روح کا گھر
مکمل کہانی
۔۔۔۔
یہ ایک سچا واقعہ ہے جو میں لکھنے جا رہی ہوں جو میرے اپنے ساتھ پیش آیا تھا جس کی شروعات ہوئی تھی 29 نومبر 2011 کی ایک ٹھنڈی یخ رات کو۔ معمول سے ہٹ کر اس رات مجھے ذرا دیر ہو گئی تھی تھانے میں ایک کیس کی کاروائی مکمل کر کے میں اپنی کار میں بیٹھی اور گھر کی طرف جانے لگی میرا گھر تھانے سے زیادہ دور تو نہ تھا مگر ایک سنسان راستے سے ہو کر جاتی تھی یوں سمجھ لیں شارٹ کٹ کیلئے یہ غیر آباد راستے سے گزرتے تھے۔ یہاں ایک بہت پرانا قبرستان تھا جہاں کئی سالوں سے لوگوں نے اپنے مردے دفنانا چھوڑ دیئے تھے یہ راستہ ٹھیک قبرستان کے درمیان سے ہو کر جاتا تھا دونوں طرف پھٹی پرانی قبریں تھی مکمل خاموشی اور رات کی تاریکی میں ایسی جگہوں پہ ویسے ہی خوف کا سا سماں ہوتا ہے۔ اور بدقسمتی سے میری کار قبرستان کے بیچوں بیچ اپنے آپ رک گئی میں نے سٹارٹ کرنے کی کافی کوشش کی مگر سٹارٹ نہ ہونی تھی نہ ہوئی۔ میں کار سے باہر نکلی اور بونٹ اٹھا کر دیکھنے لگی اتنے میں میرے کندھے پہ کسی نے ہاتھ رکھا میں ڈر کر پیچھے مڑی دیکھا تو ایک لڑکی کھڑی تھی "اوہ ایم سوری میم جی میں نے آپ کو ڈرا دیا میرا یہ مقصد نہیں تھا ادھر سے گزر رہی تھی تو دیکھا بس پوچھنے آ گئی گاڑی خراب ہو گئی ہے کیا؟
وہ تیزی سے بولتے ہوئے پوچھنے لگی تو میں نے سر ہلا کر کہا " ہاں پتا نہیں کیا ہوا سٹارٹ نہیں ہو رہی"
اس نے مجھے پیچھے کر کے کہا "مجھے دیکھنے دو آپ گاڑی میں بیٹھو جب بولوں تو چابی گھمانا"
میں جا کر گاڑی میں بیٹھی اور جب اس نے کہا تو میں نے سٹارٹ کی اور کار واقعی سٹارٹ ہو گئی۔
اس لڑکی نے بونٹ گرایا اور ہاتھ جھاڑتے ہوئے بولی "لو میم جی آپ کا کام تو ہو گیا اب میرا بھی کام کر دو تھوڑا آگے تک چھوڑ دو"
میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ بیک سائیڈ بیٹھ گئی۔
"آپ پولیس والی ہو کیا ؟ اس کے سوال پہ میں نے ہلکا سا ہنس کے کہا " میری یونیفورم دیکھ کر کیا لگ رہا"
میری بات سن کر وہ زور سے قہقہ لگاتے ہوئے بولی " دیکھ کر تو پولیس والی ہی لگ رہی ہو مگر مجھ سے پولیس والوں کی طرح کوئی پوچھ گچھ نہیں کی کہ میں کون ہوں اس وقت ادھر کیا کر رہی ہوں وغیرہ"
سامنے والے شیشے میں اسے دیکھ کر میں نے جواب دیا "ضروری نہیں سمجھا"
اور وہ ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہونے لگی میں بھی سر جھٹک کر مسکرانے لگی مگر اگلے لمحے اس لڑکی نے پیچھے سے میرا گلہ دبوچ لیا
اس کی اس حرکت پہ میں حیران ہوئی کیا کر رہی ہے سٹیا گئی ہے کیا؟
اس کی ہنسی اک دم بھاری اور خوفناک ہو گئی اور بھاری مردانہ آواز میں بولنے لگی تمہارے تازہ گرم خون سے اپنی پیاس بجھاؤں گی
میں ایک ہاتھ سے اس کا بازو پکڑ کر اپنی گردن چھڑانے کی کوشش کرنے لگی اور کار بے قابو ہو کر راستے سے اتر گئی اور جھاڑیوں میں گھس کر خود ہی رک گئی۔
ادھر میں نے زور لگا کر اس کے ہاتھوں سے اپنی گردن چھڑائی تو اس نے اپنا منہ میری گردن سے لگا کر دانتوں سے کاٹ لیا۔ ابے کمینی" میں زور سے چلائی
اور سامنے رکھی چھری اٹھا کر اس کی کھوپڑی میں اتار دی۔ جو اکثر پھل وغیرہ کاٹنے کیلئے پاس رکھتی ہوں میں۔
لیکن میرے منہ سے ایک درد ناک چیخ بلند ہوئی کیوںکہ وہ چھری میرے اپنے کندھے میں گردن اور بازو کے بیچ میں ہڈی کے جوڑ میں پوری دستے تک گھس چکی تھی میں نے چھری کو چھوڑا اور دونوں ہاتھ اپنے منہ کے سامنے کر کے پورے زور سے چیخیں مارنے لگی۔ پیچھے بیٹھی وہ لڑکی اچانک ہی غائب ہو چکی تھی کسی چھلاوے کی طرح۔
میں اب آنکھیں پھاڑے کندھے کو دیکھ رہی تھی ہمت کر کے میں نے چھری کو پکڑا اور گنتی گن کر ایک دو تین پھر پوری طاقت سے چھری کھینچ لی درد سے میری جان نکلنے لگی خون فوارے کی طرح بہنے لگا میں نے جلدی سے اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر کندھے سے شرٹ کو نیچے کیا۔ جوتا اتار کر جراب اتاری اور اسے اپنے زخم پہ رکھا تاکہ خون رک جائے میری آنکھیں بند ہونے لگ گئی اور پھر میں دنیا و مافیا سے بےخبر ہو گئی۔ جب آنکھ کھلی تو میں اپنے کمرے میں بیڈ پہ لیتی تھی پچھلے دن کے واقعیات ذہن میں آے تو میں جلدی سے اٹھی میرا انگ انگ درد کر رہا تھا اپنے کندھے سے قمیض نیچے کر کر دیکھا تو زخم بھر چکا تھا ایسے جیسے برسوں پرانا کوئی زخم ہو۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بے یقینی سے بڑبرائی
میں بیڈ سے نیچے اتری تو یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی میرے پاؤں زنجیر سے بندھے تھے ادھر ادھر دیکھا یہ میرا ہی کمرہ تھا مگر میں کس کی قید میں تھی میں نے زور زور سے گھر والوں کو آوازیں دی میری بہن سن کر کچھ دیر بعد آئی مگر دروازے پہ آ کر کھڑی ہو گئی اور عجیب بے بسی سے مجھے دیکھنے لگی "ابے یہ کیا ڈرامہ ہے اب مجھے باندھ کے کیوں رکھا ہے ؟
میرے پوچھنے پہ وہ ٹک سے مس نہ ہوئی
"پاگل ہو گئی ہے کیا کھولو مجھے ڈیوٹی پہ جانا ہے " میں نے غصے سے کہا تو اس نے جواب دیا "ہاں کھول دوں تاکہ تم سب کو مارتی پھرو اور کاٹتی رہو"
"کیا ۔۔؟ میں نے حیرت سے اسے دیکھا " کل رات میرے ساتھ کچھ عجیب ہوا تھا مجھے کون گھر لے کے آیا" میں نے حیرانگی سے پوچھا تو میری بہن سوچتے ہوئے بولی " نہیں کل تو نہیں ہاں مگر عجیب تو روز ہی ہوتا ہے"
" کیا مجھے بتاؤ گی یہ سب کیا چل رہا ہے کس بارے میں بول رہی ہو تم ؟ میں نے غصے سے پوچھا
"تمہاری اب کوئی چال نہیں چلے گی" اس نے دوٹوک جواب دیا
"کیا مطلب کیسی چال ۔۔؟ میں نہ سمجھتے ہوئے بولی
وہ دروازہ بند کر کے چلی گئی
میں غصے سے چیختی رہ گئی مگر میری ایک نہ سنی " بھاڑ میں جاؤ سب"
مگر حیرت کا ایک اور جھٹکا تو تب لگا جب مجھے محسوس ہوا کہ یہ گرمیوں کا موسم ہے اوپر پنکھا بھی چل رہا تھا۔
نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے میں نے خود سے ہی پوچھا۔
اچانک کھڑکی کے سامنے لگا پردہ زور دار ہوا سے ہلا اور ٹھنڈی ہوا کا جھونکا میرے بدن سے ٹکرایا تیز خوشبو میری ناک کی نتھنوں سے محسوس ہوئی مجھے اپنا سر گھومتے ہوۓ محسوس ہونے لگا میرے جسم کو شدید جھٹتے لگے اور میں شاید نیند میں چلی گئی پھر کیا ہوا کچھ یاد نہیں ۔۔۔
پر اس بار جب میری آنکھ کھلی تو میں اپنی فیملی کے ساتھ کار میں بیٹھی کہیں جا رہی تھی میں ادھر ادھر دیکھ کر حیران پریشان تھی میں نے پوچھا یہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟
میری بات سن کر سب عجیب نظروں سے مجھے دیکھنے لگے
"یہ تم اتنے بڑے کیسے ہو گئے؟ میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو حیران کن نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا میری بات سن کر وہ ڈر کر ایک طرف ڈرا سہما بیٹھ گیا
کار کو سائیڈ پہ روک دیا "یہ سب کچھ اتنا جلدی کیسے بدل گیا ؟ میں اپنا سر پکڑ کر بولی
"ارے نہیں پھر سے نہیں ۔۔۔ میری چھوٹی بہن پریشانی سے بڑبرائی
"کیا ہوا سب کو ایسے کیا دیکھ رہے ہو سب مجھے؟ میں حیرانگی اور غصے سے بولی
"ارے نہیں کچھ نہیں ہوا تم اپنے غصے کو کنٹرول کرو" میری بڑی بہن میرے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی اور کوئی دوا دیتے ہوئے کہا یہ پی لو۔
"کیا میں بیمار ہوں ؟ میں نے اس بار آرام سے پوچھا
"ہاں کچھ ایسا ہی ۔۔ تمہیں عجیب سے دورے آتے ہیں کبھی کبھی" اب کی بار آگے بیٹھا کوئی انجان لڑکا پیچھے مڑ کر بولا جو ڈرائیو سیٹ پہ بیٹھا تھا
"سوری تم کون ہو ؟ میرے اس سوال پہ وہ سیدھا ہوتے ہوئے بڑبڑایا ۔۔لو اب مجھے بھی نہیں پیچان پا رہی"
"آخر یہ سب چل کیا رہا ہے کوئی مجھے بتائے گا کیا" میں غصے سے بولی تو سب سہم گئے
کار کا دروازہ کھول کر میں باہر نکل آئی۔ سب لوگ اتر گئے۔
میں کار کی پشت سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی صرف میری بڑی بہن ہی میرے پاس تھی اب۔
"یہ سب کیا ہو رہا ہے یار ؟" مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں پاگل ہو چکی ہوں جیسے وقت بہت تیزی سے بدل رہا ہے اور مجھے اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں
اسی لمحے میری جیب سے موبائل کی رنگ ٹون بجی میں نے حیرانگی سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا موبائل نکالا سکرین پہ عمران نام آ رہا تھا
"عمران" میں زیر لب بڑبرائی " یہ کون ہے ؟
"کیا مطلب کون ہے ؟ میری بہن حیران نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی
اتنے میں کال بیل بند ہو گئی ہوم سکرین پہ نظر پڑھتے ہی میں حیرت سے اچھل پڑی میں نے آنکھیں مسل کر غور سے دیکھا اور پھر حیرانگی سے اپنی بڑی بہن کو دیکھ کر بولی " یہ کون سا سال چل رہا ہے ؟
وہ میرے انداز کو سر جھٹک کر نظر انداز کرتے ہوئے بولی " 2018"
"وہاٹ دا فک" میں حیرت سے اچھلی میری سانسیں تیز تیز چلنے لگی میں منہ پھاڑے چاروں طرف دیکھنے لگی "اوہ نو " میں کار کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھی میری بہن مجھے پانی کی بوتل دیتے ہوئے بولی " سب ٹھیک ہے خود پہ قابو رکھو"
پانی پی کر میں اپنے بال پیچھے کرتے ہوئے بولی " کچھ بھی ٹھیک نہیں لگ رہا مجھے گھر جانا ہے اسی وقت"
"ویسے ہم گھر ہی جا رہے تھے" بہن میرے چہرے پہ نظریں جما کر بولی "اوکے میں ابھی آئی تم اپنے دماغ کو ٹھنڈا رکھنا پلیز"
اس کے جانے کے بعد میں نے موبائل کا کیمرہ آن کر کے اپنا فیس دیکھا
میں پہلے سے کافی الگ دکھائی دے رہی تھی میں اپنے دماغ پہ زور دے رہی تھی کچھ یاد نہیں آ رہا تھا یہ اچانک سات سال ایک ہی دن میں کیسے بیت گئے۔۔۔۔ ؟
خیر ہم گھر واپس آ گئے مجھے اپنا ہی گھر انجان سا لگ رہا تھا کافی کچھ چینگنگ لگ رہی تھی میرے چھوٹے بہن بھائی کافی بڑے ہو گئے تھے اور میں ابھی تک پیچھے 2011 میں کھوئی ہوئی تھی بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ پچھلی ایک ہی رات میں سات سال بیت گئے یا میں کسی گہری نیند میں تھی مگر باقی لوگوں کے مطابق میں ان لوگوں کے بیچ چل پھر رہی تھی بس کبھی کبھار غصہ بہت زیادہ کرتی تھی اور بہت پہلے مطلب 2012 میں مجھ پہ کچھ غیر فطرتی اثرات تھے جو جلدی ہی ختم ہو گئے اور اکثر میں لوگوں کو پیچانتی نہیں بلاہ بلاہ بلاہ ۔۔۔۔۔ میرے کندھے پہ زخم کا نشان اب بھی تھا جو کافی پرانا لگ رہا تھا۔
لیکن مجھے اس بیچ کا کچھ بھی یاد نہیں تھا جیسے میں نے یہ وقت گزارا ہی نہیں ۔۔۔ ایک بات اور جو سب سے زیادہ میرے لئے پریشانی کا سبب بن رہی تھی وہ یہ کہ عمران نامی کوئی لڑکا میرا پچھلے پانچ سالوں سے بوائے فرینڈ ہونے کا دعوا کر رہا تھا پہلے تو میں نے اسے اگنور کیا مگر جب اس نے بتایا کہ میں اس کے ساتھ کئی راتیں گزار چکی ہوں اور کچھ نازیبا ویڈیوز مجھے دکھائی تو میرے پاس انکار کرنے کو الفاظ نہیں تھے۔
حالات میرے بس سے باہر ہوتے جا رہے تھے میں بس پاگل ہونے کے قریب تھی یا تو میری یاداشت اک دم چلی گئی مگر صرف لاسٹ کے سات سالوں کا ہی کچھ یاد نہیں ۔۔۔ یا پھر میرا جسم اور دماغ کسی اور کے استعمال میں تھا جو اپنی مرضی سے سب کچھ کنٹرول کر رہا تھا۔ یہ سب باتیں میں کسی کو بتا نہیں پا رہی تھی مجھے خود ہی کچھ پتا نہیں تھا تو کسی کو کیا بتاتی اور کہاں سے بتاتی۔ لیکن اپنے گھر والوں کو میں نے کہا سب ٹھیک ہے بس ذرا طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ اس طرح اپنی اس زندگی کو ایڈجسٹ کرنے کا سوچ لیا۔ سب سے پہلے میں عمران سے مل کر اس سر درد کو ختم کرنا چاہتی تھی۔
اس کا گھر دو محلے چھوڑ کر آگے تھا اتنا تو پتا چل ہی چکا تھا کہ ہمارا تعلق کچھ زیادہ ہی گہرا ہو چکا تھا اور شادی تک کرنا چاھتے ہیں ہم اور ہم دونوں کے گھر والوں کو بھی عتراض نہیں ہے۔ میں اس کے گھر گئی اور سب سے پہلی بار ملی لیکن وہ مجھ سے پہلی بار کی طرح نہیں مل رہے تھے۔ خیر میں عمران سے بولی مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے کمرے میں چلو۔ میں ایسے گھل مل رہی تھی جیسے سب نارمل ہے لیکن میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ایسے کسی انجان لڑکے سے اس طرح میں کبھی نہیں ملی تھی۔
"مجھے وہ سب ویڈیوز دیکھنی ہیں جو تمہارے پاس ہیں ہماری" میں نے اس سے کہا تو اس نے پوچھا کیوں اس سے پہلے تو کبھی نہیں دیکھنے کو کہا۔
"بس ایسے ہی ۔۔۔' میں نے ٹال مٹول دیا
اس نے اپنا لیپ ٹاپ آن کر کے میرے سامنے رکھا " یہ دیکھو میں ذرا کوئی کھانے کو لے آؤں' بول کر وہ باہر چلا گیا
میں اس کے لیپ ٹاپ پہ ویڈیوز دیکھنے لگی جس میں اس کے ساتھ میں تھی کہیں گھومنے پھرنے جا رہی تو کہیں ہوٹل پہ کھانا کھا رہی کہیں شادیاں اٹنڈ کر رہی اتنی ساری ویڈیوز تھی " یہ میں نہیں ہوں " میں حیرانگی سے دیکھے جا رہی تھی کچھ رومانس والی ویڈیوز بھی تھی ۔ " نہیں یہ سب جھوٹی زندگی ہے سب میری مرضی کے خلاف"
میں نے اس کے لیپ ٹاپ سے ساری ویڈیوز ڈیلیٹ کر دی اتنے میں عمران کمرے میں داخل ہوا "جانو ابھی ماما کھانا لے کے آ رہی تب تک ہم یہ پیزا کھائیں" وہ پیزا کا دبا اٹھائے اندر آتے ہی بولا
اور میں تذبزب کے عالم میں تھی چہرے پہ ہوائیاں چل رہی تھی جیسے۔میں نے جلدی سے لیپ ٹاپ بند کیا اور پیچھے ڈھکیلتے ہوئے اٹھی تو اس کا لیپ ٹاپ ٹیبل سے دوسری پار گر گیا "سوری مجھے ابھی گھر جانا ہو گا" میں جلدی سے باہر نکلی عمران کچھ سمجھتا میں نے اس کے کمرے کا دروازہ باہر سے لاک کر دیا اور تیزی سے انکے گھر سے بھاگنے والے انداز میں نکل گئی۔
میں اپنے گھر جا کر کسی سے بات کئے بغیر اپنے کمرے میں گئی اور دروازہ بند کر کے لیٹ گئی میرے موبائل پہ عمران کی کال آ رہی تھی میں نے کاٹ کر اس کے نمبر بلاک لسٹ میں ڈال دیئے دیر تک سوچتی رہی آخر میرے ساتھ یہ سب ہوا کیسے ۔ بظاھر میں نارمل زندگی گزار رہی تھی پر وہ میں نہیں تھی کون تھی وہ جو "میں" بن کر رہ رہی تھی اور پھر اچانک وہ چلی گئی اگر وہ دوبارہ آ گئی تو میں اپنے آپ میں نہیں رہوں گی کسی کو کیا پتا میرے ساتھ کیا کر رہی ہے وہ۔۔ بس ایسی ہی سوچتی نجانے کب میری آنکھ لگ گئی شام کو جب جاگی تو میری بڑی بہن پاس کھڑی تھی اسی کے جگانے پہ جاگی تھی میں۔ "کیا تم ٹھیک ہو؟ اس نے پوچھا
"ہاں بس نیند آ رہی تھی" میں نے سرسری جواب دیا
"وہ عمران کی کال آئی تھی مجھے بتا رہا تھا تم کچھ عجیب برتاؤ کر رہی ہو" اس نے تھوڑا ڈرتے ہوئے پوچھا
یہ سن کر میرا موڈ خراب ہو گیا "عمران۔۔۔۔۔ عمران ۔۔۔ عمران میں اب پک چکی ہوں اس سے اسے بول دو آئندہ مجھے پریشان کرنے کی کوشش نہ کرے"
یہ سن کر میری بہن پاس بیٹھ کر پھر بولی "
دیکھو شبنم میں جانتی ہوں تم غصے کی بہت تیز ہو مگر اس بارے میں تمہیں ٹھنڈے دماغ سے سوچنا چاہئے مجھے پتا ہے تم عمران سے بہت پیار کرتی ہو ایسے غصے میں ۔۔۔۔۔"
میں اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی " تم کچھ نہیں جانتی ہو میں اس سے پیار کیسے کر سکتی ہوں میں تو اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی وہ ہے کون ؟ میں نے بےچارگی سے کہا
" میں سمجھ سکتی ہوں تم اس وقت کافی پریشان ہو" وہ بولی تو میں نے شانے اچکائے
"نہیں تم کچھ نہیں سمجھ رہی میرے ساتھ کچھ بہت عجیب ہو رہا ہے میرے اوپر کسی چیز کا سحر تھا" میں رو دینے والے انداز میں بولی
""ہاں مگر وہ کافی پرانی بات ہے" آپی نے جواب دیا
"یہ پرانی بات نہیں ہے" میں کچھ بولتی اس سے پہلے باہر سے چھوٹی بہن نے آپی کو آواز دی تو وہ یہ کہہ کر چلی گئی کہ تم آرام کرو بعد میں بات کریں گے۔
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے تو میں اپنے کمرے سے نکلی اپنی چھوٹی بہن فرزانہ کو لے کے چھت پہ چلی گئی اس سے میں نے اپنے بارے میں پوچھا کہ میں تمہارے ساتھ کیسے رہتی ہوں پہلے تو وہ میری بات سمجھی نہیں۔ پھر جب وہ سمجھی کہ میں کیا پوچھ رہی تو اس نے بتایا " تمہارے موڈ کا کچھ پتا نہیں چلتا ویسے تم کسی کو اتنا بھاؤ نہیں دیتی بہت کم باتیں کرتی ہو ہم سے "
"مجھ سے ڈرتی ہو کیا تم؟ میں نے پوچھا
"نہیں مگر جب تم غصے میں ہوتی ہو تو میں بھاگ جاتی ہوں پہلے جب تمہیں دورے پڑتے تھے تو تمہارے ساتھ جنات تھے جنات تو چلے گئے مگر تم بدل گئی ہو" فرزانہ بتانے لگی
"نہیں وہ جو کچھ بھی تھا میرے ساتھ ہی تھا" میں نے منہ ہی منہ میں کہا جو فری سن بھی نہ پائی
"ایک بات پوچھوں آپی؟ فری نے سوال کیا
"ہاں بولو " میں نے کہا
"تم اکثر اکیلے میں بیٹھ کر ہنستی کیوں ہو؟ فری نے معصومانہ انداز میں پوچھا
"میں موبائل پہ لطیفے پڑھ رہی ہوتی ہوں" میں نے ایسے ہی جھوٹ بول دیا تا کہ وہ ڈر نہ جائے
"مگر تم تو اندھیرے میں بیٹھی ہوتی ہو اور موبائل بھی نہیں دیکھ رہی ہوتی ہو تب بھی ہنستی ہو " اس نے دوبارہ سوال کیا " اور کبھی ۔۔۔ کبھی رونے لگ جاتی ہو "
اس کی نظریں میرے چہرے پہ جمی تھی
میں نے تھوک نگلتے ہوئے کہا " وہ میں ------ میں جب اداس ہوتی ہوں تو ایسا کرتی ہوں۔ اچھا ابھی تم کون سی کلاس میں ہو ؟ ایسے ہی بات بدلنے کیلئے میں نے سوال کر دیا
"کیا آپی تمہیں پتا تو ہے میری اسٹڈی مکمل ہو گئی پچھلے سال" فری نے حیرانگی سے جواب دیا
"میں جا کے دیکھتی ہوں کھانے میں کیا بن رہا ہے"
میں نے نظریں چرا کر وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی
مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں سب سے دور ہوں اور اپنے گھر والوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔
اس شب میں بے چین تھی نیند تھی کہ کوسوں دور۔ کبھی لائٹ آن کرتی تو کبھی آف۔ مجھے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کروں اور مجھے سکون کی نیند آئے۔ نہ چاھتے ہوئے بھی میں اٹھی اور کمرے سے باہر نکلی اس وقت رات کے دو بج رہے تھے سب لوگ سو رہے تھے میں دیوار سے چڑھ کر باہر کود گئی ۔ دل چاہ رہا تھا ایسا نہ کروں مگر بے چینی اتنی زیادہ تھی کہ میں کہیں دور چلی جاؤں اور اپنی کوئی الگ شروعات کروں میرا دم اب گھر میں گھٹنے لگا تھا۔ میں کہاں جا رہی تھی مجھے خود بھی نہیں پتا تھا بس کسی انجان منزل کی طرف چلی جا رہی تھی کبھی واپس قدم موڑ لیتی تو کبھی الٹے قدم گھر کی طرف چلنے لگ جاتی تو کبھی آگے کی طرف بڑھنے لگ جاتی پھر میں چلتے چلتے رک گئی یہ مونگ پھلی کا کھیت تھا جس کے بیچ میں کھڑی تھی نجانے کیا سوچ کر میں چلی جا رہی تھی میں ادھر ہی بیٹھ گئی چار سو ہو کا عالم تھا چاند غروب ہو رہا تھا اس کی سرخی مائل مدهم روشنی میں عجیب دہشت زدہ ماحول تھا اتنی رات کو میں گھر سے دور اس ویران کھیتوں میں بیٹھی تھی میں ڈر کر واپس گھر کی جانب بھاگنے لگی پھر سے دل میں وسوسے آتے کہ گھر نہ جاؤں مجھے کہیں دور جانا چاہئے مگر میں اب بھاگے ہی جا رہی اور سر جھٹک کر اپنے گھر سے دور جانے کے خیالات رد کر رہی تھی۔ چور کی طرح دیوار پهلانگ کر گھر آئی اور چھپکے سے واپس جا کر اپنے کمرے میں لیٹ گئی۔ سوچ رہی تھی میں کتنی بڑی بیوقوف ہوں ایسے ہی اس ٹائم کہاں خوار ہونے نکل گئی تھی۔
اگلے دن صبح دس بجے میری آنکھ کھلی واش روم میں فریش ہونے کے بعد قد آور آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر بالوں میں برش کر رہی تھی تو تبھی میں نے غور کیا آئینے کے اندر میرا عکس ساکت کھڑی مجھے گھور رہی تھی میں ڈر کے پیچھے ہٹی مگر میرا عکس بلکل ایک جگہ کھڑی رہی چند لمحوں تک ۔ یہ کوئی وہم نہیں تھا۔ لیکن کسی کو بتانے سے کوئی فائدہ نہیں ہونا تھا سو میں نے یہ کسی سے شیئر نہیں کیا۔
اس کے بعد کچھ دن سب ٹھیک رہا مجھے لگا اب سب نارمل ہوتا جا رہا ہے مگر دل میں ایک انجانا خوف بیٹھا جا رہا تھا۔
رات کو میں جب اپنے موبائل پہ گیم کھیل رہی تھی تبھی کسی unknown نمبر سے واٹساپپ پہ ویڈیو کال آئی میں نے ریسیو کی تو دوسری طرف کوئی لڑکی تھی مگر مجھے رئیلاز ہوا کہ یہ کوئی اور نہیں میں خود ہی ہوں مانو جیسے میرے موبائل کا ہی کیمرہ آن ہو۔
"اتنا حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے" میری ہمشکل لڑکی بولی
میں نے موبائل ادھر ادھر گھما کر دیکھا تو ویڈیو کال پہ بھی اسی طرح پوزیشن بدلی لڑکی غصیلی نظروں سے مجھے گھور رہی تھی "یہ تم ہی ہو بس تمہارے دماغ سے کھیل رہی ہوں میں لیکن تمہیں اب سمجھنا چاہئے مجھے جو چاہئے وہ دے دو"
"میرے ساتھ کھیل کھیلنا بند کرو " میں نے غصے سے کہا مگر میرے لب خوف سے تھرتھرا بھی رہے تھے.
اس کے بعد وہ کچھ نہ بولی بس پاگلوں کی طرح ہنستی چلی گئی میں نے موبائل آف کر کے رکھ دیا۔ آخر اسے مجھ سے کیا چاہئے اور ایسا کیا ہے جو میں اسے دے سکتی ہوں۔۔۔۔؟
اس کے بعد میرے ساتھ کچھ ایسا ہونے لگا جس کا اثر میری زندگی پہ بہت برا پڑا اور میں سچ میں پاگل ہو گئی وہ اس لئے کہ کوئی میری بات پہ یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔ لوگ تو وہی بولیں گے جو انکو دکھائی دے گا۔ ہوا کچھ یوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن مجھے مارکیٹ جانا تھا تھوڑی سی شاپنگ کرنی تھی اور ساتھ اپنے چھوٹے بھائی کو لے گئی کپڑوں کی دوکان سے مجھے ایک سوٹ بھی لینا تھا تو وہاں جو لڑکا تھا اس کا ہاتھ میرے ہاتھ سے لگ گیا میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے فورن سوری بول دی بات ادھر ہی ختم ہو گئی تھی مگر مجھے پتا نہیں کیا ہوا میں نے دانت پیس کر کہا " نہیں سوری کس بات کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی۔ تم جیسے لڑکوں کو دوکانوں پہ بیٹھا کون دیتا ہے لڑکی دیکھی نہیں اور لائن مارنا شروع کر دیا"
اس لڑکے کا منہ شرم سے لال ہو گیا اور آہستہ سے بولا " سوری بہن آپ تو غصہ ہو گئی میرا غلطی سے بس ٹیچ ہی تو ہوا تھا پکڑا تو نہیں تھا"
مجھے بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا مگر پھر بھی مجھے غصہ آیا ہوا تھا میں خود کو روک رہی تھی پھر بھی میرا ہاتھ اسے تھپڑ مارنے کیلئے اٹھا میں نے بڑی مشکل سے خود پہ قابو پالیا اور جلدی سے وہاں سے چل دی۔
مارکیٹ سے واپس گھر آئی تو آگے سے عمران مل گیا جو میرے گھر کے دروازے پہ کھڑا تھا شاید ابھی ہی پہنچا تھا
"تم ذرا گھر جاؤ " میں نے اپنے بھائی کو گھر بھیج دیا
عمران مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا " ارے شبو کیا ہو گیا یار تمہیں کیوں ایسے بےرخی دکھا رہی ہو"
اسے دیکھ کر ہی میرا موڈ خراب ہو گیا تھا اوپر سے اس کی اس بات پہ پارہ ہائی ہو گیا " نہیں نہیں ۔۔۔ تم سب سے پہلے تو میرا نام لینے کی تمیز سیکھو بلکہ نام ہی نہ لو اور دوسرا یہ کہ میری زندگی سے دفع ہو جاؤ آج کے بعد اپنی یہ منحوس شکل بھی دیکھانے کی کوشش نہ کرنا" میں نے نفرت آمیز لہجے میں جواب دیا
عمران کا گھبرایا ہوا منہ پر کئی رنگ اتر گئے ممنا کر کہنے لگا " اچانک ہو کیا گیا ہے سب کچھ ٹھیک تو چل رہا تھا ہمارے بیچ۔۔۔۔ "
میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا " ہمارے بیچ کچھ نہیں تھا اگر کچھ تھا بھی تو ختم ہو چکا تو اب تم میرا پیچھا چھوڑو اور دفع ہو جاؤ"
"مگر تم ناراض کس بات پہ ہو کچھ تو بتاؤ ایسے ہی کیسے رشتہ ختم کر سکتی ہو" عمران منت سماجت کرنے والے انداز میں بولا
" تم جیسے دو ٹکے کے لوگوں کو میں منہ بھی نہ لگاؤں بھاڑ میں جاؤ" میں نے دروازہ زور سے بند کرتے ہوئے کہا
"کیا ہوا اتنا غصہ کس پہ نکال رہی ہو " اندر داخل ہوتے ہی آگے سے بڑی بہن کی آواز آئی"
"اپنے کام سے کام رکھو " میں نے دیکھے بغیر جواب دیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
کچھ دیر کرسی پر بیٹھی سوچتی رہی کہ مجھے کسی پہ اتنا غصہ نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن حالات ہی کچھ اپنے بس سے باہر ہو رہے تھے۔ میں فریش ہونے واش روم چلی گئی تھوڑی ہی دیر میں مجھے ہنسنے کی آواز آئی ایک سائیڈ لگے آئینے میں دیکھا تو میرے عکس میں چھپی وہی بے روپیا لڑکی ہنسے جا رہی تھی میں نے اسے مخاطب کر کے کہا " یہ سب تم کر رہی ہو کیا ؟
میری بات سن کر اس کی ہنسی کو بریک لگی اور مجھے گھورنے لگی
"کیا چاہتی ہو تم مجھ سے پھر سے میرے جسم پر قبضہ جمانے آ گئی ہو کیا" میں نے پوچھا
" چاہتی تو کچھ ایسا ہی ہوں" وہ سپاٹ لہجے میں بولی "مگر نہ جانے کیسے میں کمزور پڑھ گئی ہوں تمہارے اوپر پورا کنٹرول نہیں کر پا رہی"
"اے حرام زادی تو نے میری زندگی کی بینڈ بجا دی " میں نے اسے مکا مارا تو میرا ہاتھ آئینے سے ٹکرایا وہ تو اچھا ہوا جو ٹوٹا نہیں تھا
میرا عکس میرے ہی اوپر پھر سے ہنسنے لگی
"بند کرو اپنی یہ مکروہ ہنسی ۔۔۔۔ " میں نے ڈانٹا
"پورا نہ سہی پر تھوڑا بہت تو قبضہ ہے ہی تمہارے اوپر ہاہا ہا ہاہا " وہ مجھے چڑانے والے انداز میں بولی
میں اسے اگنور کر کے منہ پھیر کر شاور کھول دیا۔
فریش ہونے کے بعد میں دوبارہ اپنے روم میں گئی اب مجھے اتنا تو پتا چل ہی چکا تھا یہ جو بھی بھوتیا تھی اس کا میرے اوپر اب زیادہ سحر طاری نہیں ہو رہا تھا اور وہ مجھ سے آمنے سامنے مل بھی نہیں سکتی تھی مگر اب بھی وہ میرے آس پاس ہے اور اس حالت میں بھی میری لائف کا ستیاناس کرنے پہ تلی ہوئی تھی۔ اس سے پیچھا چھڑانے کا کوئی راستہ نکالنا پڑے گا۔
دوپہر کا کھانا لگ چکا تھا۔ میں جا کر بیٹھی سب پہلے سے کھانے میں مصروف تھے
"کیا بنا ہے آج؟ میں نے بیٹھتے ہوئے سوال پوچھا
"ٹنڈوں کا بھرتہ" فرزانہ نے جواب دیا
"جب دیکھو ٹنڈوں کے بھرتے جب دیکھو ٹنڈے ۔۔۔۔ " میں نے غصے سے دوبارہ اٹھتے ہوئے کہتے کہتے پھر بیٹھ گئی " ایم سوری اوہ واؤ ٹنڈے۔۔ میں ہاتھ ملتے کھانے لگ گئی
ابھی دوسرا نوالہ توڑا اور اسے زور سے ٹیبل پہ پھینک دیا " اتنا بے ذائقہ کھانا ۔۔۔۔ کس نے بنایا یہ اس سے اچھا زہر کھا لے بندہ ۔۔۔" میں نے دوبارہ اٹھتے ہوئے کہا
سب گھر والے چپ چاپ میرا یہ تماشہ دیکھ رہے تھے
میں نے اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے کہا " اے کہاں سے آ گئی تم میری زندگی کو جہنم بنانے"
"بس بہت ہوا جس نے کھانا ہے کھائے نہیں کھانا تو خامیاں نکالنا بند کرے" نجمہ (بڑی بہن) نے تنگ آ کر کہا۔
میں ایک بار پھر سے بیٹھ کر کھانا کھانے لگ گئی پر اس بار میں پورا ایکٹو ہو کر اور اپنے دماغ کو حاضر رکھ کر بیٹھی رہی۔
کھانے سے فارغ ہو کر میں جا کر سو گئی۔
ابھی کچھ ہی دیر گزری ہو گی کہ میں نیند میں چلنے کی وجہ سے جاگ گئی چلتے ہوئے دیوار سے جا لگی تھی۔ نیند ٹوٹ گئی تو باہر برآمدے میں جا کر بیٹھ گئی موبائل نکال کر دیکھا تو تین مس کال آئی ہوئی تھی کسی نمبر سے۔ کال بیک کی تو آگے سے کسی لڑکے کی آواز آئی " ہیلو " میں نے جواب دیا " ہیلو کون ؟
آگے سے وہ بولا " میں جواد جس کے ساتھ تم نے ویڈیو کال کی تھی پانچ سو روپے لے کر بھول گئی کیا ؟
میں نے کہا "نہیں رانگ نمبر ہے "
اس نے پوچھا " تم شبنم ہی ہو نا "
یہ سنتے ہی میرا بھیجا فرائی ہو گیا مگر اب اس جواد کو بھی کچھ تو سنانا ہی تھا سو میں بولی " میں نہیں جانتی کسی شبنم صنم کو دوبارہ فون کیا تو ماں بہن ایک کر دوں گی" کال کاٹی اور اس بھوتنی کی بچی کی طبیعت صاف کرنے آئینے کے سامنے گئی۔
" سامنے آ کتیا " میں نے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے کہا
" کہاں دفع ہو گئی ہے بات کر مجھ سے" میں نے پھر سے بلایا
" مجھے پتا ہے تم ادھر ہی کہیں ہو گی بتاؤ میرے پیچھے اور کیا کیا کارنامے کرتی رہی ہے بھوتنی سالی ۔۔۔۔ "
" پاگل ہو گئی ہے کیا ؟" پیچھے سے نجمہ کی آواز آئی
میں سٹپٹا گئی " ارے نہیں میں تو بال بنا رہی ہوں " میں جلدی سے کنگھی اٹھا کر بالوں میں پھیرنے لگ گئی اسی لمحے آئینے میں میرا عکس ہنسنے لگا
💔
" یہ دیکھو اس کو۔ اسی سے بات کر رہی تھی میں ۔۔" میں نے نجمہ کو آئینے میں عکس زدہ بھوتنی دکھائی
نجمہ ہاتھ باندھ کر مجھے ایسے دیکھنے لگ گئی جیسے میں کوئی عجوبہ ہوں " تم پاگل ہو گئی ہو کیا یہ کیا پاگلوں جیسی حرکتیں کر رہی ہو آج کل"
میں نے آئینے میں دیکھا وہ ہنستے ہوئے بولی " تمہاری بہن مجھے نہیں دیکھ سکتی اور ہاں تمہارے پیچھے میں بہت کچھ کرتی رہی ہوں آگے بول ۔۔۔ ہا ہاہاہاہا "
"میں تو بس مذاق کر رہی تھی " میں نے نجمہ کی طرف دیکھ کر مصنوئی ہنسی کے ساتھ کہا مگر وہ پہلے ہی مڑ کر جا رہی تھی۔
"تمہیں تو میں زندہ نہیں چھوڑوں گی" میں نے آئینے میں اس قہقے لگاتی ڈائین کو کہا
"مگر میں تو پہلے سے مر چکی ہوں ہاہاہاہا " وہ ایسے بولی جیسے مرنے کے بعد اسے بہت مزے مل گئے ہوں
اس دن کی شام میرے لئے کچھ اچھی نہ تھی ۔۔۔۔ مطلب ہر دن ہی اچھا نہیں جا رہا تھا مگر اس شام میں ایک ہوسپٹل میں تھی جہاں نجمہ مجھے زبردستی لے آئی تھی ڈاکٹر میرا چیک اپ کر رہا تھا اور نجمہ اسے میری حالت زار بتا رہی تھی۔
ساری باتیں سننے کے بعد ڈاکٹر بولا " یہ لڑکی بس ڈرامے کر رہی ہے تاکہ اس کی جلدی شادی کروا دیں اور کچھ بھی نہیں"
ڈاکٹر کی ایسی بے تکی بات سن کر نجمہ نے مجھے اور میں نے اس کی جانب دیکھا
" میں اس کو یہاں لائی تاکہ اس کا علاج ہو اور تم یہاں بیٹھ کر مریضوں سے مذاق کر رہے ہو" نجمہ ڈاکٹر پہ برہم ہو گئی
ڈاکٹر کچھ بولتا اس سے پہلے میں بولی " اے میں کوئی مریض نہیں ہوں میں تمہارے ساتھ آنے کو راضی ہوئی کیوں کہ تم مجھے ذہنی بیمار سمجھتی ہو سچ یہ ہے کہ میرے ساتھ بد روح ہے جو میرا استعمال کر رہی ہے "
"کیا ۔۔۔؟ " ڈاکٹر حیرانگی سے بولا " بد روح ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یہ لڑکی سچ میں پاگل ہے" ڈاکٹر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا
"اوہ تم نے تو بس یوں منٹوں میں کیس حل کر دیا واہ تمہارے لئے تو کوئی گولڈ میڈل منگوانا پڑے گا " میں نے ڈاکٹر پہ طنزیہ کہا " میری بات سنو میں کوئی پاگل نہیں ہوں میرے ساتھ کوئی ان دیکھی آتما ہے جو ۔۔۔۔۔۔ " میں تم لوگوں سے بات ہی کیوں کر رہی ہوں " میں غصے سے پاؤں پٹختی باہر نکل گئی۔
گھر پہنچ کر میں نے نجمہ سے کہا " تم میری بات کیوں نہیں سمجھ رہی تم جانتی ہو پہلے بھی تو مجھ پہ جنات تھے دورے آتے تھے نہ ۔۔۔۔"
نجمہ میری بات کاٹ کر بولی " نہیں تمہیں بس پاگل پن کے دورے آتے تھے اور تم لوگوں کو کاٹنے ڈورتی تھی اور اب پھر سے ویسا ہی نہ ہونے لگے اس سے پہلے تمہارا علاج کروانا چاہئے "
میں نے بے یقینی سے کہا " وہاٹ ۔۔۔ یہ تم کیا کہہ رہی"
"سچ یہ ہے کہ تمہارا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تمہارے سر پہ چوٹ لگی تھی جس سے تمہارے دماغ پہ برا اثر پڑا اور تم ذہنی طور پہ بیمار ہو گئی تھی تم نے اپنے گلے پہ چھری گھونپ کر خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی تھی تمہارا علاج ہوا تھا اور تم آہستہ آہستہ ٹھیک ہو گئی تھی مگر اب پھر ۔۔۔۔۔" نجمہ نے افسردہ ہوتے ہوئےبات آدھے میں چھوڑ دی
میں نے اپنے سر پہ ہاتھ رکھا " اوہ مائی گاڈ ۔۔۔ "
مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے میں کیسے سمجھاؤں
"تم خود سے باتیں کرتی ہو کیا یہ پاگل پن نہیں ہے" نجمہ نے پوچھا
"میں اس ۔۔۔ وہ آئینے میں مجھے نظر آتی ہے ۔۔۔۔" میں اپنے غصے کو اندر دبا کر بولی
" ہاں آئینے میں خود کو دیکھ کر کرتی ہو " نجمہ پھر سے بولی
"پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دو " میں آنکھیں بند کر کے بولی تو نجمہ وہاں سے چلی گئی
میں اپنے روم کے اٹیچ واش روم میں گئی وہاں لگے آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر بولی " کیا چاہتی ہو تم مجھ سے ۔۔؟ میری آنکھ سے آنسو بھی نکل آئے تھے
بھوتنی آئینے کے اس پار کھڑی تھی وہ بھی آج دکھی تھی اس نے مجھے کہا " دیکھو شبنم میں بری لڑکی نہیں تھی میں بس مجبور تھی مجھے زندگی جینی تھی لیکن میرا کوئی وجود نہیں ہے اس کیلئے مجھے تمہارا جسم چاہئے"
" تم بری لڑکی ہو تم نے میری زندگی کی فل وٹ لگا دی ہے " میں نے اسے کھا جانے والے لہجے میں کہا
" تم چاہو تو میں سب کچھ ٹھیک کر سکتی ہوں اس کیلئے تمہیں اپنا جسم میرے حوالے کرنا ہو گا" بھوتنی نے سودا کرنے والے انداز میں کہا
" ہر گز نہیں تم ایک شیطان ہو تم نے اپنی مکروہ چالوں سے مجھے ذہنی مریض بنا دیا ہے اور چاہتی ہو کہ تم میرا وجود حاصل کر کے اپنی زندگی جی سکو پر میں ایسا نہیں ہونے دوں گی" میں نے انکار کرتے ہوئے کہا
" میں شیطان نہیں ہوں تمہاری طرح ایک لڑکی تھی میرا نام پونم ہے میں انڈیا کی ہوں مجھے ایک لڑکے سے عشق ہوا تھا مگر اس نے مجھے دھوکہ دیا اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مجھے اس نے ۔۔۔۔۔۔ " بھوتنی اپنی پریم کتھا سنانے لگی میں نے اس کی بات کاٹ دی اور کہا " مجھے کوئی شوق نہیں تمہارے یہ دکھرے سننے کا۔ مجھے بس اتنا پتا ہے تم نے اپنی شیطانی چالوں سے میری بجا کر رکھ دی اور اب اگر تم اتنی ہی اچھی بننے کا ناٹک کر ہی رہی ہو تو میرے ساتھ بس اتنی سی بھلائی کرو میری زندگی سے دور بہت دور چلی جاؤ"
" آئینے کے اس پار میرا عکس تھا فقط میرا عکس۔ بھوتنی کہیں جا چکی تھی۔
میں منہ دھو کر باہر نکلی تو میرے روم میں نجمہ کھڑی تھی جو میری طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی
میں نے نہ سمجھتے ہوئے اسے دیکھ کر سر ہلا کر " کیا ہوا" کا اشارہ کیا
" میں پونم ہوں شیطان نہیں ہوں " نجمہ نے عجیب انداز سے ہنستے ہوئے کہا
اور میرا دماغ چکرا کر رہ گیا
شیطان اپنی چال چل چکا تھا اسے سمجھنا مشکل تھا۔ اب آگے وہ کیا کرنے والی تھی پونم کی آتما سے چھٹکارا پانے کیلئے ہمیں بھی کوئی چال چلنی پڑے گی۔۔
پونم کی آتما میرے ساتھ جو کھیلوار کر رہی تھی اس سے ہم نے جانا کہ وہ میرے جسم پہ قبضہ کر چکی تھی اور میری زندگی جی رہی تھی اس بات کا اندازہ میرے گھر والوں کو بھی نہ ہو سکا کہ وہ میں نہیں کوئی شیطانی آتما ہے جو انکے بیچ رہ رہی ہے مگر پھر اچانک جب وہ کمزور پڑھی اور میری روح بیدار ہو گئی تو میری روح نے پونم کی روح کو دوبارہ اپنے شریر پہ غالب نہ آنے دیا۔ پھر شیطان نے اپنا کھیل کھیلنا شروع کیا اور وہ نجمہ کو اپنے کنٹرول میں لے آئی۔ جب تک نجمہ کا دماغ پوری طرح جاگے گا نہیں آتما اس پہ غالب رہے گی۔ اب نجمہ جانے اور پونم جانے 😂۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنی کہانی کو آگے بڑھاؤں ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اب آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے 🤔 کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔ تو یہ میں نہیں بتاؤں گی😐 ہر بات بتانے کی تھوڑی نہ ہوتی ہے تم لوگ کہانی پڑھو زیادہ سوال نہ کرو 😒
"بھوتنی کہیں کی تم اب میری بہن پہ آ گئی ہو میں تمہارا خون کر دوں گی " میں نے نجمہ کے بال پکڑ کر کھینچے
" ایے کمینی یہ کیا کر رہی ہے میرے بال کیوں کھینچ رہی " نجمہ چلائی تو میں نے جلدی سے چھوڑ دیئے
" یہ بدروح بہت چالاک ہے یہ ہم کو آپس میں لڑوانا چاہتی ہے " میں بولی تو نجمہ دو قدم پیچھے ہٹی اور ڈرتے ہوئے کہا " تم میرا خون کرنے والی تھی تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے"
" تم بدروح کے کنٹرول میں تھی ابھی " میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ جلدی سے آگے سے بولی
" کوئی بدروح نہیں ہے یہ تمہارے دماغ کا تصور ہے صرف تم آئینے کے سامنے کھڑی خود سے باتیں کر رہی تھی تم خود سے بول رہی تھی کہ میں پونم ہوں شیطان نہیں ہوں اور میں ادھر کھڑی سن رہی تھی تم جب باہر آئی تو میں نے شرارت کرتے ہوئے وہی کہا"
یہ سن کر سچ میں ہی میرا دماغ اک دم چکرا گیا کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی
"تم اپنے ہی کنٹرول میں نہیں ہو کوئی بدروح تمہیں خاک کنٹرول کرے گی " نجمہ غصے سے بولتی کمرے سے چلی گئی
میں تھکی ہاری بیڈ پہ گری اور سوچنے لگی شیطانی آتما پھر سے اپنی چالاکی سے مجھے مات دے گئی۔
یا ۔۔۔۔۔۔ یا کوئی بدروح نہیں ہے صرف میرا وہم ہے میرے دماغ کی تاریں شارٹ ہو گئی ہیں اور میں پاگل واگل ہو گئی ہوں۔
میں نے ایک پلان بنایا اور میں دوبارہ آئینے کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی
آئینے کے اس پار پونم کی آتما کھڑی مجھ سے پوچھ رہی تھی " کیا سوچا تم نے؟؟
میں نے کہا " تم کوئی نہیں ہو تم اصل نہیں ہو بس میرا تصور ہو تم اور میں چاہتی ہوں تم جو چاہتی ہو وہ کرو۔۔۔۔ کیوں کہ تم اصل نہیں ہو " میں نے آنکھیں بند کر کے کہا
جب آنکھیں کھولی تو آئینے کے اس پار میرا عکس اسی طرح کھڑا تھا "کیا ہوا اب میں اپنا جسم تمہیں دے رہی تو لے کیوں نہیں رہی تم صرف میرا خیال ہو" میں یہ کہتے ہوئے پیچھے مڑی مگر یہ کیا میرے چاروں طرف آئینے تھے ہر طرف کانچ کی دیواریں تھی کانچ کا یہ محل تھا کوئی ۔۔۔ میرے پیچھے سے پونم کی آواز آئی " شکریہ شبنم اپنی زندگی مجھے سونپنے کیلئے۔۔۔"
میں نے دیکھا آئینے کے اس پار پونم واشروم کے دروازے سے باہر جا رہی تھی " نہیں ۔۔۔۔ میں بھاگی مگر آئینے سے پار جانا ممکن نہیں تھا۔
پونم دوبارہ سامنے آئی واشروم میں اس کے ہاتھ میں ہتھوڑا تھا وہ بولی مجھے ڈھونڈنا ہوا تو اپنے گھر کے دوسرے آئینے تلاش کرنا اور میرے دماغ تک آنے کے راستے بھی ۔۔۔ اس نے ایک فتح ہنسی کے ساتھ ہتھوڑے کو آئینے پہ مار دیا اور کانچ ٹوٹ کر غائب ہو گئی میرے سامنے اب کوئی اور کانچ تھا جو کسی اور گھر میں لگا تھا وہاں ایک چھوٹا سا بچا بیٹھ کر اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا۔
میں نے چاروں طرف نظر گھمائی
یہ آئینے اور کانچ تھے جو ساری دنیا کے تھے
سارا کھیل میں سمجھ چکی تھی میری روح آئینوں کے اندر قید ہو چکی تھی اتنے سارے آئینوں میں اپنے گھر کے آئینے تلاش کرنے میں کئی سال لگ جاتے مجھے بس وہ کوئی چاہئے تھا جس کے دماغ کو میں کنٹرول کر پاؤں جو اپنا جسم مجھے دے کر مجھے اپنی زندگی دے سکے مجھے کوئی تگڑی چال چلنی پڑے گی ۔۔۔ کسی کے بھی ساتھ۔۔۔۔ کوئی بھی ۔۔۔۔ کیسی بھی ۔۔۔ جلدی ہی ۔۔۔ تاکہ آئینے کے اس بہت بڑے محل سے آزاد ہو سکوں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد
یہاں ہم اکثر لوگوں کی بھیجی گئی سچ پر مبنی کہانیاں سناتے ہیں۔

