مفرور ڈاکو
قسط نمبر 1
ملک صفدر حیات
اس تھانے میں تعینات ہوئے مجھے صرف دو دن ہوئے تھے۔ میں سونے کی تیاری کر رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ آج کا دن کام کے حوالے سے خاصا غیر مصروف گزرا تھا، اس لیے کوارٹر کے دروازے پر دستک کا مطلب یہی تھا کہ تھانے میں میری ضرورت پیش آ گئی ہے۔ میں بستر سے اٹھا اور جا کر دروازہ کھول دیا۔
کھلے ہوئے دروازے میں سے میری نگاہ ایک عورت پر پڑی۔ اس وقت رات کے دس بج رہے تھے۔ ایک عورت کو اس وقت اپنے کوارٹر کے دروازے پر کھڑا دیکھ کر مجھے شدید حیرت ہوئی۔ پتہ نہیں کون سی مجبوری اسے میرے پاس لے آئی تھی۔ میں نے سر تا پا تنقیدی نظر سے اس کا جائزہ لیا۔ وہ درمیانے قد کی مالک تھی۔ اس کی جسامت کا اندازہ لگانا مشکل تھا کیونکہ اس نے اپنے پورے وجود کو سفید ریشمی چادر میں لپیٹ رکھا تھا، بلکہ یوں کہیے کہ چھپا رکھا تھا۔ مجھے صرف اس کی آنکھیں اور پاؤں نظر آ رہے تھے۔ انہی دو چیزوں سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ ایک عورت ہے۔
اس طرح رازداری کے ساتھ لپٹ لپٹا کر رات کو گھر سے نکلنا بتا رہا تھا کہ اس کا معاملہ خاصا سنگین ہوگا۔ میں نے بمشکل پانچ سیکنڈ تک خاموشی سے اسے گھورا، پھر پوچھا، “کون ہو تم؟”
“میرا نام نوری ہے۔” پردے کی اوٹ میں سے اس کی دھیمی آواز سنائی دی۔ نسوانی آواز اور زنانہ نام نے میرے اندازے کی تصدیق کر دی۔
میں نے نوری سے پوچھا، “تم اس وقت میرے کوارٹر پر کیوں آئی ہو؟”
“مجھے آپ سے ایک بہت ہی ضروری کام ہے، تھانے دار جی!” وہ بدستور دھیمے لہجے میں بولی۔
میں نے چند لمحے اس کی بات پر غور کیا، پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا، “ٹھیک ہے، تم میرے کمرے میں چل کر بیٹھو، میں دس منٹ میں تیار ہو کر ادھر ہی آتا ہوں۔”
“تھانے میں نہیں!” اس نے بڑی شدت سے نفی میں گردن ہلائی۔ “آپ ادھر ہی میری بات سن لیں، کوارٹر کے اندر۔”
میرا ماتھا ٹھنکا۔ اس نے کوارٹر کے اندر ملاقات کا ارادہ ظاہر کیا تو میں چوکنا ہو گیا۔ فوری طور پر میرا ذہن کسی گہری سازش کی طرف گیا۔ مجھ سے پہلے اس تھانے کا جو انچارج تھا، اسے محکمے نے معطل کر دیا تھا۔ اس کے خلاف بدعنوانی اور رشوت ستانی کی اتنی شکایات جمع ہو چکی تھیں کہ افسرانِ بالا کو کارروائی کرنا پڑی۔ اس وقت میرا ذہن سابق انچارج رفیق سیال کی طرف چلا گیا۔ ممکن تھا کہ وہ مجھے کسی چکر میں پھنسا کر ذلیل کرنا چاہتا ہو اور نوری اس کی آلہ کار ہو۔
میں نے ایک سیکنڈ میں یہ سب سوچا اور نوری سے کہا، “بی بی! میں تمہیں اپنے کوارٹر کے اندر نہیں بلا سکتا۔ تمہیں جو بھی کہنا ہے، تھانے میں چل کر کہنا ہوگا۔”
“آپ مجھے کوئی غلط عورت نہ سمجھیں، تھانے دار جی!” وہ لجاجت سے بولی۔ “میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گی۔ صرف دس منٹ کی بات ہے۔ میں اپنی بات کہہ کر جیسے آئی ہوں ویسے ہی واپس چلی جاؤں گی۔”
بات ختم کرتے ہی اس نے بے چینی سے دائیں بائیں اور پیچھے دیکھا۔ اس کے انداز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ کسی سے خوف زدہ ہے اور نہیں چاہتی کہ کوئی اسے وہاں دیکھ لے۔ اس صورت حال نے مجھے مزید محتاط بنا دیا۔ میں نے دوٹوک انداز میں کہا، “بی بی، تمہیں دس منٹ بات کرنا ہے یا دس گھنٹے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سرکار نے یہ کوارٹر مجھے آرام کے لیے دیا ہے۔ اگر واقعی کوئی ضروری کام ہے تو تمہیں تھانے جانا ہوگا۔”
وہ بولی، “میں تھانے میں جا سکتی تو یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟”
اس کی بات نے مجھے چونکا دیا۔ میں نے پوچھا، “نوری! تھانے جانے میں کیا قباحت ہے؟”
وہ پریشانی سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے بولی، “اگر میں وہاں چلی گئی تو بہت گڑبڑ ہو جائے گی۔”
اس کے پراسرار انداز نے میرے تجسس کو بڑھا دیا۔ میں نے کہا، “نوری! میں تمہیں کوارٹر کے اندر بلا لوں گا، لیکن پہلے یہ بتاؤ کہ تھانے جانے سے کیا مسئلہ ہوگا؟”
وہ لمحہ بھر متامل رہی، پھر بولی، “جناب! میں جس شخص کی شکایت لے کر آئی ہوں، وہ تھانے میں موجود ہے۔”
اس انکشاف نے مجھے چونکا دیا۔ “تم کس شخص کی بات کر رہی ہو؟”
“وہ… اپنا مصطفیٰ…”
“مصطفیٰ؟ کیا وہ کوئی بدمعاش ہے؟”
“نہیں جناب، مصطفیٰ میرے خاوند کا نام ہے۔ اگر اس نے مجھے تھانے میں دیکھ لیا تو میری خیر نہیں۔”
میں نے پوچھا، “نوری! اس تھانے کا انچارج کون ہے؟”
“آپ ہیں جناب!”
میں نے کہا، “جب میں انچارج ہوں تو تمہیں اپنے خاوند سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔”
وہ بولی، “جناب، وہ خاوند بعد میں ہے، پہلے پولیس والا ہے۔ ایک معمولی سپاہی ہے، مگر بڑا رعب جماتا ہے۔”
میں چونکا۔ “کیا تمہارا شوہر بھی پولیس میں ہے؟”
وہ حیرت سے بولی، “آپ مصطفیٰ کو نہیں جانتے؟ کانسٹیبل مصطفیٰ!”
“اوہ!” میں نے گہری سانس لی۔ “تم سیدھا یہ کہہ سکتی تھیں کہ تم کانسٹیبل مصطفیٰ کی بیوی ہو۔”
وہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولی، “میں بہت پریشان تھی، اس لیے صحیح طرح بات نہ کر سکی۔ اب تو آپ میری مجبوری سمجھ گئے ہیں نا؟”
میں نے اس کی حالت دیکھ کر اسے اندر آنے کی اجازت دے دی۔ گرمی کے دن تھے، اس لیے میں نے صحن میں چارپائی بچھا رکھی تھی۔ کمرے میں سونا مشکل تھا۔ میں نے اسے چارپائی پر بیٹھنے کو کہا اور خود کمرے سے ایک کرسی نکال لایا۔ احتیاطاً دروازہ مکمل بند نہیں کیا۔
میں نے کرسی پر بیٹھ کر کہا، “ہاں، اب بتاؤ، مصطفیٰ سے کیا شکایت ہے؟”
اس نے شکایات کا ایک پلندہ کھول دیا۔ میں نے توجہ سے سنا، مگر کوئی غیر معمولی بات نہ تھی۔ وہی عام شکوے—مار پیٹ، بدسلوکی، دوسری عورتوں میں دلچسپی اور تنخواہ کا ضیاع۔
میں نے کہا، “فکر نہ کرو، میں اسے سمجھاؤں گا۔”
وہ فوراً بولی، “میرا نام نہ آئے، ورنہ وہ مجھے مار ڈالے گا!”
میں نے تسلی دی، “تمہارا نام نہیں آئے گا۔”
وہ دعا دیتے ہوئے بولی، “آپ نیک آدمی لگتے ہیں، ورنہ پہلے والے تھانے دار…”
وہ رک گئی۔ میں نے پوچھا، “کیا ہوا پہلے والے کو؟”
وہ بولی، “میں ایک بار اُس کے پاس بھی گئی تھی۔ اُس نے میری بات تو نہ سنی، مگر ہوس بھری نظروں سے مجھے دیکھتا رہا… جیسے اس نے کبھی عورت دیکھی ہی نہ ہو۔”
---
وہ لمحہ بھر کے توقف کے بعد تلخی سے بولی، “میں تو اس کے پاس جا کر ہی پچھتا رہی تھی۔ اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مصطفیٰ کو ایک دن میں سیدھا کر کے رکھ دے گا۔ تھانے دار جی! عورت کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے، خاص طور پر مرد کے حوالے سے تو یہ کچھ زیادہ ہی تیزی دکھاتی ہے۔ میں نے اس تھانے دار کی آنکھوں میں ہوس کے سائے لہراتے ہوئے دیکھ لیے تھے، اس لیے فوراً سمجھ گئی کہ وہ مجھ سے کھوکھلا وعدہ کر رہا ہے۔ میں تو اس کا شکر ادا کر کے ہی وہاں سے نکلی کہ اس کی نیت کھل کر سامنے آ گئی۔”
وہ مزید بولی، “بھوکی نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے وہ کہنے لگا، ‘سوری! تمہاری تو قسمت پھوٹ گئی ہے۔ پتہ نہیں تمہارے ماں باپ نے کیا دیکھ کر تمہیں مصطفیٰ کے پلے باندھ دیا ہے۔ تمہارے سامنے تو وہ بالکل لنگور لگتا ہے۔ ہیرے جیسی لڑکی کو رول دیا بے وقوف والدین نے۔ تمہاری قدر و قیمت تو صرف میرے جیسا کوئی جوہری ہی جان سکتا ہے۔’ پھر وہ بڑے بھونڈے انداز میں ہنسا اور معنی خیز لہجے میں بولا، ‘مجھے امید ہے تم آتی جاتی رہو گی!’ اس سے زیادہ کھلے الفاظ میں وہ شیطان اپنے عزائم کا اظہار اور کیا کرتا؟ میں نے اس کی نیت بھانپ لی تھی۔ ان لمحوں میں مجھے اپنی حماقت پر سخت غصہ آ رہا تھا۔ میں وہاں جا کر پچھتا رہی تھی۔ میں نے یہی سوچا کہ اس خبیث کے سامنے غصہ دکھانا مناسب نہیں ہوگا، اس لیے کسی طرح سچ جھوٹ ملا کر اسے یقین دلا کر میں نے اس سے جان چھڑائی اور گھر آ گئی۔”
وہ کچھ رک کر بولی، “اس شیطان کی اولاد نے بعد میں مصطفیٰ کو نہ جانے کیا پٹی پڑھائی کہ وہ اور بھی زیادہ میرا دشمن ہو گیا۔ اب تو وہ بچوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔ ان معصوموں کے سامنے ہی مجھے روٹی کی طرح پنج کر رکھ دیتا ہے۔ ننھے ذہن اس کے رویے سے سخت خوف زدہ ہیں۔ مصطفیٰ کا نام سنتے ہی ان کے چہرے ایسے وحشت زدہ ہو جاتے ہیں جیسے کوئی خطرناک ڈاکو انہیں تہس نہس کرنے آ رہا ہو۔”
بات کے اختتام تک اس کی آواز بھر آئی تھی۔ مجھے وہ خاصی دکھی اور مصیبت زدہ عورت محسوس ہوئی۔ اس کے خاموش ہونے پر میں نے اس سے پوچھا، “نوری! مصطفیٰ سے تمہاری شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے؟”
وہ بولی، “دو مہینے پہلے ساتواں سال لگا ہے جی!”
میں نے پوچھا، “کیا وہ شروع ہی سے ایسا تھا؟”
نوری نے بتایا، “شادی کے بعد ایک سال تک وہ بالکل ٹھیک تھا۔ مارنے پیٹنے اور چیخنے چلانے والا مرض بعد میں پیدا ہوا ہے۔ اب تو میں اتنی تنگ آ گئی ہوں کہ جی چاہتا ہے نہر میں چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دوں، لیکن معصوم بچوں کی محبت مجھے ایسا نہیں کرنے دیتی۔” اس کی آواز بھر آئی۔
میں نے پوچھا، “تمہارے کتنے بچے ہیں، نوری؟”
اس نے جواب دیا، “دو بچے ہیں۔ بڑا پانچ سال کا ہے اور بچی اس سے چھوٹی ہے۔” پھر اس نے ان کے نام جاوید اور نگہت بتائے۔
کافی دیر سے میرے ذہن میں ایک سوال گردش کر رہا تھا۔ میں نے اس الجھن کو دور کرنے کے لیے پوچھ لیا، “تمہیں سابق تھانے دار کا ایک تلخ تجربہ ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود تم اس تاریک رات میں تنہا اپنے خاوند کی شکایت لے کر میرے پاس آ گئی ہو۔ تم نے یہ نہیں سوچا کہ اگر میں بھی اسی طرح کا نکلا تو تم کیا کرو گی؟”
وہ لمحہ بھر سوچ کر بولی، “تھانے دار جی! آپ کو ہمارے علاقے میں آئے ہوئے ابھی دو دن ہی ہوئے ہیں، لیکن لوگوں کو آپ کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہو چکا ہے۔ خاص طور پر آپ کی ایمانداری، شرافت اور انصاف پسندی کے قصے عام ہو رہے ہیں۔ مجھے تو مصطفیٰ نے خود آپ کے بارے میں بتایا ہے۔” وہ ذرا رکی، پھر بولی، “ہر انسان کو اپنی قبر میں جانا ہے، اس لیے حق بات کرنی چاہیے۔ مصطفیٰ کی بری عادتیں اپنی جگہ، مگر وہ ایک فرض شناس اور محنتی پولیس والا ہے۔ اس نے ہمیشہ قانون کا ساتھ دیا ہے اور قانون توڑنے والوں کو کبھی نہیں چھوڑا، اسی لیے پچھلے تھانے دار سے اس کی کبھی نہیں بنی۔”
وہ مزید بولی، “آپ کے آنے پر مصطفیٰ نے بڑی خوشی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اب اس علاقے کے سارے بگڑے ہوئے معاملات سیدھے ہو جائیں گے۔ میں نے سوچا…” وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر گہری سانس لے کر بولی، “میں نے سوچا کہ جب آپ دوسرے معاملات سیدھے کریں گے تو کیوں نہ سب سے پہلے میں اپنے ہی مسئلے کا حل کرواؤں۔ اور جہاں تک آپ پر بھروسہ کرنے کی بات ہے، تو میں یہی کہوں گی کہ میرے دل نے گواہی دی تھی کہ آپ ایک اچھے انسان ہوں گے۔”
وہ دوبارہ بولی، “دیکھ لیں تھانے دار جی! میرے دل کی گواہی کتنی سچی نکلی۔ حالانکہ میں نے اپنے آپ کو چادر میں اچھی طرح لپیٹ رکھا ہے، اس کے باوجود بھی آپ نے ایک مرتبہ بھی مجھے غلط نظر سے نہیں دیکھا۔” اس نے بڑی گہری بات کی تھی۔ میں نے واقعی اسے صرف رسمی انداز میں دیکھا تھا، جیسا کہ پہلی نظر میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ وہ دیکھنا نہیں تھا جس کا وہ ذکر کر رہی تھی۔
یہ حقیقت ہے کہ عورت مرد کی نیت کو بھانپنے میں کم ہی غلطی کرتی ہے۔ شاید یہ اس کی چھٹی حس کا کمال ہوتا ہے۔ نوری دس منٹ کا کہہ کر آئی تھی، مگر اسے بیٹھے ہوئے تقریباً آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا۔ اس دوران میں نے صرف اس کی آنکھیں دیکھی تھیں یا ایک لمحے کے لیے اس کا بایاں ہاتھ، جس میں چاندی کا ایک چھلا تھا جس میں سرخ نگینے جڑے ہوئے تھے۔ اس کی آنکھوں کا رنگ بادامی تھا۔
رات تیزی سے گزر رہی تھی، اس لیے میں نے کہا، “اب تم بے فکر ہو کر گھر چلی جاؤ۔ میں جلد تمہارے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کروں گا۔”
وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور بولی، “تھانے دار جی! مصطفیٰ کو میرے یہاں آنے کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔”
میں نے کہا، “تم ہر لحاظ سے مطمئن ہو کر جاؤ۔ میں بڑے سلیقے سے اس معاملے کو نمٹا دوں گا۔”
اس نے ممنونیت کے ساتھ میرا شکریہ ادا کیا اور جانے کے لیے مڑی۔ میں نے معلومات کے لیے پوچھا، “تم لوگ احمد نگر کے کس حصے میں رہتے ہو؟” جس قصبے میں میری تعیناتی ہوئی تھی، اس کا نام احمد نگر تھا۔ اس کے درمیان سے ایک بڑی نہر گزرتی تھی جو اسے شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم کرتی تھی۔ نہر کے آس پاس کا علاقہ زرخیز تھا اور دور تک سرسبز کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ جنوب مشرق میں ایک گھنا جنگل بھی تھا جس کے بارے میں عجیب کہانیاں مشہور تھیں۔
نوری نے جواب دیا، “ہم احمد نگر جنوبی میں رہتے ہیں۔”
میرا تھانہ احمد نگر شمالی میں تھا، یعنی وہ نہر کا پل عبور کر کے آئی تھی۔ اس نہر پر ایک پختہ پل تھا جو دونوں حصوں کو ملاتا تھا، اور یوں یہ پل ملن اور جدائی دونوں کا ذریعہ تھا۔
چاہے فاصلوں کی کتنی بڑی بھی خلیج حائل کیوں نہ ہو، ایک پل انہیں ایک دوسرے کی بانہوں میں لے آتا ہے۔ محبت کرنا ایک عظیم کام ہے اور محبت کرنے والے لائقِ ستائش ہوتے ہیں، لیکن دو محبت کرنے والوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والے شخص کی عظمت کی ناپ تول ممکن نہیں۔ نوری کے جانے کے بعد میں کافی دیر تک اس کے بارے میں سوچتا رہا۔ وہ اپنے خاوند کی جو شکایت لے کر میرے پاس آئی تھی، وہ انتہائی معمولی نوعیت کی تھی، لیکن اس کی ہمت، کوشش اور انداز منفرد اور غیر معمولی تھا۔ رات کی تاریکی میں کسی عورت سے اتنی بڑی جرات کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔
تھانے سے اٹھتے وقت میں چند اہم فائلیں اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ سوچا تھا کہ سونے سے پہلے ان کا مطالعہ کروں گا۔ اس مقصد کے لیے میں نے وہ فائلیں اپنی چارپائی کے نزدیک ایک چھوٹی میز پر رکھ دی تھیں، لیکن اب انہیں اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے چارپائی پر لیٹ کر آنکھیں بند کیں اور چند لمحوں کے بعد نیند سے گلے جا ملا۔
اگلے روز میں جیسے ہی تھانے پہنچا، میں نے کانسٹیبل مصطفیٰ کو اپنے کمرے میں بلا لیا، لیکن مجھے بتایا گیا کہ مصطفیٰ تھانے میں موجود نہیں ہے۔ میں نے اطلاع دینے والے سے پوچھا، “کیا وہ صبح ہی صبح گھر چلا گیا ہے؟”
اس نے جواب دیا، “جناب! ابھی تو وہ تھانے پہنچا ہی نہیں۔ گھر تو وہ کل رات کو گیا تھا۔”
کانسٹیبل کا جواب مجھے ہضم نہیں ہوا۔ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور پوچھا، “کیا رات کو میرے اٹھنے کے بعد اس نے بھی چھٹی کر لی تھی؟”
وہ بولا، “جناب! مصطفیٰ کی آج کل دن کی ڈیوٹی ہے۔” اس نے مجھے ایسی نظر سے دیکھا جیسے میں کسی نئے نئے آدمی کی طرح ناتجربہ کار سوال کر رہا ہوں۔ پھر بولا، “وہ کل رات کو آپ کے اٹھنے سے پہلے ہی گھر جا چکا تھا۔”
میں الجھ کر رہ گیا۔ مصطفیٰ کی بیوی نوری رات دس بجے میرے کوارٹر پر آئی تھی اور وہ تھانے آنے سے صرف اس لیے گریز کر رہی تھی کہ وہاں اس کا خاوند موجود تھا، حالانکہ اب معلوم ہو رہا تھا کہ مصطفیٰ تو رات کو تھانے میں تھا ہی نہیں۔ ایسا نہیں تھا کہ اس کی ڈیوٹی رات کی ہو، بلکہ میرے سامنے کھڑا کانسٹیبل کچھ اور ہی بتا رہا تھا۔ میں نے اپنی الجھن کو اس پر ظاہر نہیں ہونے دیا اور اپنے چہرے کے تاثرات پر قابو پاتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی۔

