میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، "امتیاز سے تو میں پوچھ ہی لوں گا، لیکن اگر تمہارے بیان میں کوئی گڑبڑ نکلی تو میں تمہاری کھال کھنچوا دوں گا۔ یہ بات ذہن میں رکھنا۔"
"جناب... میں نے آپ کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا ہے،" وہ منت بھرے لہجے میں بولا، "اب آپ کی مرضی ہے، یقین کریں یا نہ کریں۔"
میرے ذہن میں سرخ فائل کے حوالے سے کھلبلی مچی ہوئی تھی، خاص طور پر اس لیے بھی کہ میں ابھی تک اس فائل کا مطالعہ نہیں کر سکا تھا۔ میں نے کڑے لہجے میں قوبا سے استفسار کیا، "جو فائل میرے کوارٹر سے اُڑائی گئی تھی، اس میں کون سا راز بند تھا؟"
......
لمحہ بھر کو وہ مجھے متذبذب نظر آیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے وہ کوئی بات چھپانے یا اسے مروڑ کر پیش کرنا چاہتا ہو۔ میں نے جارحانہ انداز میں جامی شاہ سے کہا، "شاہ جی! لگتا ہے تمہاری خدمات کی مزید ضرورت پڑے گی!"
میرے لہجے میں اس قدر سنگینی اور سفاکی شامل تھی کہ قوبا لرز کر رہ گیا۔ جلدی سے بولا، "تھانے دار صاحب! آپ میری خاموشی کا غلط مطلب نہ نکالیں۔ میں تو یہ سوچ رہا تھا کہ آپ کو کہاں سے بتانا شروع کروں۔"
جامی شاہ کے "ٹریٹمنٹ" نے اسے خاصا سدھار دیا تھا۔ اس کا ذکر سنتے ہی وہ بے حد خوف زدہ ہو گیا تھا اور چور نظروں سے حوالدار کی طرف بھی دیکھ لیتا تھا۔
میں نے گرج دار آواز میں کہا، "اگر تم نے سوچ لیا ہے تو فوراً میرے سوال کا جواب دو!"
اس نے جواب میں ٹھہر ٹھہر کر بتایا کہ سابق تھانہ انچارج نے ملک غفار کے خلاف کچھ ثبوت جمع کر لیے تھے کہ ملک ڈاکوؤں کے ایک گروہ کی پشت پناہی کرتا تھا۔ یہ گروہ اس جنگل اور آس پاس کے علاقوں میں بڑی بڑی وارداتیں کرتا، اور اپنی آمدنی کا نصف حصہ ملک غفار کی خدمت میں پیش کر دیتا تھا۔
ڈاکوؤں اور ملک غفار کے اس منافع بخش تعلق کے کاغذی ثبوت سرخ فائل میں محفوظ تھے، اور وہ فائل سابق تھانہ انچارج رفیق سیال کے قبضے میں تھی۔
رفیق سیال، چودھری دلدار سے گہری دوستی رکھتا تھا، اور چودھری دلدار، ملک غفار کا لنگوٹیا یار تھا۔ چودھری نے پوری کوشش کر لی کہ وہ فائل تھانہ انچارج یا تو ان کے حوالے کر دے یا پھر ان تمام ثبوتوں کو تلف کر دے، لیکن تھانہ انچارج ان دونوں سے زیادہ کائیاں، سیانا اور گرگِ باراں دیدہ تھا۔
جب بھی چودھری اس فائل کا ذکر کرتا، وہ مسکرا کر کہہ دیتا،
"چودھری صاحب! میرے ہوتے ہوئے آپ کو اور ملک صاحب کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ لوگ اپنا کام جاری رکھیں۔ اپنے ملک صاحب سے کہیے کہ میرا حصہ پابندی سے مجھے ملتا رہے۔ باقی سب ٹھیک ہے۔ میں یہاں تھانے میں بیٹھا ہوں نا—یہ تمام علاقہ جات اس تھانے کی حدود میں آتے ہیں۔ کسی مائی کے لعل کی جرات نہیں کہ ملک صاحب یا ان کے ڈاکوؤں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے!"
اس طرح یہ سلسلہ کافی عرصے سے چلتا آ رہا تھا۔ پھر رفیق سیال کو بدعنوانی اور رشوت ستانی کی بنا پر اچانک معطل کر دیا گیا۔ اس افتاد نے اسے سرخ فائل سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے کی مہلت نہ دی۔ چنانچہ دیگر فائلوں کے ساتھ وہ فائل بھی میرے حوالے میں آ گئی۔
رفیق سیال کے ساتھ تو ملک غفار کا گٹھ جوڑ چل رہا تھا، لیکن نئے تھانہ انچارج، ملک صفدر حیات—یعنی مجھ سے—اسے کوئی توقع نہیں تھی۔ ملک نے کسی طرح سابق تھانہ انچارج کو اپروچ کیا اور یہ معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ اس کے خلاف تمام تر مواد کس فائل میں موجود ہے۔
چنانچہ ملک غفار نے خدیجہ اور مشتاقہ کو بھیج کر، چودھری دلدار کے آدمیوں کے تعاون سے مذکورہ فائل حاصل کر لی۔
ایک بات میرے ذہن میں کھٹک رہی تھی، اور وہ یہ کہ ملک غفار کو کیسے معلوم ہوا کہ میں اس کے کیس والی ریڈ فائل کسی وقت تھانے کی الماری سے نکال کر اپنے کوارٹر میں لے جاؤں گا۔ میں نے یہی سوال قوبا سے کیا تو اس نے جواب دیا:
"تھانے دار صاحب! میں تو اب دھوبی کا کتا بن کر رہ گیا ہوں۔ نہ گھر کا رہا ہوں نہ گھاٹ کا۔ آپ اور چودھری دلدار دونوں ہی میرے ساتھ جو چاہیں سلوک کر سکتے ہیں۔ اس وقت میں آپ کو چودھری صاحب اور ملک غفار کے بارے میں معلومات دے رہا ہوں۔ آپ کے قبضے میں میرا کیا حشر ہو گا، اس کا اندازہ میں حوالدار کے رویے سے لگا سکتا ہوں، لیکن چودھری صاحب میرا کیا انجام کریں گے—اس بارے میں، میں کچھ نہیں جانتا۔"
میں نے اس کی طولانی تمہید کو کاٹتے ہوئے کہا، "تمہارے چودھری اور ملک کو تو میں ایسا سیدھا کروں گا کہ وہ کسی کی ناک پر بیٹھی مکھی بھی نہیں اُڑا سکیں گے۔ تمہاری خیریت اسی میں ہے کہ قانون کے ساتھ تعاون کرو۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس تعاون کے بدلے میں تم پر چودھری یا ملک کی طرف سے کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا۔"
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا، "میں محسوس کر رہا ہوں کہ آپ ہی کے سائے میں مجھے پناہ مل سکتی ہے۔"
میں نے کہا، "تو پھر فوراً میرے سوال کا جواب دو۔"
اس نے جواب دینا شروع کیا۔ قوبا کے مطابق، چودھری دلدار کا ایک وفادار میرے تھانے میں موجود تھا، جو یہاں کی اہم خبریں چودھری تک پہنچاتا رہتا تھا۔ ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ وہ "کالی بھیڑ" میری نظروں سے بچ کر کسی طرح ریڈ فائل الماری سے نکال کر ڈیرے تک پہنچا دے گی، لیکن بعد میں اسی شخص نے اطلاع دی کہ تھانے دار صاحب دیگر فائلوں کے ساتھ مطلوبہ فائل بھی اپنے کوارٹر میں لے گئے ہیں۔
اس دوران خدیجہ اور مشتاقہ ڈیرے پر پہنچ چکے تھے، لہٰذا فائل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے فوری منصوبہ بندی کی گئی۔ خدیجہ کو اچھی طرح سمجھا دیا گیا کہ اسے کس طرح بھرپور اداکاری کرتے ہوئے میرے کوارٹر سے وہ فائل حاصل کرنی ہے۔
خدیجہ کو مصطفیٰ کی بیوی کا کردار ادا کرنے کے لیے امتیاز نے منتخب کیا تھا۔ اس کی نظر میں یہ ایک طرح کی تفریح تھی۔ اسے یقین تھا کہ چونکہ میں اس تھانے میں نیا نیا تعینات ہوا ہوں، اس لیے مجھے خدیجہ (نوری) کے بیان پر کسی قسم کا شک نہیں ہو گا—اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا۔
جب قوبا یہ تمام تفصیل بیان کر چکا تو میں نے قدرے تیز لہجے میں پوچھا، "قوبا! تم نے چودھری دلدار کے جس وفادار کی طرف اشارہ کیا ہے، کیا وہ اس تھانے کا اے ایس آئی شہزاد تو نہیں؟"
اس نے چونک کر ادھر اُدھر دیکھا، پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا، "آپ بالکل درست فرما رہے ہیں۔ شہزاد اس وقت تھانے میں ہی موجود ہے۔"
حوالدار جامی شاہ نے چونک کر میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت کی ایک عجیب کیفیت تھی۔ میں یہ اندازہ نہ لگا سکا کہ اسے اس انکشاف پر یقین آیا ہے یا نہیں، مگر میں خود اس بات کے لیے ذہنی طور پر پہلے ہی تیار تھا۔
میں نے قوبا سے اگلا سوال کیا…
"تمہاری گرفتاری کے فوراً بعد شہزاد کو اس واقعے کی خبر ہو گئی تھی، اور یقیناً اس نے اس بارے میں چودھری دلدار کو اطلاع بھی دے دی ہو گی۔ پھر ابھی تک چودھری تھانے کیوں نہیں پہنچا؟"
قوبا نے جواب دیا، "چودھری صاحب صبح سے چک چھبیسں گئے ہوئے ہیں، وہ احمد نگر میں موجود نہیں ہیں۔"
"اوہ…" میں نے ایک طویل سانس خارج کی، "اب بات سمجھ میں آئی۔ میں بھی سوچ رہا تھا کہ اے ایس آئی اتنا مضطرب کیوں ہے!"
حوالدار جامی شاہ نے شوخ نظروں سے مجھے دیکھا اور پوچھا، "ملک صاحب! میرے لیے کیا حکم ہے؟"
میں نے اس کی نگاہ میں چھپی مہم جوئی کی خواہش فوراً بھانپ لی اور کہا، "تم اے ایس آئی کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ ملک صاحب نے بلایا ہے، اور خود بھی اس کے پیچھے پیچھے آ جانا۔ پھر دیکھتے ہیں، اس غدار کے ساتھ کیا کرنا ہے!"
حوالدار ابھی جانے کے لیے مڑا ہی تھا کہ کمرے کے باہر سے ایسی آواز آئی جیسے کوئی تیزی سے وہاں سے ہٹنے کی کوشش کر رہا ہو۔ میری حسِ ششم نے فوراً خبردار کیا کہ دروازے کے قریب کوئی ہماری گفتگو سن رہا تھا—اور غالباً وہ شخص اے ایس آئی شہزاد ہی تھا۔
حوالدار نے دروازے سے باہر قدم رکھا ہی تھا کہ فرار ہونے والا شخص گھبراہٹ میں کسی چیز سے ٹکرا گیا، اور ایک بلند آواز گونج اٹھی۔ میں فوراً اپنی نشست سے اٹھا اور تیزی سے باہر کی طرف لپکا۔ اگر وہ شہزاد ہی تھا تو اسے ہرگز فرار نہیں ہونے دینا تھا۔
باہر کا منظر میری توقع کے عین مطابق تھا۔ حوالدار جامی شاہ، اے ایس آئی شہزاد کے ساتھ گتھم گتھا تھا۔ میں نے پل بھر میں اپنا سروس ریوالور نکال لیا اور کرخت لہجے میں کہا:
"شہزاد! تمہاری اصلیت سامنے آ چکی ہے۔ کسی مستعدی کی ضرورت نہیں۔ خود کو اس وقت گرفتار سمجھو!"
پھر میں نے حکم دیا، "جامی شاہ! اس بدبخت کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دو۔"
شور سن کر تھانے کا تمام عملہ وہاں جمع ہو گیا۔ چند لمحوں میں شہزاد کو حوالات کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا گیا۔ میں نے جامی شاہ کو ہدایت کی کہ قوبا کو بھی دوسرے کمرے میں بند کر دے۔
میں نے کہا، "میں واپس آ کر سب کا حساب کتاب کروں گا۔"
جامی شاہ نے حیرت سے پوچھا، "آپ کہاں جا رہے ہیں، ملک صاحب؟"
میں نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیا، "ایک نہایت ضروری کام کے لیے—اور اس دوران تم یہ تھانہ سنبھالو۔ میری بات سمجھ رہے ہو نا؟"
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
ریڈ فائل میرے کمرے سے چوری ہوئی تھی، اور اسے واپس لانا میرا فرض تھا۔ اگر ملک غفار اس فائل کو ضائع کر دیتا تو یہ میری نااہلی اور غفلتِ فرض میں شمار ہوتا، جو مجھے کسی صورت قبول نہ تھا۔
یہ بات یقینی تھی کہ مشتاقہ وہ فائل ملک غفار تک پہنچا چکی ہو گی۔ میں نے احمد نگر شمالی سے روانگی کے وقت کانسٹیبل مصطفیٰ کو بھی اپنے ساتھ لے لیا، اور ہم رات کے آخری پہر دو گھوڑوں پر سوار ہو کر موضع جنڈیالہ کلاں کی طرف روانہ ہو گئے۔
راستے میں، میں نے مصطفیٰ کو تھانے میں پیش آنے والے تمام سنسنی خیز واقعات سے آگاہ کر دیا۔
اذانِ فجر سے پہلے ہم جنڈیالہ کلاں پہنچ گئے۔ ملک غفار کو قابو کرنا آسان نہ تھا، مگر قوبا اور اے ایس آئی شہزاد کی صورت میں میرے پاس اس کے خلاف مضبوط شواہد موجود تھے۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی میں اسے مکمل طور پر قابو میں کر چکا تھا۔
اسی کی نشاندہی پر مشتاقہ اور امتیاز کو بھی ڈیرے سے گرفتار کر لیا گیا۔ اللہ کا شکر تھا کہ ریڈ فائل ابھی تک محفوظ تھی۔ میں نے سب سے پہلے اسے اپنی تحویل میں لے کر چیک کیا۔
ملک کی بدقسمتی کہ اس نے ابھی تک فائل کو ضائع نہیں کیا تھا—اور اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ کہ مشتاقہ کے ذریعے اس کے ایک اور سنگین جرم کا ثبوت بھی میرے ہاتھ لگ گیا۔ خدیجہ کو اسی کے حکم پر قتل کیا گیا تھا، اور اس سے پہلے اسی سے فائل چوری جیسے خطرناک کام بھی لیا گیا تھا۔
میں تمام ملزمان کو تھانے لے آیا۔
جب ملک غفار کو یقین ہو گیا کہ وہ قانون کے شکنجے میں پوری طرح جکڑا جا چکا ہے اور میں اسے کسی صورت چھوڑنے والا نہیں، تو وہ بڑے بڑے افسروں سے تعلقات کی دھمکیاں دینے لگا۔ مگر میں اس کی کسی دھونس میں نہ آیا۔
کچھ دیر بعد وہ لہجہ بدل کر نرم پڑ گیا اور لجاجت سے بولا، "ملک صاحب! اپنے خاندان اور برادری کا ہی خیال کر لیں۔ میں بھی ملک ہوں اور آپ بھی—"
میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے سختی سے کہا، "مجھے گالی نہ دو، غفار! تمہارے کرتوت سن کر بہت سے 'ملکوں' کی گردنیں شرم سے جھک جائیں گی۔"
ایک لمحہ رک کر میں نے مزید کہا، "عدالت تو تمہیں بعد میں سزا دے گی، مگر اگر تم نے میرے ساتھ اپنی برادری ملانے کی کوشش کی تو تمہاری ایسی خبر لوں گا کہ تم پہچانے نہیں جاؤ گے!"
وہ خالی نظروں سے مجھے دیکھتا رہا۔
میں نے سرد لہجے میں کہا، "غفار! تم جیسے لوگوں کا نہ کوئی خاندان ہوتا ہے، نہ ذات، نہ برادری۔ تم ڈاکوؤں کی پشت پناہی کرتے کرتے خود انہی میں شامل ہو چکے ہو۔ میری نظر میں تم 'ملک غفار آف جنڈیالہ کلاں' نہیں، بلکہ 'معزز ڈاکو آف گھنے جنگلات' ہو۔"
میں نے طنزیہ انداز میں پوچھا، "سمجھ میں آ رہی ہے میری بات، معزز ڈاکو؟"
وہ لاجواب ہو کر مجھے دیکھتا رہا، جیسے اس کے سامنے کوئی عام تھانے دار نہیں بلکہ کوئی خوفناک سایہ کھڑا ہو۔
شاید اسے میری صورت میں ملک الموت کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔
(ختم شد)

