یہ ایک سچی اور خوفناک کہانی ہے اس کہانی کو میرے ایک بہت اچھے اور پیارے پاکستانی دوست نے بھیجا ہے.
کچھ سال پہلے سندھ کے شہر لاڑکانہ میں ایک بڑی شادی ہو رہی تھی۔ امریکہ میں رہنے والا ایک لڑکا، عارف، اپنے دوست کی شادی میں شرکت کے لیے وہاں آیا۔ لیکن شادی کی خوشیوں کے بیچ ایک ایسا خوفناک واقعہ پیش آیا جس نے سب کچھ بدل دیا۔ یہ واقعہ اتنا پراسرار، اتنا ڈراؤنا ہے کہ سن کر یوں لگتا ہے جیسے آپ کوئی ہارر فلم دیکھ رہے ہوں…
یہی وہ لمحہ ہے جہاں اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ عارف امریکہ میں اپنے کام سے گھر واپس جا رہا تھا کہ اچانک اس کے بچپن کے دوست راشد کی کال آتی ہے۔ راشد نے بتایا کہ اس کی شادی ہونے والی ہے، اور وہ عارف کے لیے فلائٹ کے ٹکٹ سمیت سب انتظام کر چکا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ جلدی سے پاکستان پہنچ جائے، کیونکہ لاڑکانہ کی ایک بہت بڑی حویلی شادی کے لیے بک کی گئی ہے۔
عارف کے والدین اس وقت امریکہ میں نہیں تھے، وہ کسی اور ملک میں تھے۔ لیکن عارف نے اکیلے ہی سفر کا فیصلہ کیا۔
اس نے جلدی جلدی شاپنگ کی، کپڑے لیے، تیاریاں مکمل کیں، کیونکہ اسے کئی دنوں تک وہاں رکنا تھا—سنگیت، مہندی، شادی، اور پھر ریسپشن تک۔ ہر چیز کے لیے وہ مکمل تیار تھا۔
لیکن اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ سندھ کی اس سرزمین پر قدم رکھتے ہی… اس کی زندگی ایک ایسے موڑ پر مڑنے والی ہے جس کا وہ کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
عارف آخرکار پاکستان کے ایئرپورٹ پر لینڈ کرتا ہے۔ باہر نکلتے ہی اس کے تینوں بچپن کے دوست اسے لینے کے لیے موجود تھے—رحمان، راشد اور مریم ۔ یہ وہ لوگ تھے جو ایک ہی اسکول میں پڑھے، ایک ہی کالج میں گئے، اور پھر زندگی نے سب کو الگ راستوں پر بھیج دیا۔ رحمان آسٹریلیا چلا گیا، راشد لندن میں رہنے لگا، جبکہ مریم سندھ میں ہی رہی اور ایک مشہور انٹیریئر ڈیزائنر بن گئی۔
سب کے حالات اچھے تھے… امیر گھرانے، بڑی زندگیاں۔ اور عموماً لوگ سمجھتے ہیں کہ امیروں کی دنیا میں ہارر کہانیاں نہیں ہوتیں۔ مگر اس بار… یہ سب انہی کے آس پاس ہونے والا تھا۔
دوست عارف کو سیدھا لاڑکانہ کی اس بڑی، شاندار حویلی میں لے گئے جو شادی کے لیے بک کی گئی تھی۔ حویلی اتنی خوبصورت تھی کہ عارف لمحہ بھر کے لیے رک گیا—ایک گہری سانس لی—اور دل ہی دل میں سوچا کہ اگر وہ کبھی شادی کرے گا تو ایسی ہی کسی جگہ کرے گا، اسی شان، اسی سُکون کے ساتھ۔
لمبا سفر تھا، سب تھکے ہوئے تھے۔ دوپہر میں سب سو جاتے ہیں۔
شام ہوتے ہی سنگیت کی تقریب شروع ہوئی۔ موسیقی، روشنیوں، اور ہنسی میں وقت گزر گیا۔
اور پھر رات…
رات کو سب لوگ حویلی کے صحن میں بیٹھے، آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے، یہ جانے بغیر کہ اس خاموش اندھیرے میں ایک ایسا سایہ بھی تھا… جو ان سب کو پہلے ہی دن سے خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔
رحمان، راشد، عارف اور مریم حویلی کے صحن میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ سب تھکے ہوئے تھے، مگر دوپہر میں سونے کی وجہ سے اب کسی کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ ماحول بور ہوتا جا رہا تھا کہ اچانک مریم نے خاموشی توڑ دی۔
وہ بولی: ‘تم لوگوں کو ایک چیز یاد ہے؟ ہم نے اسکول میں جتنے سال گزارے… ایک ہی چیز تھی جس نے ہمیں ہمیشہ خوف میں رکھا تھا۔ ہمارے اسکول کے بالکل پیچھے جو پرانا اسکول تھا… جو ایک بار جل کر راکھ ہو گیا تھا… وہاں کوئی بھی قدم نہیں رکھتا تھا۔’
عارف نے فوراً کہا: ‘ہاں، وہ بہت پرانا اسکول… جل چکا تھا۔ کوئی بھی نہیں جاتا تھا وہاں۔ اب بھی ویسا ہی ہے؟ کچھ بنا یا نہیں؟’
مریم نے ایک سرد سانس لی اور بولی: ‘ہم جب چھوٹے تھے تب بھی وہ ویسا ہی تھا… اور اب تیس سال ہو گئے ہیں۔ آگ لگی تھی، ایک ٹیچر اکیلی وہیں رہ گئی تھی… وہ وہیں جل کر مر گئی۔ کہتے ہیں اس کے بعد سے اس کا کمرہ کبھی نہیں کھولا گیا۔ آج تک نہیں۔ اور جو بھی وہاں کے پاس سے گزرتا ہے… اسے اندر سے دروازہ زور زور سے ہلتا ہوا محسوس ہوتا ہے… جیسے کوئی پاگلوں کی طرح باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہو۔’
اس نے اپنی آواز نیچی کر لی:
‘لوگ کہتے ہیں اندر سے چیخیں آتی ہیں… کوئی رو رہا ہوتا ہے، دروازہ پیٹتا ہے… کہتا ہے مجھے باہر نکالو… میں تیس سال سے قید ہوں… پلیز مجھے جانے دو۔
اسی لیے کوئی بھی اس طرف نہیں جاتا۔ کبھی نہیں۔’
رحمان نے کہا، 'عارف، تم امریکہ میں رہتے ہو تو کیا ہوا؟ میں بھی لندن میں ہوں۔ وہاں بھی لوگ ان باتوں پر زیادہ یقین نہیں رکھتے، لیکن یہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں بھوت پریت کے قصے سنائے جاتے ہیں۔ اور یہ بات، شاید واقعی سچی بھی ہو، اس کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔'
عارف نے ہلکا سا سر ہلایا اور بولا، 'چلو ٹھیک ہے، میں نہیں مانتا، لیکن کیا تمہیں نہیں لگتا کہ کافی وقت گزر گیا ہے؟ پندرہ سال بیت گئے… ہم اپنے اسکول کے پاس نہیں گئے۔ سنا ہے اسکول اب بند ہونے والا ہے، گاؤں میں کوئی نہیں جاتا۔ اور ہماری حویلی سے وہاں صرف آدھے گھنٹے کا فاصلہ ہے۔ چلیں، دیکھتے ہیں… تھوڑا مزہ بھی آئے گا۔ لگے ہاتھ اس کھنڈر گھر میں بھی چلیں، دیکھیں کون ہے جو اندر سے دروازہ پیٹتا ہے۔'
مریم اور رحمان نے ایک ساتھ کہا، 'نہیں یار، اس کھنڈر میں جانے کی ہمت نہیں ہے۔ ہمیں وہاں نہیں جانا چاہیے۔'
عارف نے مسکرا کر کہا، 'چلو، ایک زمانے میں وہ اسکول تھا، آج کھنڈر ہے تو کیا ہوا؟ کچھ نہ کچھ تو دیکھنے کے لیے ہوگا۔ بچپن میں بھی ہم وہاں کبھی نہیں گئے، کوئی جانے نہیں دیتا تھا اب وقت آ گیا ہے کہ سارے جھوٹ اور سچ صاف ہو جائیں… افواہ اور حقیقت کو دیکھیں۔ اگر سچ نکلا تو کم از کم ہمارے لیے یہ ایک حقیقی تجربہ ہوگا۔ چلیں چلتے ہیں۔
راشد نے ہلکی ہنسی کے ساتھ کہا، 'ہاں یار، میری شادی دو دن میں ہے، اور تم لوگ یہ سب باتیں کر رہے ہو… مجھے زندہ واپس آنا ہے!'
مریم اور باقی دوستوں نے کہا، 'چلو ٹھیک ہے، اتنی باتیں ہو چکی ہیں تو جا کے آتے ہیں۔'
راشد نے اپنی بڑی گاڑی نکالی، تاکہ سب لوگ اندر بیٹھ سکیں۔ سب گاڑی میں بیٹھ گئے اور وہ نکل پڑے اسکول کی طرف۔
آخرکار وہ لوگ اپنے پرانے اسکول کے سامنے پہنچے—وہی اسکول جہاں انہوں نے بچپن گزارا تھا۔ گاڑی سے نکلتے ہی سب نے اسکول کو غور سے دیکھا، اور پرانی یادیں تازہ ہو گئیں: یہ دروازہ، یہ گھنٹی، یہ واش روم… سب ویسا کا ویسا۔ مگر ایک دم اندھیرا چھایا ہوا تھا، اور ماحول میں عجیب سا سکون اور خوف دونوں محسوس ہو رہے تھے۔
رات کے تقریباً بارہ ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ سب تھکے ہوئے تھے، لیکن دوپہر میں سو جانے کی وجہ سے نیند نہیں آ رہی تھی۔ سب نے کہا، 'چلو، اسکول کھلا سا لگ رہا ہے، جا کر اندر دیکھتے ہیں۔'
جب وہ اندر گئے تو سب کچھ ویسا ہی تھا جیسے وقت نے رک کر یہاں انتظار کیا ہو۔ بینچز اپنی جگہ پر تھے، ہر ایک چیز درست، اور سب پرانی یادوں میں کھو گئے—‘یہ مارک میں نے کیا تھا، یہ یہاں بیٹھا کرتا تھا…
"اچانک مریم نے کسی کلاس روم سے آواز دی، 'گائز، یہاں آ کے دیکھو!'
سب وہاں پہنچے تو ونڈو سے سامنے وہی کھنڈر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ سالوں میں کچھ بھی نہیں بدلا تھا، مگر اب اور بھی زیادہ خوفناک لگ رہا تھا۔
سب کی نظریں عارف پر تھیں۔ سب پوچھ رہے تھے، 'تمہارے پاس ہمت ہے اندر جانے کی؟'
عارف نے دھیرے سے کہا، 'شاید صرف میرے پاس ہے ہمت۔ تم سب کے دماغ میں یہی خیال ہے کہ یہاں سے واپس لوٹ جائیں، لیکن میں… میں اس گھر کے اندر بھی جا سکتا ہوں۔'
رحمان، جو ہمیشہ تھوڑا چلبلہ اور ذہین تھا، نے مسکرا کر کہا، 'چل تو کر کے دکھا، میں تجھے پانچ ہزار روپے دوں گا۔'
اب سب—راشد، رحمان، عارف اور مریم —اس اسکول کے پیچھے ایک پتلی سی گلی سے چل پڑے، جو جنگل کی طرف جاتی تھی اور جہاں وہ خوفناک کھنڈر دکھائی دے رہا تھا۔
وہ لوگ وہاں پہنچے، لیکن کچھ خاص دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ سب کی نظریں صرف عارف پر تھیں، یہ دیکھنے کے لیے کہ اب وہ آگے کیا کرے گا…
عارف نے ہنستے ہوئے کہا، 'بس ایک گھر ہے یہ، جیسا دکھ رہا ہے ویسا ہی ہے۔ اسکول ہے یا کچھ اور، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اندر کون مرا، کون زندہ… یہ فرق نہیں پڑتا۔ سائنس کے حساب سے سوچو، جو بھی مر چکا ہوگا، وہ جل کر راکھ ہو چکا ہوگا۔ تھوڑی کوئی زومبی آ کر مجھے پکڑنے والی نہیں ہے۔'
رحمان نے ویڈیو ریکارڈنگ آن کر دی اور بولا، 'ٹھیک ہے بھائی، اگر اتنی ہمت ہے تو جا، اندر جا کر دکھا!'
عارف نے کہا، 'ہاں ہاں، میں تھوڑا ڈرتا ہوں، تم لوگوں کی طرح نہیں۔'
رحمان کو بھی تھوڑا غصہ آگیا، جیسے کہ ارے نہیں، یہ ہمیں چیلنج کر رہا ہے۔
عارف چلتا ہوا اس اسکول کے کھنڈر کے پاس پہنچا۔ دروازے کے قریب جا کر اس نے دیکھا کہ ایک پتلی سی کنڈی لگی ہوئی ہے، زنگ آلود اور پرانی۔ اس کے ہاتھ لگتے ہی دروازہ ہلنے لگا، مگر اتنی زیادہ زنگ آلودگی کی وجہ سے وہ نیچے گر گیا کیونکہ دروازہ بھی پرانی لکڑی کا تھا…
جیسے ہی عارف نے دروازہ کھولا، اندر سے ایک الگ ہی بو محسوس ہوئی—گندی، شدید، جیسے کوئی جانور یا کچھ مردہ وہاں پڑا ہو۔ دیواریں جلی ہوئی لگ رہی تھیں، لکڑیاں راکھ میں بدل چکی تھیں، اور پورا کمرہ دھوئیں سے بھرا ہوا تھا، ہر چیز ایک دم پراسرار اور خوفناک محسوس ہو رہی تھی۔
اچانک اسے لگا کہ کسی نے اندر سے اسے پکارا… 'عارف…'
عارف اندر جھانکنے کے لیے قدم بڑھانے ہی والا تھا کہ پیچھے سے راشد نے زور سے چلایا، 'عارف یار واپس آ جا! پرسوں میری شادی ہے، تجھے بھی پتا ہے۔ پلیز واپس آ جا! یہ میں برداشت نہیں کر سکتا، یہاں سے مجھے زندہ لوٹنا ہے۔ اور تم سب لوگ مجھے زندہ چاہیے۔ مت کرو یہ سب! میں نے بھی بہت سنا ہے اس اسکول کے بارے میں۔ جب میں آسٹریلیا گیا تھا تو بھی مجھے یاد تھا… میرے ماں باپ بتاتے تھے، یہاں کون بے ہوش ملا، وہاں کون بے ہوش ملا… اور تم نے یہ پورا دروازہ کھول دیا۔ حد ہوتی ہے یار! مریم ، رحمان، تم لوگ بھی، بہت ہو گیا، اب جلدی سے نکلیں!'
سب لوگ ہنس پڑے، راشد کی باتوں پر، اور کہا، 'ٹھیک ہے یار، تیری شادی ہے پرسوں، ہمارا تحفہ یہ رہا، ہم اندر نہیں جائیں گے۔ واپس چلتے ہیں۔'
عارف نے ہلکے سے سر ہلایا، 'ہاں ہاں، ٹھیک ہے، نکلتے ہیں۔'
لیکن اس کے دماغ میں ایک چیز گونج رہی تھی—کہ کسی نے واقعی اندر سے اسے 'عارف' کہہ کر بلایا تھا۔
وہ سب اپنی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ جیسے ہی گاڑی سٹارٹ ہوئی، عارف کو یاد آیا، 'ارے گائز، میں نے تو دروازہ بند نہیں کیا!'
رحمان نے مسکرا کر کہا، 'ارے جانے دو، تیس سال سے یہ دروازہ ویسا ہی بند ہے، کبھی کسی نے کھولا ہی نہیں۔ تھوڑا بہت لوگ دیکھیں گے، لیکن اندر کچھ نہیں ہے۔ یہ صرف افواہ ہے، سب دب جائے گی۔ نکلتے ہیں یہاں سے۔
سب لوگ واپس اپنی حویلی پہنچ گئے اور رات کو آرام سے سو گئے۔ کچھ بھی غیر معمولی نہیں ہوا۔ اگلے دن مہندی تھی، اور سب رسم و رواج میں مصروف تھے۔ صبح سے دوپہر اور شام تک سب کچھ آرام سے گزرا، لیکن اچانک ایک چیز نوٹ کی گئی—پورے رسم و رواج کے دوران مریم کہیں نظر نہیں آئی۔
عارف نے راشد سے پوچھا، 'مریم کہاں ہے؟ دن بھر دکھائی ہی نہیں دی۔'
راشد نے جواب دیا، 'اس کی طبیعت خراب ہے، اپنے کمرے میں ہے۔ میں نے صبح جا کر دیکھا تھا، وہ ابھی بھی کمرے میں ہی ہے۔ اگر تم جانا چاہتے ہو تو جا کر ایک بار دیکھ آؤ۔'
جیسے ہی رسم و رواج ختم ہوا، رات کے وقت عارف اور رحمان مریم کے کمرے کی طرف گئے۔
کمرے میں پہنچے تو دیکھا کہ مریم بلینکٹ میں لپٹی ہوئی، سردی سے کانپ رہی تھی۔ اس کی سانسیں تیز تھیں اور وہ پوری طرح ڈری ہوئی لگ رہی تھی۔
عارف نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا، 'کیا ہو گیا ہے؟ پورا دن تم نے کہاں گزارا؟ رسم و رواج کے دوران کہاں گئی تھی؟
"مریم نے کانپتی آواز میں کہا کہ کل رات سے عجیب سا محسوس ہو رہا ہے، جب ہم گاڑی میں بیٹھنے جا رہے تھے تو میں نے دیکھا دروازہ کھلا تھا اور وہاں ایک جلی ہوئی بوڑھی عورت مجھے گھورتی کھڑی تھی، میں نے وہم سمجھ کر اگنور کیا مگر گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ عورت شیشے کے پاس آ گئی اور مسلسل گھورتی رہی، رات کو کمرے میں آئی تو نیند کے بیچ میری آنکھ کھلی تو وہ میرے بستر کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی جو میں اٹھتے ہی غائب ہو گئی، صبح نہاتے وقت بھی لگا کہ وہ باتھ روم کے کسی کونے میں کھڑی مجھے دیکھ رہی ہے اور ابھی بھی تم دونوں آئے ہو تو ایسا لگ رہا ہے وہ ہمارے بیچ میں ہے یا میرے پیچھے کھڑی ہے اور شاید تمہارے جانے کے بعد دوبارہ میرے سامنے آ کر بیٹھ جائے گی، جس پر عارف نے ہمیشہ کی طرح یقین نہ کرتے ہوئے کہا کہ مریم اتنی پڑھائی کے بعد اگر ہم ان باتوں پر یقین کریں تو اس سب کا کیا مطلب ہے، نیچے سب خوش ہیں دو منٹ کے لیے نیچے چل کر دیکھ لے تیرے ماں باپ، تیرے بھائی بہن سب انجوائے کر رہے ہیں تو تُو بھی آجا۔"
مریم نے کہا کہ نہیں ابھی نہیں، جیسے تھوڑی ٹھیک ہو جاؤں گی تو آ جاؤں گی، پھر کہا چل ٹھیک ہے ہم نکلتے ہیں میں کل صبح تجھے ملنے آؤں گی، وہ لوگ گھر سے باہر نکلے تو رحمان کو کال آئی، لفٹ میں جاتے ہی اسے وہی خوفناک بو محسوس ہوئی جو اس گھر سے آ رہی تھی اور ساتھ ہی ایسا لگا کہ کوئی اس کے پیچھے ہے، وہ بار بار پلٹتا رہا لیکن پیچھے کوئی نہیں تھا، آخرکار لفٹ کھلی اور وہ ٹیرس میں پہنچا، ٹیرس خالی تھا مگر پورا پیلس روشن اور سجایا ہوا تھا، وہ سب کچھ بھول گیا اور ایج پر کھڑا ہو کر دیکھا کہ سوئمنگ پول کے پاس سب لوگ مزے کر رہے تھے، ڈانس کر رہے تھے، ہنسی مذاق کر رہے تھے اور ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے، سب خوش اور انجوائے کر رہے تھے، اور وہ سب کچھ بھول گیا۔
ابھی عارف واپس نکلنے ہی والا تھا کہ اچانک اسے لگا کسی نے پیچھے سے بھاگتے ہوئے ہنسی کی آواز نکالی اور وہ عورت تھی، جیسے ہی پیچھے مڑا تو کوئی نہیں تھا مگر ہنسی اس کے دماغ میں گونج رہی تھی، وہ ہانپ رہا تھا اور سوچ رہا تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے، لفٹ میں بھی وہی بو محسوس ہوئی اور اب بھی آ رہی تھی، اچانک ہنسنے کی آواز دوبارہ ائی ، وہ بھاگتا ہوا سیڑھیوں سے اترا اور اپنے روم میں گیا، اندر بیٹھا تو رحمان نے پوچھا بھائی کیا ہوا اتنا ہانپ کیوں رہا ہے، عارف نے بتایا کہ ایسا لگ رہا ہے کوئی میرا پیچھا کر رہا ہے، جیسے جان کے پیچھے پڑا ہے، پھر سب لوگ بھاگتے ہوئے مریم کے کمرے میں گئے اور عارف نے ساری باتیں بتائیں، مریم نے کہا میں نے تم کو بتایا تھا یہ سب میرے ساتھ بھی ہو رہا ہے، تمہارے ساتھ بھی ہوگا، دیکھ بھائی کل راشد کی شادی ہے، اس سے پہلے کچھ نہ ہو جائے، اور بہتر ہے کہ ہم وہاں جائیں اور تھوڑی معافی مانگ لیں، جو بھی ہو، آپ، ہمیں معاف کر دو۔
پھر رحمان نے کہا ٹھیک ہے تم دونوں جاؤ میں راشد کی گاڑی کی چابی لے آتا ہوں تم لوگ وہاں چلے جاؤ مجھے راشد کے ساتھ کچھ ضروری شادی کا سامان لینا ہے تو میں بعد میں آ جاؤں گا، رات کے ڈھائی بجے کا وہی گھنا سناٹا تھا، عارف اور مریم وہاں پہنچے اور عارف زور زور سے معافی مانگنے لگا کہ مجھے معاف کر دو میں دوبارہ کبھی کسی بھوت پریت چڑیل یا کسی بھی ان دیکھی طاقت کی بے ادبی نہیں کروں گا، پھر مریم نے پیچھے سے کہا کہ عارف تجھے گھر کے اندر جا کر معافی مانگنی چاہیے کیونکہ دروازہ تو نے ہی کھولا تھا،
عارف فوراً اندر گیا اور اندھیرے میں چلتے چلتے پھر معافی مانگنے لگا کہ اچانک دائیں طرف سے ہنسی کی وہی آواز آئی، اس نے جھک کر دیکھا تو وہاں کوئی اور نہیں تھا، وہاں مریم کھڑی ہنس رہی تھی، اس کا چہرہ بدلا ہوا تھا جیسے کسی نے اس کے وجود کو پکڑ کر اندر سے موڑ دیا ہو، جیسے کوئی خوفناک چیز اس کے جسم پر قبضہ کر چکی ہو، تب عارف کو ایک ایک بات یاد آنے لگی کہ مریم نے کہا تھا سب سے پہلے چیزیں اس کے ساتھ ہو رہی ہیں، ٹیرس پر بھی جو ہنسی گونج رہی تھی وہ کسی اور کی نہیں اسی کی تھی، یہاں بھی ہنسی اسی کی ہے مگر چلانے والا کوئی اور ہے، وہ اینٹیٹی جو اسے کنٹرول کر رہی ہے، اور وہی طاقت عارف کو جان بوجھ کر اسی سنسان اسکول تک کھینچ کر لائی ہے۔
عارف کو محسوس ہوا کہ وہ مکمل طور پر پھنس چکا ہے، کچھ بھی نہیں کر سکتا، گاڑی کی چابی مریم کے پاس تھی اچانک مریم چلّاتی ہوئی بولی میں ہی وہ عورت ہوں جو یہاں جل کر مری تھی، تیس سال سے میری پیاس انسان کے خون کی ہے۔ عارف نے سوچا کہ مجھے خود بھی بچنا ہے اور مریم کو بھی، مگر مریم نے اس کی گردن مضبوطی سے پکڑ رکھی تھی اور وہ سانس نہیں لے پا رہا تھا، عارف کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں کہ اچانک زور سے کسی نے دروازہ توڑ کر کھولا اور مریم کے ہاتھ سے اسے چھڑا دیا گیا، وہ نیچے گر پڑا اور اس کا سر لگ گیا۔ عارف کچھ سمجھ نہ سکا کہ کون لڑ رہا ہے دس منٹ بعد جب آنکھیں کھلیں تو وہ گاڑی میں تھا، مریم اس کے بازو میں، ہاتھ پیر بندھے ہوئے، راشد ڈرائیو کر رہا تھا اور رحمان بھی ساتھ تھا، پھر عارف کی آنکھیں دوبارہ بند ہو گئیں اور دو ڈھائی گھنٹے بعد جب کھلیں تو وہ دادو جھوک شریف مزار میں تھا، حویلی سے صرف دو گھنٹے دور، وہاں سب عمل جاری تھا، مریم مکمل پوزیسڈ تھی، بال کھلے ہوئے، جھوم رہی تھی، لوگ سرکار کے بارے میں بات کر رہے تھے، اور وہاں مریم کے بدن سے وہ چڑیل نکالی جا رہی تھی۔
"پھر یہ سب ختم ہو گیا، مریم کے بدن سے چڑیل نکل گئی، عارف بھی ٹھیک ہو گیا، صبح آٹھ بجے وہ سب لاڑکانہ کی حویلی پہنچے جہاں شادی کا وقت تھا، ساری رسمیں اچھے سے ہوئیں، سب نے بہت مزے کیے، پھر اگلے دن ریسپشن ختم ہوا تو سب بیٹھے اور کہا کہ عارف کل امریکہ چلا جائے گا، رحمان لندن، راشد آسٹریلیا اور مریم اپنے کام میں مصروف ہو جائے گی، پھر انہوں نے کہا کہ عارف کے لیے ایک آخری تحفہ بچا ہے، تو عارف نے ہنستے ہوئے کہا کہ مذاق میں مجھے اس اسکول کے پاس لے کر مت جانا کیونکہ مجھے اچھا نہیں لگے گا، مگر انہوں نے کہا ایسا کچھ نہیں ہے بس تو ایک بار ساتھ چل، پھر جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھے تو اسے سمجھ آ گیا کہ وہ اسکول کی طرف جا رہے ہیں، اس نے کہا میں نے منع کیا تھا، یہ بہت برا مذاق ہے، مجھے وہاں نہیں جانا، مگر انہوں نے کہا بھائی ایک بار چل تو سہی، خود دیکھ لے وہاں کیا ہو رہا ہے۔"
جب وہ لوگ اپنی گاڑی لے کر وہاں پہنچے ، تو انہیں پتا چلا کہ پرانا اسکول بلڈوزر سے توڑا جا رہا ہے۔۔، جیسے ہی آئے راشد کو پتا چلا کہ یہ جگہ ایک الیگل لینڈ پر بنی تھی اور کافی عرصے سے اسے توڑنے کی بات چل رہی تھی، تو فائنلی اسکول توڑا جا رہا تھا اور یہاں نیا اسکول بنایا جائے گا، عارف یہ سب دیکھ کر خوش ہوا کہ اب یہاں کچھ نہیں رہے گا اور وہ ہنسی خوشی وہاں سے ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا، اور بس وہ امریکہ میں آرام سے رہ رہا تھا، ایک، دو، ڈھائی سال بعد اسے کال آئی کہ اس نئے اسکول میں ایک بچے کی لاش ملی ہے اور کافی عرصے سے بتایا جا رہا تھا کہ وہاں ایک ٹیچر آدھی رات کو بھٹکتی ہے، بچوں کو ڈرانے اور مارنے کی باتیں ک
رتی ہے، یہ ایک گھوسٹلی اسکول ہے، یہ مذاق نہیں، ہمارے صوبے میں کئی گھوسٹلی اسکول اور کالجز ہیں...
نوٹ: اگر اپ اس طرح کی خوفناک کہانیاں سننا پسند کرتے ہیں تو نیچے ہمارے چینل کا نام موجود ہے اس چینل پر جا کر اپ سن بھی سکتے ہیں
@KarimVoice

