عشق اک چڑیل کا
احمد یار خان
وہ دیہاتی علاقے کا ایک تھانہ تھا۔ تھانہ خاصے بڑے گاؤں میں واقع تھا۔ مجھے اس تھانے میں تعینات کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ مجھے یہ بتائی گئی کہ وہاں ایک پٹھان سب انسپکٹر ہے جس کا نام زرگل خان ہے۔
زرگل خان کا ایک بچہ، جس کی عمر دس گیارہ سال تھی، اغوا ہو گیا تھا۔ اس بچے کے اغوا کی تفتیش کے لیے مجھے اس تھانے میں تعینات کیا جا رہا تھا۔
زرگل خان نے ایک ماہ کی چھٹی منظور کروا لی تھی اور اسے میرے ساتھ رہ کر اپنے بچے کے اغوا کی تفتیش کرنی تھی۔
زرگل خان کے بچے کے اغوا کے بارے میں میں نے پہلے یہی سمجھا تھا کہ شاید پٹھانوں کی آپس میں خاندانی عداوت ہوتی ہے۔ ممکن ہے زرگل خان کا کوئی دشمن آیا ہو اور اس کے بچے کو اغوا کر کے علاقہ غیر میں لے گیا ہو۔
دوسری وجہ میرے دماغ میں یہ آئی کہ شاید اس نے کسی پیشہ ور ڈاکو کو پکڑا ہوگا اور اس ڈاکو کے ساتھیوں نے انتقام لینے کے لیے زرگل خان کا بچہ اغوا کر لیا ہوگا۔
جب میں اس تھانے میں چارج لینے گیا تو میں نے زرگل خان کو بہت ہی بری ذہنی حالت میں دیکھا۔
میں نے سب سے پہلے زرگل خان سے اس کے بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے مجھے بتایا کہ سب لوگ کہتے ہیں کہ میرے بچے کو چڑیلیں اٹھا کر لے گئی ہیں۔
مگر میں اس بات کو نہیں مانتا۔ میری اتنی عمر ہو گئی ہے۔ میں جنگلوں میں اور ویران علاقوں میں راتوں کو جاتا رہا ہوں، مگر مجھے کبھی کوئی چڑیل نظر نہیں آئی۔
زرگل کی بات سن کر میں بہت حیران ہوا کہ بچے کو کوئی چڑیل اٹھا کر لے گئی ہے۔
جب میں نے زرگل خان سے اس تھانے کا چارج لینا شروع کیا تو زرگل خان کے بچے کے اغوا کی واردات کے علاوہ اور بھی مختلف وارداتوں کی تفتیش شامل تھی۔ ان وارداتوں میں ایک واردات بہت ہی خوفناک اور پراسرار تھی۔
جب میں نے اس پراسرار واردات کے متعلق پوچھا تو زرگل خان نے مجھے بتایا کہ یہ واردات اس وقت کی ہے جب اس کا بچہ ابھی اغوا نہیں ہوا تھا۔
بچے کے اغوا ہونے سے کچھ روز پہلے کی بات ہے کہ تھانے کا ایک کانسٹیبل کسی سمن کی تعمیل کے لیے گیا ہوا تھا۔
وہ کانسٹیبل واپس آیا تو اتنا خوفزدہ تھا کہ اس کے منہ سے بات بھی نہیں نکل رہی تھی۔ بات کرتے کرتے وہ اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتا تھا اور ساتھ ساتھ کلمہ شریف پڑھنے لگتا تھا۔ اس کے ہاتھ بھی بری طرح کانپ رہے تھے۔
زرگل خان نے اسے گالی دی، بزدلی کا طعنہ بھی دیا اور کہا کہ مردوں کی طرح حوصلہ کر کے بتاؤ کہ آخر ہوا کیا ہے۔
زرگل خان کی جھڑکیاں کھانے کے بعد اس کانسٹیبل نے ایک گاؤں کا نام لے کر بتایا کہ سمن کی تعمیل کے بعد واپسی پر جب وہ اس گاؤں کے قریب سے گزرا تو اسے عورتوں کے رونے اور بین کرنے کی آوازیں سنائی دیں۔
وہ گاؤں میں یہ دیکھنے کے لیے چلا گیا کہ کون مر گیا ہے۔
گاؤں کے نمبردار نے کانسٹیبل کو دیکھا تو اس کے پاس آ گیا۔ کانسٹیبل نے نمبردار سے پوچھا کہ کون فوت ہو گیا ہے؟
نمبردار نے ایک آدمی کا نام لے کر بتایا کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔ مرنے والے کا نام منور تھا۔
نمبردار نے کانسٹیبل سے کہا:
اگر تمہارا دل گردہ مضبوط ہے تو ایک نظر میت کو دیکھ لو۔ آؤ میرے ساتھ، میں تمہیں میت کا چہرہ دکھاتا ہوں۔
کانسٹیبل نمبردار کے ساتھ ماتم والے گھر چلا گیا۔
اس وقت میت کو غسل دے کر کفن پہنایا جا چکا تھا۔ نمبردار نے کانسٹیبل کو قریب لے جا کر کفن ایک طرف کیا اور میت کا چہرہ ننگا کر دیا۔
کانسٹیبل نے زرگل خان کو بتایا کہ اگر اس وقت میں اکیلا ہوتا تو شاید بے ہوش ہو کر گر پڑتا۔
اس نے دیکھا کہ میت کا کلیجہ اس کے منہ سے باہر نکلا ہوا تھا۔
میت کو اسی حالت میں غسل دے دیا گیا تھا۔
میت کو دیکھتے ہی کانسٹیبل باہر نکل آیا۔ نمبردار بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر آ گیا۔
نمبردار نے باہر آ کر کانسٹیبل کو بتایا کہ منور رات کو اپنی فصل کی رکھوالی کے لیے کھیتوں میں ہی سویا ہوا تھا۔ وہ تین چار راتوں سے وہیں سو رہا تھا۔
آج صبح لوگوں نے جا کر دیکھا تو منور پیٹھ کے بل چارپائی پر پڑا ہوا تھا اور اس کا کلیجہ اس کے منہ سے باہر نکلا ہوا تھا۔
سب لوگ کہہ رہے تھے کہ منور کو اسی چڑیل نے مارا ہے اور یہ اسی چڑیل کا کام ہو سکتا ہے جو کبھی کبھی عورت کے روپ میں آتی ہے۔
اور جب کسی خوبصورت جوان کو دیکھتی ہے تو اسے تنگ کرتی ہے۔ اسی چڑیل نے منور کا کلیجہ منہ کے راستے باہر نکال کر اسے مار دیا ہے۔
زرگل خان نے اس کانسٹیبل کی پوری بات بھی نہ سنی اور اس سے پوچھا کہ میت کے جنازے میں کتنی دیر باقی تھی۔
کانسٹیبل نے بتایا کہ اس نے یہ بات کسی سے نہیں پوچھی، لیکن لگتا تھا کہ جنازہ جلدی ہی ہونے والا ہے کیونکہ میت کو غسل دے کر کفن پہنایا جا چکا تھا۔
زرگل خان فوراً اٹھا اور اس کانسٹیبل کے ساتھ دو مزید کانسٹیبلوں کو لے کر ماتم والے گاؤں پہنچ گیا۔
وہ گاؤں تھانے سے کم از کم دو میل دور تھا۔
گاؤں میں پہنچ کر زرگل خان نے دور سے دیکھ لیا کہ لوگ قبرستان پہنچ چکے تھے۔
زرگل خان سیدھا قبرستان میں گیا۔ پتہ چلا کہ لوگ جنازہ پڑھ چکے ہیں اور میت کو قبر کے پاس دفنانے کے لیے لے گئے ہیں۔
جب میت کو قبر میں اتارنے لگے تو زرگل خان قبر کے پاس پہنچا اور کہا:
رک جاؤ! پہلے مجھے میت کا چہرہ دکھاؤ۔
میت کا منہ ننگا کیا گیا۔
زرگل خان نے دیکھا کہ میت کے منہ سے کم از کم چار پانچ انچ لمبا جگر کا ٹکڑا باہر نکلا ہوا تھا۔
زرگل خان کو بتایا گیا کہ یہ ایک چڑیل کا کام ہے۔
گاؤں کا نمبردار آگے آیا اور اس نے کہا:
جناب، یہ بات ہمیں شاہ جی نے بتائی ہے کہ یہ کام چڑیل کا ہے۔ کیونکہ کوئی انسان کسی انسان کا کلیجہ اس طرح منہ کے راستے باہر نہیں نکال سکتا۔
زرگل خان نے نمبردار کو حکم دیا:
میت والی چارپائی اٹھاؤ اور میت کو تھانے لے چلو، اور تم سب بھی تھانے آؤ۔
زرگل خان کی بات سن کر لوگوں میں کھسر پھسر شروع ہو گئی۔ وہ لوگ تھانے دار کے اس حکم کو ٹھیک نہیں سمجھتے تھے، مگر اس کے آگے بولنے کی جرات بھی نہیں کر سکتے تھے۔
شاہ جی اس علاقے کا پیر تھا۔
وہ آگے بڑھ کر بولا:
خان صاحب، آپ میت کی بے حرمتی نہ کریں اور میت کو دفنانے کا حکم دیں۔ جنازہ پڑھا جا چکا ہے، اس لیے میت کو زیادہ دیر باہر رکھنا مناسب نہیں۔
زرگل خان نے جواب دیا:
شاہ جی، اس میت کا پہلے پوسٹ مارٹم ہوگا۔ اس کے بعد ہی اسے دفنایا جائے گا۔
(جاری ہے)
فرینڈز ;
اگر یہ کہانی آپ کو دلچسپ لگ رہی ہے اور آپ اس کا مکمل اور اصل انجام جاننا چاہتے ہیں تو پوری کہانی ہمارے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔
یوٹیوب پر جا کر یہ نام سرچ کریں:
Karim Voice 2.0

