اَلسَّلامُ عَلَیْکُم، مَیں ہُوں فَرزانہ خان
آج کی سچی خوفناک کہانی ہمیں عائشہ نے لاہور سے سینڈ کی ہے تو آئیے سنتے ہیں
(میری، ساس نے مجھ پر کالا جادو کروایا تھا)
یہ ان دنوں کی بات ہے جب سردی معمول سے کہیں زیادہ سخت تھی۔
دسمبر کا آخری ہفتہ تھا۔ وہی دسمبر جس کی راتیں لمبی، خاموش اور دل میں اتر جانے والی ہوتی ہیں۔ لاہور کی سردی ویسے ہی ہڈیوں میں اترتی ہے، اور اُس سال تو جیسے سردی نے ضد پکڑ لی تھی کہ انسان کے اندر تک جم جائے۔
میرا نام عائشہ ہے۔
یہ سب کچھ جو میں بتانے جا رہی ہوں، کوئی کہانی نہیں، کوئی افسانہ نہیں۔ یہ میری زندگی کا وہ باب ہے جسے یاد کرتے ہوئے آج بھی میرے ہاتھ ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے۔
میں اُس وقت اپنی شادی کے بعد پہلی بار سسرال گئی تھی۔
وجہ سادہ تھی، میری ساس کی طبیعت کچھ دنوں سے خراب تھی اور شوہر، احمد، بضد تھا کہ ہم چند دن وہیں رکیں گے۔ وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا، اور ماں کے سامنے اُس کی آواز ہمیشہ دھیمی ہو جاتی تھی۔
ہم لاہور سے گوجرانوالہ کے ایک پرانے محلے میں واقع اُس گھر پہنچے جہاں احمد نے اپنی پوری زندگی گزاری تھی۔
وہ گھر باہر سے عام سا تھا، لیکن اندر داخل ہوتے ہی ایک عجیب سی بھاری فضا محسوس ہوتی تھی۔ جیسے دیواروں میں پرانی سانسیں قید ہوں، جیسے فرش نے بہت کچھ دیکھا ہو، بہت کچھ سہا ہو۔
احمد کے والد، چودھری بشیر صاحب، خاموش طبیعت کے آدمی تھے۔ کم بولتے، زیادہ سنتے۔
ساس… زبیدہ بیگم۔
میں نے اُنہیں پہلی بار قریب سے دیکھا تو دل میں ایک انجانی سی بےچینی اٹھی۔ وہ عام عورتوں جیسی نہیں لگتی تھیں۔ آنکھیں چھوٹی مگر بہت گہری، جیسے سامنے والے کو ناپ تول رہی ہوں۔ مسکراتی تھیں، مگر اُس مسکراہٹ میں اپنائیت کم اور جانچ زیادہ ہوتی تھی۔
“آ گئی بہو؟”
اُن کی آواز نرم تھی، مگر اُس نرمی کے نیچے کچھ سخت سا چھپا ہوا محسوس ہوتا تھا۔
میں نے ادب سے سلام کیا، ہاتھ چومنے کو جھکی تو اُن کے ہاتھ غیر معمولی طور پر ٹھنڈے تھے۔
دل نے ایک لمحے کو چونک کر کہا: یہ سردی ہاتھوں میں نہیں، کہیں اور سے آ رہی ہے۔
میں نے اُس خیال کو جھٹک دیا۔ نئی جگہ، نیا ماحول… انسان وہم کا شکار ہو جاتا ہے۔
پہلی رات ہی مجھے نیند نہیں آئی۔
کمرہ صاف تھا، بستر نرم، لحاف گرم۔ احمد میرے ساتھ ہی سو رہا تھا، لیکن پھر بھی دل کو قرار نہیں تھا۔ باہر سرد ہوا کے ساتھ کھڑکی کے شیشے ہلتے تو ایک ہلکی سی سیٹی جیسی آواز آتی۔ دیوار کی گھڑی کی ٹک ٹک غیر معمولی طور پر تیز لگ رہی تھی۔
رات کے شاید دو بجے ہوں گے جب میری آنکھ کھلی۔
کمرے میں عجیب سی ٹھنڈک تھی، جیسے کسی نے لحاف ہٹا دیا ہو۔ میں نے کروٹ بدلی، احمد گہری نیند میں تھا۔
اچانک…
مجھے لگا جیسے کوئی دروازے کے باہر کھڑا ہے۔
میں نے سانس روک لی۔
دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
دروازہ بند تھا، لیکن اُس پار سے ہلکی سی سرسراہٹ آ رہی تھی۔ جیسے کسی نے ننگے پاؤں آہستہ آہستہ فرش پر قدم رکھا ہو۔
میں نے خود کو سمجھایا: عائشہ، یہ تمہارا وہم ہے۔ پرانا گھر ہے، آوازیں آتی ہیں۔
لیکن پھر…
دروازے کے نیچے سے ایک سایہ گزرا۔
سایہ رکا۔
پھر آہستہ آہستہ ہٹ گیا۔
میں نے احمد کو ہلایا۔
“احمد… اٹھو نا…”
وہ نیم غنودگی میں بولا، “کیا ہوا؟”
میں نے کچھ نہیں بتایا۔ مجھے خود شرم آ رہی تھی کہ میں ڈر رہی ہوں۔
“کچھ نہیں، بس نیند نہیں آ رہی۔”
اگلے دن میں نے یہ بات کسی سے ذکر نہیں کی۔
ساس نے ناشتے پر بڑے غور سے مجھے دیکھا۔
“بہو، طبیعت ٹھیک ہے؟ رنگ کچھ اُترا ہوا لگ رہا ہے۔”
میں نے زبردستی مسکرا کر کہا، “جی، بس نیند پوری نہیں ہوئی۔”
وہ لمحہ بھر خاموش رہیں، پھر ہلکا سا سر ہلایا۔
اُس دن پہلی بار میں نے دیکھا کہ وہ بار بار میری پلیٹ کی طرف دیکھ رہی تھیں، جیسے گن رہی ہوں کہ میں کیا کھا رہی ہوں، کتنا کھا رہی ہوں۔
دو دن گزرے۔
میری طبیعت بدلنے لگی۔
بغیر وجہ سر درد، دل گھبرانا، اور عجیب عجیب خواب۔
خوابوں میں میں خود کو ایک اندھیرے کمرے میں پاتی، جہاں فرش پر کچھ لکھا ہوتا… سرخ رنگ سے۔ میں پڑھ نہیں پاتی، مگر احساس ہوتا کہ وہ میرا نام ہے۔
ایک رات میں چیخ مار کر جاگی۔
سانس تیز، پسینہ سرد۔
احمد گھبرا گیا۔
“کیا دیکھا؟”
میں نے بتایا تو وہ ہنس پڑا۔
“عائشہ، تم بہت حساس ہو۔ امی کے گھر کا ماحول مختلف ہے، بس اسی لیے…”
امی۔
وہ لفظ سنتے ہی میرے دل میں عجیب سی کھنچاؤ پیدا ہوئی۔
اُس دن شام کو میں کچن میں اکیلی تھی۔
ساس خاموشی سے اندر آئیں۔ اُن کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا کپڑا تھا، جس میں کچھ بندھا ہوا تھا۔
“یہ لو بہو، اسے اپنے پاس رکھ لو۔”
میں نے حیرت سے دیکھا۔
“یہ کیا ہے امی؟”
وہ مسکرائیں۔
“بس نظر بد سے بچاؤ کے لیے۔ نئی شادی شدہ ہو نا…”
میرے ہاتھ نے لاشعوری طور پر وہ کپڑا تھام لیا۔
جیسے ہی میں نے اُسے پکڑا، دل میں ایک جھٹکا سا لگا۔ سردی کی ایک لہر کلائی سے ہوتی ہوئی دل تک اتر گئی۔
اُس رات میں نے وہ کپڑا تکیے کے نیچے رکھ دیا۔
مجھے نہیں معلوم کیوں… شاید ادب، شاید ڈر۔
رات گہری ہوئی۔
خاموشی غیر معمولی تھی۔
اچانک…
میرے کانوں میں کسی کے سرگوشی کرنے کی آواز آئی۔
میرا نام…
بالکل صاف۔
“عائشہ…”
میری آنکھیں کھل گئیں۔
کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، مگر مجھے یقین تھا…
میں اکیلی نہیں تھی۔
اور اسی لمحے، تکیے کے نیچے سے وہ کپڑا خودبخود کھسک کر فرش پر گر گیا۔
میں نے نیچے دیکھا…
اور میری چیخ حلق میں ہی اٹک کر رہ گئی۔
کیونکہ وہ کپڑا اب بندھا ہوا نہیں
میں دیر تک فرش کو گھورتی رہی۔
دل چاہ رہا تھا چیخوں، احمد کو جگاؤں، سب کو بتاؤں کہ کچھ بہت غلط ہو رہا ہے… مگر آواز جیسے گلے میں جم گئی تھی۔
وہ کپڑا…
جو ساس نے خود میرے ہاتھ میں دیا تھا…
وہ اب کھلا ہوا پڑا تھا۔
میں نے کانپتے ہاتھوں سے اُسے اٹھایا۔
اندر سے جو چیز نکلی، اُسے دیکھ کر میری سانس رک گئی۔
کچھ بال…
لمبے، سیاہ، الجھے ہوئے بال۔
اور اُن بالوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی سوئی، جس پر سیاہ دھاگا لپٹا ہوا تھا۔
میرا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ مجھے لگا احمد جاگ جائے گا۔
میں نے فوراً وہ سب دوبارہ کپڑے میں لپیٹا، مگر ہاتھ کانپ رہے تھے۔
جیسے ہی میں نے گرہ لگانے کی کوشش کی، وہ کپڑا میرے ہاتھوں سے پھسل کر دوبارہ فرش پر گر گیا۔
اسی لمحے…
کمرے میں ٹھنڈک بڑھ گئی۔
ایسی ٹھنڈک جو صرف سردی کی نہیں ہوتی، بلکہ ہڈیوں کے اندر اترتی ہے۔
میں نے لحاف اپنے اوپر کھینچ لیا، آنکھیں بند کر لیں، اور دل ہی دل میں آیت الکرسی پڑھنے لگی۔
مگر آوازیں بند نہیں ہوئیں۔
اب وہ سرگوشی نہیں تھی۔
اب جیسے کوئی دیوار کے ساتھ ناخن پھیر رہا ہو۔
کھررر… کھررر…
میں نے آنکھیں کھولیں۔
کمرے کی ایک دیوار پر سایہ ہل رہا تھا۔
وہ سایہ انسانی تھا… مگر پوری طرح انسان بھی نہیں لگ رہا تھا۔
میں نے احمد کو زور سے ہلایا۔
“احمد! اٹھو… پلیز اٹھو!”
وہ ہڑبڑا کر جاگا۔
“کیا ہوا؟ کیا ہوا؟”
میں نے دیوار کی طرف دیکھا۔
سایہ غائب ہو چکا تھا۔
کمرہ بالکل نارمل… جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
میں رونے لگی۔
ساری بات بتا دی۔ کپڑا، بال، آوازیں… سب کچھ۔
احمد نے ایک لمحہ خاموشی سے سنا۔
پھر اُس نے کپڑا اٹھایا، اُسے غور سے دیکھا، اور آہستہ سے بولا:
“عائشہ… یہ سب وہم ہے۔ امی ایسی نہیں ہیں۔”
امی۔
پھر وہی لفظ۔
اگلی صبح میں شدید بخار میں تھی۔
جسم ٹوٹ رہا تھا، سر جیسے پھٹ جائے گا۔
ساس میرے سرہانے آ کر بیٹھیں۔
“ارے بہو، یہ کیا حال بنا لیا ہے؟”
اُن کی آواز میں فکر کم، حیرت زیادہ تھی۔
انہوں نے میرا ماتھا چھوا۔
اُن کی انگلیاں برف جیسی ٹھنڈی تھیں۔
“کچھ خواب تو نہیں دیکھ رہی؟”
انہوں نے اچانک پوچھا۔
میں چونک گئی۔
“ن… نہیں۔”
وہ لمحہ بھر میری آنکھوں میں دیکھتی رہیں۔
ایسا لگا جیسے وہ میرے اندر جھانک رہی ہوں۔
“خواب بعض اوقات انسان کو سچ دکھا دیتے ہیں،”
وہ آہستہ سے بولیں،
“اور بعض اوقات… تباہی۔”
اُس دن کے بعد میرے ساتھ عجیب عجیب باتیں ہونے لگیں۔
میں آئینے میں دیکھتی تو اپنا عکس ایک لمحے کے لیے مسکراتا…
جبکہ میں نہیں مسکرا رہی ہوتی۔
کبھی لگتا کوئی میرا نام پیچھے سے لے رہا ہے۔
مڑ کر دیکھتی، کوئی نہیں۔
کھانے کا ذائقہ ختم ہو گیا۔
جسم کمزور ہوتا جا رہا تھا۔
رات کو سینے پر وزن سا محسوس ہوتا، جیسے کوئی بیٹھا ہو۔
ایک رات میں نے صاف دیکھا۔
ساس ہمارے کمرے کے باہر کھڑی تھیں۔
اندھیرے میں، بغیر آواز کیے۔
میں نے احمد کو بتایا۔
وہ غصے میں بولا:
“تم حد کر رہی ہو! امی تمہاری ساس ہیں، کوئی دشمن نہیں!”
مگر اگلے ہی دن…
میں نے وہی کپڑا دوبارہ دیکھا۔
اس بار…
میرے بستر کے نیچے۔
میں نے کانپتے ہوئے اُسے کھولا۔
اندر اب صرف بال نہیں تھے۔
ایک کاغذ کا ٹکڑا بھی تھا۔
اس پر میرا نام لکھا تھا۔
عائشہ۔
میرا اپنا نام…
سیاہ سیاہی سے، عجیب سے ٹیڑھے میڑھے حروف میں۔
اسی رات میں نے خواب دیکھا۔
میں ایک قبرستان میں کھڑی ہوں۔
دسمبر کی ٹھنڈی رات، دھند ہر طرف۔
سامنے ایک قبر ہے…
جس پر میرا نام لکھا ہے۔
اور قبر کے سرہانے…
میری ساس کھڑی مسکرا رہی ہیں۔
میں چیخ کر جاگی۔
سانس اکھڑی ہوئی، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
میں نے فیصلہ کر لیا۔
اب خاموش نہیں رہوں گی۔
میں نے احمد سے کہا،
“مجھے یہاں سے لے چلو۔ ابھی۔”
وہ پریشان ہو گیا۔
“عائشہ، امی کی طبیعت خراب ہے…”
میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا،
“اگر ہم یہاں رکے… تو شاید میں زندہ واپس نہ جا سکوں۔”
اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔
آہستہ…
بہت آہستہ۔
اور باہر سے ساس کی آواز آئی:
“بہو… دروازہ کھولو۔ مجھے تم سے کچھ بہت ضروری بات کرنی ہے۔”
میرا دل بیٹھ گیا۔
کیونکہ اس بار…
اُن کی آواز میں نرمی نہیں تھی۔
میں اور احمد دونوں دروازے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
میری سانس رکی ہوئی تھی، جیسے سینہ کسی نے جکڑ لیا ہو۔ باہر کھڑی عورت میری ساس تھیں… مگر اُس لمحے وہ مجھے ماں جیسی نہیں لگ رہی تھیں۔
“دروازہ کھولو بہو…”
اُن کی آواز دوبارہ آئی۔
اب ذرا بلند، ذرا بھاری۔
احمد نے کمبل ایک طرف کیا اور بولا، “امی، ابھی رات ہے، صبح بات کریں گے۔”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر ہلکی سی ہنسی سنائی دی۔
وہ ہنسی…
جو میں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔
“صبح تک تو بہت دیر ہو جائے گی،”
انہوں نے آہستہ سے کہا،
“کچھ باتیں رات ہی میں پوری ہوتی ہیں۔”
میرے جسم میں جھرجھری دوڑ گئی۔
میں نے احمد کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
“مت کھولو…” میں نے سرگوشی کی۔
احمد ہچکچایا، مگر پھر بولا،
“امی، آپ جائیں۔ عائشہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔”
اس بار دروازے کے بالکل پاس سے آواز آئی۔
ایسا لگا جیسے اُن کا چہرہ لکڑی کے ساتھ لگا ہو۔
“میں جانتی ہوں بہو کی طبیعت کیوں خراب ہے،”
وہ بولیں،
“اور میں ہی اسے ٹھیک کر سکتی ہوں۔”
میں بے اختیار چیخ پڑی۔
“نہیں! ہمیں اکیلا چھوڑ دیں!”
دروازے کے باہر قدموں کی آواز آئی۔
آہستہ آہستہ…
جیسے کوئی پیچھے ہٹ رہا ہو۔
پھر سب کچھ خاموش۔
اُس رات ہم دونوں سو نہیں سکے۔
میں نے قرآن سرہانے رکھا، احمد نے لائٹ جلائے رکھی۔ مگر خوف کسی روشنی سے کم نہیں ہوا۔
صبح جب آنکھ کھلی تو میرا بخار اتر چکا تھا۔
لیکن جسم میں عجیب سی کمزوری تھی، جیسے رات بھر کسی نے میرا زور نچوڑ لیا ہو۔
ناشتے پر ساس بالکل نارمل تھیں۔
وہی مسکراہٹ، وہی لہجہ۔
“بہو، آج طبیعت کیسی ہے؟”
جیسے رات کو کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
میں نے نظر جھکا لی۔
احمد خاموش بیٹھا تھا، جیسے وہ بھی خود پر شک کر رہا ہو۔
اسی دن احمد کے ماموں، نعیم صاحب، ہمارے گھر آئے۔
وہ شہر سے باہر رہتے تھے اور کبھی کبھار ہی آنا ہوتا تھا۔
جیسے ہی انہوں نے مجھے دیکھا، رک گئے۔
“عائشہ بیٹی، تم بہت کمزور لگ رہی ہو۔”
میں کچھ بول نہ سکی۔
ساس فوراً بولیں،
“یہ خود ہی زیادہ سوچتی ہے، نعیم بھائی۔ نئی جگہ ہے نا…”
نعیم صاحب نے غور سے مجھے دیکھا۔
پھر آہستہ سے بولے،
“رات کو خواب تو نہیں آتے؟”
میری آنکھیں اُن سے جا ملیں۔
دل چاہا سب کچھ کہہ دوں۔
ساس نے کھنکار کر بات کاٹ دی۔
“ارے چھوڑیں خواب وغیرہ، سب فضول باتیں ہیں۔”
لیکن نعیم صاحب کی آنکھوں میں تشویش تھی۔
انہوں نے مجھے موقع دیکھ کر الگ سے بلایا۔
“بیٹی، اگر دل پر کوئی بوجھ ہے تو بتاؤ۔ بعض گھروں میں… سب کچھ سیدھا نہیں ہوتا۔”
میں نے روتے ہوئے سب بتا دیا۔
کپڑا، بال، آوازیں، خواب، قبرستان… سب کچھ۔
وہ خاموشی سے سنتے رہے۔
آخر میں انہوں نے گہری سانس لی۔
“میں ڈر نہیں دلانا چاہتا،”
انہوں نے دھیمی آواز میں کہا،
“مگر یہ سب نشانیاں عام نہیں ہیں۔”
میرا دل ڈوب گیا۔
“تو… کیا یہ واقعی…؟”
انہوں نے جملہ مکمل نہیں کیا۔
بس اتنا کہا،
“تمہاری ساس کے ماضی کے بارے میں تم کچھ نہیں جانتیں۔”
اسی شام انہوں نے احمد کو بھی بٹھایا۔
پہلے احمد نے انکار کیا، مگر پھر نعیم صاحب نے ایک بات کہی جس پر احمد بھی خاموش ہو گیا۔
“تمہاری ماں کی پہلی بہو کیوں مری تھی؟”
میرے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔
“پہلی بہو؟” میں نے چونک کر پوچھا
احمد نے چونک کر ماموں کو دیکھا۔
“کیا مطلب؟”
نعیم صاحب نے نظریں جھکا لیں۔
“تم چھوٹے تھے۔ تمہیں نہیں بتایا گیا۔ تمہاری شادی سے پہلے بھی ایک لڑکی اس گھر میں بہو بن کر آئی تھی۔ تین مہینے میں بیمار پڑ گئی… اور ایک رات دل کا دورہ پڑنے سے مر گئی۔
“دل کا دورہ؟” میں نے کانپتی آواز میں پوچھا۔
“ہاں،”
وہ بولے،
“لیکن قبر کھودنے والے کہتے ہیں… اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، جیسے کسی نے کھینچے ہوں۔”
میرے کانوں میں شور گونجنے لگا۔
وہ بال…
وہ کپڑا…
اسی رات مجھے پھر خواب آیا۔
اس بار قبرستان نہیں تھا
میں خود کو اسی گھر کے صحن میں کھڑا دیکھ رہی تھی۔
فرش پر سفید چونا بکھرا ہوا تھا، اور بیچ میں ایک دائرہ بنا تھا۔
دائرے کے اندر… میں۔
ساس میرے سامنے کھڑی تھیں۔
اُن کے ہاتھ میں وہی کپڑا تھا۔
“یہ گھر میرے بیٹے کا ہے،”
وہ بولیں،
“اور جو بھی اُس کے بہت قریب جائے گی… وہ یہاں نہیں ٹھہر سکے گی۔”
میں چیخنے لگی، مگر آواز نہیں نکل رہی تھی۔
آنکھ کھلی تو حقیقت اور خواب میں فرق ختم ہو چکا تھا۔
میرے جسم پر نیل تھے۔
بالکل ویسے، جیسے کسی نے مضبوطی سے پکڑا ہو۔
میں نے فیصلہ کر لیا۔
اب یہ صرف میرا وہم نہیں تھا۔
اگلے دن نعیم صاحب نے کہا،
“تمہیں یہاں سے فوراً نکلنا ہوگا۔ اور کسی ایسے شخص کے پاس جانا ہوگا جو یہ سب سمجھتا ہو۔”
ساس کمرے کے دروازے پر کھڑی سب سن رہی تھیں۔
اُن کے ہونٹوں پر وہی ٹھنڈی مسکراہٹ تھی۔
“کالا جادو لفظ بڑا آسان ہے،”
وہ بولیں،
“لیکن جب کوئی چیز ٹوٹنے کے قریب ہو نا… تو اسے بچانے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑتا ہے۔”
میں اُن کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
اور پہلی بار…
مجھے یقین ہو گیا تھا۔
یہ سب جان بوجھ کر ہو رہا ہے۔
لیکن اصل سوال یہ تھا…
کیا ابھی بہت دیر ہو چکی تھی؟
اور یہی وہ لمحہ تھا جب ساس نے آہستہ سے کہا:
“آج رات فیصلہ ہو جائے گا۔”
میری ریڑھ کی ہڈی میں سردی دوڑ گئی۔
“آج رات فیصلہ ہو جائے گا۔
ساس کے یہ الفاظ میرے کانوں میں ایسے اترے جیسے کسی نے برف کی سوئی دل میں چبھو دی ہو۔
وہ یہ کہہ کر کمرے سے چلی گئیں، اور میں وہیں کھڑی رہ گئی۔ ٹانگوں میں جان نہیں تھی، سانس جیسے کسی نے روک دی ہو۔
احمد نے پہلی بار میری طرف اس نظر سے دیکھا جس میں انکار نہیں تھا…
ڈر تھا۔
“امی کیا کہنا چاہ رہی تھیں؟” اس نے آہستہ سے پوچھا۔
میں نے سیدھا جواب نہیں دیا۔
بس اتنا کہا، “اگر آج ہم یہاں رکے… تو یا تو سب ختم ہو جائے گا، یا میں۔”
نعیم ماموں نے فوراً فیصلہ کیا۔
“آج ہی عامل کے پاس چلتے ہیں۔ ابھی۔”
وہ ہمیں گوجرانوالہ کے پرانے حصے میں لے گئے۔ تنگ گلیاں، پیلے بلب، نمی زدہ دیواریں۔
ایک چھوٹا سا کمرہ، جہاں ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا۔ سفید داڑھی، آنکھیں بند، سامنے قرآن کھلا ہوا۔
جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی، اُس نے آنکھیں کھولیں۔
مجھے دیکھ کر ایک لمحے کو ٹھہر گیا۔
“بیٹی… تم پر بہت بھاری چیز کی گئی ہے،” اس نے کہا۔
میرے منہ سے آواز نہیں نکلی۔
وہ بولا، “یہ کام کسی اجنبی کا نہیں… گھر کی عورت کا ہے۔”
احمد کے ہاتھ سے تسبیح گر گئی۔
عامل نے مجھے بتایا کہ مجھ پر حسد اور قبضے دونوں کی نیت سے عمل کروایا گیا ہے۔
بال، سوئی، نام… سب کچھ اس لیے تھا کہ میرا جسم کمزور ہو، میرا دل ٹوٹے، اور میں خود ہی اس گھر سے نکل جاؤں… یا ختم ہو جاؤں۔
“لیکن سب سے خطرناک چیز یہ ہے،”
وہ بولا،
“آج آخری رات ہے۔ اگر آج وہ عمل مکمل ہو گیا… تو بچاؤ بہت مشکل ہو جائے گا۔”
میں نے کانپتی آواز میں پوچھا،
“اور اگر روک دیا جائے؟”
وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا،
“تو جس نے یہ کروایا ہے… اس پر ہی پلٹ جائے گا۔”
ہم رات سے پہلے واپس آ گئے۔
گھر میں عجیب سی خاموشی تھی۔ ساس کہیں نظر نہیں آ رہی تھیں۔
رات گیارہ بجے، لائٹ خودبخود چلی گئی۔
پورا گھر اندھیرے میں ڈوب گیا۔
اسی لمحے…
کچن کی طرف سے منتر پڑھنے کی آواز آئی۔
میں نے احمد کی طرف دیکھا۔
وہ سفید پڑ چکا تھا۔
ہم آہستہ آہستہ کچن کی طرف بڑھے۔
دروازہ آدھا کھلا تھا۔
اندر…
فرش پر وہی سفید دائرہ بنا ہوا تھا۔
بیچ میں ایک پرانا کپڑا، اس پر بال، سوئی، اور میری تصویر۔
اور دائرے کے باہر…
میری ساس بیٹھی تھیں۔
آنکھیں بند، ہونٹ ہل رہے تھے۔
میں ایک قدم پیچھے ہٹی۔
اسی لمحے انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔
اور وہ آنکھیں…
وہ میری ساس کی نہیں تھیں۔
“تم نہیں جانی تھیں،” وہ بولیں،
“یہ بیٹا میرا سب کچھ ہے۔ پہلی بہو نے بھی یہی سوچا تھا کہ وہ مجھے بدل دے گی۔”
احمد چیخا،
“امی! بس کریں!”
وہ ہنسیں۔
“امی؟ میں اس گھر کی حفاظت ہوں۔”
اسی لمحے عامل کی دی ہوئی آیتیں احمد کی زبان سے نکلنے لگیں۔
فضا کانپنے لگی۔
ہوا تیز ہو گئی۔
ساس چیخیں۔
دائرہ ٹوٹ گیا۔
اچانک وہ زمین پر گر گئیں۔
بالکھلے، آنکھیں پلٹ گئیں۔
ایک چیخ…
اور پھر خاموشی۔
جب ہم نے انہیں ہلایا…
وہ زندہ تھیں، مگر جیسے خالی۔
ڈاکٹر نے بعد میں کہا:
“شدید دماغی جھٹکا ہے۔ یادداشت متاثر ہو گئی ہے۔”
آج وہ کچھ نہیں جانتیں۔
نہ مجھے پہچانتی ہیں، نہ احمد کو۔
ہم اُس گھر سے ہمیشہ کے لیے نکل آئے۔
میں بچ گئی…
مگر جو کچھ میں نے دیکھا، وہ میرے اندر ہمیشہ زندہ رہے گا۔
کبھی کبھی دسمبر کی سرد راتوں میں…
جب خاموشی زیادہ گہری ہو جاتی ہے…
تو مجھے آج بھی وہ سرگوشی سنائی دیتی ہے:
“یہ گھر میرے بیٹے کا ہے…”
اور میں فوراً اٹھ کر آیت الکرسی پڑھتی ہوں۔
کیونکہ کچھ سائے…
صرف یادوں میں نہیں رہتے۔
🚚 مزید پڑھیں:
ٹرک ڈرائیور کی خوفناک کہانی
ٹرک ڈرائیور کی خوفناک کہانی

