السلام علیکم...
میں ہوں فرزانہ خان
آج کی کہانی ہمارے ساتھ زینب نے شیئر کی ، آئیے انہی کی زبانی پوری کہانی سنتے ہیں۔
السلام علیکم ! امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج میں آپ کو اپنی ہی زندگی کا ایک ایسا پراسرار اور خوفناک واقعہ سنانے جا رہی ہوں جو دو ہزار تیرہ میں میرے ساتھ پیش آیا۔ یہ کوئی افسانہ یا بنائی ہوئی بات نہیں، بلکہ میری اپنی سچی کہانی ہے۔ میں زینب ہوں، اور یہ سب کچھ آج تک دل میں چھپائے بیٹھی تھی، لیکن اب لگتا ہے کہ اگر نہ سناؤں تو یہ بوجھ مجھے اندر ہی اندر کھوکھلا کر دے گا۔ یہ سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے، دل دھڑکے گا، اور شاید رات کو اکیلے ٹرین کے بارے میں سوچنے میں بھی خوف محسوس ہو۔
میں زینب ہوں، لاہور کے گلبرگ علاقے میں رہتی تھی۔ ایک سادہ متوسط طبقے کے گھرانے کی لڑکی۔ لیکن بچپن سے ہی میرا دل تاریک اور پراسرار چیزوں کی طرف کھنچتا تھا۔ خوفناک کہانیاں، بھوتوں اور جنوں والی فلمیں، رات کی سناٹے میں پرانی ویب سائٹس پر پڑھی جانے والی سچی ہارر کہانیاں... یہ سب میرا شوق تھا۔ جہاں عام لوگ ڈرتے اور بھاگتے، میں وہاں کھنچی چلی جاتی۔ راتوں کو اکیلی بیٹھ کر ایسی چیزیں پڑھتی جو دوسروں کو نیند حرام کر دیتیں۔
میرے والد کراچی میں ایک سرکاری دفتر میں نوکری کرتے تھے، اماں لاہور کی تھیں۔ شادی کے بعد اماں کو کراچی لے آئے تھے، لیکن خاندان کے رشتے لاہور سے جڑے ہوئے تھے۔ اس لیے سال میں کئی بار ہم پورا خاندان لاہور سے کراچی یا کراچی سے لاہور کا سفر کرتے، ننھیال یا ددھیال سے ملنے۔ اور یہ سفر ہمیشہ ٹرین سے ہی ہوتا تھا۔ لاہور سے کراچی کا وہ طویل، چوبیس گھنٹے کا سفر جو کراچی ایکسپریس یا بزنس کلاس سے طے ہوتا۔ مجھے یہ سفر بہت اچھا لگتا تھا۔ رات کا گہرا اندھیرا، کھڑکی سے گزرتے ہوئے ویران کھیت، دور تک پھیلا سناٹا، ٹرین کی مسلسل چھن چھن کی آواز جو جیسے کوئی سرگوشی کر رہی ہو... یہ سب مجھے ایک عجیب، پراسرار سکون دیتا تھا۔ لیکن مئی دو ہزار تیرہ میں جو کچھ ہوا، اس نے مجھے ہمیشہ کے لیے ایک تاریک سایہ تلے لا کھڑا کر دیا۔
وہ گرمیوں کی تعطیلات تھیں۔ ہم لوگ کراچی واپس جا رہے تھے، ابو کی نوکری کی وجہ سے۔ رات کے نو بجے لاہور جنکشن سے کراچی ایکسپریس روانہ ہوئی۔ ہمارے ساتھ اماں، ابو اور چھوٹا بھائی علی تھا۔ ہم نے اے سی بزنس کلاس کا ٹکٹ لیا ہوا تھا۔
ٹرین میں سوار ہوتے ہی ماحول بالکل معمول کے مطابق تھا۔ آس پاس کچھ اور مسافر بھی تھے – بوڑھے جوڑے، تنہا کاروباری افراد، کچھ بچے جو شور مچا رہے تھے، عورتیں باتوں میں مصروف، مرد موبائل پر۔
میں نے اپنی سیٹ پر بیٹھ کر بیگ کھولا اور ایک پرانی ڈائری نکالی جس میں میں نے خود کچھ خوفناک کہانیاں لکھ رکھی تھیں۔ رات کی تاریکی میں انہیں پڑھنے لگی۔ لائٹیں مدھم تھیں، باہر اندھیرا گہرا ہو رہا تھا۔
"زینب، یہ عجیب عجیب چیزیں لکھنا چھوڑ دو۔ کچھ مفید پڑھا کرو،" اماں نے سرزنش کی۔
"اماں، یہ میرا شوق ہے۔ آپ کو کیسے سمجھاؤں!" میں نے مسکرا کر جواب دیا۔
ٹرین چل پڑی اور اندھیرا مزید گہرا ہونے لگا۔
پہلا حصہ بالکل نارمل گزرا۔ سامنے والی سیٹوں پر ایک خاندان بیٹھا تھا – رانا صاحب، ان کی بیوی صائمہ بی بی، اور ان کے دو چھوٹے بچے بلال اور حنا۔ دونوں خاندانوں میں ہلکی پھلکی باتیں ہوئیں۔
"آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں؟" رانا صاحب نے پوچھا۔
"کراچی، گھر واپس۔ آپ؟" ابو نے بتایا۔
"ہم بھی کراچی ہی۔ میری تبدیلی ہو گئی ہے۔"
بچے آپس میں کھیلنے لگے۔ علی بلال کے ساتھ لوڈو کھیل رہا تھا۔ عورتیں اپنی باتوں میں مصروف ہو گئیں۔
شام ڈھلی۔ رات کا کھانا کھایا، پھر سونے کی تیاری شروع ہوئی۔ ڈبے میں تین درجے کی برتھیں تھیں – نیچے، بیچ میں، اوپر۔
میں نے اوپر والی برتھ لی۔ ائیر پوڈز لگائے اور ایک پرانی ہارر پوڈکاسٹ سننا شروع کر دی – "رات کی سرگوشیاں" نامی ایک سیریز جس میں رات کو ٹرینوں میں عجیب سایوں اور آوازوں کی باتیں تھیں۔ کہانی بہت خوفناک تھی، لیکن مجھے مزہ آ رہا تھا۔ کب نیند آ گئی، پتہ ہی نہ چلا۔
اچانک میری نیند کھلی۔ محسوس ہوا کہ کسی نے میرے کان سے ائیر پوڈز نکالے ہیں۔ آنکھیں کھولیں تو ابو کھڑے تھے۔
"زینب، ابھی ایک گھنٹے میں کراچی پہنچ رہے ہیں۔ اٹھو، سامان سمیٹ لو۔"
میں نے نیم خوابی میں گھڑی دیکھی – رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔
"ابو... ابھی تو نیند آ رہی ہے۔ آپ لوگ سمیٹ لیں نا۔"
"بیٹا، تم اوپر ہو، ہمارے لیے سامان نکالنا مشکل ہے۔ ایک کام کرو – پیچھے کے ڈبے میں جا کر سو جاؤ۔ وہاں وہ فیملی جو تھی وہ ملتان میں اتر گئی ہے۔ پوری جگہ خالی ہے۔ آدھے گھنٹے میں بلا لیں گے۔"
میں آدھی نیند میں اٹھی، اپنا تکیہ اٹھایا اور پیچھے کے ڈبے کی طرف چل دی۔
جیسے ہی میں نے اس ڈبے کا دروازہ کھولا، کچھ عجیب لگا۔ پورا ڈبہ... بالکل خالی۔ نہ کوئی مسافر، نہ کوئی سامان۔ صرف سناٹا اور ٹرین کی چھن چھن کی آواز۔ لائٹیں مدھم، باہر گہرا اندھیرا جس میں کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ دور، ڈبے کے شروع میں، صرف ہمارا اور رانا صاحب کا خاندان نظر آ رہا تھا۔
"عجیب بات ہے... اتنے سارے لوگ کہاں غائب ہو گئے؟" میں نے سوچا۔ پھر خیال آیا کہ شاید راستے کے سٹیشنوں پر اتر گئے ہوں گے۔
میں ایک نچلی برتھ پر لیٹ گئی۔ لیکن نیند کہاں آ رہی تھی۔ سناٹا اتنا گہرا تھا کہ میری سانسوں کی آواز بھی بلند لگ رہی تھی۔ ہوا کا کوئی جھونکا نہیں، پھر بھی سردی سی لگ رہی تھی۔ کھڑکی پر اپنا عکس بھی نظر نہیں آ رہا تھا، جیسے باہر کچھ اور ہی ہو۔
تبھی... مجھے لگا کہ کوئی میرے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا ہے۔ بہت ہلکے سے، بہت نرمی سے، جیسے کوئی پیار کر رہا ہو۔ لیکن کچھ عجیب سا۔ میں نے سوچا شاید ہوا کا جھونکا ہے۔ دوسری طرف کروٹ بدلی۔
پھر اچانک میرے کان کے بالکل قریب سرگوشی ہوئی:
"زینب... زینب..."
آواز بالکل میری اپنی تھی۔ بالکل ویسی ہی لہجہ، ویسی ہی آواز۔
میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ میں نے جھٹکے سے مڑ کر دیکھا۔ برتھ کے پیچھے، مدھم روشنی اور اندھیرے کے سنگم پر، ایک لڑکی کھڑی تھی۔
وہ... بالکل میں تھی۔
ویسے ہی کپڑے جو میں نے پہنے تھے، ویسے ہی بال، ویسا ہی چہرہ۔
لیکن اس کی آنکھیں... یا اللہ! اتنی بڑی، اتنی خوفناک کہ لگ رہا تھا جیسے ابھی باہر نکل آئیں گی۔ سیاہ گڑھے جیسی، جن میں کوئی پتلی نہیں۔ اور مسکراہٹ... ایسی مسکراہٹ کہ میرے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی، جیسے کوئی مردہ مسکرا رہا ہو۔
میں چیخ بھی نہ سکی۔ گلے میں پھنس گئی۔ برتھ سے کودی اور بھاگنے لگی، اپنے خاندان کی طرف۔ لیکن پیچھے سے کسی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا – بہت زور سے، بہت ٹھنڈا۔
"چھوڑو! چھوڑو مجھے!" میں چیخی اور پوری طاقت سے جھٹکا دیا۔ بھاگتی ہوئی اپنے والدین کی طرف دوڑی۔
بھاگتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ "دوسری زینب" بھی بھاگ رہی تھی – لیکن دوسری سمت میں، رانا صاحب کے خاندان کی طرف۔ صرف دو سیکنڈ میں وہ وہاں پہنچ گئی۔ اور اچانک بلال اور حنا زور زور سے رونے لگے، ایسے روئے جیسے انہیں کوئی بہت شدید تکلیف ہو رہی ہو، جیسے کوئی انہیں چھو رہا ہو۔
میں ہانپتی ہوئی، کانپتی ہوئی اماں ابو کے پاس پہنچی۔
"اماں! ابو! وہاں... وہاں ایک لڑکی تھی... بالکل میری طرح... اس کی آنکھیں... وہ مسکرا رہی تھی... بہت خوفناک طریقے سے!"
پیچھے سے بلال اور حنا کی چیخیں ابھی تک آ رہی تھیں۔
"کیا بکواس کر رہی ہو زینب؟" ابو غصے سے بولے۔
"ابو سچ کہہ رہی ہوں! میں نے دیکھا! وہ... بالکل میری طرح تھی... لیکن آنکھیں... اور مسکراہٹ..."
"بس کرو!" اماں نے ڈانٹا۔ "دن رات یہی ہارر کہانیاں، پوڈکاسٹ، فلمیں... اب تمہیں خواب میں بھی یہی نظر آئیں گے! ہم نے کہا تھا نا یہ فضول چیزیں چھوڑ دو!"
"لیکن اماں—"
"بس! ایک لفظ بھی نہیں۔ چپ چاپ بیٹھو اور سامان دیکھو۔ ابھی آدھا گھنٹہ میں کراچی آ جائے گا۔"
کسی نے یقین نہیں کیا۔ رانا صاحب کے بچوں کی چیخوں کو بھی سب نے نظر انداز کر دیا، کہا شاید برا خواب دیکھا ہو گا۔
آخر کار ٹرین کراچی کینٹ پر پہنچی۔ صبح کے چار بج رہے تھے۔ جب تک سٹیشن سے باہر نہ نکلے، میرا دل ڈر سے دھڑکتا رہا۔ لیکن جوں ہی ٹیکسی لی اور سٹیشن سے دور ہوئے، صبح کی روشنی دیکھ کر تھوڑا سکون ملا۔
"شاید... شاید واقعی زیادہ ہارر دیکھ لیا تھا،" میں نے خود سے کہا۔ لیکن دل میں ایک خوف چھپا ہوا تھا۔
گھر پہنچے۔ دن گزرنے لگے، ہفتے گزر گئے۔ میں آہستہ آہستہ نارمل ہونے کی کوشش کرنے لگی۔ "شاید خواب تھا۔ اگر کوئی چیز ہوتی تو نقصان پہنچاتی، لیکن کچھ نہیں ہوا۔"
لیکن یہ سکون زیادہ دیر نہ رہا۔
دو مہینے بعد ایک دن اچانک پیٹ میں سخت درد ہوا۔ اتنا شدید کہ میں زمین پر گر پڑی، تڑپنے لگی۔
"آہ!" میں چیخی۔
"زینب! بیٹا کیا ہوا؟" اماں گھبرا کر دوڑی آئیں۔ ابو نے ڈاکٹر بلایا۔
ڈاکٹر آیا، پورا معائنہ کیا، ٹیسٹ کیے، لیکن کچھ سمجھ نہ آیا۔
"کوئی خاص مسئلہ نہیں، شاید گیس یا تناؤ۔ یہ دوائیاں لیں۔" اور چلا گیا۔
لیکن درد کم نہ ہوا۔ میں تڑپ رہی تھی۔ آخر کار نانی اماں، جو لاہور سے کراچی آئی ہوئی تھیں، سمجھ گئیں کہ یہ کوئی عام بات نہیں۔
"زینب بیٹا، سچ بتاؤ۔ تمہارے ساتھ کچھ ہوا ہے؟"
درد سے روتے روتے میں نے سارا واقعہ سنا دیا – ٹرین والا، وہ لڑکی، سب کچھ۔ نانی اماں کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
وہ فوراً مجھے لے کر داتا دربار کے قریب ایک مشہور بزرگ پیر صاحب کے پاس گئیں – حضرت بابا یوسف شاہ۔ پیر صاحب نے مجھے دیکھا، کچھ دیر خاموش رہے، پھر بولے:
"بیٹی، تم پر کسی سائے کا اثر ہے۔ یہ سایہ تمہارے ماضی، حال یا مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ مجھے ٹھیک نہیں پتہ، لیکن جلد ہی تم کچھ دیکھنے والی ہو، کچھ محسوس کرنے والی ہو۔"
یہ سن کر نانی اماں کانپ گئیں۔
"حضور، علاج؟"
"دم درود کرتا ہوں، لیکن یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔"
دم کیا، گھر آئے۔ آہستہ آہستہ درد کم ہوا، دو دن میں بالکل ٹھیک ہو گئی۔ سب نے سوچا پیر صاحب کے دم سے ٹھیک ہوئی۔ لیکن مجھے اندر سے لگ رہا تھا کہ یہ ختم نہیں ہوا۔
کچھ مہینے بعد خواب شروع ہوئے۔ عجیب، پراسرار خواب۔ ہر رات کوئی نہ کوئی خواب ضرور آتا۔ اور سب سے خوفناک بات – یہ خواب حقیقت میں بدل جاتے تھے۔
مثال کے طور پر: ایک رات خواب میں دیکھا کہ سکول کی پرنسپل شدید بیمار ہو گئیں۔ دو ہفتے بعد واقعی اسپتال میں داخل ہوئیں۔
ایک اور خواب میں پڑوسی انکل کی گاڑی کا شدید ایکسیڈنٹ دیکھا۔ مہینے بھر بعد واقعی ہو گیا۔
میں سمجھ نہ پا رہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
اور سب سے زیادہ ڈراؤنا خواب بار بار آتا تھا – ہر ہفتے کم از کم دو بار۔
اس خواب میں میں خود کو ایک اونچی پہاڑی کی چوٹی پر کھڑی دیکھتی۔ شادی کا سرخ جوڑا پہنے، بھاری زیورات، دلہن بنی ہوئی۔ رو رہی ہوتی۔
نیچے دامن میں ایک لڑکا کھڑا ہوتا، چہرہ دھندلا، وہ بھی رو رہا ہوتا۔
"زینب! رک جاؤ! پلیز! ایسا مت کرو!" وہ چیخ رہا ہوتا۔
میں جواب دیتی: "جو تم نے میرے ساتھ کیا... ایک دن تمہارے ساتھ بھی ہو گا۔ اور جب ہوگا... تو میں سب سے زیادہ خوش ہوں گی!"
اور یہ کہہ کر چھلانگ لگا دیتی۔
جیسے ہی گرتی، جاگ جاتی۔ روتی ہوئی، بے قابو۔ اتنا روتی کہ سانس لینا مشکل ہو جاتا۔
"یہ صرف خواب ہے، میں کیوں رو رہی ہوں؟" خود سے کہتی، لیکن رونا رکتا نہ تھا۔ جیسے جسم کا کنٹرول ہی نہ ہو۔
تبدیلیاں آنے لگیں۔ میں چیزیں دیکھنے لگی جو دوسرے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ کونوں میں سیاہ سائے، دھندلی شکلیں جو کبھی چلتی بھی نظر آتیں۔ جب بھی کسی جگہ جاتی، فوراً محسوس ہو جاتا کہ یہاں کچھ غلط ہے، نیگیٹو توانائی ہے۔
دو ہزار چوبیس میں، ایک دن آبِ زمزم سے وضو کیا۔ ہاتھ دیکھے تو کلائی پر نشانات تھے – جیسے کسی نے بہت زور سے پکڑا ہو۔ وہی نشان جو 2013 کی اس رات بنے تھے جب اس "دوسری زینب" نے میرا ہاتھ پکڑا تھا۔ گیارہ سال گزر گئے، لیکن وہ نشان ابھی تک موجود ہیں، مدھم ضرور، لیکن غائب نہیں ہوئے۔
آج بھی وہی پہاڑ والا خواب آتا ہے۔ ہر ہفتے۔ اب میں اتنا نہیں روتی۔ قبول کر لیا ہے۔
"شاید وہ مجھے کچھ بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔ شاید میرا کوئی ماضی... یا مستقبل..."
میں جانتی ہوں کہ وہ ابھی بھی میرے ساتھ ہے۔ کبھی گئی ہی نہیں۔ پیر صاحب کی دعاؤں نے شاید اسے خاموش یا کنٹرول میں کر دیا ہو، لیکن وہ موجود ہے۔
اور شاید ایک دن مجھے سب پتہ چل جائے – کہ وہ کون تھی، کیوں آئی، اور کیا چاہتی تھی۔
لیکن فی الحال... بس اتنا جانتی ہوں کہ دو ہزار تیرہ کی اس رات کے بعد سے میری زندگی کبھی پہلے جیسی نہ رہی۔
یاد رہے، یہ میری سچی کہانی ہے۔ آج تک گھر والوں سے بھی مکمل شیئر نہیں کی تھی۔
اگر آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا کچھ ہو تو فوراً کسی بزرگ یا عالم سے مشورہ کریں۔
اور رات کو اکیلے سفر کرتے وقت ہمیشہ آیۃ الکرسی پڑھ کر نکلیں، اور محتاط رہیں۔
اللہ حافظ۔
دوستو جاتے جاتے نیچے دی گئی کہانی بھی ضرور پڑھتے جائیں یہ بھی ایک بہترین کہانی ہے
👇👇

