یہ ایک ٹھنڈی سی صبح تھی۔ سورج ابھی پوری طرح نکلا نہیں تھا اور ہلکی ہلکی دھند فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ شہر کی گلیاں معمول کے مطابق آہستہ آہستہ جاگ رہی تھیں۔ اسی خاموشی میں ایک دبلا پتلا سا لڑکا، جس کی عمر بمشکل دس سال ہوگی، اپنے کندھے پر اخباروں کا تھیلا لٹکائے ایک بڑے سے گھر کے باہر کھڑا تھا۔
وہ بار بار گیٹ کی گھنٹی بجا رہا تھا۔
گھنٹی کی آواز سن کر اندر سے ایک خاتون، جو اس گھر کی مالکن تھی، باہر آئیں۔ ان کے چہرے پر ہلکی سی ناگواری تھی، جیسے کسی نے ان کے سکون میں خلل ڈال دیا ہو۔
“کیا ہے؟ اتنی صبح صبح کیوں گھنٹی بجا رہے ہو؟” انہوں نے ذرا سخت لہجے میں پوچھا۔
لڑکے نے جھجکتے ہوئے کہا، “آنٹی جی… کیا میں آپ کے باغ کی صفائی کر دوں؟”
مالکن نے حیرت سے اسے دیکھا، “نہیں، ہمیں صفائی نہیں کروانی۔”
لڑکے نے ہاتھ جوڑ لیے، اس کی آنکھوں میں عجیب سی التجا تھی، “پلیز آنٹی جی… کروا لیں نا، میں بہت اچھی طرح صاف کر دوں گا۔”
مالکن نے کچھ لمحے سوچا۔ لڑکے کے چہرے پر تھکن اور بھوک صاف نظر آ رہی تھی۔ آخرکار انہوں نے کہا، “ٹھیک ہے، کتنے پیسے لو گے؟”
لڑکا فوراً بولا، “پیسے نہیں چاہیے آنٹی… بس کھانا دے دینا۔”
یہ سن کر مالکن کے دل میں ایک ہلکی سی کسک اٹھی۔ انہوں نے سوچا، “یقیناً یہ بچہ بہت بھوکا ہے…”
انہوں نے نرمی سے کہا، “چلو ٹھیک ہے، پہلے کھانا کھا لو، پھر کام کر لینا۔”
لیکن لڑکے نے سر ہلا دیا، “نہیں آنٹی، پہلے کام کرنے دیں… پھر کھانا لے لوں گا۔”
مالکن نے حیرانی سے اسے دیکھا، مگر کچھ نہ کہا اور اندر چلی گئیں۔
لڑکا فوراً کام میں لگ گیا۔ اس نے جھاڑو اٹھایا اور پورے باغ کو بڑی محنت سے صاف کرنے لگا۔ وہ صرف جھاڑو ہی نہیں لگا رہا تھا بلکہ گملوں کو سیدھا کر رہا تھا، سوکھے پتے ہٹا رہا تھا، اور پودوں کو پانی بھی دے رہا تھا۔
ایک گھنٹہ گزر گیا۔ سردی کے باوجود اس کے ماتھے پر پسینہ تھا، مگر وہ مسلسل کام کر رہا تھا۔
آخرکار وہ مالکن کے پاس آیا اور ادب سے بولا، “آنٹی جی… دیکھیں صفائی ٹھیک ہوئی ہے؟”
مالکن باہر آئیں اور باغ کو دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔ باغ واقعی چمک رہا تھا۔
“اوہ واہ! تم نے تو بہت اچھا کام کیا ہے… گملے بھی کتنے سلیقے سے رکھے ہیں!” انہوں نے تعریف کرتے ہوئے کہا۔
پھر وہ بولیں، “ٹھہرو، میں ابھی کھانا لاتی ہوں۔”
کچھ دیر بعد وہ گرم گرم کھانا لے آئیں۔ روٹیاں، سالن اور ساتھ میں تھوڑا سا میٹھا بھی تھا۔
جیسے ہی لڑکے نے کھانا لیا، اس نے فوراً اپنی جیب سے ایک پرانی سی پلاسٹک کی تھیلی نکالی اور اس میں کھانا رکھنے لگا۔
یہ دیکھ کر مالکن نے حیرت سے پوچھا، “ارے! تم یہاں بیٹھ کر کھا لو، تمہیں بھوک لگی ہوگی۔ اگر اور چاہیے ہوگا تو میں دے دوں گی۔”
لڑکے نے نظریں جھکا لیں، اس کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی، “نہیں آنٹی… یہ کھانا میں اپنی امی کے لیے لے جا رہا ہوں۔”
“تمہاری امی؟” مالکن نے نرمی سے پوچھا۔
“جی… وہ بیمار ہیں۔ سرکاری ہسپتال سے دوائی لایا ہوں، لیکن ڈاکٹر نے کہا ہے کہ خالی پیٹ دوا نہ دینا… اس لیے پہلے انہیں کھانا کھلانا ہے…”
یہ سنتے ہی مالکن کی آنکھیں بھر آئیں۔ ان کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو۔
ایک لمحے کے لیے وہ خاموش رہیں، پھر انہوں نے آہستہ سے کہا، “ادھر آؤ بیٹا…”
انہوں نے اسے اپنے پاس بٹھایا اور اپنے ہاتھوں سے اسے کھانا کھلانے لگیں۔
“پہلے تم کھاؤ، پھر امی کے لیے اور بھی دے دوں گی…” انہوں نے محبت سے کہا۔
لڑکا پہلے تو ہچکچایا، مگر پھر آنسوؤں کے ساتھ کھانا کھانے لگا۔ شاید کئی دنوں بعد اسے کسی نے اتنی محبت سے کھلایا تھا۔
کھانے کے بعد مالکن اندر گئیں اور مزید روٹیاں اور سالن تیار کیا۔ انہوں نے ایک صاف برتن میں کھانا رکھا اور لڑکے سے کہا، “چلو، مجھے اپنی امی کے پاس لے چلو۔”
لڑکا حیران رہ گیا، “آپ… ہمارے گھر چلیں گی؟”
“ہاں بیٹا، کیوں نہیں؟” انہوں نے مسکرا کر کہا۔
وہ دونوں تنگ گلیوں سے ہوتے ہوئے ایک چھوٹے سے کچے مکان کے پاس پہنچے۔ اندر ایک کمزور سی عورت چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس کے چہرے پر بیماری کے آثار صاف تھے۔
لڑکا دوڑ کر اس کے پاس گیا، “امی! دیکھیں، میں کھانا لے آیا ہوں…”
مالکن بھی اندر داخل ہوئیں اور آہستہ سے عورت کے پاس بیٹھ گئیں۔
انہوں نے پیار سے کہا، “بہن، یہ کھانا کھا لیں… پھر دوا لے لیجیے گا۔”
عورت نے کمزور سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “اللہ آپ کو خوش رکھے… میرے بیٹے نے آپ کو تکلیف دی…”
مالکن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، “نہیں بہن… آپ بہت امیر ہیں…”
عورت نے حیرت سے پوچھا، “امیر؟ میں؟”
مالکن نے لڑکے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “جی ہاں… آپ کے پاس ایسی دولت ہے جو ہم اپنے بچوں کو نہیں دے سکتے…”
انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا،
“آپ نے اپنے بیٹے کو محبت، قربانی اور احساس سکھایا ہے… یہی اصل دولت ہے…”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ صرف آنسوؤں کی نمی تھی اور ایک ماں اور بیٹے کی محبت کی خوشبو۔
اس دن کے بعد مالکن کا رویہ بدل گیا۔ وہ اکثر اس لڑکے اور اس کی ماں کی مدد کرنے لگیں، مگر وہ مدد کبھی ترس کی بنیاد پر نہیں تھی، بلکہ عزت اور محبت کے ساتھ تھی۔
کیونکہ انہوں نے سیکھ لیا تھا کہ اصل امیری پیسوں میں نہیں، بلکہ انسانیت اور تربیت میں ہوتی ہے۔
اور واقعی…
خدا ایسے بچے انہی کو دیتا ہے، جو اصل میں بہت خوش نصیب ہوتے ہیں۔ 💔
ایک مجبور لڑکی کی آپ بیتی
➤ مزید پڑھیں

