“تم ٹھیک کہتے ہو مصطفیٰ! یہ قطعی ضروری نہیں ہے۔” میں نے تائیدی انداز میں کہا۔ “اور جب تک مقتولہ کی مکمل شناخت نہیں ہو جاتی، ہم آپس میں گفتگو کے دوران اسے نوری ہی سمجھ کر بات کریں گے۔” “لیکن کاغذی کارروائی میں ہر جگہ اس کا نام ‘نامعلوم مقتولہ’ درج ہوگا،” مصطفیٰ نے کہا۔ “بالکل درست!” میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
اس نے مجھے اس طرح دیکھا جیسے اچانک اسے کوئی اہم بات یاد آ گئی ہو۔ وہ پوچھنے لگا، “ملک صاحب! یہ مسئلہ تو حل ہو ہی جائے گا کہ یہ نوری ہے یا ناری، لیکن آپ یہ بتائیں کہ یہ میری شکایت لے کر آپ کے پاس کیوں پہنچی تھی؟”
میں نے کہا، “مصطفیٰ! تم نے ‘نوری’ اور ‘ناری’ کی اچھی ترتیب پیش کی ہے، جو اس مقتولہ پر پوری طرح فٹ بیٹھتی ہے۔” پھر میں نے اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا، “یہ مجھے بتانے آئی تھی کہ تم بہت ظالم اور سفاک ہو۔ اسے بری طرح مارتے پیٹتے ہو، بچوں کو بھی فرعونانہ انداز میں ڈانٹتے ہو، گھر میں خرچہ نہیں دیتے بلکہ اپنی سرکاری تنخواہ کا زیادہ تر حصہ پرائی عورتوں پر لٹاتے رہتے ہو…”
میں لمحہ بھر کو رکا اور اس کے تاثرات کا جائزہ لیا۔ وہ یہ باتیں سن کر خیالوں میں گم تھا۔ میں نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا، “پوری کہانی سنا کر اس نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ میں تمہیں سمجھاؤں، تمہارے کان کھینچوں اور ایسی ڈانٹ لگاؤں کہ تم بندے دے پتر بن جاؤ۔ بے چاری یہ نہیں جانتی تھی کہ کان کھینچنے سے وہ لمبے ہو جاتے ہیں، اور کان کھنچوا کر ڈانٹ کھانے والا بندے دا پتر نہیں بلکہ کھوتے دا گھر بن جاتا ہے!”
میری اس لطیف بات پر وہ چونک کر حقیقت میں واپس آیا اور زیرِ لب مسکراتے ہوئے بولا، “ملک صاحب! آپ مذاق بہت اچھا کرتے ہیں۔” میں نے معنی خیز انداز میں کہا، “یہ بات تو تم اب کہہ رہے ہو۔ اگر واقعی نوری تمہاری بیوی ہوتی اور اس کی شکایت پر میں تمہارے کان بھی کھینچ دیتا تو شاید تمہیں یہ مذاق نہ لگتا بلکہ میری اس سختی پر تم دل میں میرے لیے میل رکھتے۔”
وہ ایک بار پھر سوچوں میں گم ہو گیا۔ میں اس کی محرومی کو بخوبی سمجھ رہا تھا۔ بیوی کے ذکر سے اس کی دبی ہوئی خواہشیں اور ناکامیاں شدت سے ابھر آتی تھیں۔ اس کی منگنی کئی بار ٹوٹ چکی تھی، اس لیے شادی کا تصور ہی اسے ایک عجیب سی تسکین دیتا تھا۔
اسی دوران فرزند علی واپس آ گیا۔ اس کے ساتھ تین اور افراد تھے، جو احمد نگر شمالی سے آئے تھے۔ نوری کے قتل کی خبر وہاں تک پہنچ چکی تھی اور وہ لاش کی شناخت کے لیے آئے تھے۔ میں نے ان کے نام پوچھے۔ ایک احمد یار، دوسرا محمد مشتاق اور تیسرا علی نواز تھا۔
میں نے مختصراً انہیں واقعے سے آگاہ کیا، پھر انہیں لاش کے قریب لے جا کر نوری کے چہرے سے چادر ہٹا دی۔ وہ تینوں سنجیدگی سے اس کے چہرے کو دیکھتے رہے۔ میں ان کے تاثرات غور سے دیکھ رہا تھا، لیکن مجھے کوئی ایسی علامت نظر نہ آئی جس سے ظاہر ہوتا کہ وہ اسے جانتے ہیں۔ چند لمحوں بعد انہوں نے میرے اندازے کی تصدیق کر دی۔
“میں نے اس عورت کو پہلے کبھی نہیں دیکھا،” احمد یار نے حتمی انداز میں کہا۔ محمد مشتاق بولا، “یہ کسی دوسرے علاقے کی لگتی ہے۔ اگر یہ ہمارے قصبے کی ہوتی تو میں فوراً پہچان لیتا۔” علی نواز نے سوچتے ہوئے کہا، “ایک بات اور بھی ہو سکتی ہے۔ یہ ہمارے قصبے کی نہیں، بلکہ کسی کے گھر مہمان آئی ہو!”
علی نواز کی بات میں وزن تھا۔ اگرچہ یہ بات اس کہانی سے میل نہیں کھاتی تھی جو نوری نے رات کو سنائی تھی، لیکن اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ میں نے موقع پر موجود افراد کے بیانات قلم بند کیے، پھر احمد نگر شمالی اور جنوبی کے ایک ایک شخص کو ذمہ داری دی کہ وہ اپنی اپنی مسجد میں اعلان کروائیں کہ اگر کسی کے گھر آئی ہوئی کوئی مہمان عورت لاپتہ ہے تو فوراً اطلاع دی جائے۔
یہ ایک کمزور سی امید تھی، مگر ضروری تھی۔ اس کے بعد میں نے موقع کی کارروائی مکمل کی۔ تقریباً ایک گھنٹے میں تمام ضروری اقدامات مکمل ہو گئے۔ مساجد میں اعلانات بھی ہو چکے تھے، لیکن ابھی تک کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی جس سے مقتولہ کی شناخت ہو سکتی۔
میں نے کچھ دیر مزید انتظار کیا، مگر جب کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سرکاری ہسپتال بھجوا دیا۔ اب جائے واردات پر میرا کوئی کام باقی نہیں رہا تھا، اس لیے میں کانسٹیبل مصطفیٰ کے ساتھ واپس تھانے آ گیا۔
دوپہر کے کھانے کے بعد مصطفیٰ میرے کمرے میں آیا اور ہم نوری کے قتل کے علاوہ دیگر پہلوؤں پر بھی بات کرنے لگے۔ میں نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا، “مصطفیٰ! نوری کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، وہ یقیناً کسی دشمن کا کام ہے۔ جب تک ہمیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ وہ کون تھی اور کہاں سے آئی تھی، ہم اس کے قاتل تک نہیں پہنچ سکتے۔”
مصطفیٰ نے کہا، “ملک صاحب! یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ کسی اتفاقی حادثے کا شکار ہو گئی ہو۔ کسی نے رات کے وقت اس پر ہاتھ ڈالا ہو، اور مزاحمت کرنے پر اسے قتل کر دیا ہو۔”
“اس بات کا بھی امکان ہے کہ نوری نے حملہ آور کو پہچان لیا ہو، اور اس ڈر سے کہ وہ دوسروں کو اس کے کارنامے کے بارے میں بتا دے گی، اس نے نوری کی زندگی کا خاتمہ کر دیا ہو۔”
“اس زاویے سے میں نے بھی سوچا تھا،” میں نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے کہا، “لیکن فوراً ہی اس امکان کو ذہن سے خارج کرنا پڑا۔ اس قسم کے مجرمانہ حملے کے آثار نہ تو نوری کی لاش پر کہیں نظر آتے ہیں اور نہ ہی جائے وقوعہ پر دکھائی دیتے ہیں۔”
میں نے چند لمحوں کے لیے توقف کیا، ایک گہری سانس لی، پھر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “میرے خیال میں نوری کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کیا گیا ہے، اور قتل کی یہ واردات گزشتہ رات نصف شب کے آس پاس ہوئی ہے۔ جائے وقوعہ پر گرا ہوا خون اور کٹی ہوئی شہ رگ واضح طور پر اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔”
“کیا تم نے نوری کی گردن کو غور سے نہیں دیکھا؟”
“دیکھا ہے، ملک صاحب!” وہ کچھ سوچتے ہوئے سر ہلاتا بولا، “اور میں بھی اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ بالکل درست کہہ رہے ہیں، لیکن…”
وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر رکا، پھر الجھن زدہ لہجے میں بولا، “یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ نوری کے قاتل تک پہنچنے کے لیے آغاز کہاں سے کیا جائے؟”
“یہ بات میری سمجھ میں آ چکی ہے،” میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا، “یہ بات کئی زاویوں سے ثابت ہے کہ نوری کی لاش کھیتوں میں جس مقام پر ملی ہے، اسے قتل بھی اسی جگہ پر کیا گیا ہے۔”
کانسٹیبل مصطفیٰ پوری توجہ سے میری بات سن رہا تھا۔ میں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، “اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قاتل بھی اس کے ساتھ اسی مقام تک آیا تھا…”
میں نے تھوڑا توقف کیا، پھر کہا، “اگر ہم کسی کھوجی کی مدد لیں تو قاتل کا کھرا حاصل کیا جا سکتا ہے۔”
“اوہ!” وہ چونک کر بولا، “آپ تو بہت دور کی کوڑی لائے ہیں، ملک صاحب!”
پھر تجویز دیتے ہوئے بولا، “یہ کھرا مختلف مقامات سے اٹھوانا ہوگا، جناب!”
“مقامات؟” اس بار میں چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔
وہ میری نگاہ کا مطلب سمجھ گیا اور وضاحت کرنے لگا، “ملک صاحب! گزشتہ رات نوری آپ سے ملنے کوارٹر پر آئی تھی اور پھر واپس بھی گئی تھی۔ اگر اس کے قدموں کے نشانات کا تعاقب کیا جائے تو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ کہاں سے آئی تھی اور کہاں گئی تھی۔”
وہ سانس لینے کے لیے رکا، پھر بولا، “اسی طرح جائے وقوعہ سے کھرا اٹھانے پر یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ قاتل اور مقتولہ کس سمت سے وہاں پہنچے تھے، اور قتل کے بعد قاتل کس طرف گیا۔ میں غلط تو نہیں کہہ رہا، ملک صاحب؟”
“تم بالکل درست سمت میں سوچ رہے ہو، مصطفیٰ!” میں نے توصیفی انداز میں کہا۔ اس کی حاضر دماغی نے واقعی مجھے متاثر کیا تھا۔
میں نے پوچھا، “کیا قصبہ احمد نگر میں کوئی ماہر کھوجی بھی ہے؟”
“کوئی ایسا ویسا نہیں، جناب!” وہ آنکھیں اور ہاتھ پھیلاتے ہوئے بولا۔
“میں سمجھا نہیں، تم کیا کہنا چاہتے ہو؟”
“جناب! ہمارے علاقے میں ایک بہت ہی پہنچا ہوا کھوجی ہے—تاج دین۔ وہ پنج وقتہ نمازی ہے۔”
“پھر تو وہ اسم بامسمی ہوا،” میں نے سنجیدگی سے کہا، “ایسے نیک اور پرہیزگار شخص سے تو فوراً ملنا چاہیے۔”
“ٹھیک ہے، جناب! میں آج ہی اسے بلواتا ہوں۔”
میں نے کہا، “تم نے بتایا کہ تاج دین بہت ماہر کھوجی ہے، کیا ہم نوری کے قتل کے کیس میں اس سے مدد لے سکتے ہیں؟”
“ضرور لے سکتے ہیں، جناب!” وہ پُرجوش لہجے میں بولا، “اگر کچھ عرصہ اور وہ یونہی بے کار بیٹھا رہا تو اسے زنگ لگ جائے گا۔ رفیق سیال نے تو اسے کبھی کام کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔”
“تم فکر نہ کرو، مصطفیٰ! میں تاج دین کی صلاحیت ضرور آزماؤں گا۔ جتنی جلدی ہو سکے، اسے میرے پاس لے آؤ۔ کھوج کے کام میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔”
مصطفیٰ فوراً کھڑا ہو گیا۔ “میں ابھی جاتا ہوں،” اس نے عزم سے کہا، “اس وقت وہ مسجد میں مل جائے گا، ظہر کی نماز کا وقت ہے۔”
میں نے پوچھا، “کھوجی تاج دین شمالی میں رہتا ہے یا جنوبی میں؟”
“شمالی میں، جناب!” مصطفیٰ نے جواب دیا، “اس کا گھر مسجد کے قریب ہی ہے۔ اگر وہ نماز کے بعد مسجد سے نکل بھی گیا تو میں اسے گھر سے لے آؤں گا۔”
“ٹھیک ہے، تم فوراً روانہ ہو جاؤ۔”
وہ چلا گیا، اور تقریباً آدھے گھنٹے بعد کانسٹیبل مصطفیٰ، کھوجی بابا تاج دین کو ساتھ لے کر میرے سامنے بیٹھا تھا۔
میں نے غور سے تاج دین کا جائزہ لیا۔ اس کی شخصیت میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو ایک معقول، شریف النفس اور باوقار انسان میں ہونے چاہئیں۔ عمر تقریباً ساٹھ سال، چہرے پر سنجیدگی، مناسب داڑھی—جس کے بال حیرت انگیز طور پر اب بھی سیاہ تھے—اور سر پر سفید ٹوپی۔
میں نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا:
“تاج دین، تمہیں اندازہ تو ہو گیا ہوگا کہ میں نے تمہیں کس مقصد کے لیے تھانے بلوایا ہے…”
“جی ہاں، آپ کے بھیجے ہوئے کانسٹیبل نے مجھے کچھ تفصیل تو بتائی ہے،” وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔
میں نے کہا، “جو تفصیل باقی رہ گئی ہے، وہ میں مکمل کر دیتا ہوں۔ بس تم خود کو کام کے لیے تیار رکھو۔”
“یہ تو آپ کی عنایت ہے، تھانے دار صاحب!” وہ تشکر بھری نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے بولا، “ورنہ میں تو یہی سمجھ رہا تھا کہ اب محکمۂ پولیس کو میرے ہنر کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن آپ کے بلاوے نے ایک نئی امید جگا دی ہے کہ میری ہڈیاں زنگ لگنے سے بچ جائیں گی۔”
میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا، “مخبر اور کھوجی ہر دور میں پولیس کے لیے ضروری رہے ہیں۔ ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ جب تک میں اس تھانے میں ہوں، تمہیں کام ملتا رہے گا۔ فکر نہ کرو تاج دین، تمہاری صلاحیتوں کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔”
وہ ممنونیت بھری نظروں سے مجھے دیکھنے لگا، جیسے برسوں بعد کسی نے اس کے فن کی قدر کی ہو۔
اگلے دس پندرہ منٹ میں، میں نے اسے کیس کی مکمل تفصیل بتائی۔ پھر کہا، “میں کانسٹیبل مصطفیٰ کو تمہارے ساتھ بھیج رہا ہوں۔ اب بتاؤ، تم اپنے کام کی شروعات کہاں سے کرنا چاہتے ہو؟ اور ایک بات یاد رکھنا—یہ کام انتہائی راز داری سے ہونا چاہیے۔”
“راز داری کے بارے میں آپ بالکل مطمئن رہیں،” وہ اعتماد سے بولا، “اور جہاں تک آغاز کا تعلق ہے، میرا خیال ہے کہ میں سب سے پہلے آپ کے کوارٹر کا جائزہ لینا چاہوں گا… اور اس کی ایک خاص وجہ بھی ہے۔”
وہ لمحہ بھر کو رکا۔ میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، “کھیتوں کی نسبت آپ کے کوارٹر کے اردگرد لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے وہاں کے نشانات جلد مٹ سکتے ہیں۔ پہلے وہاں کا کھرا دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ وہ زیادہ غیر محفوظ ہے۔”
وہ ایک نہایت معقول اور عملی بات کر رہا تھا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا، پھر مصطفیٰ کی طرف متوجہ ہو کر کہا،
“مصطفیٰ! تاج دین اپنا تکنیکی کام کرے گا، مگر تم بھی صرف تماشائی مت بنے رہنا۔ اپنی آنکھیں اور ذہن دونوں کھلے رکھنا۔ احمد نگر شمالی اور جنوبی میں اس قتل کی خبر پھیل چکی ہے۔ چونکہ مقتولہ کا تعلق یہاں کے کسی علاقے سے نہیں، اس لیے لوگ طرح طرح کی باتیں کریں گے۔ ان باتوں کو غور سے سننا—ممکن ہے کسی کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے جو ہمارے لیے اہم سراغ بن جائے۔”
“میں اس بات کو ضرور ذہن میں رکھوں گا، ملک صاحب!” مصطفیٰ نے پُراعتماد انداز میں جواب دیا۔
میں بھی ان دونوں کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کوارٹر کی طرف چل پڑا، کیونکہ کھوج کا اصل آغاز وہیں سے ہونا تھا۔
میرا کوارٹر تھانے کے عقب میں، مشرقی سمت میں واقع تھا۔ اس کے پیچھے ایک کھلا میدان تھا، جہاں شام کے وقت قصبے کے نوجوان فٹ بال کھیلتے تھے۔ دن کے وقت یہ میدان سنسان سا رہتا تھا، مگر رات کے وقت یہاں کی خاموشی میں ایک عجیب سا پراسرار پن محسوس ہوتا تھا—جیسے زمین نے اپنے اندر کئی راز چھپا رکھے ہوں۔
اور آج… انہی رازوں میں سے ایک کو بے نقاب کرنا ہمارا مقصد تھا۔
میدان کے بعد احمد نگر شمالی کے رہائشیوں کے مکانات شروع ہو جاتے تھے۔ تاج دین نے میرے کوارٹر کے داخلی دروازے سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ تقریباً دس منٹ تک وہ نہایت ماہرانہ انداز میں زمین کا معائنہ کرتا رہا۔ میں اسے پہلے ہی نوری کے بارے میں تفصیل بتا چکا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ میرے پاس آیا اور بولا،
“تھانے دار صاحب! آپ کے کوارٹر تک آنے جانے والے بہت سے قدموں کے نشانات موجود ہیں، جن میں ظاہر ہے آپ کے، میرے اور دیگر لوگوں کے قدم بھی شامل ہیں۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ میں نے ایک عورت کی سینڈل کے نشانات الگ پہچان لیے ہیں۔ لگتا ہے پچھلے آٹھ دس دن میں اس طرف صرف یہی ایک عورت آئی ہے، کیونکہ اس کے علاوہ کسی اور عورت کے قدموں کے نشانات دکھائی نہیں دیتے۔”
تاج دین نے پہلے ہی مرحلے پر ایک اہم کامیابی حاصل کر لی تھی۔ میں نے مناسب الفاظ میں اس کی حوصلہ افزائی کی۔ تعریف کے چند الفاظ کسی بھی محنتی شخص کے جذبے کو اور بڑھا دیتے ہیں، اور وہ زیادہ دلجمعی سے کام میں جُت جاتا ہے۔ تاج دین کے چہرے پر ابھرتا ہوا ولولہ بھی اسی بات کی گواہی دے رہا تھا۔
میں نے کہا،
“تاج دین! اب اپنے ہنر کو پوری طرح استعمال کرو۔ میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں۔ شام سے پہلے یہ معلوم کرو کہ وہ عورت کہاں سے آئی تھی اور یہاں سے جانے کے بعد کس سمت گئی۔”
“میں پوری کوشش کروں گا، سرکار!” اس نے پُرعزم مگر متوازن لہجے میں جواب دیا۔
میں اپنے کمرے میں واپس آ گیا اور نوری کے قتل اور اس کے ممکنہ قاتل کے بارے میں سوچنے لگا۔ ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہو سکی تھی کہ مقتولہ کا اصل نام نوری ہی تھا یا اس نے محض ایک فرضی نام بتایا تھا۔ جب تک اس کیس کا کوئی ٹھوس سرا ہاتھ نہ آتا، کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں تھا۔
میرے اندازے کے مطابق اس کی شہ رگ کسی تیز دھار آلے سے کاٹی گئی تھی—یعنی آلۂ قتل کوئی چھری یا خنجر ہو سکتا تھا۔ میں نے جائے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا تھا، اس امید پر کہ شاید قاتل نے آلۂ قتل وہیں کہیں پھینک دیا ہو، مگر مجھے اس سلسلے میں کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
میں انہی خیالات میں گم تھا کہ اچانک اے ایس آئی شہزاد دروازے پر نظر آیا۔ وہ خاموشی سے کھڑا اجازت طلب نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
جب میری نظر اس پر پڑی تو وہ مؤدبانہ انداز میں بولا،
“ملک صاحب… حاضر ہو سکتا ہوں؟”
میں نے فوراً اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا،
“ہاں ہاں، آؤ شہزاد! یہ تمہارا اپنا ہی دفتر ہے، کسی اجازت کی کیا ضرورت ہے؟”
ہوں۔
"اور تھانے دار صاحب؟" وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے سوالیہ انداز میں بولا۔
میں نے کہا، "جب تھانہ تمہارا ہے تو تھانہ انچارج بھی تمہارا ہی ہوا نا۔ آؤ، بیٹھو۔"
وہ کرسی کھینچ کر میرے سامنے بیٹھ گیا۔ میں نے سوالیہ نظر سے اسے دیکھا۔ وہ صورت بنا کر بولا، "ملک صاحب! میں آپ سے ایک شکایت کرنے آیا ہوں۔"
میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور پوچھا، "کس کی شکایت کرنے آئے ہو، شہزاد؟"
شہزاد اس تھانے میں اے ایس آئی کی حیثیت سے فرائض ادا کر رہا تھا۔ تھانے کے تمام عملے سے میرا فرداً فرداً تعارف تو ہو چکا تھا، لیکن ابھی تک زیادہ گھلنا ملنا صرف کانسٹیبل مصطفیٰ ہی سے ہوا تھا۔ پتہ نہیں وہ کیوں مجھے اپنا سا اور قابلِ بھروسا لگا تھا۔ اس کا انداز اور گفتگو بتاتے تھے کہ وہ کانسٹیبل کے عہدے سے ترقی کر کے بہت اوپر جائے گا۔ کب؟ اس بارے میں، میں نہیں جانتا تھا۔
اے ایس آئی شہزاد میرا سوال سن کر چند لمحوں تک متذبذب رہا، پھر تامل کرتے ہوئے بولا،
"ملک صاحب! آپ میری بات کا برا تو نہیں منائیں گے؟ دراصل یہ شکایت مجھے آپ ہی سے ہے۔"
بات مکمل کرنے کے بعد اس نے ایسی نظر سے مجھے دیکھا جیسے ڈر رہا ہو کہ میں اس جرأت کی پاداش میں اسے سولی پر چڑھا دوں گا۔ میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا،
"میں تمہارے جیسے بہادر اور نڈر لوگوں کو پسند کرتا ہوں۔ تم میں اتنا حوصلہ تو ہے کہ اپنے سینئرز سے ان کی شکایت کر سکو۔ بتاؤ، تمہیں مجھ سے کیا شکوہ پیدا ہو گیا ہے؟ اگر میرے بس میں ہوا تو میں تمہاری شکایت دور کرنے کی کوشش کروں گا۔"
"ملک صاحب... میں محسوس کر رہا ہوں جیسے آپ کسی بات پر مجھ سے ناراض ہوں۔"
وہ محتاط لہجے میں بولا۔
"بھئی! مجھے اس تھانے کا چارج سنبھالے ہوئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے۔ میں بھلا تم سے کس بات پر ناراض ہوں گا؟ میرا خیال ہے ہم آج پہلی مرتبہ باقاعدہ گفتگو کر رہے ہیں۔ بتاؤ، تم نے میری کس بات سے اندازہ لگایا کہ میں تم سے خفا ہوں؟"
وہ وضاحت کرتے ہوئے معتدل لہجے میں بولا،
"ملک صاحب! میں عہدے کے اعتبار سے اے ایس آئی ہوں۔ ایک اے ایس آئی کسی کانسٹیبل سے خاصا سینئر ہوتا ہے، لیکن آپ نے اس عورت کے قتل کے سلسلے میں مجھے اعتماد میں لے کر کوئی کارکردگی دکھانے کا موقع نہیں دیا۔"
اس نے بات ختم کی تو میں اس کی تکلیف کو بھانپنے میں کامیاب ہو گیا۔ اسے یہ بات بری لگی تھی کہ میں نے اس کے مقابلے میں کانسٹیبل مصطفیٰ کو زیادہ اہمیت دے دی تھی۔ اسی رویے کا شکوہ کرنے وہ میرے پاس چلا آیا تھا۔ اس کی شکایت ایک حد تک جائز تھی، لیکن میرا کام کرنے کا ایک اپنا انداز ہے اور میں اسی کو اختیار کرتا ہوں۔
کسی تھانے میں تھانہ انچارج کی حیثیت ایک باپ کی سی ہوتی ہے اور وہاں کا عملہ اس کی اولادوں کی مانند ہوتا ہے۔ تھانے دار کو یہ خوبی علم ہوتی ہے کہ اس کی کون سی اولاد کتنے پانی میں ہے۔ ایک کامیاب باپ اسی مناسبت سے اپنی اولاد سے کام لیتا ہے۔ میں کانسٹیبل مصطفیٰ کی صلاحیت اور قابلیت کو جان گیا تھا، لہٰذا یہ سمجھنے میں مجھے کسی دشواری کا سامنا نہیں ہوا کہ اے ایس آئی شہزاد کانسٹیبل مصطفیٰ سے بری طرح جل رہا تھا۔
ان کی باہمی چپقلش اور رنجش کو بعد میں دیکھا جا سکتا تھا، سرِدست میں نے اے ایس آئی کی اشک شوئی ضروری سمجھی اور بڑے واضح انداز میں کہا۔
"شہزاد! میں اپنے عملے میں کسی ایک کو کسی دوسرے پر فوقیت محض قابلیت اور کارکردگی کی بنا پر دیتا ہوں۔ تم اپنا مقابلہ کسی کانسٹیبل سے مت کرو۔ میں اس مرڈر کیس کے سلسلے میں تم سے بھی کام لوں گا، اور وہ ایک کانسٹیبل کے مقابلے میں زیادہ بڑا کام ہوگا۔"
"شکریہ، ملک صاحب!" وہ بڑی رسانیت سے بولا، "آپ نے میرے ذہن کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے۔"
ایک لمحے کو رک کر اس نے اضافہ کیا، "میرے دل میں ایک بات آئی اور میں نے کہہ دی۔ سابق انچارج صاحب کے سامنے زبان کھولنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا پڑتا تھا۔ وہ بری طرح جھاڑ دیتے تھے۔ آپ کے بارے میں مجھے پتا چلا ہے کہ آپ بڑے ہمدرد اور مہربان ہیں، اس لیے میں نے آپ کو اپنے احساسات سے آگاہ کیا ہے۔ اگر میری بات آپ کو بری لگی ہو تو میں معافی چاہتا ہوں۔"
"نہیں نہیں، ایسی کوئی بات نہیں، شہزاد!" میں نے تشفی آمیز انداز میں کہا، "میں کڑک قسم کا تھانے دار صرف جرائم پیشہ افراد کے لیے ہوں۔ تھانے کا عملہ تو میرے گھر کے افراد کی طرح ہے۔ مجھے تمہاری جرأت سے بے حد خوشی ہوئی ہے۔ تمہیں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسا کرو..."
میں نے پُرسوچ انداز میں جملہ ادھورا چھوڑا تو وہ منتظر، سوالیہ نظر سے مجھے دیکھنے لگا۔ شہزاد بھی مصطفیٰ کی طرح سابق تھانہ انچارج رفیق سیال سے خاصا شاکی اور متنفر نظر آتا تھا۔ اسی حوالے سے میرے ذہن میں ایک منصوبہ آیا تھا۔ یہ ایک طرح سے شہزاد کا گلہ دور کرنے کا موقع بھی تھا۔
میں نے نامکمل بات کو پورا کرتے ہوئے کہا، "شہزاد! تمہاری کارکردگی کو جانچنے کے لیے ایک بات میرے ذہن میں آئی ہے۔"
وہ ہمہ تن گوش ہو گیا۔
میں نے کہا، "جیسا کہ تم بھی جانتے ہو، سابق تھانے دار صاحب کو کن وجوہ کی بنا پر اس تھانے سے ہٹایا گیا ہے۔ مجھے شک ہے کہ اس اجنبی عورت کا قتل اور اس کی لاش کا اس تھانے کی حدود میں پایا جانا رفیق سیال کی کوئی سازش ہے۔ میں اس کی جگہ تعینات کیا گیا ہوں، اور وہ مجھے پریشان کرنے کے لیے کوئی بھی اوچھی حرکت کر سکتا ہے یا کروا سکتا ہے۔ تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟"
اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک نمودار ہوئی۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ میری بات نے اس پر کوئی خاص اثر کیا ہو۔ میں سوالیہ نظر سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ قدرے پُرجوش لہجے میں بولا،
"ملک صاحب! میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ سابق انچارج صاحب بہت ہی کینہ پرور اور مختصر مزاج شخصیت تھے۔ ان کو یہاں سے ہٹانے میں اگرچہ آپ کا کوئی ہاتھ نہیں—وہ اپنے اعمال اور کرتوتوں کے سبب گئے ہیں—لیکن اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ وہ آپ کو تنگ کرنے کے لیے کوئی الٹی سیدھی حرکت کر ڈالیں۔"
وہ سانس لینے کے لیے رکا، پھر گہری سنجیدگی سے بولا،
"میرے لیے کیا حکم ہے، ملک صاحب؟"
"تمہارے لیے صرف اتنا حکم ہے،" میں نے سوچتے ہوئے کہا، "تم اپنے ذرائع استعمال کرو اور نہایت رازداری کے ساتھ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرو کہ تمہارے سابق انچارج صاحب آج کل کن سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس دوران اگر اس نامعلوم مقتولہ کے بارے میں کوئی خاص بات معلوم ہو تو فوراً مجھے بتانا۔ کیا تم یہ کام کر لو گے؟"
"کیوں نہیں، جناب!" وہ سینہ ٹھونکتے ہوئے بولا، "میں بہت جلد آپ کو کوئی خوش آئند رپورٹ دوں گا۔"
وہ تھوڑی دیر مزید میرے پاس بیٹھا، پھر کمرے سے نکل گیا۔ اس کے جانے کے بعد میں اسی کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس نے مجھ سے ایک جائز شکایت بڑے معقول انداز میں کی تھی۔ پتہ نہیں کیوں، مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ بھرپور اداکاری سے کام لے رہا ہو۔ اس کے رویے، انداز اور بیان میں کوئی ایسی بات ضرور تھی جو مجھے کھٹک رہی تھی، لیکن باوج
ود کوشش کے بھی اس وقت میں اس کھٹک کا سبب نہ جان سکا۔
میں نے یہ سوچ کر اے ایس آئی شہزاد کو ذہن سے جھٹک دیا کہ کانسٹیبل مصطفیٰ سے اس کے بارے میں دریافت کروں گا۔
جاری ہے۔

