کامیابی کی اصل قیمت:
دل سے جیتے جانے والے رشتے
میں دس سال بعد امریکہ سے وطن واپس لوٹا۔ ایئرپورٹ پر عزیز و اقارب کی لمبی قطار میرا انتظار کر رہی تھی۔ سب کے چہروں پر خوشی، آنکھوں میں چمک اور زبان پر مبارکباد تھی۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا، “واہ! آج تو واقعی زندگی کامیاب ہو گئی۔ ڈالر کما کر آیا ہوں، شہر میں عالی شان گھر بنا لیا ہے، نئی گاڑی بھی لے لی ہے، اب ایک شاندار دعوت ہونی چاہیے تاکہ سب کو معلوم ہو کہ میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہوں۔”
دو دن بعد ایک بڑے ہوٹل میں دعوت کا انتظام کر دیا۔ رشتے دار، دوست احباب اور محلے والے سب مدعو تھے۔ گھر میں گہما گہمی تھی۔ بیوی مہمانوں کی فہرست دیکھ رہی تھی کہ اچانک بولی، “تم نے اپنی بہن کو بھی بلایا ہے؟” میں نے بے نیازی سے جواب دیا، “ہاں، سب کو دعوت دی ہے، وہ خود آ جائے گی۔”
دعوت کا دن آ گیا۔ ہال روشن قمقموں سے جگمگا رہا تھا۔ لوگ گلے مل رہے تھے، تصویریں بن رہی تھیں، تعریفوں کے پل باندھے جا رہے تھے۔ لیکن اس ہجوم میں ایک چہرہ غائب تھا—میری چھوٹی بہن عائشہ کا۔
میں نے فوراً فون ملایا۔ کئی گھنٹیوں کے بعد اس نے کال اٹھائی۔ آواز بھاری تھی۔ “عائشہ! تم آئی کیوں نہیں؟ سب تمہیں یاد کر رہے ہیں۔” چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس کی رندھی ہوئی آواز سنائی دی، “بھائی… بھابھی نے کہا تھا کہ آپ نے خاص لوگوں کو بلایا ہے، میں نہ آؤں تو بہتر ہے۔”
میرا دل جیسے بیٹھ گیا۔ “یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ میں نے تو سب کو بلایا تھا!” وہ آہستہ سے بولی، “کوئی بات نہیں بھائی، آپ خوش رہیں۔” اور فون بند ہو گیا۔
اچانک ہال کی روشنیاں مدھم لگنے لگیں، قہقہے شور محسوس ہونے لگے۔ میں نے فوراً کھانا پیک کروایا اور گاڑی لے کر بہن کے گھر روانہ ہو گیا۔ راستے بھر بچپن کی یادیں ذہن میں گردش کرتی رہیں۔ وہی عائشہ جو میری کتابیں سنبھالتی تھی، کپڑے استری کرتی تھی، اور جب میں امریکہ جا رہا تھا تو سب سے زیادہ روئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا تھا، “جلدی واپس آؤں گا، تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔”
اس کے گھر پہنچا تو دروازے پر تالا لٹک رہا تھا۔ پڑوسی نے بتایا، “بیٹا، عائشہ صبح سے باہر گئی ہے، شاید کسی کام سے۔” میں نے بار بار فون کیا مگر نمبر بند تھا۔ دل میں انجانا سا خوف پیدا ہو گیا۔ شام ڈھل رہی تھی اور ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی۔
اسی دوران میری نظر فٹ پاتھ کے کنارے لگے ایک چھوٹے سے اسٹال پر پڑی۔ چند مزدور بیٹھے کھانا کھا رہے تھے اور ایک سادہ لباس عورت انہیں پلیٹیں پیش کر رہی تھی۔ دو بچے اس کے پاس کھڑے تھے۔ غور سے دیکھا تو میرے قدم رک گئے۔
وہ عائشہ تھی۔
میرے ہاتھ سے کھانے کا ڈبہ تقریباً گر ہی گیا۔ وہ مزدوروں سے کہہ رہی تھی، “بھائی، آرام سے کھائیں، اور چاہیے ہو تو بتا دیجیے گا۔” ایک مزدور نے پوچھا، “باجی، آپ خود نہیں کھائیں گی؟” وہ مسکرا کر بولی، “میں بعد میں کھا لوں گی، پہلے آپ لوگ کھا لیں، سارا دن محنت کرتے ہیں۔”
میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ یہ وہی بہن تھی جسے میں نے ہوٹل کی چمکتی دعوت میں جگہ نہ دی، اور وہ آج بارش میں کھڑی مزدوروں کو کھانا کھلا رہی تھی۔
میں آہستہ آہستہ اس کے قریب گیا۔ “عائشہ…” وہ چونک کر مڑی۔ مجھے دیکھ کر حیرت اور جھجک اس کے چہرے پر نمایاں ہو گئی۔ “بھائی؟ آپ یہاں؟”
میں نے اردگرد دیکھا—ایک چھوٹا چولہا، چند برتن اور بارش سے بچنے کے لیے پلاسٹک کی چادر۔ میرا سر شرم سے جھک گیا۔
“یہ سب کیا ہے؟ تم یہاں کیوں کام کر رہی ہو؟” وہ دھیمے لہجے میں بولی، “بھائی، شوہر کی نوکری ختم ہو گئی تھی۔ گھر کا خرچ چلانا مشکل تھا، تو سوچا کچھ کر لوں۔ یہاں مزدور آتے ہیں، میں سادہ سا کھانا بنا کر بیچ لیتی ہوں۔ اللہ کا شکر ہے گزارا ہو جاتا ہے۔”
میں نے لرزتی آواز میں کہا، “تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟” وہ ہلکی سی مسکرا دی، “آپ پردیس میں تھے، مصروف تھے… میں بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی۔”
میرے ذہن میں اپنی آسائش بھری زندگی گھوم گئی—کشادہ گھر، مہنگی گاڑی، قیمتی گھڑی۔ اور یہاں میری بہن بارش میں کھڑی رزق کما رہی تھی۔
میں نے پیک کیا ہوا کھانا اس کے سامنے رکھا۔ “یہ تمہارے لیے لایا تھا۔” اس نے ڈبہ کھولا، پھر میری طرف دیکھا۔ آنکھوں میں نمی تھی مگر لہجہ نرم تھا، “بھائی، مجھے آپ کی دعوت سے زیادہ آپ کی توجہ چاہیے تھی۔”
یہ الفاظ میرے دل میں تیر کی طرح اتر گئے۔
اسی لمحے میں نے فیصلہ کر لیا۔ اگلے دن اس کے شوہر سے ملا اور اسے اپنی کمپنی میں ملازمت دے دی۔ بچوں کے بہتر اسکول کا بندوبست کیا۔ اور سب سے اہم بات، اپنی بیوی کو سمجھایا کہ رشتے دولت سے نہیں بلکہ خلوص اور احترام سے جیتے جاتے ہیں۔
چند دن بعد دوبارہ دعوت رکھی، مگر اس بار اپنے گھر کے صحن میں۔ نہ کوئی ہوٹل، نہ نمود و نمائش۔ سب سے پہلے خود بہن کے گھر گیا اور اسے ساتھ لے کر آیا۔ اس دن جب عائشہ میرے برابر بیٹھی تھی تو پہلی بار محسوس ہوا کہ میں واقعی کامیاب ہوں۔
دعوت کے اختتام پر میں نے سب کے سامنے کہا، “میں امریکہ سے ڈالر کما کر آیا تھا، لیکن اصل دولت تو مجھے آج ملی ہے—اپنی بہن کی دعائیں۔”
عائشہ نے مسکرا کر جواب دیا، “بھائی، گھر دیواروں سے نہیں بنتا، گھر وہاں بنتا ہے جہاں اپنوں کی عزت ہو۔”
اسی دن مجھے احساس ہوا کہ دولت انسان کو بڑا نہیں بناتی، بلکہ رشتوں کی قدر اسے عظیم بناتی ہے۔ اور میں نے دل میں عہد کیا کہ آئندہ کبھی اپنی کامیابی کے شور میں اپنوں کی خاموشی کو نظرانداز نہیں کروں گا۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔ 💛

