خزانہ۔۔
راوی ؛ ملک صفدر حیات
مر جانے والے ایک شخص کا قصہ جس کا آغاز اس کی موت کے بعد ہوا ۔۔۔ اس نے کیا کیا تھا کہ اس کی اولاد نے اسے قبر میں بھی چین سے سونے نہیں دیا ۔۔ اس کا مردہ پولیس والوں کے لیے معمہ بن گیا۔۔۔۔
ڈیئر فرینڈز اج ہم اپ کے لیے ایک دلچسپ کیس لیکر آئے ہیں ملک صفدر حیات صاحب کا ،
جس کا نام ہے خزانہ ...
مجھے امید ہے کہ میری (فرزانہ خان)یہ ترتیب دی گئی کہانی/کیس بہت اچھا لگے گا اور اخر میں کمنٹ کر کے مجھے ضرور بتائیے گا کہ اپ کو یہ کیس کیسا لگا تو ائیے اس کیس اس کو شروع کرتے ہیں
شور وغل۔پکڑ دھکڑ۔زنجیروں کی جھنکار۔مجرموں کا تعاقب۔پرخطر لمحات۔ملزموں کی فریادیں ۔زورآوروں کی لن ترانیاں۔گولیوں کی ٹھائیں ٹھائیں اور ڈاکوؤں سے مقابلے۔۔۔۔آج یہ سب کچھ قصہ ماضی بن چکا ہے۔۔یہ بھولی بسری یادیں بعض اوقات دل میں عجیب سا احساس پیدا کرتی ہیں۔۔اس ضعیف العمری کے دور میں کبھی لان میں ٹہلتے ہوئے اور کبھی آرام کرسی پر اونگھتے ہوئے بسا اوقات دل میں خیال آتا ہے کہ کیا یہ سب واقعات واقعی میرے ساتھ پیش آئے تھے یا میں نے کوئی خواب دیکھا تھا۔۔۔؟ہاں ۔۔۔شاید دنیا میں یہی ہوتا ہے۔۔زندگی کی ولولہ انگیزیاں یا تو یادوں میں گم ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔یا تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔۔۔
وہ گرمیوں کے دن تھے اور صبح کا وقت تھا ۔۔میں کلف لگی وردی میں ملبوس تیز چلتا ہوا تھانے میں داخل ہوا۔۔وہاں درجن بھر افراد میرا انتظار کر رہے تھے۔ان میں شبینہ ڈیوٹی کے دوران گرفتار ہونے والے افراد بھی تھے اور سائلین بھی ۔میں جلدی جلدی معاملات نے نمٹانے لگا۔۔
سائلین میں ایک ادھیڑ عمر عورت بھی تھی۔اس میں صاف ستھرے کپڑے پہن رکھے تھے اور متوسط طبقے کی فرد معلوم ہوتی تھی۔اس کے ساتھ اس کا نوجوان بیٹا بھی تھا۔اس نے اپنا نام زرینہ اور اپنے بیٹے کا نام تنویر عباس بتایا۔اس کا شوہر جس کا نام غلام عباس تھا۔۔ گزشتہ رات سے لاپتہ تھا اور اسے ڈر تھا کہ اس کے ساتھ کوئی حادثہ نہ پیش آ گیا ہو۔۔
تم نے اپنے شوہر کو آخری بار کب دیکھا تھا ۔۔۔۔؟ میں نے پوچھا۔۔ اور وہ کس کام کے لئے گھر سے نکلا تھا۔۔؟
کل رات کھانا کھانے کے بعد وہ ٹہلنے کے لئے باہر نکلا تھا ۔۔اس نے جواب دیا۔۔میرا خیال ہے کہ اس کے بعد وہ واپس نہیں آیا۔۔
کیا مطلب ۔۔۔؟ کیا وہ تمہیں خبر ہوئے بغیر واپس آ سکتا تھا۔۔۔؟
آجکل گرمیوں کی وجہ سے وہ چھت پر سوتا ہے ۔۔ہم لوگ صحن میں سوتے ہیں۔۔ رات کو اس کے جانے کے بعد میں نے چھوٹے موٹے کام نمٹائے اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔باہر کا دروازا میں نے کھلا چھوڑ دیا تھا۔۔ صبح جب میں نے چھت پر جا کر دیکھا تو بستر خالی پڑا تھا۔۔
آپس میں کوئی ناراضگی تو نہیں تھی۔۔؟
ناراضگی تو کوئی نہیں تھی۔۔ اگر ناراضگی ہو بھی جاتی تو وہ گھر چھوڑ کر کبھی نہیں جاتا۔۔
تو پھر وہ واپس کیوں نہیں آیا۔۔؟ تمہاری کسی سے کوئی دشمنی وغیرہ تو نہیں ہے۔ ؟
اس قسم کی دشمنی تو کسی سے نہیں ہے۔۔
اس قسم سے تمہاری کیا مراد ہے۔۔۔؟
مم ۔۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ ہمارا کوئی آدمی کبھی گم نہیں ہوا۔۔اس نے جواب دیا ۔۔۔ ہم لوگ زبانی کلامی دشمنی سے کبھی آگے نہیں بڑھے۔۔۔
کیا تم نے اپنے ملنے جلنے والوں اور رشتہ داروں کے گھروں سے معلوم کر لیا ہے۔۔۔؟
جی ہاں۔۔۔سب جگہ معلوم کرنے کے بعد ہی آپ کے پاس آئے ہیں۔۔ اللہ خیر کرے کوئی ایسی ویسی بات نہ ہو گئی ہو۔۔
میں نے رپورٹ درج کروا دی اور زرینہ بیگم کو فوری کاروائی کا یقین دلا کر رخصت کر دیا ۔۔
دو گھنٹے کے بعد ہیڈ کلرک کے کمرے سے جھگڑنے کی آواز سنائی دی۔میں صورتحال معلوم کرنے کا ارادہ ہی کر رہا تھا کہ ہیڈکلرک تین آدمیوں کے ہمراہ میرے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
ایک آدمی میلی سی سوتی واسکٹ اور دھوتی میں ملبوس تھا۔۔واسکٹ کے نیچے قمیض بھی نہیں تھی۔سانولے رنگ کا وہ مسکین سا آدمی پیروں سے ننگا تھا۔دیگر دو آدمیوں نے اسے دائیں بائیں سے پکڑ رکھا تھا اور وہ احتجاج کرتے ہوئے خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔۔
جن دو افراد نے اسے پکڑ رکھا تھا ۔ان میں سے ایک ادھیڑ عمر اور دوسرا نوجوان تھا ۔۔ان کے لباس اور رکھ رکھاؤ سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔۔بعد میں پتا چلا کہ وہ باپ بیٹا تھے اور جس شخص کو انہوں نے پکڑ رکھا تھا وہ گورکن تھا۔۔
اس کو بند کریں جی۔۔۔۔ نوجوان نے کہا ۔۔ اس نے ہمارے دادا جی کی لاش غائب کر دی ہے۔۔
اس کے بازو چھوڑ دو اور آرام سے بات بتاؤ۔۔۔
یہ جھوٹ ہے سرکار۔۔۔ گورکن نے عاجزانہ انداز میں ہاتھ جوڑ کر کہا۔۔۔ان کا مردہ خود ہی غائب ہوا ہے۔ہم جدی پشتی اس قبرستان میں کام کر رہے ہیں ہم نے نوے سال کا گلا سڑا مردہ رکھ کر کیا کرنا تھا جی ۔۔۔
اوئے منہ سنبھال کر بات کر۔۔ادھیڑ عمر شخص نے کہا ۔۔۔ میرے باپ کا ادب سے نام لے۔۔۔۔ اگر دوبارہ گلاسڑا مردہ کہا تو جبڑا حلق میں اتار دوں گا۔۔
تھانے دار صاحب ۔۔۔انہوں نے مجھے بہت مارا ہے جی۔۔۔۔ گورکن نے فریاد کی۔۔۔۔۔ ان کے خلاف رپورٹ لکھیں جی۔ ۔
اوئے چپ کر۔۔۔۔ کھوتے دا کھر نا ہو وے تے۔۔۔۔ادھیڑ عمر شخص نے اسے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔
تم لوگ خاموش ہو جاؤ ۔۔۔۔میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا
۔۔۔آپس میں بات نہیں کرو۔۔۔ تمہارا نام کیا ہے۔۔۔ میں نے ادھیڑ عمر سے پوچھا۔۔۔
میرا نام صادق علی ہے۔۔۔ اس نے جواب دیا۔۔ اور یہ میرا بیٹا اکرم ہے ۔۔کل میرے والد کا انتقال ہوا۔ان کا نام سخاوت علی تھا۔۔ ہم نے کل ہی انہیں دفن کردیا ۔۔ اس بدبخت نے رات کو ان کی لاش غائب کر دی۔ ۔۔
گورکن جس کا نام خوشی محمد معلوم ہوا۔۔اس نے جواب دینے کے لئے منہ کھولا مگر میں نے اسے چپ کرا دیا اور صادق علی سے پوچھا۔۔اس نے لاش کیوں غائب کر دی ہے۔۔ کیا یہ لاشوں کا کاروبار کرتا ہے۔۔؟
یہ تو اسی کو معلوم ہوگا۔۔۔ اس کو ذرا پھینٹی شینٹی لگائیں۔خود ہی سب کچھ اگل دے گا ۔۔
تم کو کیوں نہ پھینٹی شینٹی لگاؤں۔۔؟میں نے غصے سے کہا۔۔ تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ لاش اس نے غائب کی ہے۔۔؟
اس نے خود ہمیں بتایا ہے ۔۔۔
میرے استفسار پر خوشی محمد نے بتایا کہ وہ قبرستان سے ملحق ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا ہے۔۔گزشتہ رات تقریبا ڈیڑھ دو بجے کوئی آواز سن کر اس کی آنکھ کھل گئی۔اس نے باہر نکل کر ادھر ادھر نظر دوڑائی اور دو تین بار آواز بھی لگائی آئی مگر اس پاس کوئی بندہ پرندہ نظر نہیں آیا۔وہ اندر جا کر بستر پر لیٹ گیا اور تھوڑی دیر میں اس کی آنکھ لگ گئی۔۔آدھے یا پونے گھنٹے کے بعد اس نے دوبارہ کھٹکے کی آواز سنی اور پھر اٹھ بیٹھا۔۔
آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور ہر سو گہری تاریکی تھی ۔۔جو آواز اس نے سنی تھی وہ قبرستان کی طرف سے آئی تھی۔وہ پودوں کے درمیان میں سے ہوتا ہوا آگے بڑھا اور تاریک قبرستان میں نظر دوڑائی۔۔اچانک اس نے ایک مردے کو قبر سے نکلتے دیکھا۔۔اس نے یہی لفظ استعمال کیا تھا۔بقول اس کے وہ مردہ سر سے پیر تک سفید کپڑے میں۔۔۔یا بہ الفاظ دیگر کفن میں لپٹا ہوا تھا۔۔وہ ایک قبر سے نکل کر ایک طرف چل دیا۔۔۔۔
خوشی محمد نے کہا کہ اگرچہ اس کا ساری زندگی مردوں سے واسطہ رہا تھا۔۔ لیکن اس چلتے پھرتے مردے کو دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوگئے ۔۔وہ اپنی جگہ پر ساکت ہو گیا۔۔مردہ درختوں کے جھنڈ میں غائب ہو گیا تو وہ ہمت کرکے واپس مڑا اور گھر جا کر بستر پر لیٹ گیا۔۔اس نے اس پراسرار واقعے کو قدرت کے رازوں میں سے ایک راز سمجھا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔
یہ بات اس کے ذہن میں نہیں آئی کہ اس قبر کو جاکر دیکھے جس میں سے مردہ نکلا ہوا دکھائی دیا تھا۔۔ اگلی صبح دس بجے کے قریب اتفاقاً اس کی نظر سخاوت علی کی قبر پر پڑ گئی۔۔قبر کھلی پڑی تھی۔۔تب اسے خیال آیا کہ رات کو اس نے جس قبر سے مردہ نکلتے دیکھا تھا وہ یہی قبر تھی ۔وہ سیدھا صادق علی کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ اس کے باپ کا مردہ قبر میں سے غائب ہوچکا ہے۔۔صادق علی نے شور مچا دیا اور خوشی محمد کو پکڑ کر تھانے لے آیا۔۔۔۔
خوشی محمد کی پوری بات سننے کے بعد میں نے صادق علی سے پوچھا۔۔تمہیں اس کی بات پر شک کیوں ہے۔۔ کیا یہ مردے کا کاروبار کرتا ہے۔۔۔۔؟
تھانے دار صاحب۔۔۔ آپ خود سوچیں! بھلا یہ بھی کوئی عقل میں آنے والی بات ہے کہ لاش قبر سے نکل کر چلی گئی۔۔۔؟
اس کے نوجوان بیٹے اکرم نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ اگر اس کی بات مان بھی لی جائے تو دادا جی کو سیدھے گھر آنا چاہیے تھا۔۔
ہیڈ کلرک نے کہا۔۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے دادا جی کو زندہ ہی زمین میں گاڑ دیا تھا ۔۔ جس شخص کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا ہو وہ کیسے گھر واپس جا سکتا ہے ۔۔ میں تو اس بات پر حیران ہوں کہ وہ قبر سے نکلا کیسے۔!
میں نے صادق علی سے پوچھا۔۔کیا تم نے خود جا کر اپنے باپ کی قبر کا معائنہ کیا ہے۔۔؟
نہیں جی۔۔۔اس کی بات سن کر میرا تو دماغ ہی ٹھکانے پر نہیں رہا۔۔۔
تم لوگ باہر بیٹھو ۔۔۔میں نے کہا ۔۔۔میں فارغ ہو کر تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔۔
پندرہ بیس منٹ کے بعد میں اٹھنے کی تیاری کر رہا تھا کہ ایک اور شخص میرے کمرے میں داخل ہوا۔۔اس کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ معلوم ہوتی تھی ۔۔ مجھے یاد آیا کہ وہ کسی گواہی کے سلسلے میں پہلے بھی تھانے آچکا تھا۔۔۔
اس نے سلام کرنے کے بعد کہا ۔۔۔تھا نے دار صاحب ۔۔۔مجھے جانا تو کسی عامل کامل کے پاس چاہیے تھا ۔مگر میں آپ کے پاس آ گیا ہوں۔۔جناب مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ایک کوٹھری پر جنات نے قبضہ کر لیا ہے ۔۔یہ کوٹھری مویشیوں کے باڑے کے کونے پر واقع ہے۔۔کچھ دن پہلے ہماری ایک بھینس مر گئی ہم نے کوئی خیال نہیں کیا پھر تین مرغیاں غائب ہوگئیں ہم نے کوئی خیال نہیں کیا لیکن جب دوسری بھینس نے رات کے وقت آسمان کی طرف منہ کر کے ڈکرانا شروع کیا تو ہمیں فکر لاحق ہوئی۔۔ہم سمجھ گئے کہ آسمانی بلا نے ہمارے باڑے کا راستہ دیکھ لیا ہے۔۔ہم نے مولوی صاحب سے بات کی۔۔انہوں نے عشاء کے نماز کے بعد باڑے میں عمل کرنا شروع کیا۔۔تین راتیں خیریت سے گزر گئیں۔چوتھی رات آسمان سے پتھر برسنے لگے۔وہ پتھر مولوی صاحب کے سر پر لگے۔اگر ان کے سر پر پگڑی نہ ہوتی تو ان کا کام ہو گیا تھا۔وہ اپنا بوریا سمیٹ کر بھاگے۔۔صبح انھوں نے مجھ سے کہا ۔۔ولی محمد۔تمہاری کوٹھری پر کسی بہت ہی خبیث جن نے قبضہ کر لیا ہے۔اس سے ٹکر لینا بہت مشکل ہے ۔۔تم اپنے مویشی یہاں سے ہٹا لو۔۔جناب۔۔میں نے مولوی صاحب کے مشورے پر عمل کیا اور مویشی دوسری جگہ باندھنے شروع کر دیے۔کل رات باڑے کی طرف سے نلکا چلنے کی آواز آئی۔اس وقت رات کے دو یا تین بجے ہوں گے۔میری بیوی نے ڈرتے ڈرتے دیوار کے اوپر سے باڑے کی طرف دیکھا تو ۔۔۔جناب ۔۔اس نے عجیب نظارہ دیکھا۔نلکا چل رہا تھا۔ پانی بھی گر رہا تھا مگر چلانے والا کوئی نہیں تھا ۔میری بیوی کے منہ سے چیخ نکل گئی اور وہ بے ہوش ہوتے ہوتے بچی۔۔ اگر میں اسے سنبھالا نہ دیتا تو وہ ختم ہو جاتی۔
میں نے کہا۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ اندھیرے کی وجہ سے اسے نکاح چلانے والا نظر نہ آیا ہو۔۔
جناب میری گھر والی نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔۔
تم نے خود کیوں نہیں دیکھا۔۔۔؟ میں نے پوچھا۔۔
وہ جھجکتے ہوئے بولا ۔۔ میرا دل بڑا کمزور ہے جی ۔۔ حکیم جی نے مجھے ایسی چیزوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔۔۔ اس لیے ذرا احتیاط ہی کرتا ہوں ۔۔
یہ کیسے پتہ چلا کہ نلکا چلانے والا کوئی جن تھا ۔۔؟
جناب۔۔۔ میں ثبوت اپنے ساتھ لے کر آیا ہوں۔۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور پیلے رومال میں لیٹی ہوئی کوئی چیز میری طرف بڑھائی۔۔
یہ دیکھیں۔۔صبح میں نے چار آدمی ساتھ لئے اور کوٹھری میں جاکر دیکھا۔نلکا کوٹھری کے بالکل ساتھ ہے۔یہی کوئی چار قدم کا فاصلہ ہوگا۔وہاں سے یہ دو چیزیں ہمارے ہاتھ لگیں۔۔
میں نے پیلا رومال کھولا تو اندر سے چاندی کی ایک انگوٹھی اور روئی کی ایک معطر پھر بری برآمد ہوئی۔۔
یہ انگوٹھی تو کھرے پر پڑی تھی۔اس نے مزید کہا۔اور یہ پھر بری کوٹھری کے دروازے کے بیچ سے ملی ہے۔۔
اور تمہارا خیال ہے کہ یہ دونوں چیزیں اس خبیث جن کی ملکیت ہیں جس نے تمہارے باڑے پر قبضہ کر رکھا ہے۔۔۔؟
اور کس کی ہو سکتی ہیں۔۔۔؟ اس نے کہا۔۔۔ میں نے سنا ہے کہ چاندی اور خوشبو جنات کی پسندیدہ چیزیں ہیں۔۔
تم نے اپنا نام کیا بتایا۔۔؟
ولی محمد۔۔
دیکھو ۔۔میاں ولی محمد۔۔ یہ جو ہمارا قانون تعزیرات ہے۔میری معلومات کے مطابق یہ جنات پر لاگو نہیں ہوتا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ہمارا وقت ضائع نہ کریں ۔۔۔
تھانے دار صاحب۔۔۔ میں جھوٹ نہیں بول رہا۔۔ میں نے خود اپنے کانوں سے نلکے کی آواز سنی تھی۔۔
نلکا چلانا کوئی جرم نہیں ہے۔۔ میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔ اور میں اس قسم کے جنات کو نہیں مانتا جو پراسرار طاقتوں کے مالک سمجھے جاتے ہیں۔۔
اب مکان ہی بیچنا پڑے گا ۔۔ اس نے مایوسی سے کہا ۔۔۔میری گھر والی کئی بار کہہ چکی ہے کہ یہ ساری خرابی قبرستان کی وجہ سے ہے ۔۔۔قبرستان کے پاس گھر ہوگا تو یہی ہوگا۔۔
قبرستان کے نام پر میں چونکا ۔۔۔۔میں نے اس کا پتہ نوٹ
کر لیا۔۔۔ اور کہا ۔۔۔کہ وہ گھر جا کر میرا انتظار کرے۔۔۔
👇👇

