آواز جو میری نہیں تھی
رات کے تقریباً ڈھائی بج رہے تھے۔ کراچی کی وہ رات عجیب حد تک خاموش تھی، ایسی خاموشی جو عام نہیں ہوتی—جیسے شہر سانس تو لے رہا ہو مگر آواز نکالنے سے ڈر رہا ہو۔ میں اپنے چھوٹے سے اسٹوڈیو میں بیٹھا تھا، ایک ایسا کمرہ جس میں صرف ایک ٹیبل، کمپیوٹر، مائیک اور دیواروں پر لگے ساؤنڈ فوم تھے، اور یہی میری پوری دنیا تھی۔
لوگ مجھے "Karim Voice" کے نام سے جانتے تھے، ایک ایسا چینل جہاں میں عام آوازوں کو خوفناک بنا دیتا تھا۔ جنّات، سایے، سرگوشیاں—سب کچھ صرف ایڈیٹنگ سے… یا کم از کم میں یہی سمجھتا تھا۔ آج میں ایک مختلف ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا، "Behind The Mic Secrets"، جس میں میں لوگوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ ایک نارمل آواز کو کیسے خوفناک بنایا جاتا ہے۔
میں نے ریکارڈنگ شروع کی، "کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک عام انسان کی آواز کیسے ایک ڈراؤنی مخلوق میں بدل جاتی ہے؟" میری آواز ہمیشہ کی طرح پرسکون اور کنٹرول میں تھی۔ میں نے ٹائم لائن کھولی اور فرزانہ کی نریشن لوڈ کی، جو ایک پروفیشنل وائس آرٹسٹ تھی اور اس کی آواز میں ایک عجیب سا سکون تھا جو بعد میں خوف میں بدل جاتا تھا۔
میں نے پلے دبایا، "رات کے اس پہر… جب سب سو جاتے ہیں…" آواز بالکل صاف اور پرفیکٹ تھی۔ میں نے وضاحت شروع کی کہ پہلے ہم پچ شفٹ کرتے ہیں اور آواز کو نیچے لے جاتے ہیں، پھر ایکو ایڈ کرتے ہیں تاکہ ایسا لگے کہ آواز کسی خالی جگہ سے آ رہی ہے۔ سب کچھ بالکل نارمل تھا، جیسے ہمیشہ ہوتا تھا… لیکن پھر کچھ عجیب ہوا۔
میں نے ایک چھوٹا سا کلپ الگ کیا کیونکہ مجھے لگا کچھ مختلف ہے۔ ہیڈفونز پہن کر دوبارہ سنا تو "رات کے اس پہر…" کے بعد ایک ہلکی سی آواز آئی، اتنی ہلکی کہ اگر دھیان نہ دیتا تو شاید کبھی نہ سنتا۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ شاید یہ کوئی نوائز ہے، لیکن جب والیوم بڑھا کر سنا تو صاف سنائی دیا، "سن رہے ہو…؟"
میرا ہاتھ وہیں رک گیا۔ میں نے فوراً کلپ بند کر دیا اور کمرے میں عجیب سی خاموشی چھا گئی، ایسی جو پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ میں نے خود کو تسلی دی کہ شاید فرزانہ نے کچھ اضافی بول دیا ہو، مگر جب میں نے را فائل چیک کی تو وہی آواز دوبارہ سنائی دی، اس بار اور بھی واضح۔
میں نے فوراً فرزانہ کو کال کی اور پوچھا کہ کیا اس نے کچھ اضافی بولا تھا، مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔ اس کی ہنسی سن کر میری اپنی ہنسی خشک ہو گئی۔ میں نے کال بند کی اور دوبارہ اسکرین کی طرف دیکھا، وہ کلپ اب بھی وہیں تھا، جیسے میرا انتظار کر رہا ہو۔
میں نے ایک بار پھر اسے سنا۔ "رات کے اس پہر…" خاموشی… پھر "سن رہے ہو…؟" اور اس کے فوراً بعد ایک اور آواز، پہلے سے بھی زیادہ دھیمی، "یہ ہمیں سن سکتا ہے…" میری سانس رک گئی، یہ کچھ اور ہی تھا، کچھ ایسا جو سمجھ سے باہر تھا۔
میں نے فوراً ہیڈفونز اتار دیے اور کمرے میں ادھر اُدھر دیکھا، مگر وہاں کوئی نہیں تھا، صرف میں اور میرا مائیک۔ لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ مائیک آن تھا، حالانکہ میں نے اسے بند کیا تھا، اور اس کی سرخ لائٹ خاموشی سے جل رہی تھی۔
میں نے آہستہ سے کہا، "ہیلو…؟" چند لمحے کچھ نہیں ہوا، پھر بغیر ہیڈفونز کے بھی ایک سرگوشی سنائی دی، "ہم تمہیں سن رہے ہیں…" میرا دل زور سے دھڑکنے لگا، یہ اب ریکارڈنگ نہیں تھی، یہ سب کچھ لائیو ہو رہا تھا۔
میں نے سسٹم بند کرنے کی کوشش کی مگر کرسر فریز ہو گیا، اسکرین پر ویوفارم خود بخود حرکت کرنے لگا جیسے کوئی بول رہا ہو۔ پھر ایک نیا آڈیو ٹریک خود بن گیا اور اس میں آواز ریکارڈ ہونا شروع ہو گئی۔
میں نے کانپتے ہوئے ہیڈفونز پہنے اور پلے دبایا۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد آواز آئی، "تم ہمیں کیوں جگا رہے ہو…؟" میرا ماؤس ہاتھ سے گر گیا، کمرہ وہی تھا، مائیک وہی تھا، میں وہی تھا… لیکن اب ایک فرق تھا، میں اکیلا نہیں تھا۔
میں کافی دیر تک وہیں بیٹھا رہا، جیسے جسم میرا تھا مگر اختیار کسی اور کے پاس ہو۔ اسکرین پر وہ نیا آڈیو ٹریک اب بھی خود بخود بنتا جا رہا تھا، ویوفارم ہل رہی تھی جیسے کوئی مسلسل بول رہا ہو، لیکن کمرے میں ایک خوفناک خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
میں نے ہمت کر کے دوبارہ ہیڈفونز پہنے اور پلے دبایا۔ پہلے چند لمحے کچھ سنائی نہ دیا، پھر اچانک کئی سرگوشیاں ایک ساتھ ابھریں… ایک نہیں، دو نہیں، جیسے درجنوں آوازیں بیک وقت بول رہی ہوں، اور ہر ایک کی آواز کا انداز مختلف تھا۔
"ہم یہاں تھے…"
"ہم ہمیشہ یہاں تھے…"
"تم نے ہمیں سنا… اب ہم تمہیں سنیں گے…"
میری سانسیں تیز ہو گئیں، میں نے فوراً ہیڈفونز اتار دیے، مگر آوازیں بند نہ ہوئیں۔ اب وہ میرے کانوں میں نہیں تھیں… بلکہ میرے دماغ کے اندر گونج رہی تھیں، جیسے کوئی میرے اندر بیٹھ کر بول رہا ہو۔
میں نے گھبرا کر سسٹم کا پلگ نکال دیا۔ اسکرین بند ہو گئی… مگر مائیک کی سرخ لائٹ اب بھی جل رہی تھی۔ یہ ناممکن تھا، بغیر بجلی کے وہ کیسے آن رہ سکتا تھا؟
میں آہستہ آہستہ مائیک کے قریب گیا، دل اس زور سے دھڑک رہا تھا کہ لگ رہا تھا وہ بھی ریکارڈ ہو رہا ہے۔ میں نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، "تم… کون ہو؟"
چند لمحے خاموشی رہی، پھر مائیک کے اندر سے ہلکی سی کڑکڑاہٹ سنائی دی… اور پھر وہی سرگوشی، مگر اس بار بالکل واضح انداز میں۔
"ہم… آواز نہیں ہیں…"
"ہم وہ ہیں… جو آواز کے پیچھے رہتے ہیں…"
میری ٹانگوں سے جیسے جان نکل گئی، میں پیچھے ہٹ گیا۔ اچانک مجھے وہ تمام تکنیکیں یاد آئیں جو میں ویڈیو میں بتا رہا تھا—فریکوئنسی مینیپولیشن، پچ شفٹ، ہِڈن لیئرز… میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ ان فریکوئنسیز میں کچھ اور بھی چھپا ہو سکتا ہے۔
میں نے فوراً فون اٹھایا اور فرزانہ کو کال کی، مگر کال کنیکٹ ہوتے ہی مجھے اپنی ہی آواز سنائی دی۔
"تم ہمیں کیوں جگا رہے ہو…؟"
میں نے گھبرا کر فون پھینک دیا۔ یہ سب نارمل نہیں تھا… کچھ بھی نارمل نہیں تھا۔ میں دروازے کی طرف بھاگا، مگر جیسے ہی ہینڈل پکڑا، دروازہ خود بخود لاک ہو گیا۔
پیچھے سے ایک آواز آئی… اس بار بالکل میرے قریب۔
"ابھی نہیں…"
میں آہستہ سے مڑا۔ کمرہ وہی تھا، مگر سائے بدل چکے تھے۔ دیواروں پر لگے ساؤنڈ فوم کے درمیان اندھیرے میں عجیب سی شکلیں بن رہی تھیں… جیسے ویوفارم… مگر زندہ۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں، خود کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ سب محض ایک وہم ہے۔ مگر پھر ایک حقیقت میرے ذہن میں بجلی کی طرح چمکی—میں نے وہ فریکوئنسی کھول دی تھی… جو انسان کی آواز کے نیچے چھپی ہوتی ہے۔
میں نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔ اسکرین خود بخود دوبارہ آن ہو چکی تھی، بغیر بجلی کے۔ اور اس پر ایک لائیو ریکارڈنگ چل رہی تھی… جس میں میں خود بیٹھا ہوا تھا، وہی کمرہ، وہی منظر۔
مگر… ایک فرق تھا۔
اس ویڈیو میں… میں مائیک کے سامنے نہیں بیٹھا تھا۔
میں مائیک کے پیچھے کھڑا تھا۔
میری سانس رک گئی۔ میں آہستہ آہستہ اسکرین کے قریب گیا، ویڈیو میں میرا چہرہ واضح نہیں تھا… صرف ایک سیاہ سایہ، جو میرے ہی انداز میں حرکت کر رہا تھا، مگر معمولی سے وقفے کے ساتھ۔
پھر اس نے سر اٹھایا۔
اور پہلی بار… اس کا چہرہ نظر آیا۔
وہ میرا ہی چہرہ تھا… مگر آنکھیں مکمل سیاہ۔
اس نے مائیک کے قریب جھک کر کچھ کہا۔ میں نے بغیر ہیڈفونز کے بھی صاف سن لیا۔
"اب تم بول چکے ہو… اب ہم بولیں گے…"
اچانک میرے گلے میں شدید درد اٹھا، جیسے کوئی اندر سے آواز نکالنے کی کوشش کر رہا ہو۔ میں نے چیخنا چاہا… مگر جو آواز نکلی… وہ میری نہیں تھی۔
وہی بھاری، بگڑی ہوئی، خوفناک آواز… جو میں خود ایڈیٹ کیا کرتا تھا۔
میں نے گھبرا کر اپنا منہ بند کیا، مگر آواز رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ خود بخود نکل رہی تھی، جیسے کوئی میرے vocal cords کو استعمال کر رہا ہو۔
"ہمیں… باہر آنا ہے…"
تب مجھے حقیقت سمجھ آئی… میں انہیں بنا نہیں رہا تھا… میں صرف انہیں بڑھا رہا تھا۔ وہ ہمیشہ سے موجود تھے… ہر آواز کے پیچھے… ہر خاموشی کے اندر۔
اور میں نے… انہیں راستہ دے دیا تھا۔
کمرے کی لائٹس جھلملا رہی تھیں، دیواروں پر سائے اب واضح شکلیں اختیار کر چکے تھے… جیسے کئی لوگ کھڑے ہوں، مگر صرف آواز کی صورت میں۔
وہ سب ایک ساتھ میری طرف بڑھنے لگے۔
"ہم سن رہے ہیں…"
"ہم دیکھ رہے ہیں…"
"اب تم بھی ہمارے ساتھ رہو گے…"
میں زمین پر گر گیا، میرے کانوں سے خون بہنے لگا تھا۔ آوازیں اتنی تیز ہو گئی تھیں کہ لگ رہا تھا میرا دماغ پھٹ جائے گا۔ میں نے آخری بار اسکرین کی طرف دیکھا…
لائیو ریکارڈنگ اب بھی چل رہی تھی۔
مگر اب اس میں… میں نہیں تھا۔
صرف مائیک تھا… اور اس کے پیچھے گہرا اندھیرا۔
پھر اچانک… سب کچھ خاموش ہو گیا۔
بالکل خاموش۔
مجھے نہیں معلوم میں کب ہوش میں آیا… یا آیا بھی یا نہیں۔ مگر ایک بات مجھے صاف یاد ہے…
میں اب بھی بول رہا تھا۔
اور آپ… یہ سن رہے ہیں۔
لیکن…
اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ صرف ایک کہانی ہے…
یا ایک ایڈیٹ کی ہوئی آواز ہے…
تو ایک کام کریں۔
آخری جملہ دوبارہ سنیں۔
کیونکہ…
جو آواز آپ سن رہے ہیں… وہ میری نہیں ہے۔
مائیک کے پیچھے کون تھا
0
April 12, 2026

