھ کر سخاوت علی نے امام بخش سے کہا ۔۔امام بخشا۔ اس وقت ہمیں بیویوں کے پیچھے پڑنے کی بجائے اپنے مالی حالات کی فکر کرنی چاہیے۔۔پلے مال ہو تو عورت کو منانا آسان۔
انہوں نے پوری ہمت سے کام۔۔۔شروع کر دیا اور چند سالوں میں دوبارہ جائداد بنا لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ کیا کام شروع کیا تھا۔۔۔
دونوں نے عمدہ کپڑے سلوائے۔بیوی بچوں کے لئے تحفے خریدے اور بڑی آن بان کے ساتھ اپنے سسرال پہنچے۔۔ان کی ٹورشور کا خاطر خواہ اثر ہوا اور سسرال والے ان کی بیویوں کو رخصت کرنے پر راضی ہو گئے۔۔۔
امام بخش نے مجھے بتایا کہ سکھے کی بیوی فاطمہ خوش نہیں تھی۔۔ وہ گھر والوں کے دباؤ میں آکر رخصت تو ہو گئی پر اس نے سخاوت علی کو دل سے قبول نہ کیا۔۔۔ اس نے اولاد کے دل میں بھی باپ کے لیے نفرت کا بیج بویا۔۔۔
یوں زندگی گزرتی رہی اور فاصلے بڑھتے رہے۔۔۔۔۔
ان کی اولادیں جوان ہو گئیں اور ان کی شادیاں بھی ہوگئیں۔۔۔
سخاوت علی اور امام بخش بوڑھے ہو گئے۔۔ان کی بیویاں فوت ہو گئیں اور پھر وہ وقت بھی آگیا کہ ان کی اولاد بھی بڑھاپے کے دور میں داخل ہو گئی۔۔
سخاوت علی کبھی ایک بیٹے کے گھر میں رہتا اور کبھی دوسرے بیٹے کے گھر میں لیکن کوئی اس کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔
ایک روز وہ گھر سے چلا گیا اور پندرہ بیس روز کے بعد واپس آیا۔۔گھر والوں کے استفسار پر اس نے بتایا کہ ایک قریبی علاقے میں اس کی کچھ جائداد تھی جسے وہ فروخت کر آیا ہے۔۔ اس کی جائیداد کے بارے میں چہ میگوئیاں ہوتی رہتی تھیں لیکن کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ جائیداد کہاں تھی۔ ۔۔
سخاوت علی نے اپنے چند خاص دوستوں کو بتایا کہ اسے جائیداد کی فروخت سے خاصی بڑی رقم ملی ہے لیکن چونکہ اولاد اس کا خیال نہیں رکھتی اس لیے یہ دولت اس کے ساتھ ہی قبر میں جائے گی۔۔۔۔
یہ بات اس کے دونوں بیٹوں کو بھی معلوم ہوئی اور وہ ساری دوریاں بھلا کر باپ کی خدمت پر کمربستہ نظر آنے لگے۔۔ یہ بات بالکل ہی بے حقیقت نہیں تھی ۔۔۔سخاوت علی کے بارے میں یہ بھی سنا گیا کہ اس نے جائیداد بیچ کر سونا خرید لیا تھا۔۔ بعض لوگوں نےحلفیہ دعوی کیا کہ انہوں نے سخاوت علی کے پاس سونے کی مہر شدہ ٹکیاں دیکھی تھیں۔۔اس قسم کی ایک ٹکیہ دس تولے کی ہوتی ہے۔۔
ان افواہوں کی روشنی میں چھوٹے بیٹے صادق علی نے زیادہ چلاکی کا مظاہرہ کیا اور باپ کو مستقل اپنے گھر میں رکھ لیا۔۔ اس نے اپنے بچوں کو تاکید کردی کہ وہ دادا کی خدمت اچھی طرح کریں اور انہیں شکایت کا موقع نہ دیں۔۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ سخاوت علی نے اولاد کے سامنے کبھی دولت کا ذکر نہیں کیا تھا۔۔۔ نہ کبھی یہ کہا تھا کہ وہ جس سے خوش ہوگا اس کو اپنی دولت دے دے گا ۔۔۔لوگوں نے اسے ہمیشہ یہی کہتے سنا کہ وہ اپنی دولت اپنے ساتھ قبر میں لے جائے گا۔۔
اس بیان کی روشنی میں قبر کھودنے والا معما حل ہو گیا۔۔غلام عباس نے دولت کی تلاش میں اپنے باپ کی قبر کھودی تھی۔۔۔
لیکن اس صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ مرنے والا۔۔۔۔۔ اپنی دولت بذات خود قبر میں کیسے دفن کر سکتا تھا۔۔۔
میں نے امام بخش سے یہ بات پوچھی تو اس نے جواب دیا۔۔۔ یہ سب ٹور شور کا چکر تھا ۔۔میرا یار ایسا ہی تھا۔ میں نے اس کی دولت پر کبھی یقین نہیں کیا تھا۔۔ حالانکہ ایک دفعہ اس نے مجھے سونے کی ٹکیہ دکھائی بھی تھی ۔۔
امام بخش کے ساتھ اور بھی بہت سی باتیں ہوئیں لیکن میں طوالت کے خیال سے ان کا ذکر چھوڑتا ہوں ۔۔۔
وہاں سے اٹھ کر میں صادق علی کے گھر گیا مگر وہاں سے پتہ چلا کہ وہ بھائی کی لاش لینے ہسپتال گیا ہوا تھا۔۔۔
شام تک غلام عباس کی تجہیزوتکفین مکمل ہوگئی ۔۔
اگلی صبح صادق علی خود ہی تھا نے حاضر ہوا اور کہا کہ وہ اپنے بھائی کے قتل کی رپورٹ لکھوانے آیا ہے ۔۔
عبوری رپورٹ ہم نے گزشتہ روز ہی درج کرلی تھی لیکن میں نے رپورٹ کا ذکر نہیں کیا اور کہا۔۔میں نے تو سنا ہے کہ تمہارے بھائی کی موت قدرت کا عمل دخل ہے۔۔
اس نے گردن کھجلاتے ہوئے کہا۔۔۔لوگ تو یہی کہتے ہیں آگے اللہ بہتر جانے ۔۔۔۔ میں تو اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ کل آپ ہمارے گھر آئے تھے۔۔
میں یہی پوچھنا چاہتا تھا کہ غلام عباس کی موت کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔۔ اور دوسری بات میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تمہارا بھائی قبر کیوں کھود رہا تھا۔۔۔۔؟ کیا قبر کے اندر کوئی خزانہ دبا ہوا ہے۔۔؟
وہ سوچ میں پڑ گیا۔۔۔ غالباً اس کشمکش میں مبتلا ہوگیا تھا کہ سچ بولے یا جھوٹ۔۔بالآخر اس نے کہا۔۔ملک صاحب اباجی کے خزانے کے بارے میں کی افواہیں مشہور تھیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے پاس سونے کی اینٹیں تھی جو انہوں نے کہیں دبا رکھی تھیں۔۔ہو سکتا ہے کہ وہ سونا انہوں نے قبرستان میں کہیں دبا رکھا ہو۔میرا خیال ہے کہ بھائی غلام عباس نے اسی سونے کی لالچ میں قبر کھودی تھی۔۔
اگر ہم جان بھی لے کہ ان کے پاس سونا تھا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی قبر میں خود کیسے سونا دبایا تھا۔۔۔؟
ان کی وفات کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ وہ اکثر قبرستان جاتے رہتے تھے۔ اور اپنی قبر کی جگہ کا انتخاب بھی انہوں نے خود ہی کیا تھا ۔۔اس بات کا ہمیں اس وقت پتہ چلا جب ہم ان کا جنازہ لے کر قبرستان پہنچے ۔۔یہ بات ہمیں خوشی محمد گورکن نے بتائی کہ ابا جی نہ صرف قبر کی قیمت بلکہ گورکن کی مزدوری بھی ادا کر چکے تھے۔۔
تو کیا سخاوت علی نے اپنی موت سے قبل اپنا خزانہ قبر میں دبا دیا تھا ۔۔۔۔؟ میرے دل میں سوال پیدا ہوا۔۔۔ اور کیا گورکن کو اس خزانے کا علم تھا۔۔؟
کیا انہوں نے اپنی زندگی میں ہی قبر تیار کروا لی تھی۔۔؟
ملک صاحب۔۔۔ یہ بھی بڑی عجیب بات ہے گورکن نے ہمیں بتایا ہے کہ ابا جی نے وفات سے صرف 15 دن پہلے قبر تیار کروائی تھی۔۔ خوشی محمد نے انہیں بہت کہا کہ ضرورت کے وقت قبر تیار ہو جائے گی مگر وہ نہیں مانے ۔۔۔ شاید انہیں اپنی موت کا علم ہو گیا تھا۔۔
میں نے اس کی بات پر گرہ لگائی۔۔۔ سنا ہے کہ تمھارے ابّا جی بہت پہنچے ہوئے بزرگ تھے۔۔۔؟
ہاں ۔۔بہت نیک آدمی تھے۔۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔۔ہر وقت کوئی نہ کوئی وظیفہ کرتے رہتے تھے آخری دنوں میں تو قبر میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے ۔۔یہ بات بھی خوشی محمد نے بتائی ہے ۔۔
بات کھلتی جا رہی تھی ۔۔قبر میں بیٹھ کر ذکر بھی کیا جاسکتا تھا اور خزانہ بھی دبایا جا سکتا تھا۔۔
میں نے پوچھا۔۔۔ یہ بات تمہیں کب معلوم ہوئی ہے۔۔؟
یہ بات بھی ابا جی کی وفات والے دن ہی معلوم ہوئی تھی۔۔
میرے دل میں خوشی محمد کے بارے میں شکوک پیدا ہوئے۔۔ ممکن ہے کہ اسے خزانے کے بارے میں علم ہو گیا ہو اور اس نے سخاوت علی کو کسی دوسری قبر میں دفنا دیا ہو یہ بات اس کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس دعوت علی نے اپنے لیے کونسی قبر مخصوص کروائی تھی۔۔۔
صادق علی۔۔۔ کیا تمہیں یقین ہے کہ تمھارے ابّا کی تدفین اسی قبر میں ہوئی تھی جو انہوں نے خود اپنے لیے مخصوص کی تھی۔۔؟
میرا سوال سن کر وہ چونک گیا ۔۔۔غالباً اس کے ذہن میں بھی وہی بات آئی تھی جو میرے ذہن میں آئی تھی۔۔
جب ہم جنازہ لے کر قبرستان پہنچے تو وہاں دو تیار قبریں تھیں۔۔خوشی محمد نے ہمیں جس قبر کے بارے میں بتایا ہم نے اسی میں جنازہ دفن کر دیا۔۔ہو سکتا ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا ہو۔۔۔آخری جملہ اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا تھا۔۔۔
میں نے پوچھا تمہیں اپنے بھائی کے قتل کے بارے میں کسی پر شک تو نہیں۔۔؟
اس نے جواب دیا کہ اسے کسی پر شک نہیں ہے۔۔۔
دوپہر کے بعد میں ایک اے ایس آئی کے ہمراہ خوشی محمد کے گھر پہنچا ابھی ہم دور ہی تھے کہ ہم نے ایک نوجوان کو اس کے گھر سے نکلتے دیکھا وہ چند قدم ہماری سمت چلا پھر ہمیں دیکھ کر یوں رکا جیسے اسے کوئی بات یاد آ گئی ہو۔۔پھر واپس مڑا اور تیز قدم اٹھاتا ہوا مکان کے عقب میں غائب ہو گیا۔۔
یہ لڑکا تھانے بھی آیا تھا ۔۔اے ایس آئی نے کہا۔۔غالبا صادق علی کا بیٹا اکرم اس کا نام ہے۔۔
میرا خیال ہے کہ اس کے باپ نے اسے یہاں بھیجا ہوگا ۔۔۔میں نے کہا ۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ خزانے والی بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔۔
خوشی محمد نے ہمیں آتے دیکھ لیا تھا۔۔ اس نے باہر آ کر سلام کیا اور ہمیں ایک نیم تاریک کمرے میں لے گیا جس میں دو کھری چارپائیاں رکھی تھیں۔۔
میں نے پوچھا ۔۔۔یہ اکرم یہاں کیا کرنے آیا تھا۔۔۔؟
پتا نہیں جی۔۔ الٹی سیدھی باتیں کر رہا تھا۔۔ اس نے جواب دیا۔۔۔کہہ رہا تھا کہ میں نے اس کے دادا کو صحیح قبر میں دفن نہیں کیا۔۔۔ پہلے کہتے تھے مردا غائب کر دیا ۔۔اب کہتے ہیں قبر صحیح نہیں۔۔ پتہ نہیں جی۔۔یہ لوگ مجھ غریب کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں۔۔
کیا تم نے سخاوت علی کو صحیح قبر میں دفن کیا تھا۔۔؟میں نے پوچھا۔۔۔
اس نے گھبرا کر میری طرف دیکھا پھر پوچھا کیا انہوں نے میرے خلاف ایک اور رپٹ لکھا دی ہے۔۔؟
رپٹ کی کوئی بات نہیں۔۔یہ بات میں اپنے طور پر پوچھ رہا ہوں۔۔
دفن تو انہوں نے خود ہی کیا تھا میں نے صرف قبر کے بارے میں بتایا تھا۔۔ بڈھے نے زندگی میں ہی اپنی قبر تیار کروا لی تھی۔۔
میں نے سنا ہے کہ وہ قبر میں بیٹھ کر وظیفہ کیا کرتا تھا۔۔؟
وظیفہ تو جی اللہ ہی بہتر جانے ۔۔ میں نے تو اس کے ہاتھ میں کبھی تسبیح وغیرہ نہیں دیکھی۔۔ ہاں اسے دو دفعہ قبر میں ضرور اترتے دیکھا تھا بڑا عجیب آدمی تھا ہر مہینے اپنے لیے ایک قبر بنوا لیتا تھا ۔۔ہر دفعہ یہی کہتا تھا یہ میرا آخری مہینہ ہے۔۔ مجھے خبر مل گئی ہے ۔۔ میں مرنے والا ہوں ۔۔۔ جناب ۔۔۔کبھی نہ کبھی تو آدمی مر ہی جاتا ہے اور نوے سالہ بڈھے کا کیا بھروسا۔۔!
اس کی باتوں میں سادگی تھی۔۔ میں نے اس سے سیدھی بات کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔
خوشی محمد۔۔۔ وہ ہر مہینے قبر تبدیل کیوں کر لیتا تھا۔۔؟
جناب۔۔ اتنے زیادہ عرصے تک قبر کھلی نہیں رکھی جاسکتی۔۔ بارش میں قبر خراب ہو جاتی ہے ۔۔میں خود ہی وہ قبر کسی اور کو دے دیتا تھا اور اس کے نام دوسری قبر لگا دیتا تھا۔۔۔
کیا تم نے اس سے پہلے بھی اسے کسی قبر میں اترتے دیکھا تھا۔۔۔؟
نہیں جی۔۔ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔۔۔
اس نے اب تک کل کتنی قبریں اپنے نام لگوائی تھیں ۔۔۔؟
تقریباً آٹھ یا نو ہوں گی۔۔
لوگوں کا خیال ہے کہ سخاوت نے اپنی جائیداد بیچ کر اس کا سونا خرید لیا تھا۔۔۔میں نے کہا ۔۔۔اور وہ سارا سونا اس نے کسی قبر میں دبا دیا تھا۔۔ تمہارا کیا خیال ہے ۔۔۔؟
مجھے ایسی کوئی بات معلوم نہیں ہے۔۔۔ اس نے جواب دیا۔۔۔ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں وہ سونا نکال نا لیتا۔۔۔
اگر اسے سونے کا علم ہوتا یا اس نے سونا نکالا ہوتا تو وہ ایسی بات نہ کہتا۔۔۔۔
میں نے پوچھا۔۔۔ خوشی محمد جس قبر میں سخاوت علی کو دفن کیا گیا تھا ۔۔کیا یہ وہی قبر تھی جس میں تم نے اس کو اترتے دیکھا تھا۔۔۔؟
ہاں جی۔۔ وہی قبر تھی۔۔اس نے جواب دیا۔۔ جب لاش قبر میں اتار دی گئی تو ایک آدمی قبر میں اتر آیا اور اس نے کہا کہ وہ مرنے والے کی وصیت کے مطابق ایک تعویذ میت میں رکھنا چاہتا ہے ۔۔۔ اس وقت میں لحد کو بند کرنے لگا تھا۔۔ میں نے کہا۔۔ رکھ دو۔۔۔اس نے جیب سے کوئی چیز نکالی اور کفن کا کنارہ ہٹا کر اسے میت پر رکھ دیا۔۔۔
وہ کیا چیز تھی۔۔۔؟
اس نے میری طرف پیٹھ کر کے وہ چیز میت پر رکھی تھی۔۔ میں اسے دیکھ نہیں سکا۔۔ شاید وہ بھی یہی چاہتا تھا کہ میں نہ دیکھوں۔۔
یہ بات اور کس کو معلوم ہے ۔۔۔؟
پتا نہیں وہ آدمی تعویذ رکھنے کے بعد میری مدد کرنے لگ گیا تھا۔۔ لوگ یہی سمجھ رہے ہوں گے وہ ثواب کی خاطر وہ کام کر رہا ہے۔۔۔ ویسے میں نے غلام عباس کو یہ بات بتائی تھی۔۔۔۔ وہ پرسوں میرے پاس آیا تھا اور اپنے باپ کے بارے میں ایسے ہی سوالات کر رہا تھا۔۔جیسے آپ کر رہے ہیں۔۔
تم نے اور کس کو یہ بات بتائی ہے۔۔؟
اور کس کو بتانی تھی جی۔۔۔۔ اوہ ہاں ابھی اکرم کو بھی یہ سارا قصہ بتایا ہے۔۔۔
وہ یا تو بہت سیدھا آدمی تھا یا بہت زیادہ چلاک۔۔۔
کیا تم اس شخص کو جانتے ہو جس نے میت پر تعویذ رکھا تھا۔۔۔؟
نام نہیں جانتا ۔۔۔ اگر سامنے آجائے تو شکل سے پہچان لوں گا۔۔۔
اے ایس آئی نے کہا ۔۔۔ اس آدمی کو تلاش کرنا مشکل نہیں ہو گا کئی اور لوگوں نے بھی اسے قبر میں اترتے دیکھا ہوگا۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔ تم خوشی محمد کو ساتھ لے لو اور اسے تلاش کر کے تھانے لے آؤ۔۔۔
اے ایس آئی نے کہا کہ مجھے بھی ساتھ ساتھ چلنا چاہیے ۔۔۔اسے یقین تھا کہ مذکورہ شخص کو تلاش کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔۔۔ اگر وہ مل گیا تو کھڑے کھڑے بات ہو جائے گی۔۔۔

