اس کے جانے کے بعد میں حالاتِ حاضرہ پر غور کرتا رہا، پھر ان فائلوں کی طرف متوجہ ہو گیا جو ایک چھوٹی سی میز پر رکھی تھیں اور جنہیں کھول کر دیکھنے کا موقع ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ اس وقت رات کے بارہ بجنے والے تھے، لیکن میری آنکھوں میں دور دور تک نیند کا شائبہ تک نہیں تھا، لہٰذا میں نے یہیں سوچا کہ فائلوں کو دیکھنے کا اس سے زیادہ مناسب موقع نہیں ملے گا۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ آنے والا دن آج کے دن سے بھی کہیں زیادہ مشکل اور مصروف ثابت ہوگا۔
وہ کل چار فائلیں تھیں، لیکن جب میں نے ان کی طرف توجہ کی تو وہ تین رہ گئی تھیں۔ ان میں اس وقت سرخ کور والی ایک فائل مجھے کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ گزشتہ رات جب میں ان فائلوں کو الماری سے نکال کر کوارٹر میں لایا تھا تو مذکورہ سرخ کور والی فائل ان میں موجود تھی۔ آج صبح جب میں انہیں اپنے ساتھ تھانے لے کر گیا تو میں نے اس طرف زیادہ دھیان نہیں دیا تھا، اور اب بھی میں انہیں ایسے ہی اٹھا لایا تھا۔
آج کا دن اس قدر ہنگامہ خیز گزرا تھا کہ مجھے کسی اور طرف دھیان دینے کا موقع نہ مل سکا۔ میں نے چند لمحوں تک اس سرخ کور والی فائل کے بارے میں سوچا۔ جب کچھ یاد نہ آیا تو میں نے یہی فرض کر لیا کہ الماری میں سے فائلیں نکالتے ہوئے وہ وہیں رہ گئی ہوگی۔ جی میں آیا کہ اس فائل کو صبح چیک کر لوں گا، جو موجود ہیں ذرا ان کا مطالعہ کر لوں، لیکن پاسبانِ عقل نے مجھے فوراً چونکا دیا اور ذہن میں یہ مقولہ گردش کرنے لگا: "آج کا کام کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے!"
ابھی تک میں نے ان فائلوں کو کھول کر نہیں دیکھا تھا، اس لیے میں نہیں جانتا تھا کہ ان میں کون کون سے راز محفوظ ہیں۔ میری چھٹی حس پکار پکار کر کہنے لگی کہ پہلے مجھے سرخ کور والی فائل کے بارے میں اطمینان کر لینا چاہیے کہ وہ میرے کمرے والی الماری میں موجود ہے یا نہیں، اس کے بعد مطمئن ہو کر بیٹھنا چاہیے۔ فائلوں کو کھول کر ان کا مطالعہ کرنا بعد کی بات ہے۔
میں نے چھٹی حس کی پکار کو لائقِ توجہ جانا، کیونکہ اس نے مجھے کبھی دھوکا نہیں دیا تھا۔ میں اپنے کوارٹر کا داخلی دروازہ بند کر کے تھانے کی طرف آ گیا۔ میں نے عمارت والے حصے میں قدم رکھا تو میری سماعت تک ایک ایسی آواز پہنچی جسے سن کر یوں محسوس ہوا جیسے کسی جانور کو بڑی بے دردی سے ذبح کیا جا رہا ہو۔ مجھے یہ سمجھنے میں قطعاً کوئی دقت محسوس نہ ہوئی کہ مجرموں کا "سرجن" جامی شاہ ایک زندہ لاش کے "پوست ماتم" میں مصروف تھا۔
میں سیدھا اپنے کمرے میں پہنچا اور جیب سے چابی نکال کر اس آہنی الماری کو کھولنے لگا جس میں مذکورہ فائلیں رکھی جاتی تھیں۔ میں نے اس الماری کے بھاری قفل میں ابھی چابی داخل ہی کی تھی اور اسے گھمانے کا ارادہ کر رہا تھا کہ مجھے اپنے عقب میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ میں نے تالا کھولنے کے ارادے کو موقوف کر کے فوراً پلٹ کر پیچھے دیکھا۔
میرے کمرے میں اے ایس آئی شہزاد کھڑا تھا۔ مجھ سے نظریں ملیں تو وہ سنجیدگی سے بولا، "ملک صاحب! خیریت تو ہے؟ اس وقت اچانک آپ تھانے میں؟"
"بس ایک ضروری کام یاد آ گیا تھا،" میں نے سرسری انداز میں کہا۔
"میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیں؟" وہ ہمدردانہ فرمانبرداری سے بولا۔
میں نے کہا، "تمہیں جاگتے ہوئے دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی ہے۔ ایسے ذمہ دار اور فرض شناس نوجوانوں کی میں بہت قدر کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ تم ایک روز ضرور تھانہ انچارج بنو گے۔"
میں نے دانستہ اس کے سامنے سرخ فائل کا تذکرہ گول کر دیا تھا، اور یہ تعریفی جملے میں نے اسے مزید خوش فہمی میں مبتلا رکھنے کے لیے ادا کیے تھے۔ میں اس شخص کو بڑی احتیاط اور خوبصورتی سے شکار کرنا چاہتا تھا۔
اس نے میرے کہے کو درست جانا اور ممنونیت بھرے لہجے میں بولا،
"خدا آپ کی زبان مبارک کرے، ملک صاحب! اگر مجھے ترقی پا کر کسی تھانے کا چارج مل جائے تو میں اسے اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھوں گا۔"
میں الماری کھولنے کا ارادہ فی الحال ترک کر کے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا اور ٹٹولنے والے انداز میں شہزاد سے استفسار کیا،
"قوبا کا کیا حال احوال ہے؟ میں نے ٹرائل روم کی طرف سے بڑی دردناک آوازیں ابھرتی سنی ہیں۔"
"جناب! قوبا اس وقت اپنے حوالدار کے قبضے میں ہے۔ اس جلاد کے شکنجے میں پھنسا ہوا بندہ اب قہقہے لگانے سے تو رہا!"
میں نے اس کے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا، "یہ قوبا سنا ہے چودھری دلدار کا خاص بندہ ہے، لیکن ابھی تک چودھری کی طرف سے کوئی ہلچل نظر نہیں آئی۔ اپنے بندے کی گرفتاری پر اسے یوں خاموش ہو کر تو نہیں بیٹھنا چاہیے؟"
یہ بات کرتے ہوئے میں براہِ راست اس کی آنکھوں میں بھی دیکھ رہا تھا۔ مجھے اس کے چہرے پر اور آنکھوں میں ایسے تاثرات نظر آئے جیسے وہ اپنے دلی جذبات کو مجھ سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔ لمحاتی تامل کے بعد اس نے کہا،
"ممکن ہے چودھری صاحب کو ابھی قوبا کی گرفتاری کا علم نہ ہوا ہو۔"
"ہاں، یہی بات ہوگی،" میں نے معنی خیز لہجے میں کہا۔
وہ جزبز ہو کر ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ میں نے کہا، "شہزاد! قوبا کے ساتھ ہی ڈیرے پر امتیاز نامی ایک شخص بھی ہوتا ہے۔ مجھے پتا چلا ہے کہ چودھری دلدار نے اسے موضع جنڈیالہ کلاں کسی ضروری کام سے بھیج رکھا ہے۔ وہ جب وہاں سے واپس آئے تو میں چاہتا ہوں کہ جیسے ہی احمد نگر شمالی میں قدم رکھے، تم اسے پکڑ کر میرے پاس لے آؤ۔ یہ کام تمہارے لیے زیادہ مشکل تو نہیں ہوگا؟"
"نہیں جناب! آپ کا حکم ہو تو کچھ بھی مشکل نہیں ہے،" وہ جلدی سے بولا۔
میں نے کہا، "ٹھیک ہے۔ تم کل صبح اس وقت تک تھانے سے جانا نہیں جب تک میں تھانے نہ پہنچ جاؤں۔ میں امتیاز کے سلسلے میں تمہیں چند ضروری ہدایات دینا چاہتا ہوں۔ اگر تم نے یہ کام میری مرضی کے عین مطابق کر لیا تو پھر میں تمہیں اس سے بھی بڑا کام سونپوں گا۔ اس کام کی تکمیل کے ساتھ ہی چاروں طرف تمہاری شہرت پھیل جائے گی۔ تم ایک دم سے مشہور ہو جاؤ گے۔"
وہ بڑی توجہ سے میری باتیں سنتا رہا۔ ان باتوں میں اس کی ترقی اور شہرت کا پیغام چھپا ہوا تھا، لہٰذا ظاہر ہے اسے پسند بھی آ رہی ہوں گی۔ وہ تھوڑی دیر میرے پاس بیٹھا رہا، پھر یہ کہہ کر اٹھ گیا،
"میں ذرا ایک راؤنڈ لگا لوں، پھر آتا ہوں۔"
میں نے اس کی فرض شناسی اور مستعدی کو ایک مرتبہ پھر سراہا اور جانے کی اجازت دے دی۔ اس کے جانے کے بعد میں دوبارہ اپنی الماری کی طرف متوجہ ہو گیا۔ میں نے اس الماری کو کھول کر اندر سے باہر اور اوپر سے نیچے تک اس کا کونا کونا دیکھ لیا، لیکن میری مطلوبہ سرخ فائل کہیں دکھائی نہ دی۔
اس بات پر میں الجھنے کے ساتھ ساتھ بے حد حیران بھی ہوا۔ میں نے کوارٹر سے لانے کے بعد تمام فائلیں اسی الماری میں رکھ کر مقفل کی تھیں، اور یہیں سے تالا کھول کر میں انہیں نکال کر لے گیا تھا۔ اس دوران میں نے ایک لمحے کے لیے بھی کسی فائل کو اپنی میز پر نہیں رکھا تھا، بلکہ تھانے میں تو مجھے انہیں ہاتھ لگانے کی مہلت ہی نہیں مل سکی تھی۔ پھر میری مطلوبہ فائل کہاں چلی گئی؟
میں اس مسئلے پر جتنا سوچ رہا تھا، اتنا ہی الجھتا جا رہا تھا۔ میری غیر موجودگی میں اے ایس آئی شہزاد تھانے میں موجود رہا تھا۔ حالانکہ اس الماری کی چابی صرف میرے پاس ہوتی تھی، اس کے باوجود بھی میں نے ایک لمحے کے لیے یہ ضرور سوچا کہ کہیں یہ شہزاد کی کوئی شرارت نہ ہو۔ اس کا پس منظر جو میرے سامنے آیا تھا، اسے دیکھتے ہوئے شہزاد سے ایسی کسی حرکت کی توقع کی جا سکتی تھی۔
......
اس آہنی الماری میں ان فائلوں کے علاوہ بھی بہت سارے کاغذات رکھے ہوئے تھے جو یقیناً سب کے سب اہم اور ضروری تھے۔ ایک لمحے کے لیے میرے جی میں آیا کہ میں الماری کے تمام موجودات کو باہر نکال کر میز پر ڈھیر کر دوں، پھر ایک ایک چیز کو اچھی طرح جھاڑ پونچھ کر دوبارہ ترتیب سے رکھوں۔ اس طرح مطلوبہ فائل اگر اس الماری میں ہوتی تو مجھے ضرور مل جاتی۔ یہ ایک وقت طلب کام تھا، لیکن میں نے اس کی تکمیل کا ارادہ باندھ ہی لیا تھا کہ عین اسی وقت حوالدار جامی شاہ میرے پاس آ گیا، اور مجھے ایک مرتبہ پھر اپنے ارادے کو ملتوی کرنا پڑا۔
حوالدار نے آدھی رات کو تھانے میں میری موجودگی کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا اور خالصتاً پیشہ ورانہ انداز میں بولا،
"ملک صاحب! میں نے ایک مشکل اور کامیاب آپریشن کر کے لاش کے دہانے میں زبان نامی آلہ فِٹ کر دیا ہے۔ اب اس لاش کو بولنا آ گیا ہے۔ آپ چاہیں تو اسی وقت اس کا کلام سن سکتے ہیں۔"
بات ختم کرتے ہی وہ معنی خیز انداز میں مسکرانے لگا۔ یہ ایک خوش آئند اطلاع تھی۔ میں جامی شاہ کے ایک ایک لفظ کی معنویت کو بخوبی سمجھ گیا۔ الماری کے مشن کو ایک مرتبہ پھر پسِ پشت ڈال کر میں نے جوشیلے لہجے میں کہا،
"نیکی کے ایسے کاموں میں تاخیر مناسب نہیں ہوتی، جامی شاہ! لے آؤ اس حیوانِ ناطق کو!"
وہ اٹھا اور تیزی سے کمرے سے نکل گیا۔
میں نے الماری کو تالا لگایا اور اپنی کرسی پر آن بیٹھا۔ تھوڑی دیر کے بعد حوالدار جامی شاہ، قوبا کو لے کر میرے پاس آ گیا۔ قوبا کی حالت دیکھ کر مجھے اندازہ ہو گیا کہ جامی شاہ نے بڑی بے دردی سے اس کا "پوست ماتم" کیا تھا۔ وہ خاصا قابلِ رحم نظر آ رہا تھا۔
حوالدار نے اسے میرے سامنے کھڑا کیا اور پھر تن کر اس کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔
"ملک صاحب تم سے جو بھی پوچھیں، اس کا ٹھیک ٹھیک جواب دینا،" حوالدار نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا، "اگر تم نے کسی چکر بازی سے کام لینے کی کوشش کی تو سمجھ لینا، ابھی آدھی رات باقی ہے۔ میں تمہیں دوبارہ اسی آپریشن تھیٹر میں لے جاؤں گا جہاں ابھی ابھی تمہارا پوست ماتم ہوا ہے۔ باقی کی آدھی رات تمہارا پوست خاتمہ ہوگا، جس کے بعد نہ تم نظر آؤ گے اور نہ ہی تمہاری پوست۔ بولو، کیا ارادہ ہے؟"
"تھانے دار صاحب!" قوبا میری طرف دیکھتے ہوئے کھنکارا، "خدا کے لیے مجھے حوالدار صاحب کے حوالے نہ کریں۔ یہ تو مار مار کر مجھے دنبہ ہی بنا دیں گے۔ پہلے ہی میرے ساتھ بہت زیادہ زیادتی ہو چکی ہے۔"
بات ختم کرتے ہی اس نے سراسیمہ نظر سے حوالدار کی طرف دیکھا۔
میں نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور قوبا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے صاف لہجے میں کہا،
"اگر تم میرے ساتھ تعاون کرو گے تو پھر میرا یہ وعدہ ہے کہ تمہیں مزید تفتیش سے نہیں گزرنا پڑے گا..."
میں نے دھمکی آمیز اور معنی خیز انداز میں جملہ ادھورا چھوڑا تو وہ مضطرب لہجے میں جلدی سے بولا—
"نہیں نہیں، تھانے دار صاحب! میں آپ سے ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہوں۔ آپ جو پوچھیں گے، میں بتاؤں گا، اور جو نہیں پوچھیں گے وہ بھی بتا دوں گا۔"
"بس اتنا ہی کافی ہے کہ میں جو پوچھوں، تم شرافت سے بتاؤ،" میں نے سخت لہجے میں کہا۔
"ٹھیک ہے جناب! آپ پوچھیں،" اس کی جان میں جان آئی۔
میں نے پوچھا اور اس نے بتایا، اور ایسا بتایا کہ انکشافات کی بارش سی ہو گئی۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ اس کیس کی تمام گم شدہ کڑیاں چھن سے میری میز پر آ گری ہوں۔ حوالدار جامی شاہ نے واقعی اس مجرم شخص کے دہانے میں سچ بولنے والی زبان فِٹ کر دی تھی۔ پتا نہیں، یہ "پوست ماتم" کا کمال تھا یا پیوندکاری کا کرشمہ! بہرحال، یہ ثابت ہو گیا—جیسا کہ ایک طویل عرصے سے ثابت ہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا—کہ خطرناک مجرموں کی زبان کھلوانے کے لیے ٹرائل روم اور وہاں کی جانے والی تفتیشی کارروائی کس قدر ضروری ہے۔
آئندہ چند منٹوں میں بڑی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یعقوب عرف قوبا نے میرے سوالات کے جواب میں جو کچھ بھی بتایا، میں اس کا خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ اس میں میرے لیے بھی حیرت اور تشویش کے کئی پہلو موجود تھے۔
جو عورت "نوری" کے نام سے مجھ سے ملنے رات کو میرے کوارٹر پر آئی تھی اور مجھے مصطفیٰ کے بارے میں الٹی سیدھی کہانی سنا کر چلی گئی تھی، اس کا اصل نام خدیجہ تھا۔ خدیجہ ملک غفار کی معتوب تھی اور معافی تلافی کے بعد دوبارہ اس کے زیرِ سایہ آنا چاہتی تھی۔ ملک غفار موضع جنڈیالہ کلاں کا چودھری تھا۔
خدیجہ کس سلسلے میں ملک غفار کی معتوب تھی، یہ ایک دراز قصہ ہے، اور چونکہ موجودہ کیس سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس لیے میں اس کا ذکر گول کر رہا ہوں۔ ملک غفار نے اس سے کہا کہ اگر وہ اس کا ایک اہم کام کر دکھائے تو وہ اپنی ناراضگی کو بھلا دے گا اور اس کے ساتھ دوبارہ ویسا ہی سلوک کرے گا جیسا پہلے کرتا تھا۔
خدیجہ ملک صاحب کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنی جان کو بھی داؤ پر لگانے کے لیے تیار تھی۔ ملک غفار نے خدیجہ کو اپنے ایک بندے مشتاق عرف مشتاقا کے ساتھ احمد نگر شمالی بھیج دیا اور اسے ہدایت کی کہ وہ مشتاق کی ہر بات پر عمل کرے۔
اس اہم مشن کے سلسلے میں ملک غفار نے احمد نگر کے چودھری دلدار سے بھی بات کر لی تھی۔ ملک اور چودھری میں دانت کاٹے کی دوستی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے ہر عیب و فعل میں شریک رہا کرتے تھے۔ یہ ملک کا ایک نہایت اہم کام تھا جس کے لیے چودھری نے اس سے تعاون کرنا تھا۔ چودھری نے اس سلسلے میں اپنے بندوں قوبا اور امتیاز کو خصوصی ہدایات دے دی تھیں۔
خدیجہ مشتاقا کے ساتھ شام کے وقت چودھری دلدار کے ڈیرے پر پہنچی۔ وہاں قوبا اور امتیاز ان کے استقبال اور مدد کے لیے موجود تھے۔ اسی رات امتیاز خدیجہ کو اپنے ساتھ لے کر تھانے کی طرف چلا آیا۔ وہ خود تو بڑے میدان کے دوسرے کنارے پر رک گیا اور خدیجہ کو میرے کوارٹر کی طرف روانہ کر دیا۔
خدیجہ کو بڑی اچھی طرح سمجھا دیا گیا تھا کہ اسے بھرپور اداکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کون سا کارنامہ انجام دینا ہے۔ وہ سر تا پا چادر میں لپٹی ہوئی رات دس بجے میرے کوارٹر میں آ گئی۔ میں نے اس کی دکھ بھری کہانی سنی اور تسلی دلاسا دے کر اسے رخصت کر دیا۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ خدیجہ نے اپنی مظلومیت کا رونا رو کر مجھے کیسا دھوکا دیا تھا۔
جب میں اسے چارپائی پر بٹھا کر اپنے لیے کرسی لینے کے لیے کمرے میں گیا تھا تو اسے "کام دکھانے" کا موقع مل گیا۔ میری چارپائی کے نزدیک چھوٹی میز پر وہ چاروں فائلیں رکھی تھیں جنہیں مطالعے کی غرض سے میں اٹھا لایا تھا۔ خدیجہ نے نہایت صفائی کے ساتھ سرخ جلد والی فائل کو میز سے اٹھایا اور اپنی چادر کے اندر چھپا لیا۔ یہی وہ مشن تھا جو ملک غفار نے اسے سونپا تھا۔ اس نے اپنے آقا ملک غفار کے سامنے سرخرو ہونے کا بندوبست کر لیا تھا۔
میری ہمدردیاں سمیٹ کر وہ کوارٹر سے چلی گئی۔ اس دوران میں اس کی الم ناک داستانِ حیات سننے میں اس قدر محو رہا کہ ایک لمحے کے لیے بھی میرا دھیان میز پر رکھی فائلوں کی طرف نہیں گیا تھا۔ بعد ازاں بھی ایسی افراتفری رہی کہ مجھے فائلوں کو ہاتھ لگانے کا موقع نہ مل سکا، اور جب آج رات موقع ملا تو میں نے سرخ فائل کو غائب پایا۔
اب قوبا اسی سرخ فائل کے حوالے سے سنسنی خیز انکشاف کر رہا تھا۔ اس کے مطابق، میرے کوارٹر سے نکلنے کے بعد خدیجہ بڑے میدان کے دوسرے کنارے پر پہنچی، جہاں امتیاز اس کا انتظار کر رہا تھا۔ پھر وہ دونوں احتیاط سے چلتے ہوئے، کسی کی نگاہ میں آئے بغیر، محفوظ راستے سے ڈیرے پر پہنچ گئے۔
وہاں سے مشتاقا اور امتیاز گھوڑوں پر سوار ہوئے۔ خدیجہ مشتاقا کے ساتھ گھوڑے پر بیٹھی، اور وہ تینوں موضع جنڈیالہ کلاں کی طرف روانہ ہو گئے۔ سرخ فائل کو مشتاقا نے اپنے پاس محفوظ کر لیا تھا۔ امتیاز کو محض ان کے ساتھ بطورِ معاون بھیجا گیا تھا؛ یہ چودھری دلدار کا حکم تھا۔ امتیاز نے انہیں بحفاظت جنڈیالہ کلاں پہنچا کر واپس احمد نگر آ جانا تھا۔
قوبا کی معلومات بس یہیں تک محدود تھیں۔ وہ خاموش ہوا تو میں نے کہا،
"خدیجہ کو امتیاز نے قتل کیا ہے یا مشتاقا نے؟"
"جناب! میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا،" وہ گہری سنجیدگی سے بولا، "اگر معلوم ہوتا تو میں آپ کو ضرور بتا دیتا۔ امتیاز واپس آ جائے تو ہی اس راز سے پردہ اٹھے گا۔"
میری تجربہ کار اور مجرم شناس نظر نے یہ
بخوبی اندازہ لگا لیا کہ قوبا غلط بیانی سے کام نہیں لے رہا تھا۔

