ایک شخص کے گھر والوں نے اس کی شادی اپنی پسند سے کر دی، مگر وہ اس رشتے سے بالکل خوش نہیں تھا۔ شادی کے پہلے ہی دن سے اس نے اپنی بیوی کو وہ مقام نہیں دیا جس کی وہ حقدار تھی، بلکہ اس کے ساتھ ایک نوکرانی جیسا سلوک کرنے لگا۔ نہ کبھی محبت بھری بات، نہ ہنسی مذاق، نہ اپنائیت کا کوئی احساس… بس ہر وقت حکم، سختی اور بے رخی۔
اس کی بیوی بے حد صابر اور بردبار تھی۔ شوہر جو بھی کہتا، وہ خاموشی سے مان لیتی۔ اس کی زندگی کا مقصد صرف یہ بن گیا تھا کہ وہ ہر حال میں اپنے شوہر کی خدمت کرے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ مگر افسوس، اس کا شوہر معمولی سی غلطی پر بھی اسے مارنے پیٹنے سے باز نہ آتا۔ اسے یہ حق تک حاصل نہ تھا کہ وہ کوئی سوال کر سکے یا اپنی صفائی پیش کر سکے۔
وقت گزرتا رہا، مگر شوہر کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ ایک دن اس ظالم کے دل میں ایک اور بھیانک خیال آیا—کیوں نہ ہمیشہ کے لیے اس سے جان چھڑا لی جائے۔ وہ اپنے دوستوں کے پاس گیا اور مل کر بیوی کو مارنے کے طریقے سوچنے لگا۔ آخرکار انہوں نے ایک خطرناک منصوبہ بنایا: مٹھائی میں زہر ملا کر اسے کھلا دیا جائے۔
وہ زہر آلود مٹھائی لے کر گھر آیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس دن اس کے لہجے میں پہلی بار نرمی تھی۔ اس نے بیوی سے کہا:
“یہ مٹھائی کھا لو۔”
بیوی اس اچانک بدلے ہوئے رویے پر حیران بھی ہوئی اور دل ہی دل میں خوش بھی، مگر ایک انجانی سی گھبراہٹ اس کے دل میں ضرور پیدا ہوئی۔ اس نے مٹھائی کو غور سے دیکھا… اور شاید عورت کی وہی “چھٹی حس” جاگ اٹھی۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ اس میں کچھ غلط ہے۔
اس نے تین بار پوچھا:
“میں کھا لوں؟”
اور ہر بار شوہر نے سرد لہجے میں کہا:
“ہاں، کھا لو۔”
اب اس کے پاس دو راستے تھے—شک کرے یا شوہر کے حکم کو مان لے۔ اس نے آنکھیں بند کیں، دل کو مضبوط کیا اور اسے شوہر کا حکم سمجھ کر وہ مٹھائی کھا لی۔
شوہر فوراً گھر سے نکل گیا اور اپنے دوستوں کے پاس جا بیٹھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہ وہاں بیٹھ کر اپنی بیوی کی موت کا انتظار کرنے لگا۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک شخص ہانپتا کانپتا اس کے پاس آیا اور بولا:
“جلدی گھر چلو! تمہاری بیوی آخری سانسیں لے رہی ہے… اور بار بار تمہیں یاد کر رہی ہے!”
یہ سن کر اس کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ وہ گھبراہٹ میں فوراً گھر کی طرف بھاگا۔
گھر پہنچ کر اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی زمین پر پڑی ہے۔ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی، جسم تڑپ رہا تھا، اور زندگی و موت کے درمیان جھول رہی تھی۔
جیسے ہی وہ اس کے قریب آیا، اس نے بڑی مشکل سے اپنی آنکھیں کھولیں، خود کو سنبھالا، اور لڑکھڑاتے ہوئے اس کے قدموں میں گر گئی۔ اس نے اس کے پاؤں پکڑ لیے اور ٹوٹتی ہوئی آواز میں بولی:
“مجھے معاف کر دینا… میں آپ کے قابل نہ بن سکی… قصور میرا ہی ہے… میں آپ کی خدمت بھی پوری طرح نہ کر سکی…”
یہ الفاظ… یہ بے بسی… یہ سچی محبت…
اس کے دل کو اندر تک چیر گئے۔
اسی لمحے اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا… یا شاید کچھ جاگ گیا۔
اس کی آنکھوں کے سامنے اپنی ساری ظلم بھری حرکتیں گھومنے لگیں۔ اسے اپنی ہی ذات سے نفرت ہونے لگی۔ وہ چیخ اٹھا، فوراً اپنی بیوی کو اٹھایا اور پاگلوں کی طرح ہسپتال کی طرف دوڑا۔
ڈاکٹرز نے بروقت علاج کیا، اس کا معدہ صاف کیا… اور اللہ کے کرم سے وہ عورت موت کے منہ سے واپس آ گئی۔
وہ دن اس شخص کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوا۔
اس نے سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی، نہ صرف اپنی بیوی سے بلکہ اللہ سے بھی۔ اس کے بعد اس کے رویے میں ایسی تبدیلی آئی کہ لوگ حیران رہ گئے۔
وقت بدلا… حالات بدلے… اور ایک بے رحم شوہر ایک محبت کرنے والا انسان بن گیا۔
پہلے لوگ طنزاً پوچھتے تھے:
“تمہاری نوکرانی کہاں ہے؟”
مگر اب وہ فخر سے مسکرا کر کہتا:
“وہ نوکرانی نہیں… وہ میرے گھر کی ملکہ ہے… اور میری زندگی کا سکون ہے۔”
اب وہ اس کا خیال رکھتا، اس کی عزت کرتا، اور ہر لمحہ اس کی قدر کرتا—کیونکہ اسے معلوم ہو چکا تھا کہ سچی محبت اور خلوص کتنی قیمتی نعمت ہیں۔
صبر، وفا اور سچی محبت کبھی ضائع نہیں جاتے…
وہ ایک دن ضرور دل بدل دیتے ہیں۔
ایک مجبور لڑکی کی آپ بیتی
➤ مزید پڑھیں

