“اچھا ٹھیک ہے، تم جاؤ۔ مصطفیٰ جیسے ہی تھانے پہنچے، اسے میرے پاس بھیج دینا۔ مجھے اس سے ایک ضروری کام ہے۔”
کانسٹیبل نے ایڑی بجائی۔ “اوکے سر!” اور کمرے سے نکل گیا۔ اس تھانے کی انچارجی سنبھالے مجھے آج تیسرا دن تھا۔ میں تھانے کے اسٹاف سے فرداً فرداً مل چکا تھا اور ان کی ذمہ داریاں بھی میرے علم میں آ چکی تھیں۔ ہو سکتا ہے، نیا نیا ہونے کی وجہ سے میں بھول گیا ہوں یا ابھی ذہن نشین نہ ہوا ہو کہ میرے تھانے کے کس شخص کی ڈیوٹی دن کی ہے اور کس کی رات کی، لیکن مصطفیٰ کی بیوی اس معاملے میں غلطی نہیں کر سکتی تھی۔ اگر اس نے کہا تھا کہ مصطفیٰ ڈیوٹی پر ہے تو اس کا مطلب تھا کہ اس کی ڈیوٹی رات کی تھی، اور اگر ایسا نہیں تھا تو پھر نوری نے جھوٹ بولا تھا۔ اب یہ سوال سر اٹھا کر کھڑا ہو گیا کہ نوری کو جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
میں اس ممکنہ سوال کے ممکنہ جوابات پر غور کر ہی رہا تھا کہ مجھے بتایا گیا کہ مصطفیٰ تھانے میں آ چکا ہے۔ میں نے اطلاع دینے والے کو حکم دیا کہ وہ مصطفیٰ کو فوراً میرے کمرے میں بھیج دے۔ چند لمحوں بعد مصطفیٰ میرے سامنے موجود تھا۔
اس کی صورت دیکھتے ہی مجھے یاد آ گیا کہ یہی کانسٹیبل مصطفیٰ ہے۔ اس کی عمر اٹھائیس سے تیس سال کے درمیان ہوگی۔ وہ متناسب جسامت کا مالک، قدرے پستہ قامت شخص تھا۔ اس نے چہرے پر مناسب سائز کی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ پیشانی کی لکیروں اور آنکھوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ایک غصیلا اور کڑک مزاج آدمی ہوگا۔ اس حوالے سے نوری کی شکایت میں وزن نظر آتا تھا۔
مصطفیٰ نے نہایت سنجیدہ انداز میں مجھے سلام کیا اور بولا، “ملک صاحب! آپ نے مجھے کسی ضروری کام سے بلایا ہے؟” اس کی سنجیدگی اور متانت کو دیکھ کر میں کچھ لمحوں کے لیے شش و پنج میں پڑ گیا کہ بات کہاں سے شروع کروں۔
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرسری لہجے میں کہا، “تم بیٹھو گے تو ضروری کام بتاؤں گا نا۔”
وہ خاموشی سے ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
میں نے اس کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا، “مصطفیٰ! تمہاری ڈیوٹی رات کی نہیں تھی؟”
وہ بدستور سنجیدہ لہجے میں بولا، “پچھلے کچھ عرصے سے میں دن میں ڈیوٹی دے رہا ہوں۔”
اس جواب نے مجھے مزید الجھن میں ڈال دیا۔ اگر وہ سچ کہہ رہا تھا تو پھر نوری نے جھوٹ بولا تھا۔ مصطفیٰ کی بات کی تصدیق تو تھانے کا پورا عملہ کر سکتا تھا، اس کا مطلب تھا کہ نوری نے دانستہ طور پر غلط بیانی کی تھی۔ مگر کیوں؟ اس “کیوں” کا جواب یا تو نوری دے سکتی تھی یا پھر مصطفیٰ۔
میں دوبارہ مصطفیٰ کی طرف متوجہ ہوا۔ اس نے الجھن بھرے لہجے میں پوچھا، “ملک صاحب! سب خیریت تو ہے نا؟” اس کے انداز میں تشویش نمایاں تھی۔ میں یہ سمجھ چکا تھا کہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور ہے، مگر کیا، یہ ابھی واضح ہونا باقی تھا۔
میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا، “اگر میں یہ کہوں کہ خیریت نہیں ہے تو؟”
وہ حیرت سے بولا، “تو… میں کیا بتا سکتا ہوں، جناب؟”
میں نے کہا، “تم مجھے صرف اتنا بتاؤ کہ گزشتہ رات دس بجے تم کہاں تھے؟”
اس نے ذرا توقف کے بعد جواب دیا، “اس وقت میں اپنے گھر میں تھا، جنابِ عالی!”
میں نے تصدیق کے لیے پوچھا، “تم احمد نگر جنوبی میں رہتے ہو نا؟”
وہ حیرت سے آنکھیں جھپکاتے ہوئے بولا، “جی ہاں، جی ہاں!”
میں نے مزید پوچھا، “تمہارے گھر میں سب خیریت ہے نا، مصطفیٰ؟”
وہ بولا، “جی، میرے گھر والے سب ٹھیک ٹھاک ہیں۔”
میں نے سوال آگے بڑھایا، “بیوی بچے سب راضی خوشی ہیں؟”
“بیوی بچے؟”
مصطفیٰ نے یہ الفاظ اس حیرت سے دہرائے کہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے کسی ان دیکھی، ان سنی مخلوق کا ذکر کر دیا ہو۔
میں نے بدستور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا، “میں تمہارے بچوں جاوید اور نگہت کی بات کر رہا ہوں۔”
اس نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا، “ملک صاحب! اللہ آپ کی زبان مبارک کرے، لیکن یہ تو بتائیں… بغیر شادی کے بچے کیسے ہو سکتے ہیں؟”
“کیا تم شادی شدہ نہیں ہو؟” میں نے تعجب خیز نظر سے اس کی طرف دیکھا۔
“میں اتنا خوش قسمت کہاں، جناب!” وہ کھوئے کھوئے انداز میں بولا۔ “تین مرتبہ منگنی ہو کر ٹوٹ چکی ہے۔ آپ تو مجھے شادی کی بشارت دے رہے ہیں، نہ صرف شادی کی بلکہ دو بچوں کی خوشخبری بھی سنا رہے ہیں۔” وہ لمحہ بھر کو متوقف ہوا، پھر بے یقینی سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولا، “لگتا ہے کسی مخالف نے میرا مذاق بنانے کے لیے آپ کو میرے بارے میں غلط سلط بتایا ہے۔ اگر آپ کو میری بات پر اعتبار نہ آ رہا ہو تو میں گواہی کے لیے چچا، چچی کو تھانے لا سکتا ہوں۔”
اس کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ غلط بیانی سے کام نہیں لے رہا تھا۔ اختتامِ حجت کے طور پر میں نے اس سے پوچھ لیا، “کیا نوری تمہاری بیوی نہیں ہے؟”
“نہ نوری اور نہ ہی کوئی غفوری!” وہ قطعیت سے بولا۔
اب تو مجھے یقین ہو گیا کہ اپنا نام نوری بتا کر جس عورت نے گزشتہ رات میرے کوارٹر میں مجھ سے ملاقات کی تھی، وہ کوئی بہت بڑا ڈرامہ تھی۔ اس نے یہ ناٹک کسی خاص مقصد کے تحت کیا تھا، مگر کس مقصد کے تحت؟ فی الحال اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا۔ اسی لمحے میں نے فیصلہ کر لیا کہ فی الحال میں مصطفیٰ کو نوری کے بارے میں کچھ نہیں بتاؤں گا، جب تک کہ اس کے ڈرامے کا کوئی سرا میرے ہاتھ نہ لگ جائے۔
“ملک صاحب! یہ نوری کون ہے؟” مصطفیٰ نے قدرے پریشانی سے پوچھا۔ “اور آپ نے میرے جن دو بچوں جاوید اور نگہت کا ذکر کیا ہے، وہ آپ کو کہاں ملے تھے؟”
میں فی الحال مصطفیٰ کو ان سوالات کے جوابات نہیں دینا چاہتا تھا، اس لیے میں نے بات کو بڑی خوبصورتی سے ٹال دیا اور کہا، “میں یہ پیش گوئی کر رہا تھا کہ تمہاری شادی نوری نامی لڑکی سے ہوگی، جس سے تمہارے دو بچے جاوید اور نگہت پیدا ہوں گے۔ کیا سمجھے؟”
“آپ کے منہ میں گھی شکر، ملک صاحب!” وہ خوشی سے کھل اٹھا، پھر یک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا، “کیا آپ تھانے داری کے ساتھ ساتھ نجوم وغیرہ کا کام بھی کرتے ہیں؟”
اس نے یہ سوال میری پیش گوئی کے حوالے سے کیا تھا۔ میں نے کہا، “میں نجوم کو مانتا ہوں، لیکن نجومی نہیں ہوں۔ جس طرح ہر علم کی ایک حد ہوتی ہے، اسی طرح نجوم کی بھی حدود و قیود مقرر ہیں، اور سچے اہلِ علم ان سرحدوں کو کبھی نہیں پھلانگتے۔ اس نوعیت کی چھلانگ کارخانۂ قدرت میں مداخلت کے مترادف ہے۔ سمجھ دار ماہرِ نجوم بڑی دانشمندی سے اپنی زبان کا استعمال کرتا ہے۔ اس کے ہر انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی کسی کو جواب دہ ہے۔ وہ محض رہنمائی کرتا ہے، لیکن جو مستند نجومی نہیں ہوتے، وہ علم کی عزت و توقیر کو نظر میں نہیں رکھتے۔ انہیں صرف اپنے ذاتی مفاد سے غرض ہوتی ہے۔ وہ اپنے پاس آنے والے پریشان حال لوگوں کا پیٹ کاٹ کر اپنا پیٹ بھرنے کے چکر میں رہتے ہیں۔”
“وہ ستاروں سے متعلق اتنی بے تکلفی سے بات کرتے ہیں جیسے وہ ان کے آباؤ اجداد میں سے ہوں۔ بے چارے ستاروں کو اگر یہ معلوم ہو جائے کہ نام نہاد نجومی کس طرح ان کی مٹی خراب کر رہے ہیں، تو ہو سکتا ہے وہ غیرت کے مارے آسمان پر ہی خودکشی کر لیں اور ان کے بے جان، بے نور لاشے قادرِ مطلق سے بہ زبانِ خاموشی یہ سوال کریں… کیا تم نے انسان کو اسی لیے اشرف المخلوقات بنایا تھا کہ وہ آفاقی مشعلوں پر بہتان باندھتا رہے؟ ہم تو قندیلِ رہبانی ہیں، مشعلِ آسمانی ہیں۔ حضرتِ انسان کے ہاتھوں بے توقیری سے تو اچھا ہے کہ ہم بجھ جائیں!”
میں لمحہ بھر کو رکا تو دیکھا، مصطفیٰ محویت کے عالم میں میری طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا، “اس لیے بے بہرہ اور بے ضمیر قسم کے جھوٹے نام نہاد نجومیوں کو ہمیشہ یہ بات اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اپنی دکان داری چمکانے اور مصیبت زدہ افراد کو خوف زدہ کر کے لوٹنے کے لیے وہ ستاروں سے منسوب کر کے جو بھی الٹی سیدھی کہانیاں بیان کرتے ہیں، وہ ایک دن انہی پر الٹ سکتی ہیں۔”
کاتبِ تقدیر نے ان کا مقسوم بھی کسی ستارے کو تھما رکھا ہے۔ وہ ستارہ اپنے قبیلے کی بے عزتی برداشت نہیں کرے گا اور ایک دن تنگ آ کر انہیں ایسے عذاب میں مبتلا کر دے گا کہ ان کی زندگی نمونۂ جہنم بن کر رہ جائے گی، لیکن افسوس کہ ایسے مردہ ضمیروں کا دیدۂ عبرت اس وقت بھی نہیں کھلتا اور وہ اپنی تباہی و بربادی کا الزام دوسروں پر تھوپتے نظر آتے ہیں۔
میں خاموش ہوا تو مصطفیٰ نے حیرت بھرے لہجے میں کہا، “آپ تھانے دار ہیں یا نجومیوں کے محتسب؟ مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے آپ کو نام نہاد نجومیوں کے احتساب کے لیے خاص طور پر پیدا کیا ہے!”
میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا، “نام نہاد شخص چاہے زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہو، غلط ہی کر رہا ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، وہ کسی نہ کسی جرم میں مبتلا ہوتا ہے، اور ہر قسم کے جرم کی سرکوبی کرنا میرے فرائض میں شامل ہے۔ اب تو تم اچھی طرح سمجھ گئے ہوگے کہ میں یہاں صرف تھانے داری کرنے آیا ہوں۔”
“جی ملک صاحب! بالکل سمجھ میں آ گیا،” وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا، “آپ کے سائے تلے کام کر کے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔”
میں نے زاویہ بدلتے ہوئے اس سے پوچھا، “سیکھنے اور سکھانے کا کام تو جاری رہے گا، مجھے بتاؤ کہ تم اپنے چچا، چچی کو گواہی کے لیے کیوں تھانے لا رہے تھے؟ تمہارے ماں باپ اور بہن بھائی کہاں ہیں؟”
میرے سوال کے جواب میں اس نے جو کچھ بتایا، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مصطفیٰ احمد نگر جنوبی میں اپنے چچا اسحاق اور چچی مریم کے پاس رہتا تھا۔ اسحاق اور مریم ایک عمر رسیدہ، بے اولاد جوڑا تھے، اور مصطفیٰ محض ان کی تنہائی دور کرنے کے لیے ان کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اس کا اپنا گھر احمد نگر کے شمال میں واقع گاؤں گھمن پورہ میں تھا۔ اس کا باپ اشفاق وہاں زمینداری کرتا تھا۔ مصطفیٰ سے چھوٹا ایک بھائی اور ایک بہن تھی، اور دونوں کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ اس کا بھائی مرتضیٰ گھمن پورہ ہی میں رہتا تھا اور کھیتی باڑی میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتا تھا۔ مرتضیٰ کا ایک تین سالہ بیٹا رضوان تھا۔ مصطفیٰ مہینے میں ایک آدھ چکر گھمن پورہ کا لگا لیا کرتا تھا۔
اس تناظر میں نوری اور اس کا شبینہ ڈرامہ سراسر فراڈ دکھائی دیتا تھا۔ کوئی شخص جب فراڈ کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ظاہری یا پوشیدہ مقصد ضرور ہوتا ہے۔ نوری گزشتہ رات میرے کوارٹر پر کس مقصد کے تحت آئی تھی، یہ جاننے کے لیے میں نے مصطفیٰ سے صاف صاف بات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ مجھے خاصا معقول، سلجھا ہوا اور بردبار شخص دکھائی دیا تھا، لیکن مجھے اپنے ارادے میں کامیابی نہ ہو سکی، کیونکہ اسی وقت ایک کانسٹیبل میرے کمرے میں آ کر بولا:
“ملک صاحب! جنوبی میں ایک عورت کو قتل کر دیا گیا ہے۔”
جنوبی سے اس کی مراد احمد نگر جنوبی تھی۔ قصبے کے ان دونوں حصوں کو عموماً شمالی اور جنوبی کہا جاتا تھا۔
مصطفیٰ چونکہ جنوبی سے تعلق رکھتا تھا، اس لیے اس کے کان کچھ زیادہ ہی کھڑے ہو گئے۔ اس نے اطلاع دینے والے کانسٹیبل سے پوچھا، “قتل ہونے والی عورت کون ہے؟”
“ابھی تک اس کی شناخت نہیں ہو سکی،” اس نے بتایا، “اس کی لاش کھیتوں میں پڑی ہے۔”
میں نے تمام موضوعات کو ایک طرف رکھا اور کانسٹیبل مصطفیٰ کو اپنے ساتھ لے کر جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ نوری اور اس کے کارنامے پر بعد میں بھی بات ہو سکتی تھی، کیونکہ اس عورت کا قتل اس سے کہیں زیادہ سنگین معاملہ تھا۔
جلد ہی ہم جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ احمد نگر جنوبی سے مزید جنوب کی طرف جائیں تو کھیتوں کا ایک وسیع و عریض سلسلہ پھیلا ہوا تھا، اور اس کے بعد جنوب مشرق کی سمت میں ایک گھنا جنگل شروع ہو جاتا تھا۔ یہ جنگل مشرقی رخ میں پھیلتے پھیلتے آگے جا کر بڑی نہر کے قریب پہنچ جاتا تھا۔ جائے وقوعہ انہی لہلہاتے کھیتوں اور جنگل کے درمیان واقع تھی۔ وہاں چند مقامی لوگ جمع تھے۔ میں نے سب کو پیچھے ہٹایا اور لاش کے قریب پہنچ گیا۔
وہ ایک جواں سال عورت کی لاش تھی۔ اس کی عمر لگ بھگ پچیس سال رہی ہوگی۔ جسم مائل بہ فریبی تھا۔ اس نے سفید شلوار کے اوپر پھول دار قمیض پہن رکھی تھی۔ پاؤں میں عام سی زنانہ سینڈل تھی۔ اس سینڈل کو دیکھ کر میرے ذہن میں ایک خیال سرسرایا، لیکن یہ خیال اتنا غیر واضح تھا کہ میں اس پر توجہ نہ دے سکا۔
میں اکڑوں بیٹھ کر لاش کا معائنہ کرنے لگا۔ لاش جس جگہ پڑی تھی، اس کو دیکھ کر مجھے یہ سمجھنے میں قطعی کوئی وقت نہ لگا کہ اس عورت کو قتل بھی وہیں کیا گیا تھا۔ عورت کی شہ رگ کاٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ گردن کٹنے سے بے تحاشا خون بہا تھا اور اس کی گواہی کھیتوں کی زمین دے رہی تھی۔ کوئی نہایت تیز دھار آلہ اس بدقسمت کی گردن پر آزمایا گیا تھا۔ اس کی لاش کو دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ وہ بلاشبہ ایک حسین اور پرکشش عورت رہی ہوگی، لیکن موت کے بے رحم تھپیڑے نے اس کی ساری خوبصورتی اور رعنائی کو ملیا میٹ کر دیا تھا۔ موت ایک سنگین اور سفاک حقیقت ہے جس کے آگے کسی کی پیش نہیں جاتی۔
میں لاش کا معائنہ کر ہی رہا تھا کہ ایک چیز نے مجھے چونکنے پر مجبور کر دیا۔ اس عورت نے اپنے بائیں ہاتھ کی انگشتِ شہادت میں چاندی کا ایک چھلا پہن رکھا تھا، جس میں چھوٹے چھوٹے سرخ نگینے جڑے ہوئے تھے۔ اس چھلے کو دیکھ کر میرے ذہن میں جیسے روشنی کا ایک تیز دھماکہ ہوا اور پلک جھپکتے میں مجھے یاد آ گیا کہ میں نے اسے پہلے کہاں دیکھا تھا۔ اسی کے ساتھ مقتولہ کی سینڈل والا خیال بھی واضح ہو گیا۔ میرے دل نے پکار کر کہا… میں نوری کی لاش پر کھڑا ہوں۔
میں نے مزید تصدیق کے لیے اس کی آنکھیں کھول کر دیکھیں تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی۔ اس کی آنکھوں کا رنگ بادامی تھا۔ گزشتہ رات جب وہ میرے کوارٹر پر آئی تھی تو میں نے اس کی سینڈل، آنکھیں اور چاندی کا یہی چھلا دیکھا تھا۔ یہ چھلا بھی ایک اتفاق سے نظر آ گیا تھا، ورنہ اس اللہ کی بندی نے خود کو اس طرح سر تا پا چادر میں لپیٹ رکھا تھا کہ اس کا ایک رَوَاں بھی دیکھنا ممکن نہیں تھا۔
میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ وہاں موجود لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے میں نے پوچھا، “تم میں سے کوئی اس عورت کو جانتا ہے؟”
سب نے لاش کی طرف دیکھا، پھر ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے اور آخرکار نفی میں سر ہلا کر اس کی شناخت سے انکار کر دیا۔
اگر وہ لوگ نوری کو نہیں جانتے تھے تو اس کا مطلب یہی تھا کہ اس کا تعلق احمد نگر جنوبی سے نہیں تھا۔ اس صورت حال نے میرے ذہن کو بری طرح الجھا دیا۔ نوری گزشتہ رات اپنی مظلومیت کی داستان لے کر میرے پاس آئی تھی اور اس نے خود کو کانسٹیبل مصطفیٰ کی بیوی ظاہر کیا تھا۔ نہ صرف یہ، بلکہ وہ خود کو مصطفیٰ کے دو بچوں جاوید اور نگہت کی ماں بھی کہہ رہی تھی، جبکہ مصطفیٰ کی ابھی شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔
میں نے ابھی تک مصطفیٰ کو نوری کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا، لیکن اب بتانے کا وقت آ گیا تھا۔ میں تھانے میں مصطفیٰ سے اسی موضوع پر بات کرنے والا تھا کہ عورت کے قتل کی اطلاع نے اس معاملے کو مؤخر کر دیا۔
مصطفیٰ سے بات کرنے سے پہلے میں نے ایک ضروری کام کی طرف توجہ دی۔ وہاں موجود لوگوں سے میں نے تحکمانہ انداز میں پوچھا، “تم سب لوگ جنوبی کے رہنے والے ہو یا تم میں سے کوئی شمالی سے بھی تعلق رکھتا ہے؟”
جواب ملا کہ سب افراد جنوبی کے رہنے والے ہیں۔
میں نے ایک نوجوان کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا، “جوان! تمہارا نام کیا ہے؟”
“فرزند علی،” اس نے جواب دیا۔
میں نے کہا، “فرزند علی! تم بھاگ کر احمد نگر شمالی جاؤ اور وہاں سے چار پانچ آدمیوں کو لے کر فوراً یہاں آؤ، تاکہ لاش کی شناخت ہو سکے۔”
“جی، میں جاتا ہوں،” وہ عزم سے بولا۔
میں نے تاکید کی، “دیر نہیں ہونی چاہیے، فوراً جاؤ اور جلد واپس آؤ۔”
وہ چٹکی بجاتا ہوا وہاں سے روانہ ہو گیا۔
میں دوبارہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا، “یہ کھیت کس کی ملکیت ہے؟”
ایک شخص نے جواب دیا، “یہ کھیت بابا جلال دین کے ہیں۔”
اس کی بات ختم ہوئی ہی تھی کہ ایک پکی عمر کا شخص آگے بڑھا اور بولا، “میں ہوں جی جلال دین۔”
اس کی عمر پینسٹھ کے قریب ہوگی۔ وہ ایک جفاکش اور صحت مند بوڑھا تھا۔ رنگ سانولا، سر پر پگڑی، اور چہرے پر چھوٹی سی داڑھی جس کے بال مکمل سفید ہو چکے تھے، جو اس کی شخصیت کو پُراثر بناتے تھے۔
میں نے اس سے کہا، “بابا! کیا تمہارے پاس کوئی چادر یا کپڑا ہے؟”
وہ گیا اور ایک چادر لے آیا۔ “میں پٹھوں کے لیے یہ چادر لایا تھا، آپ لے لیں،” اس نے چادر میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
میں نے اس کے ہاتھ سے چادر لے کر نوری کی لاش پر ڈال دی، پھر بابا جلال دین سے پوچھا…
“تمہیں کب پتہ چلا اس واردات کے بارے میں؟”
یہ بات شاید میں آپ کو بتانا بھول گیا تھا کہ نوری کی لاش کو بابا جلال دین نے دریافت کیا تھا اور اسی نے اپنے بیٹے سلطان کو تھانے دوڑا کر اس سانحے کی اطلاع دی تھی۔ جلال دین نے میرے سوال کے جواب میں بتایا، “تھانے دار صاحب! میں اور میرا بیٹا سلطان آج صبح حسبِ معمول کھیتوں میں آئے اور اپنا کام شروع کر دیا۔ پہلے ہمیں اپنے مویشیوں کے لیے پٹھوں وغیرہ کا بندوبست کرنا تھا، لہٰذا ہم اسی کام میں جت گئے۔ میں درانتی سے پٹھے کاٹتا ہوا کھیت کے اندر آگے بڑھ رہا تھا کہ اس عورت کی لاش پر میری نظر پڑ گئی۔”
اس نے نوری کی لاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک جھرجھری لی اور اپنی بات جاری رکھی، “میں نے فوراً کام روک دیا اور اپنے بیٹے کو آواز دے کر بلایا۔ سلطان کھیت کے دوسرے حصے میں پٹھے کاٹ رہا تھا۔ میری پکار پر وہ بھاگتا ہوا آ گیا، اور لاش دیکھ کر وہ بھی میری طرح خوفزدہ اور پریشان ہو گیا۔ ہم کچھ دیر تک اس لاش کے بارے میں سوچتے اور ڈرتے رہے، پھر آس پاس کے کھیتوں میں کام کرنے والوں کو بلا لیا۔ انہی میں سے کسی نے مشورہ دیا کہ فوراً تھانے کو اطلاع دی جائے، چنانچہ میں نے سلطان کو آپ کی طرف دوڑا دیا۔”
بابا جلال دین کے بیان میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جس سے لاش کے بارے میں کوئی مفید معلومات حاصل ہو سکتی۔ میں نے وہاں موجود افراد سے فرداً فرداً مختلف زاویوں سے سوال کیے، لیکن کوئی ایسا نکتہ سامنے نہ آیا جس سے مقتولہ کی شناخت ہو پاتی یا اس کے قتل کا محرک معلوم ہوتا۔ نوری کی شناخت کا معاملہ لٹک کر رہ گیا۔ اگر میں اسے نوری کہہ رہا ہوں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کا اصل نام یہی تھا۔ یہ تو وہ نام تھا جو اس نے گزشتہ رات مجھے بتایا تھا، اور اس کے متعدد جھوٹ سامنے آنے کے بعد اب یہ نام بھی فرضی معلوم ہو رہا تھا۔
میں نے کانسٹیبل مصطفیٰ کو ایک طرف بلایا اور لوگوں سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر دھیمے لہجے میں بات کرنے لگا۔ میں نے پوچھا، “کیا تم مقتولہ کو نہیں جانتے؟”
اس نے سنجیدگی سے جواب دیا، “ملک صاحب! اگر مجھے اس بدقسمت عورت کے بارے میں ایک لفظ بھی معلوم ہوتا تو میں خاموش نہ رہتا۔ میں نے زندگی میں پہلی بار اسے دیکھا ہے۔”
میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا، “اس کا نام غالباً نوری ہے۔”
مصطفیٰ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا، پھر الجھن زدہ انداز میں بولا، “نوری؟ یہ نام تو آپ پہلے بھی لے چکے ہیں… ہاں، اب یاد آیا، آپ نے پوچھا تھا کہ کیا نوری میری بیوی نہیں! ملک صاحب، یہ نوری کا کیا چکر ہے؟”
میں نے لاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “چکر تمہارے سامنے ہے۔”
وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر بولا، “خدا کے واسطے مجھے صاف صاف سمجھائیں، ورنہ میرا دماغ پھٹ جائے گا!”
میں نے سنجیدگی سے کہا، “مصطفیٰ! اس عورت نے مجھے اپنا نام نوری بتایا تھا۔ گزشتہ رات یہ تمہاری شکایت لے کر میرے کوارٹر میں آئی تھی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ یہ تمہاری بیوی ہے اور اس کے بطن سے تمہارے دو بچے بھی ہیں۔ اسی لیے میں آج صبح تم سے وہ سوالات کر رہا تھا۔”
وہ حیرت سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولا، “میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس عورت نے خود کو مجھ سے منسوب کر کے اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا۔ میں تو اسے جانتا تک نہیں!”
میں نے کہا، “یہ معاملہ فی الحال میری سمجھ سے بھی باہر ہے۔ مصطفیٰ! ہمیں مل کر اس عورت کے راز تک پہنچنا ہوگا۔ کیا میں تم پر اعتماد کر سکتا ہوں؟”
میرے اس سوال میں خاصی اہمیت تھی۔ مصطفیٰ نے میری آنکھوں میں دیکھ کر سنجیدگی سے کہا، “ملک صاحب! میں زبانی یقین دہانی نہیں کروا سکتا، لیکن آپ مجھ پر اعتماد کر کے قدم اٹھائیں، میرا عمل سب کچھ ثابت کر دے گا۔”
میں نے اطمینان سے اسے دیکھا اور کہا، “مجھے تم سے ایسے ہی جواب کی توقع تھی۔ بڑے بڑے دعوے کرنے والے اکثر کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے، میں تم پر اعتبار کر کے غلطی نہیں کروں گا۔”
وہ بولا، “آپ میری عزت افزائی کر رہے ہیں، اور یہ میرے لیے باعثِ فخر ہے۔”
اس کے بعد میں نے اسے گزشتہ رات اپنے کوارٹر میں پیش آنے والا سارا واقعہ تفصیل سے سنا دیا۔ پوری بات سننے کے بعد وہ سوچ میں پڑ گیا اور بولا، “یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اس عورت نے میرا نام کیوں استعمال کیا۔ یقیناً اس کے پیچھے کوئی گہرا مقصد تھا۔”
میں نے کہا، “ہمیں اسی مقصد تک پہنچنا ہے، اور یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ اس کا قاتل کون ہے۔”
وہ چادر میں ڈھکی لاش کی طرف دیکھتے ہوئے بولا، “مجھے لگتا ہے، اس عورت کو کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت استعمال کر کے بڑی بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔”
میں نے کہا، “تم بالکل میرے انداز میں سوچ رہے ہو، مصطفیٰ۔ مجھے لگتا ہے ہماری خوب بنے گی۔ اصل مجرم وہ ہے جس نے نوری کو اپنے کسی مقصد کے لیے استعمال کیا اور پھر اسے ختم کروا دیا۔ ہمیں جلد
از جلد اس ذہن تک پہنچنا ہوگا۔”
مصطفیٰ نے اثبات میں سر ہلایا اور بولا، “ملک صاحب! مقتولہ کے جھوٹ سامنے آنے کے بعد یہ ضروری نہیں کہ اس کا نام نوری ہی ہو…”

