رات سے تھوڑی دیر پہلے بابا تاج دین اور کانسٹیبل مصطفیٰ واپس لوٹ آئے۔ میرے استفسار پر انہوں نے جو رپورٹ پیش کی، وہ خاصی انکشاف انگیز اور سنسنی خیز تھی۔ کھوجی کے مطابق، کوارٹر میں آ کر مجھ سے ملنے والی عورت میدان والی سمت سے آئی تھی اور واپس بھی ادھر ہی گئی تھی۔
میں نے کہا، "اس میدان میں نوری کا کھرا تلاش کرنے میں تمہیں بڑی دشواری ہوئی ہوگی۔ وہاں تو قصبے کے نوجوان روزانہ شام کو فٹ بال کھیلتے ہیں۔ درجنوں قدموں کے نشانات میں کسی مخصوص آدمی کے پاؤں کے نشانات کو فالو کرنا آسان کام نہیں۔"
"آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں، تھانے دار صاحب!" تاج دین نے اثبات میں گردن ہلائی، "لیکن یہ ایک اتفاق یا ہماری خوش قسمتی سمجھ لیں کہ مقتولہ، جس کا نام آپ نوری بتا رہے ہیں... یہ فرضی نام ہے۔"
میں نے اس کی بات کاٹ کر تصحیح کی، "یہ فرضی نام ہے۔ اصلی نام تو اس وقت پتا چلے گا جب اس قتل کا کوئی سرا ہاتھ آئے گا۔"
"اللہ آپ کا بھلا کرے، تھانے دار صاحب!" وہ دعائیہ انداز میں بولا، "تو میں آپ کو بتا رہا تھا کہ یہ فرضی نوری میدان کے اندر سے نہیں گزری بلکہ کنارے کنارے چلتے ہوئے دوسری جانب پہنچی تھی۔ اس لیے اس کا کھرا برقرار رکھنے میں مجھے زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔ اسی دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ وہ بالکل اسی طرح میدان کے کنارے کے ساتھ چلتے ہوئے آپ کے کوارٹر میں بھی آئی تھی۔"
میں نے اضطراری لہجے میں پوچھا، "میدان کے اس پار پہنچنے کے بعد وہ کہاں گئی تھی؟"
"جنابِ ملک صاحب!" تاج دین نے گہری سنجیدگی سے کہا، "میدان کے دوسرے کنارے پر معائنے کے بعد پتا چلا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی مرد بھی تھا، جو وہاں رک کر اس کی واپسی کا انتظار کر رہا تھا۔"
مرد کا ذکر سنتے ہی میں چونک اٹھا اور جلدی سے پوچھا، "اس کے بعد وہ کہاں گئی؟"
"میں نے بڑی محنت سے اس کے کھرے کو پکڑے رکھا اور اسی سمت چل پڑا جدھر وہ گئے تھے،" کھوجی بابا تاج دین نے بڑی رسانیت سے جواب دیا، "چند قدم کے بعد اندازہ ہو گیا کہ نوری نامی وہ عورت اسی مرد کے ساتھ میدان تک آئی تھی، کیونکہ ان کے وہاں تک پہنچنے کا کھرا بھی مجھے مل گیا تھا۔ وہ جس سمت سے آئے تھے، اسی طرف واپس جا رہے تھے۔"
وہ سانس لینے کے لیے رکا تو میں نے سوال کیا، "اس کا مطلب ہے تم نے سراغ لگا لیا ہے کہ نوری اور اس کا ساتھی مرد کدھر سے آئے تھے؟"
"جی ہاں!" اس نے اثبات میں سر ہلایا اور بولا، "میں ان کے کھرے کے ساتھ ساتھ چلتا رہا، اور اس طرح ہم دونوں ایک ڈیرے تک پہنچ گئے۔"
"ڈیرے تک؟" میں نے الجھن زدہ انداز میں کہا، "کس کا ڈیرا؟"
کانسٹیبل مصطفیٰ نے پہلی مرتبہ لب کشائی کی، بولا، "ملک صاحب! شمالی کے اختتام پر کھیتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ادھر ہی تھوڑا آگے کھیتوں میں ایک ڈیرا بنا ہوا ہے۔ یہ چودھری دلدار کا ڈیرا ہے۔ تاج دین اسی ڈیرے کی بات کر رہا ہے۔"
"چودھری دلدار کا ڈیرا!" میں نے خودکلامی کے انداز میں دہرایا، "ان دونوں کا چودھری دلدار سے کیا تعلق ہے؟"
"تعلق تو آپ معلوم کریں گے، جناب!" تاج دین نے نرمی سے کہا، "میں تو کھرے کی رپورٹ پیش کر رہا ہوں۔"
چودھری دلدار احمد نگر کا ایک بااثر اور طاقت ور زمیندار تھا۔ اس کی عالی شان ذاتی حویلی احمد نگر شمالی میں واقع تھی۔ میں فی الحال چودھری دلدار کے بارے میں اس سے زیادہ نہیں جانتا تھا؛ ابھی تک میری اس سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔
میں نے کھوجی سے پوچھا، "تمہاری اس رپورٹ میں اور کیا درج ہے؟"
"جناب! آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ میں نے اس ڈیرے سے نکلنے والا ایک اہم کھرا بھی پکڑ لیا ہے،" کھوجی تاج دین نے ڈرامائی انداز میں کہا۔
"کھرے کی اہمیت کا اندازہ تو اس وقت ہوگا جب تم کچھ تفصیل بیان کرو گے،" میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا، "جناب! چودھری دلدار کے اس ڈیرے سے نکلنے والے دو گھڑ سواروں کا کھرا میں نے تلاش کیا ہے۔ ان دو گھڑ سواروں میں ایک تو نہایت صحت مند اور بھاری جسم کا مالک ہے، اور دوسرا یا تو بہت زیادہ موٹا ہے یا پھر اس نے اپنے ساتھ کسی دبلی پتلی شخص کو گھوڑے کی پیٹھ پر سوار کر رکھا تھا، کیونکہ اس گھوڑے کے پاؤں بہت زیادہ دباؤ کو ظاہر کر رہے تھے۔ دونوں گھوڑوں کے کھروں میں وزن کے حوالے سے نمایاں فرق نظر آتا ہے۔"
"اس کا مطلب ہے تم نے گھڑ سواروں کا نہیں بلکہ ان کے گھوڑوں کا کھرا تلاش کیا ہے؟"
میں نے سرسری انداز میں کہا، پھر ایک خاص نکتے کو ذہن میں رکھتے ہوئے اضافہ کیا، "کیا یہ ممکن نہیں کہ تم جس سنگل پسلی سوار کا ذکر کر رہے ہو، وہ کوئی عورت ہو؟"
اس نے چونک کر اضطراری نظر سے مجھے دیکھا اور بولا، "ایسا بالکل ممکن ہے۔ پتا نہیں اس طرف میرا دھیان کیوں نہیں گیا۔"
"تم اپنی تحقیق کی جو رپورٹ پیش کر رہے ہو، اس سے میں نے اندازہ لگایا ہے کہ ان دو گھوڑوں پر دو مرد اور ایک عورت سوار ہو کر چودھری دلدار کے ڈیرے سے نکلے تھے، یعنی ایک گھوڑے پر ایک مرد اور دوسرے گھوڑے پر ایک مرد اور ایک عورت ایک ساتھ!" میں نے تجزیاتی انداز میں کہا، "اب تم بتاؤ، ان دونوں گھوڑوں کا کھرا کیا بتاتا ہے؟"
تاج دین زیرِ لب مسکراتے ہوئے بولا، "جناب! میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں نے ایک اہم کھرا پکڑا ہے۔ اب میں اس کھرے کی اہمیت آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں۔ اتنا تو میں پہلے ہی عرض کر دوں کہ ابھی آپ نے جو اندازہ قائم کیا ہے، وہ بالکل درست ہے۔ بہرحال..."
وہ لمحہ بھر کو رکا تو میں تجسس بھری سوالیہ نظر سے اسے دیکھنے لگا۔
وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا، "دونوں گھوڑوں کا کھرا مخصوص دباؤ کے ساتھ ڈیرے سے نہر کے کنارے تک پہنچا، پھر نہر کے ساتھ ساتھ پل کی جانب بڑھنے لگا۔"
تاج دین جس نہر کا ذکر کر رہا تھا، وہ مشرق سے مغرب کی سمت بہتی تھی اور احمد نگر کے درمیان سے گزرتے ہوئے اس قصبے کو شمالی اور جنوبی دو حصوں میں تقسیم کرتی چلی جاتی تھی۔ تاج دین کے مطابق گھڑ سوار شہر کے شمالی کنارے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔
وہ بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا، "انہوں نے نہر کا پل عبور کیا، پھر دوسرا یعنی جنوبی کنارہ پکڑ کر مشرق کی سمت بڑھنے لگے۔ کچھ آگے جانے کے بعد، جیسے ہی جنوبی کی حدود ختم ہوئی، وہ لوگ کھیتوں میں اتر آئے اور آبادی سے تھوڑا فاصلہ رکھتے ہوئے کھیتوں میں آگے بڑھ کر اس مقام پر جا پہنچے جہاں مقتولہ نوری کی لاش ملی ہے، یعنی جائے وقوعہ پر!"
تاج دین کے اس انکشاف پر میں اچھل پڑا۔ اس نے بات ہی ایسی کر دی تھی کہ میں مضطرب ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ میں اس سے کوئی سوال کرتا، وہ سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا،
"آپ کی بات درست ثابت ہوتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ نے جس عورت کے سوار ہونے کا اندازہ قائم کیا ہے، وہ یہی مقتولہ یعنی نوری ہو۔ ان دونوں نے نوری کو قتل کیا اور آگے بڑھ گئے۔"
"آگے بڑھ گئے یا... واپس لوٹ آئے؟" میں نے الجھن زدہ انداز میں پوچھا۔
کھوجی تاج دین مضبوط لہجے میں بولا، "آگے، جناب، آگے!"
"آگے کہاں؟" میری الجھن میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔
نوری کی لاش احمد نگر کے جنوبی کھیتوں میں پڑی ملی تھی۔ وہاں سے پیچھے پلٹنے کا مطلب تھا واپس نہر کی طرف، یعنی شمالی سمت میں جانا، اور آگے بڑھنے سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ گھنے جنگل میں داخل ہوئے ہوں گے۔ جائے واردات سے مشرق اور جنوب دونوں جانب گھنا جنگل پھیلا ہوا تھا۔
تاج دین کے بجائے مصطفیٰ نے جواب دیا، "ملک صاحب! کھوجی بابا نے ان دونوں گھوڑوں کے سموں کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ ان کے کھروں کا تعاقب کرتے ہوئے ہم جنگل کی سرحد تک جا پہنچے تھے، لیکن اتنی دیر میں دن کا اختتام ہو گیا۔ سورج غروب ہو رہا تھا اور ان حالات میں جنگل میں داخل ہونے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ رات کی تاریکی میں کھرا ڈھونڈنا ممکن نہیں، اس لیے ہم واپس آ گئے ہیں۔ کل صبح پھر ادھر کا رخ کریں گے۔ تب پتا چلے گا کہ وہ دونوں گھڑ سوار نوری کو قتل کر کے کس طرف فرار ہوئے ہیں۔"
تاج دین نے کہا، "تھانے دار صاحب! جائے وقوعہ سے جنگل کی طرف گھوڑوں کا جو کھرا گیا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں گھوڑوں پر صرف ایک ایک بندہ سوار تھا۔ میں نے جنگل کے داخلی حصے میں زمین پر اس جگہ ایک خاص نشانی لگا دی ہے جہاں تک کھرا نکالا گیا ہے۔ ان شاء اللہ کل صبح میں وہیں سے اپنے کام کا آغاز کروں گا۔"
وہ لمحہ بھر کو رکا، پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا، "اس سلسلے میں آپ سے میری ایک درخواست ہے، تھانے دار صاحب!"
"ہاں ہاں، کہو کیا بات ہے؟" میں نے پوچھا۔
"اگر کانسٹیبل صاحب کا میرے ساتھ جانا بہت ضروری ہے تو پھر اسے سادہ لباس میں روانہ کریں،" وہ وضاحت کرتے ہوئے بولا، "پولیس کی وردی خواہ مخواہ دیکھنے والوں کو متوجہ کرتی ہے، جس سے کام میں دشواریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ویسے میں کسی کی مدد کے بغیر زیادہ آسانی سے کام کر سکتا ہوں۔ آگے آپ کی مرضی ہے۔"
میں نے کہا، "ٹھیک ہے، اس مسئلے پر صبح بات کریں گے۔ تم ذرا جلدی آ جانا۔"
"آپ کہیں گے تو میں فجر کی نماز ادا کرتے ہی ادھر آ جاتا ہوں،" وہ بولا۔
"نہیں، اتنی بھی جلدی کی ضرورت نہیں، تاج دین،" میں نے کہا۔
"ٹھیک ہے، میں آٹھ بجے آ جاؤں گا،" تاج دین کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
"ہاں، یہ مناسب وقت ہے،" میں نے تائیدی انداز میں کہا۔
وہ رخصت ہو گیا۔ کھوجی تاج دین کے جانے کے بعد میں نے کانسٹیبل مصطفیٰ سے کہا، "حالات و واقعات کا نقشہ کچھ کچھ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ تم اس علاقے کے رہنے والے ہو، مجھے بتاؤ، چودھری دلدار کے ڈیرے پر کون رہتا ہے؟"
چودھریوں اور بڑے زمینداروں نے اپنی زمینوں پر ڈیرے وغیرہ بنا رکھے ہوتے ہیں، جہاں ان کے ذاتی ملازم رہتے ہیں۔ عموماً یہ ملازم کھیتوں کے معاملات کی نگرانی کرتے ہیں اور بڑے باخبر ہوتے ہیں۔ مصطفیٰ نے میرے سوال کے جواب میں بتایا۔
"ملک صاحب! میری معلومات کے مطابق اس ڈیرے پر چودھری دلدار کے دو ملازم رہتے ہیں، جن میں سے ایک کا نام یعقوب عرف قوبا اور دوسرے کا نام امتیاز ہے۔ یہ لوگ ڈیرے کے آس پاس اور دور دراز تک پھیلی ہوئی چودھری دلدار کی اراضی کا نظام سنبھالتے ہیں۔"
"ٹھیک!" میں نے سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا، پھر پوچھا، "جب تم تاج دین کے ساتھ ڈیرے کے آس پاس نوری اور اس کے ساتھی مرد کا کھرا تلاش کر رہے تھے، تو کسی نے تمہیں دیکھا تو نہیں؟ میرا مطلب ہے، قوبا یا امتیاز میں سے کسی نے؟"
"نہیں، جناب!" اس نے نفی میں گردن ہلائی، "بابا تاج دین بہت محتاط اور ہنر مند شخص ہیں۔ کسی کو ہماری کارروائی کا پتا نہیں چل سکا۔"
پھر اس نے تھوڑے توقف کے بعد کہا، "کھوجی بابا کو یقین ہے کہ نوری اور اس کا ساتھی مرد ایک ساتھ اس ڈیرے پر گئے تھے۔ ہمیں اس ڈیرے کو ضرور چیک کرنا چاہیے۔"
"میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔ اسی لیے تم سے ایسے سوال کیے ہیں،" میں نے کہا، "یہ بات زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہے گی کہ کھوجی تاج دین نامعلوم عورت (نوری) کے قتل کی تفتیش میں پولیس کا ساتھ دے رہا ہے، لہٰذا ہمیں اسی وقت چودھری کے ڈیرے کا رخ کرنا چاہیے۔"
"ٹھیک ہے، ملک صاحب!" مصطفیٰ نے کہا، "میں آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہوں۔ فارغ ہونے کے بعد میں گھر چلا جاؤں گا۔"
"میرے خیال میں چودھری دلدار کیسا آدمی ہے؟" میں نے برسبیلِ تذکرہ پوچھا۔
"بس جی، کیا بتاؤں..." وہ مبہم سا جواب دے کر خاموش ہو گیا۔
میں نے اصراری لہجے میں کہا، "جو بھی جانتے ہو، بتاؤ۔"
وہ تھوڑے تامل کے بعد بولا، "رفیق سیال کے زمانے میں چودھری دلدار تھانے آتا رہتا تھا۔ ان دونوں میں بڑی گہری دوستی تھی۔ مجھے یہ چودھری ذرا اچھا نہیں لگتا۔ بس جی، ادھر احمد نگر میں میرے چچا، چچی رہتے ہیں، اس لیے چودھری دلدار کے خلاف کھل کر کچھ نہیں بول سکتا۔ آپ پر تو مجھے پکا اعتماد ہے، اس لیے آپ کو بتا رہا ہوں کہ چودھری دلدار کوئی شریف آدمی نہیں ہے۔"
مصطفیٰ کی رائے میری تفتیش کے لیے نئی راہ ہموار کر رہی تھی۔ رفیق سیال کو ہٹا کر مجھے اس تھانے میں تعینات کیا گیا تھا۔ اس واقعے کا اتنا ہی دکھ چودھری دلدار کو بھی ہوا ہوگا جتنا خود سابق تھانہ انچارج کو۔ میں اس وقت جس نامعلوم اور بدقسمت عورت کے قتل کی تفتیش کر رہا تھا، کھوج کے مطابق اس کا تعلق چودھری کے ڈیرے سے ثابت ہو رہا تھا۔ اس کا واضح مطلب یہی تھا کہ اگر چودھری دلدار خود ملوث نہیں بھی، تو کم از کم اس ڈیرے پر رہنے والے قوبا اور امتیاز نوری سے ضرور واقف ہوں گے۔ اس سنسنی خیز تعلق کے سامنے آنے کے بعد چودھری کے ڈیرے کو چیک کرنا نہایت ضروری ہو گیا تھا۔
میں نے کانسٹیبل مصطفیٰ کو ساتھ لیا اور ڈیرے کی جانب روانہ ہو گیا۔ اس ڈیرے اور میرے تھانے کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ پندرہ منٹ میں ہم باآسانی وہاں پہنچ سکتے تھے، لہٰذا ہم نے پیدل جانے کا فیصلہ کیا۔ رات ہو چکی تھی، اس لیے لوگوں کے ہماری طرف متوجہ ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس کے باوجود بھی ہم نے وہ راستہ اختیار کیا جو آبادی سے تھوڑا ہٹ کر نہر کے کنارے کے ساتھ ساتھ اس طرف جاتا تھا۔
اس مختصر سے سفر کے دوران ہمارے درمیان گفتگو بھی ہو رہی تھی۔ اچانک مجھے اے ایس آئی شہزاد کا خیال آیا، تو میں نے مصطفیٰ سے پوچھ لیا۔
"تم اے ایس آئی شہزاد کو کس حد تک جانتے ہو؟"
اس نے چونک کر میری طرف دیکھا۔ اس کے چونکنے کو میں نے اس کی تیزی سے مڑتی ہوئی گردن کے سبب محسوس کیا تھا، کیونکہ رات کی تاریکی چہرے کے تاثرات کو دیکھنے میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ ساتھ ہی اس کی آواز سے بھی تشویش جھلکنے لگی۔
"ملک صاحب! کیا آپ یہ سوال کسی خاص حوالے سے کر رہے ہیں؟"
"ہاں، خاص حوالہ ہی سمجھ لو،" میں نے کہا، "اور وہ حوالہ تم ہو۔"
"میں؟" اس کی تشویش الجھن میں بدل گئی، "میں کس طرح، ملک صاحب؟"
"میں نے محسوس کیا ہے کہ شہزاد تم سے بڑی گہری محبت کرتا ہے،" میں نے کہا۔
"ہمارے درمیان کبھی ایسا رشتہ استوار نہیں ہو سکا۔"
"تم ٹھیک کہتے ہو، مصطفیٰ،" میں نے تائیدی لہجے میں کہا۔ پھر شہزاد سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرنے کے بعد کہا، "میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ تم سے شدید حسد کرتا ہے۔ اس کی وجہ تم ہی بتا سکتے ہو۔"
"وہ حسد سے بھی چار ہاتھ آگے بڑھ کر مجھ سے سخت نفرت کرتا ہے، ملک صاحب!" مصطفیٰ نے گہرے انداز میں کہا، "اور اس کی ایک خاص وجہ ہے۔"
جب میں نے مذکورہ وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ اے ایس آئی ایک انتہائی ناقابلِ اعتبار شخص ہے، اس لحاظ سے کہ سابق تھانہ انچارج سے اس کی بہت بنتی رہی ہے۔ رفیق سیال کو جن الزامات اور بدعنوانیوں کے باعث یہاں سے ہٹایا گیا تھا، ان معاملات میں شہزاد اس کے معاون کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔ شہزاد کے چودھری دلدار سے بھی بڑے اچھے تعلقات تھے، بلکہ بعض معاملات میں شہزاد، چودھری اور رفیق سیال کے درمیان پل کا کام کرتا رہا تھا۔
مصطفیٰ کا شعبہ کرپشن نہیں تھا، اس لیے وہ رفیق سیال کی زیادہ معاونت اور خدمت نہیں کر سکا تھا۔ لہٰذا جب میں نے مصطفیٰ کو اپنے قریب آنے کا موقع دیا تو شہزاد فوراً جلنے لگا۔ مصطفیٰ کی پوری بات سننے کے بعد میں نے کہا،
"بھئی! پھر تو یہ اپنا اے ایس آئی بہت ہی خطرناک بندہ ہے۔"
"بالکل، جناب! اس پر بھروسا کرنا کام کو خراب کرنے کے مترادف ہے،" مصطفیٰ نے کہا۔
شہزاد سے ملاقات کے وقت مجھے جو بات چبھ رہی تھی اور جس کا سبب سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، اب وہ معاملہ بالکل واضح ہو گیا تھا۔ وہ مکار شخص میرے سامنے بھرپور اداکاری سے کام لے رہا تھا۔ میں نے دل میں تہیہ کر لیا کہ شہزاد کو یہ پتا نہیں چلنے دوں گا کہ میں اس کی اصلیت سے واقف ہو چکا ہوں۔ اس اداکار کو میں بےخبری میں اداکاری کی مار ہی ماروں گا۔
اس سلسلے میں میں نے مصطفیٰ کو بھی ضروری باتیں سمجھا دیں، اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر میں اس کی موجودگی میں اسے ڈانٹ ڈپٹ کروں تو وہ خاموشی سے سر جھکا کر سنتا رہے۔ میں شہزاد کو یہ تاثر دینا چاہتا تھا کہ کانسٹیبل مصطفیٰ کی میرے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہیں۔ اس رویے کے نتیجے میں شہزاد کھل کر سامنے آ سکتا تھا۔ کسی عیار اور فریبی شخص کو مکر و فریب ہی سے چت کیا جا سکتا ہے۔
میں نے مصطفیٰ سے کہا، "کل تم تھانے آنے کی بجائے سادہ لباس میں سیدھے جنگل کی طرف چلے جانا اور اس مقام کے آس پاس رہ کر کھوجی تاج دین کا انتظار کرنا، جہاں اس نے کھرے کے سلسلے میں کوئی نشانی وغیرہ لگا رکھی ہے۔ میں تاج دین کو سمجھا کر ادھر روانہ کر دوں گا۔"
"ٹھیک ہے، ملک صاحب!" وہ مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے بولا، "جو آپ کا حکم، میں وہی کروں گا۔"
میں نے کہا، "جب تم لوگوں کا کام مکمل ہو جائے اور اس کے نتائج تمہاری سمجھ میں آ جائیں تو تم کھوجی کو فارغ کر دینا۔ اسے اپنے ساتھ تھانے لانے کی ضرورت نہیں۔ اس کی مدد اور تعاون کی اگر مزید ضرورت محسوس ہوئی تو ہم دوبارہ اس کی خدمات حاصل کر لیں گے۔ اس کے بعد تم وردی پہن کر تھانے آ جانا۔"
میں سانس لینے کے لیے رکا، پھر بات کو مکمل کرتے ہوئے کہا، "تمہاری غیر موجودگی میں میں عملے کے ہر شخص، خصوصاً شہزاد سے تمہارے بارے میں استفسار کروں گا۔ ظاہر ہے، کسی کو تمہاری غیر حاضری کا علم نہیں ہوگا۔ جب تم واپس آؤ گے تو تمہاری بغیر اطلاع غیر حاضری پر مجھے تمہیں ڈانٹنے کا موقع مل جائے گا۔ جب تک نوری مرڈر کیس حل نہیں ہو جاتا، ہمیں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے، اور یہ کیس ہم دونوں مل کر حل کریں گے۔ اس تھانے اور اس علاقے کے طرم خانوں کو میں بعد میں ٹھیک کر لوں گا۔ میں محسوس کر رہا ہوں، بلکہ دیکھ رہا ہوں، یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔"
ایک لمحے کا توقف کر کے میں نے پُروثوق لہجے میں کہا، "بس... چند دن کی بات ہے۔"
ہم باتیں کرتے اور منصوبے بناتے ہوئے ڈیرے پر پہنچ گئے۔ چودھری دلدار کا ڈیرا بھی عام ڈیروں جیسا ہی تھا۔ ایک کشادہ احاطے میں پچھلی جانب چند کمرے بنے ہوئے تھے۔ ان کے آگے وسیع و عریض صحن تھا، جس میں تین چار درخت بھی لگے ہوئے تھے۔
جب ہم وہاں پہنچے تو ڈیرے کا داخلی گیٹ کھلا ہوا تھا۔ وہ اتنا بڑا گیٹ تھا کہ کوئی ٹریکٹر، ٹرالی یا ٹرک باآسانی اس میں سے اندر داخل ہو سکتا تھا۔
مصطفیٰ نے کہا، "ملک صاحب! آ جائیں، اتفاق سے گیٹ کھلوانے کی ضرورت نہیں ہے۔"
"اجازت لینے کی ضرورت ہے،" میں نے اٹل
لہجے میں کہا۔
وہ میری بات کی تہہ میں پہنچ گیا، اس نے قدرے ندامت سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
جاری ہے۔

