خزانہ۔۔۔
راوی : ملک صفدر حیات
آخری قسط
اے ایس آئی کا اندازہ صحیح ثابت ہوا۔۔جنازے میں شریک چند لوگوں سے بات کرنے پر اس کا نام اور پتہ معلوم ہوگیا۔۔۔
بیس منٹ کے بعد ہم اس کا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے ۔۔اس کا نام شفیق الرحمٰن تھا اور وہ اسکول ٹیچر تھا۔۔
دستک کے جواب میں اس نے خود ہی دروازہ کھولا اور ہمیں دیکھ کر کچھ فکر مند نظر آنے لگا ۔۔وہ ادھیڑ عمر کا خوش اخلاق اور دیانتدار شخص نظر آتا تھا۔۔
رسمی کلمات کے بعد میں نے کہا ۔۔۔ شفیق صاحب خطرے کی کوئی بات نہیں ہے ۔۔ہم ایک چھوٹے سے معاملے کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں۔۔
حکم کریں۔۔۔
یہ خوشی محمد گورکن ہے۔۔ میں نے خوشی محمد کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ اس نے ہمیں بتایا ہے کہ سخاوت علی کی تدفین کے موقع پر آپ نے کوئی چیز کفن کے اندر کی تھی۔۔ وہ کیا چیز تھی۔۔؟
وہ ایک تعویذ تھا۔۔۔
میرا خیال ہے کہ تعویذ عموماً زندہ لوگ استعمال کرتے ہیں۔۔۔
میں نے صرف مرحوم کی خواہش پوری کی تھی ۔۔اس نے جواب دیا ۔۔ ذاتی طور پر میرا خیال یہ ہے کہ اگر انسان کے اندر تعویز نہ ہو تو باہر کا تعویذ اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ۔۔
سخاوت علی نے یہ تعویذ آپ کو کب دیا تھا۔۔؟
اس نے سوچتے ہوئے جواب دیا۔۔۔ یہ کوئی سات آٹھ مہینے پرانی بات ہے ۔۔ اس نے ایک بڑے سائز کا تعویذ سمجھے دیا تھا اور مجھ سے یہ وعدہ لیا تھا کہ اس کی وفات کے بعد میں وہ تعویذ اس وقت اس کے کفن کے اندر رکھ دوں جب اس کی میت لحد میں اتار دی جائے گی۔۔نیز یہ بھی وعدہ لیا تھا کہ میں اس تعویذ کا اس کی موت سے قبل کیسی سے ذکر نہیں کروں گا ۔۔ میں نے اس کام کو ایک بوڑھے شخص کی آخری خواہش سمجھ کر کرنا قبول کر لیا تھا ۔۔ورنہ ذاتی طور پر مجھے وہ کام بے حکمت ہی معلوم ہوا تھا ۔۔
آپ کے خیال میں اس تعویز کے اندر کیا چیز تھی۔۔۔؟
جناب۔۔۔ میں نے کبھی امانت میں خیانت نہیں کی۔۔ اس تعویذ کو میں نے دو دفعہ دیکھا تھا۔۔ ایک دفعہ اس وقت جب سخاوت علی نے اسے میرے سپرد کیا تھا اور دوسری دفعہ اس وقت جب اس کی وفات ہوئی۔۔ باقی سارا عرصہ میں نے اسے صندوق میں بند رکھا۔۔ میری فطرت میں تجسس نہیں ہے ۔۔ ویسے وہ عام تعویذوں سے بہت مختلف تھا اس کا سائز بھی خاصا بڑا تھا اور وزن بھی زیادہ تھا ۔۔میرا خیال ہے کہ اس کے اندر کسی دھات کا ٹکڑا تھا۔۔۔
آپ نے اسے یونہی رکھ دیا تھا۔۔ یا باندھ دیا تھا۔۔؟
باندھنے کا موقع نہیں تھا ۔۔۔اس نے جواب دیا ۔۔۔۔میں نے کفن کا کنارہ اٹھا کر اسے میت کے سینے پر رکھ دیا تھا۔۔۔
پھر تو وہ کہیں گر گیا ہوگا۔۔میں نے سوچا لاش ایک قبر سے نکال کر دوسری قبر میں دفن کی گئی تھی اور یہ کام رات کے اندھیرے میں کیا گیا تھا۔۔۔ اس عمل کے دوران تعویذ یا تو گر گیا تھا یا غلام عباس کے ہاتھ لگ گیا تھا ۔۔۔
میں نے ماسٹر شفیق الرحمان کا شکریہ ادا کیا ۔۔خوشی محمد کو چھٹی دے دی اور اے ایس آئی کے ہمراہ واپس تھانے پہنچ گیا۔۔
وہ پراسرار تعویذ میرے لئے اچانک اہمیت اختیار کر گیا تھا۔۔ سخاوت علی عرف سکھا ڈاکو معقول انسان نہیں تھا۔وہ پڑھا لکھا بھی نہیں تھا ۔۔ایسے لوگوں کی اپنی ایک مخصوص سوچ ہوا کرتی ہے۔۔ میں نے سوچا کہ اس نے اپنی دولت کی تشہیر اور پراسرار تعویذ کا مسئلہ اپنی ناخلف اولاد سے انتقام لینے کے لیے کھڑا کیا تھا ۔۔ اس کا بڑا بیٹا یعنی غلام عباس انتقام کا نشانہ بن چکا تھا ۔۔ جس شخص نے اسے قتل کیا تھا اس نے بھی سخاوت علی کی مبینہ دولت کے بارے میں وہی اندازہ لگایا تھا جو غلام عباس نے لگایا تھا۔۔ یعنی اس کا بھی یہی خیال تھا کہ دولت کا راز سخاوت علی کی قبر کے اندر یا پر اسرار تعویز کے اندر تھا۔۔۔
کوئی عجب نہیں کہ تعویذ کے اندر کوئی نقشہ کوئی ہنڈی یا کسی خفیہ صندوق کی چابی بند ہو۔۔مجھے خیال آیا کہ غلام عباس کا قاتل موقع ملتے ہی سخاوت علی کی قبر کھودنے کی کوشش کرے گا۔۔۔
لہذا قبرستان کی نگرانی ضروری تھی۔۔۔
رات کے نو بجے میں نے ولی محمد کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔ اس وقت میرے ساتھ ایک اے ایس آئی اور دو سپاہی تھے ۔۔ ہم چاروں سادہ لباس میں تھے۔
ملک صاحب۔۔ آپ اس وقت ولی محمد نے حیرانی سے آنکھیں آنکھیں جھپکائیں ۔۔ کیا پھر کوئی واردات ہو گئی ہے۔۔۔؟
ہم تمہارے جنات سے ملنے آئے ہیں ۔۔ میں نے کہا۔۔ آج کی رات ہم تمہارے باڑے میں گزاریں گے۔۔
خیریت تو ہے نا۔۔۔؟
خیریت تو صبح ہی معلوم ہوگی۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ تم ایسا کرو کہ باڑے میں ہمارے لئے چارپائیوں اور بستروں کا انتظام کر دو لیکن سارے کام بڑی خاموشی سے ہونا چاہیے ۔۔ آس پاس خبر نہ ہو۔۔۔
اس نے سپاہیوں کو ساتھ لیا اور چند منٹوں میں باڑے کے ایک حصے کی صفائی کر کے وہاں چارپائیاں بچھا دیں اور کھانے پینے کے بارے میں پوچھا۔۔۔
ہم گھر سے کھا پی کر آئے ہیں ۔۔۔میں نے جواب دیا۔۔۔ اگر کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو مانگ لیں گے اور اب تم جا کر آرام کرو۔۔۔
ہم رات کے گیارہ بجے تک جاگتے رہے ۔۔۔ اس اثنا میں سپاہی قبرستان کی نگرانی کرتے رہے ۔۔انہیں میں نے قبرستان کی دیوار کے ساتھ ایسی جگہ پر بٹھا دیا تھا جہاں سے سخاوت علی کی قبر صاف نظر آتی تھی۔ ۔ ویسے بھی وہ رات کے وقت قبرستان میں قدم رکھتے ہوئے گھبراتے تھے ۔۔۔ جس مقام پر وہ ڈیوٹی دے رہے وہاں درختوں کی وجہ سے تاریکی تھی۔۔
میں نے سپاہیوں کو تاکید کر دی تھی کہ اگر وہ قبرستان میں کوئی حرکت دیکھیں یا آواز سنیں تو از خود کوئی کاروائی نہ کریں اور بلاتاخیر مجھے جگا دیں۔۔
دن کے وقت قبرستان میں دو سپاہی پہرا دیتے رہے تھے۔۔۔ لیکن شام کے وقت میں نے ان کی ڈیوٹی ختم کر دی تھی ۔۔ اس کے علاوہ میں نے گورکن کو تاکید کر دی تھی کہ رات کے وقت اگر اسے قبرستان سے کسی قسم کی آواز سنائی دے تو وہ گھر سے باہر نہ نکلے۔۔
رات کے تقریبا پونے دو بجے ایک سپاہی نے مجھے جھنجوڑ کر جگایا اور ہولے سے بولا۔ ملک صاحب ۔۔۔جلدی سے اٹھ جائیں قبرستان میں ایک آدمی چل پھر رہا ہے۔۔۔
میں جلدی سے اٹھ بیٹھا ۔۔ اے ایس آئی مجھ سے پہلے ہی جاگ چکا تھا۔۔میں نے جلدی سے جوتے پہنے نے ہولسٹر کندھے پر ڈالا۔اور باڑے سے نکل کر قبرستان کی دیوار کی طرف بڑھا ۔سپاہی اور اے ایس آئی میرے پیچھے تھے۔ہم نے فلیٹ بوٹ پہن رکھے تھے تا کہ چلتے وقت قدموں کی آواز پیدا نہ ہو۔۔۔
رات گرم اور سنسان تھی۔۔ابتدائی راتوں کا چاند غروب ہو چکا تھا اور حشرات الارض کی آوازیں رات کے سناٹے میں ارتعاش پیدا کر رہی تھیں۔ قبرستان کی طرف دیکھ کر دل پر خوف سا طاری ہوتا تھا۔۔
سپاہی نے قبرستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے اس طرف کوئی چیز حرکت کرتی دکھائی دی تھی۔
میں نے اشارے کی سمت دیکھا مگر کوئی متحرک شے دکھائی نہیں دی۔۔۔کوئئ جانور ہوگا۔۔۔
جانور نہیں لگتا تھا۔۔۔سپاہی نے کہا۔۔۔خاصی قدآور شے تھی۔۔۔
اوئے ۔۔۔یہ شے کیا ہوتی ہے۔۔۔؟ اے ایس آئی نے کہا۔۔۔آدمی ہو گا یا کوئی جانور۔۔۔
جناب ! قبرستان میں کوئی تیسری شے بھی ہو سکتی ہے۔۔ ۔۔اس کا اشارہ بھوت پریت یا روح کی طرف تھا۔۔۔۔۔
ہم بیٹھ کر انتظار کرنے لگے۔۔ ہماری نظریں قبرستان کی طرف لگی ہوئی تھیں۔۔ آسمان پر پھیلے ہوئے ان گنت ستارے زمین پر مدھم اجالا کر رہے تھے۔ویسے ہمارے پاس ٹارچیں بھی تھیں لیکن ہم ان اشد ضرورت کے سوا استعمال نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔
دس بارہ منٹ کے بعد قبرستان میں ایک ہیولا سا حرکت کرتا دکھائی دیا۔۔وہ بہت احتیاط سے چل رہا تھا۔ کبھی کبھار کوئی خشک پتا اس کے پیر کے نیچے آکر چرچراہٹ پیدا کرتا تو وہ لمحہ بھر کے لئے رک جاتا۔بالآخر وہ سخاوت علی کی قبر کے قریب پہنچ کر رک گیا اور غلام عباس کے ادھورے کام کو مکمل کرنا شروع کر دیا ۔۔
مجھے یہ بات بتانے کا خیال نہیں رہا کہ میں نے تفتیشی ضرورت کے تحت سخاوت علی کی قبر پر مٹی ڈالنے کی اجازت نہیں دی تھی۔۔ قبر آدھی سے زیادہ کھدی ہوئی تھی۔۔۔
قبر کھودنے والا بہت احتیاط سے کام کر رہا تھا۔۔مٹی نکالنے سے بہت مدھم آواز پیدا ہو رہی تھی۔۔
اے ایس آئی نے کہا۔۔میرا خیال ہے کہ اسے گھیر کر پکڑ لینا چاہیے۔۔ابھی نہیں۔۔میں نے کہا۔۔اسے اپنا کام مکمل کر لینے دو۔
اے ایس آئی نے قدرے تلخی سے کہا۔۔۔کیا آپ اسے لاش کی بے حرمتی کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔۔۔؟
یہ بات مجھے بھی پسند نہیں تھی۔۔ لمحہ بھر کے لئے میرا ارادہ تبدیل بھی ہوا۔۔۔ میں نے سوچا قبل اس کے کہ وہ لاش کو قبر سے نکالے۔۔ ہمیں اسے گرفتار کر لینا چاہیے ۔ لیکن میں نے اپنے ارادے کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔۔دراصل میں معاملہ کی تہہ تک پہنچنا چاہتا تھا ۔۔۔
اگر میں اسے مزید قبر کھودنے سے روک دیتا تو گو وہ شخص ایک بڑے نقصان سے بچ جاتا مگر وہ بات سامنے نہ آتی جو اس عبرت انگیز واقعہ کو آپ تک پہنچانے کا محرک بنی۔ ۔۔
قبر کھودنے والا کافی گہرائی میں جا چکا تھا اور صرف اس وقت نظر آتا تھا جب وہ مٹی باہر پھینکتا تھا۔میں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آہستہ آہستہ آگے بڑھنا شروع کیا ۔۔درختوں اور پودوں کی اوٹ میں ۔۔کتبوں کی اوٹ میں۔۔ یہاں تک کہ ہم چند قدم کے فاصلے پر پہنچ گئے۔میں نے اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ میرے حکم کے بغیر کوئی حرکت نہ کریں۔۔
کچھ دیر کے بعد قبر کھودنے والے نے اپنا کام موقوف کر دیا اور قبر کے اندر غائب ہوگیا۔۔ غالباً وہ اس چیز کی تلاش میں تھا جس کے لیے اس نے ساری محنت کی تھی۔۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ جب وہ قبر سے باہر نکلے گا تو میں اسے گرفتار کر لوں گا۔۔ قبر کے اندر مدھم روشنی نظر آئی ۔۔ شاید کوئی چھوٹی ٹارچ تھی۔۔
میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ قبر کے اندر سے ایک دلدوز چیخ سنائی دی۔وہ آواز جو پورے قبرستان میں گونجتی چلی گئی تھی اس میں ایسی دہشت اور ایسی شدت تھی کہ ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔چند لمحوں کے لیے ہم اپنی جگہوں پر ساکت ہوگئے۔۔
قبر کھودنے والا قبر سے باہر نکلا اور چیخیں مارتا ہوا ایک طرف بھاگا۔۔اسےکچھ ہوش نہیں تھا کہ اس کے راستے میں کیا چیز آرہی تھی ۔۔وہ قبروں۔۔جھاڑیوں اور اونچی نیچی جگہوں کو پھلانگتا چلا جا رہا تھا ۔۔
اسے روکو۔۔۔۔۔میں نے چیخ کر کہا اور اس کے تعاقب میں بھاگا میرے ساتھیوں نے بھی میری تقلید کی۔۔۔
مذکورہ شخص دو تین دفعہ گرا مگر اس نے دوڑنا موقوف نہیں کیا۔۔ گرنے کی وجہ سے اسے واضح طور پر اچھی خاصی چوٹیں آئی تھیں۔۔تاہم اس کی رفتار میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔مجھے یقین ہو گیا کہ ہم اسے پکڑ نہیں سکیں گے۔۔
قبرستان کی دیوار پھلانگنے کے بعد وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔۔ ہم چونکہ قبروں سے بچ کر بھاگ رہے تھے اس لیے ہمیں لمبا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا تھا۔۔
قبرستان کی دیوار پھلانگنے کے بعد میں رک گیا۔۔ ایک کھلی جگہ سے رونے اور گڑ گڑانے کی آواز آ رہی تھی۔۔
میں آگے بڑھا تو دیکھا کہ مذکورہ شخص سجدے میں پڑا تھا اور اپنا داہنا ہاتھ زور زور سے زمین پر مارتے ہوئے کہہ رہا تھا اللہ میری توبہ۔۔۔۔۔ اللہ میری توبہ ۔۔مجھے آگ کے عذاب سے بچا ۔۔۔۔مجھے آگ کے عذاب سے بچا۔۔۔۔
ہم چاروں اس کے قریب کھڑے ہو کر حیرت سے اس کی حالت کا مشاہدہ کرنے لگے ۔۔ میں نے اس پر ٹارچ سے روشنی ڈالی اور جھک کر اس کا چہرہ دیکھا۔۔۔
اوہ ۔۔۔یہ تو صادق علی کا بیٹا اکرم ہے۔۔اے ایس آئی نے کہا۔۔اوئے۔۔کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔؟
ایک سپاہی نے اسے پکڑ کر سیدھا کھڑا کر دیا۔۔ میں نے ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کہ وہ بری طرح کانپ رہا تھا اور اپنے داہنے ہاتھ کو کبھی جھٹکتا ۔کبھی بغل میں دباتا اور کبھی دونوں ٹانگوں میں دباتا تھا۔۔لیکن یہ بات بڑی واضح تھی کہ اس کی تکلیف کسی طرح کم نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
کہیں اسے سانپ نے تو نہیں کاٹ لیا۔۔۔؟ ایک سپاہی نے کہا۔۔بھئئ ۔۔ذدا اپنا ہاتھ تو دکھاؤ۔۔
نہیں نہیں۔۔مجھے سانپ نے نہیں کاٹا۔۔۔ اکرم نے تکلیف برداشت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔۔مجھے کسی چیز نے نہیں کاٹا ۔مم۔۔۔۔۔میں نے خدا کے عذاب میں ہاتھ ڈال دیا تھا۔۔جہنم کی آگ میں ہاتھ ڈال دیا تھا۔۔کوئی شخص قبر کے اندر نہ جائے۔۔۔۔۔۔۔اسے فورا بند کر دیں۔۔۔اس قبر کے اندر جہنم کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ میرے گناہ گار دادا کو قبر کا عذاب دیا جا رہا ہے۔۔۔۔کوئی اس قبر کے قریب نہ جائے۔۔۔۔اللہ میرے گناہ معاف کرے۔۔۔۔میں زندہ نہیں بچوں گا۔۔۔
میں نے بڑی مشکل سے اس کا ہاتھ دیکھا ۔۔۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس نے دہکتی ہوئی آگ میں ہاتھ ڈال دیا ہو۔۔۔
صورتحال انتہائی پراسرار تھی۔۔۔ میں نے اسے قبر کے پاس لے جانا چاہا مگر وہ قبرستان میں قدم رکھنے پر تیار نہیں تھا۔۔بولا۔۔مجھے ختم کر دو ۔۔جان سے مار ڈالو مگر میں اس قبر کے پاس نہیں جاؤں گا۔۔۔
اے ایس آئی نے کہا۔۔۔ کچھ بتاؤ تو سہی کہ وہاں ہے کیا۔۔۔؟
اس کی باتوں نے ہمیں بھی خوفزدہ کر دیا تھا۔۔۔ میں نے اسے ایک سپاہی کے پاس چھوڑا اور باقی دو آدمیوں کے ہمراہ دوبارہ قبرستان میں داخل ہوا۔۔۔
رات کے اس سناٹے میں سخاوت علی کی قبر کے قریب جاتے ہوئے خوف محسوس ہوتا تھا۔۔۔
ہم قبر کے کنارے پر ٹھہر گئے اور ٹارچ سے اندر روشنی ڈالی۔۔وہاں جو کچھ ہمیں نظر آیا وہ ہمارے رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی تھا۔۔لحد میں پڑی ہوئی لاش صاف نظر آرہی تھی۔۔سینے والی جگہ کے آس پاس سے کفن ہٹا ہوا تھا اور عین دل کے مقام پر سونے کی ایک دہکتی ہوئی ٹکیہ چپکی ہوئی تھی۔۔اے ایس آئی گھبرا کر پیچھے ہوگیا۔۔
استغفراللہ ۔۔۔۔۔۔ استغفراللہ ۔۔۔ اس نے کہا ۔۔۔ یہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں۔۔۔ یہ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا چیز ہے۔۔۔۔؟
میں بھی پیچھے ہوگیا۔۔۔ لاش سے چپکے ہوئے سونے کے اس ٹکڑے کو دیکھ کر دل پر عجیب سی ہیبت طاری ہوتی تھی۔۔۔
میرا خیال ہے کہ یہ وہ تعویذ ہے جو ماسٹر شفیق الرحمان نے مرحوم کی لاش پر رکھا تھا۔۔۔
لیکن تعویذ تو کسی کپڑے وغیرہ میں بند ہوتا ہے۔۔
تعویذ کا کپڑا بھی ادھر پڑا ہے ۔۔۔۔سپاہی نے کہا۔۔۔ آپ نے شاید دھیان نہیں کیا ۔۔۔کپڑے کی ایک چھوٹی سی تھیلی لاش کے پہلو میں پڑی ہوئی ہے۔
میں نے آگے بڑھ کر ایک بار پھر قبر میں ٹارچ کی روشنی ڈالی۔۔تعویذ کی تھیلی واقعی قبر میں موجود تھی۔ ۔
یہی وہ دولت ہے جس کی سخاوت علی نے تشہیر کر رکھی تھی۔۔ میں نے کہا۔۔۔ اس کی کل دولت یہی ایک سونے کا ٹکڑا تھی جس کے بارے میں وہ کہتا رہتا تھا کہ وہ اس کے ساتھ قبر میں جائے گی۔۔۔
اے ایس آئی نے کہا ۔۔۔سونے کے ٹکڑے کا تھیلی سے نکلنا اور گرم ہو کر لاش سے چپک جانا سمجھ میں نہیں آیا ۔۔۔ شاید قبر کی گرمی سے کوئی کیمیکل ری ایکشن ہوا ہے۔۔۔
اس وقت میں نے بھی کچھ ایسا ہی اندازہ لگایا تھا لیکن اس کی اصل تجیہہ بہت عرصے کے بعد میری سمجھ میں آئی ۔۔۔ایک روز میں نے قرآن کریم میں پڑھا کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس میں سے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے قیامت کے دن اس سونے چاندی کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اس سے ان کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا ہے اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دولت ہے جسے تم اپنی جانوں کے لیے جمع کیا کرتے تھے۔۔۔۔
اس وقت ہم میں سے کوئی بھی قبر میں اترنے اور لاش کا کفن درست کرنے پر تیار نہیں ہوا ۔۔۔ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ وہ کام صبح کیا جائے گا۔۔۔
جب ہم سپاہی کے پاس پہنچے تو وہ پریشان کھڑا تھا۔۔ میں نے اکرم کے بارے میں پوچھا تو اس نے ایک طرف اشارہ کیا ۔۔۔میں نے اشارے کی سمت دیکھا تو اکرم کو بے ڈھنگے انداز میں زمین پر پڑے ہوئے پایا۔۔۔
جناب۔۔۔ میرا خیال ہے کہ یہ شخص ختم ہوچکا ہے ۔۔۔سپاہی نے کہا ۔۔۔مرنے سے پہلے اس نے اقبال جرم کر لیا تھا۔۔۔
مر گیا۔۔۔۔۔میں نے حیرانی سے کہا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے تو یہ بالکل ٹھیک تھا۔۔۔۔ تم نے تو کچھ نہیں کیا۔۔۔؟
نہیں جناب۔۔۔۔ میں نے تو اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔۔۔۔
میں نے قریب جا کر ٹارچ کی روشنی میں اس کا معائنہ کیا۔۔۔ وہ واقعی مر چکا تھا۔۔۔۔
مرنے سے پہلے اس نے سپاہی کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے تایا غلام عباس کو اسی نے قتل کیا تھا۔۔غلام عباس کی طرح اسے بھی اپنے دادا کی دولت کی تلاش تھی ۔۔جب اسے معلوم ہوا کہ قبر میں کوئی پراسرار تعویز دفن کیا گیا ہے تو وہ رات کی تاریکی میں قبرستان پہنچ گیا۔وہاں اس کا تایا پہلے سے ہی قبر کھودنے میں مصروف تھا۔۔اس بات سے اسے یقین ہوگیا کہ قبر میں واقعی کوئی دولت موجود ہے۔۔لہذا اس نے تایا کو اپنے راستے سے ہٹا دیا اور اگلی رات دوبارہ قبرستان پہنچ گیا۔۔
قبر کھودنے کے بعد بعد اس نے چھوٹی سی ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کے سونے کی ایک ٹکیہ لاش کے ساتھ چپکی ہوئی ہے۔سونے کی ایک ہی ٹکیہ دیکھ کر اسے کچھ مایوسی ہوئی۔لیکن جیسے ہی اس نے ٹکیہ کو پکڑا اور اسے جسم سے الگ کرنے کی کوشش کی تو اسے یوں لگا جیسے اس نے کسی دہکتی ہوئی انگیٹھی میں ہاتھ ڈال کر انگارہ پکڑ لیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔
اس کے ساتھ ہی اس کے حلق سے دلدوز چیخ برآمد ہوئی اور وہ قبر سے نکل کر اندھا دھند ایک طرف بھاگا۔۔۔۔
سونے کے ایک ٹکڑے نے دو انسانوں کی جان لے لی اور پیچھے رہنے والوں کے لئے عبرت کا سامان کر گیا۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔۔۔
دوستو اگر اپ کو ملک صفدر حیات کی کہانیاں پڑھنا پسند ہے تو نیچے دیا گیا لنک کھولیں اور اور بھی بہترین کہانیاں پڑھیں
👇👇
اگر اپ ہمارے یوٹیوب چینل پر اس ترکی کہانیاں سننا چاہتے ہیں تو نیچے دیا گیا چینل کاپی کریں اور یوٹیوب پر سرچ کریں کیونکہ ہمارے اس چینل پر ملک صفدر حیات کی بہت ساری کہانیاں اپلوڈ ہوتی رہتی ہیں
@KarimVoice2.0

