السلام علیکم! میں ہوں فرزانہ خان، اور آپ دیکھ رہے ہیں ہمارا چینل جہاں ہم آپ کے لیے لاتے ہیں پراسرار، خوفناک اور دل دہلا دینے والی سچی کہانیاں۔ آج کی کہانی ہمیں ایک ایسے شخص نے شیئر کی ہے جو کچھ وجوہات کی بنا پر اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ اس نے جو کچھ ہمارے ساتھ شیئر کیا ہے، وہ اتنا عجیب اور خوفناک ہے کہ شاید آپ نے اس جیسی کہانی پہلے کبھی نہ سنی ہو۔
آج کی اسٹوری کا نام ہے: “My Last Night as a Food Delivery Driver.”
یہ ایک ایسے ڈلیوری ڈرائیور کی کہانی ہے جس کی ایک عام سی رات اچانک ایک ڈراؤنے خواب میں بدل گئی۔ ایک ایسا آرڈر… جسے قبول کرنا شاید اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہونے والا تھا۔
اگر آپ کو اس طرح کی سچی اور خوفناک کہانیاں سننا پسند ہے تو چینل کو ضرور سبسکرائب کریں، ویڈیو کو لائک کریں اور بیل آئیکن دبانا نہ بھولیں تاکہ ہماری آنے والی دلچسپ اور پراسرار کہانیاں آپ تک سب سے پہلے پہنچ سکیں۔
تو آئیے… زیادہ دیر کیے بغیر شروع کرتے ہیں آج کی کہانی۔
اس رات کچھ نہ کچھ ضرور غلط تھا، اور مجھے اس کا احساس اسی وقت سے ہو رہا تھا جب میں نے آخری آرڈر قبول کیا تھا۔ عام طور پر میں رات کے گیارہ بجے کے بعد آرڈر نہیں لیتا تھا، لیکن اس دن پیسوں کی سخت ضرورت تھی، اس لیے موبائل اسکرین پر آرڈر پاپ اپ ہوتے ہی میں نے بغیر زیادہ سوچے اسے قبول کر لیا۔ ریسٹورنٹ شہر کے ایک چھوٹے سے علاقے میں تھا جہاں میں اکثر جاتا تھا، مگر جب میں وہاں پہنچا تو کچن تقریباً بند ہونے والا تھا اور اندر صرف ایک لڑکا صفائی کر رہا تھا۔ میں نے موبائل اسکرین اس کے سامنے کی اور کہا کہ میں یہ آرڈر لینے آیا ہوں۔ اس نے چند سیکنڈ اسکرین کو دیکھا اور حیرانی سے پوچھا کہ کیا یہ آرڈر ابھی آیا ہے، کیونکہ وہ لوگ تو ابھی ایپ بند کرنے والے تھے۔ پھر اس نے کاؤنٹر کے نیچے سے ایک پیکٹ نکالا جو پہلے سے پیک تھا، جو مجھے تھوڑا عجیب لگا کیونکہ عام طور پر کھانا آرڈر آنے کے بعد تیار کیا جاتا ہے، لیکن میں نے زیادہ سوال نہیں کیے، پیکٹ لیا، آرڈر کنفرم کیا اور باہر نکل آیا۔
پتہ شہر کے آخری کنارے کا تھا، وہ علاقہ جہاں اسٹریٹ لائٹس بھی کم ہوتی ہیں اور رات کے وقت سڑکیں تقریباً خالی ہو جاتی ہیں۔ میں نے بائیک اسٹارٹ کی اور جی پی ایس فالو کرنا شروع کر دیا۔ شروع میں سب ٹھیک تھا، مگر آہستہ آہستہ سڑکیں سنسان ہوتی گئیں اور گاڑیاں کم ہوتی گئیں، یہاں تک کہ کچھ دیر بعد ایسا محسوس ہونے لگا جیسے میں شہر سے باہر نکل آیا ہوں۔ ہوا ٹھنڈی ہو چکی تھی اور اردگرد عجیب سا سناٹا تھا۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ جی پی ایس مجھے ایک ایسی گلی میں لے جا رہا ہے جہاں میں پہلے کبھی نہیں گیا تھا۔ وہ گلی بہت تنگ تھی، دونوں طرف پرانے گھر تھے جن کی دیواروں پر نمی کے داغ تھے، اور وہاں کوئی روشنی نہیں تھی، صرف میری بائیک کی ہیڈ لائٹ ہی اندھیرے کو چیر رہی تھی۔
میں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک مجھے لگا جیسے کسی نے پردے کے پیچھے سے مجھے دیکھا ہو۔ میں نے فوراً سر گھما کر دیکھا لیکن وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ شاید یہ میرا وہم ہے۔ آخرکار جی پی ایس نے بتایا کہ میں منزل کے قریب پہنچ چکا ہوں، مگر جب میں رکا تو میرے سامنے جو جگہ تھی وہ کوئی گھر نہیں بلکہ ایک پرانی اور خستہ حال عمارت تھی۔ دروازے پر زنگ لگا ہوا تھا اور کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، ایسا لگ رہا تھا جیسے وہاں سالوں سے کوئی نہیں رہا۔ میں نے موبائل دوبارہ دیکھا تو ایڈریس بالکل یہی تھا۔ میں نے ایپ میں کال بٹن دبایا تو فون بجنے لگا، اور اس کی رنگ ٹون واضح طور پر عمارت کے اندر سے آ رہی تھی۔
میں فوراً ساکت ہو گیا اور میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ چند سیکنڈ بعد فون کٹ گیا اور فوراً میرے موبائل پر ایک میسج آیا: “کھانا دروازے کے سامنے رکھ دو، دروازہ مت کھٹکھٹانا۔” میں نے ایک بار پھر اس ویران عمارت کو دیکھا، کیونکہ یہ جگہ بالکل سنسان لگ رہی تھی، لیکن کام تو کام تھا۔ میں بائیک سے اترا، پیکٹ اٹھایا اور آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ جیسے ہی میں دروازے کے قریب پہنچا، اندر سے ایک ہلکی سی آواز سنائی دی، جیسے کوئی بہت آہستہ آہستہ قدم رکھ رہا ہو۔
اچانک ایسا لگا جیسے کوئی گھسیٹتے ہوئے چل رہا ہو اور میری ریڑھ کی ہڈی میں سردی سی دوڑ گئی۔ میں نے جلدی سے کھانے کا پیکٹ زمین پر رکھا اور موبائل سے تصویر لے کر اپلوڈ کرنے کے لیے جھکا، لیکن جیسے ہی میں نیچے ہوا تو دروازے کے نیچے سے کچھ نظر آیا۔ اندر روشنی نہیں تھی مگر دروازے کے نیچے ایک سایہ واضح دکھائی دے رہا تھا، جیسے کوئی بالکل دروازے کے پیچھے کھڑا ہو اور بالکل حرکت نہ کر رہا ہو۔ مجھے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ شخص مجھے دیکھ رہا ہے، اور میرا ہاتھ کانپ رہا تھا جب میں تصویر لینے کی کوشش کر رہا تھا۔ اچانک دروازے کے نیچے سے ایک کاغذ باہر سرکا، جسے میں نے چند لمحے تک گھورنے کے بعد آہستہ سے اٹھایا، اور اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا: “تم بہت دیر سے آئے ہو۔”
میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا اور میں فوراً مڑ کر بائیک کی طرف چلنے لگا، مگر جب میں بائیک کے پاس پہنچا تو میں رک گیا، کیونکہ اس کے ساتھ ایک آدمی کھڑا تھا۔ میں قسم کھا کر کہہ سکتا تھا کہ جب میں بائیک سے اترا تھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ آدمی لمبا تھا اور اس کا چہرہ اندھیرے میں واضح نظر نہیں آ رہا تھا، بس وہ خاموشی سے میری بائیک کے پاس کھڑا تھا۔ اس نے دھیمی آواز میں پوچھا، “تم ڈلیوری والے ہو؟” میں نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا، “ہاں…” پھر وہ چند قدم آگے بڑھا اور بائیک کی روشنی اس کے چہرے پر پڑی۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی، مگر اس کی آنکھیں میرے بجائے میرے پیچھے، عمارت کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
میں نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا تو دروازہ اب کھلا ہوا تھا اور اندر مکمل اندھیرا تھا۔ وہ آدمی دوبارہ بولا، “کیا تم اندر نہیں جا رہے؟” میں نے فوراً جواب دیا، “نہیں، ڈلیوری ہو گئی ہے۔” وہ آہستہ سے ہنسا اور بولا، “لیکن اصل آرڈر تو ابھی شروع ہوا ہے۔” میری سانس جیسے رک گئی اور میں نے گھبرا کر پوچھا، “کیا مطلب؟” وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بہت آہستہ بولا، “کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ آرڈر انسان نہیں کرتے؟” اس کے الفاظ سن کر میری ٹانگیں جیسے زمین میں جم گئیں اور میرے دل کی دھڑکن اور تیز ہو گئی۔
اسی لمحے میرے موبائل پر ایک نیا آرڈر پاپ اپ ہوا۔ جب میں نے اسکرین دیکھی تو میری سانس رک گئی، کیونکہ ریسٹورنٹ وہی تھا جہاں سے میں ابھی آیا تھا اور ایڈریس بھی وہی عمارت تھی جس کے سامنے میں کھڑا تھا۔ لیکن اس بار آرڈر کے نوٹ میں صرف ایک جملہ لکھا تھا: “اس بار اندر لے کر آنا۔” اسی وقت عمارت کے اندر سے کسی کے تیزی سے دوڑنے کی آواز آئی اور دروازہ آہستہ آہستہ مزید کھلنے لگا۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنا خوف محسوس نہیں کیا تھا، اور اسی لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ شاید یہ واقعی میری آخری رات بطور فوڈ ڈلیوری ڈرائیور تھی۔
دروازہ آہستہ آہستہ مزید کھلنے لگا، جیسے اندر سے کوئی اسے پوری طاقت سے نہیں بلکہ بہت آہستگی سے دھکیل رہا ہو۔ لکڑی کی چرچراہٹ سنسان گلی میں بہت واضح سنائی دے رہی تھی اور میری سانس بھاری ہوتی جا رہی تھی۔ میں نے ایک قدم پیچھے لیا جبکہ وہ آدمی اب بھی میری بائیک کے پاس کھڑا تھا اور حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ ذرا بھی خوفزدہ نہیں لگ رہا تھا۔ وہ بس خاموشی سے میرے اور اس عمارت کے درمیان دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے دھیمی آواز میں کہا، “اندر جاؤ۔” میں نے فوراً سر ہلایا اور کہا، “نہیں… میرا کام ختم ہو گیا ہے۔” وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا، “تمہارا کام ابھی شروع ہوا ہے۔”
اسی لمحے میرا موبائل دوبارہ وائبریٹ ہوا اور اسکرین پر نوٹیفکیشن آیا: “Customer is waiting.” میری ریڑھ کی ہڈی میں سردی دوڑ گئی۔ میں نے جلدی سے ایپ کھولی تو آرڈر اب بھی ایکٹیو تھا، حالانکہ میں تصویر اپلوڈ کر چکا تھا۔ پھر ایک اور میسج آیا: “Food not received.” میری نظر فوراً دروازے کے سامنے گئی، مگر پیکٹ وہاں نہیں تھا۔ میں چند لمحوں تک خالی زمین کو گھورتا رہا کیونکہ وہ پیکٹ ابھی چند لمحے پہلے ہی وہاں رکھا تھا۔ میں نے بائیک کے پاس کھڑے آدمی کی طرف دیکھا اور پوچھنے ہی والا تھا کہ کیا اس نے پیکٹ اٹھایا ہے، مگر وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگا اور بولا، “اب یہ تمہارا مسئلہ ہے۔” پھر وہ گلی کے اندھیرے میں چلتا ہوا چند لمحوں میں غائب ہو گیا۔
اب میں بالکل اکیلا تھا۔ میں نے دوبارہ عمارت کی طرف دیکھا تو دروازہ مکمل کھلا ہوا تھا اور اندر گھنا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ اس اندھیرے سے کسی کے سانس لینے کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے خود کو تسلی دینے کی کوشش کی کہ شاید اندر کوئی بوڑھا آدمی ہوگا، لیکن دل مسلسل کہہ رہا تھا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ میں آہستہ آہستہ دروازے کے قریب گیا تو اندر سے نم دیواروں اور کسی پرانی چیز کی بدبو آ رہی تھی۔ میں نے موبائل کی فلیش آن کی تو روشنی میں ایک لمبا سا کوریڈور نظر آیا، جس کے فرش پر مٹی جمی ہوئی تھی، جیسے سالوں سے یہاں کوئی نہ آیا ہو۔ مگر ایک چیز عجیب تھی: فرش پر تازہ قدموں کے نشان تھے، جیسے ابھی ابھی کوئی اندر گیا ہو۔
میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا جب میں نے ہمت کر کے ایک قدم اندر رکھا۔ فرش نے چرچراہٹ کی آواز کی اور میں فوراً رک گیا۔ چند لمحوں تک مکمل خاموشی رہی، پھر اوپر کہیں سے ہلکی سی آواز آئی، جیسے کوئی چیز گری ہو یا کسی نے قدم رکھا ہو۔ میں نے اوپر دیکھا تو پرانی لکڑی کی سیڑھیاں اندھیرے میں اوپر جاتی ہوئی نظر آئیں۔ اسی وقت میرے موبائل پر ایک نیا میسج آیا: “Bring the food upstairs.” میرے ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے۔ میں نے جلدی سے ٹائپ کیا، “کھانا تو آپ لے چکے ہیں۔” چند سیکنڈ بعد جواب آیا: “وہ میرا نہیں تھا۔”
میرا گلا خشک ہو گیا اور میں نے دوبارہ پوچھا، “کیا مطلب…؟” لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ اسی لمحے اوپر سے قدموں کی آواز سنائی دی، بہت بھاری قدم، جیسے کوئی آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر رہا ہو۔ ایک قدم… پھر دوسرا۔ میرا جسم جیسے سن ہو گیا تھا۔ میں نے فوراً موبائل کی روشنی سیڑھیوں کی طرف کی، مگر وہاں کوئی نظر نہیں آیا۔ اچانک آواز رک گئی اور مکمل خاموشی چھا گئی۔ پھر یکایک میرے پیچھے دروازہ زور سے بند ہو گیا۔ دھڑام! میں چونک کر مڑا تو دروازہ بند ہو چکا تھا، اور میں فوراً گھبرا کر اس کی طرف بھاگا۔
میں نے دروازے کا ہینڈل پکڑا اور پوری طاقت سے کھینچا، مگر دروازہ نہیں کھلا۔ میں نے دوبارہ زور لگایا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اسی لمحے میرے پیچھے سے ایک بہت قریب آواز آئی، “تم دیر سے آئے ہو۔” میرا دل جیسے رک گیا۔ میں نے آہستہ آہستہ پیچھے مڑ کر دیکھا تو سیڑھیوں کے نیچے ایک لمبا اور دبلا سا سایہ کھڑا تھا۔ موبائل کی روشنی اس کے چہرے تک نہیں پہنچ رہی تھی، بس اس کا جسم نظر آ رہا تھا۔ میں نے کانپتی آواز میں کہا، “میں… میں صرف ڈلیوری والا ہوں۔” وہ سایہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا اور جب روشنی اس کے چہرے تک پہنچی تو میرا خون جیسے جم گیا، کیونکہ اس کی آنکھیں غیر معمولی حد تک بڑی تھیں اور اس کی جلد اتنی سفید تھی جیسے اس نے کبھی سورج کی روشنی نہ دیکھی ہو۔
وہ مجھے گھور رہا تھا اور پھر بولا، “ہم تمہارا انتظار کر رہے تھے۔” میں نے گھبرا کر سر ہلایا اور کہا، “میں غلط جگہ آ گیا ہوں۔” مگر وہ عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، “نہیں، تم بالکل صحیح جگہ آئے ہو۔” اسی وقت اوپر سے قدموں کی آوازیں آنے لگیں، پہلے ایک، پھر دوسرا، پھر کئی اور۔ میں نے سیڑھیوں کی طرف دیکھا تو اندھیرے میں کئی سائے ہلتے ہوئے نظر آئے۔ میرے ہاتھ سے موبائل تقریباً گر گیا۔ وہ آدمی میرے قریب آ گیا اور دھیمی آواز میں بولا، “کیا تمہیں معلوم ہے کہ کچھ ایپس انسانوں کے لیے نہیں بنائی جاتیں؟” پھر اس نے کہا، “تم نے غلط آرڈر قبول کر لیا ہے۔”
اسی لمحے میرا موبائل دوبارہ وائبریٹ ہوا۔ اسکرین پر نوٹیفکیشن آیا: “New Order Accepted.” حالانکہ میں نے کوئی آرڈر قبول نہیں کیا تھا۔ جب میں نے تفصیل کھولی تو میری روح کانپ گئی۔ ریسٹورنٹ: Unknown، کسٹمر کا نام: You، اور ایڈریس: یہی عمارت۔ آرڈر نوٹ میں صرف ایک لفظ لکھا تھا: “Stay.” اسی وقت سیڑھیوں پر کھڑے سائے آہستہ آہستہ نیچے آنے لگے۔ ایک… پھر دوسرا… پھر تیسرا۔ وہ سب مجھے گھور رہے تھے، اور مجھے اچانک احساس ہوا کہ شاید یہ رات کبھی ختم نہیں ہونے والی۔
سیڑھیوں سے اترتے ہوئے لوگ اب واضح نظر آنے لگے تھے۔ وہ انسان جیسے تو تھے، مگر مکمل انسان نہیں لگ رہے تھے۔ ان کے جسم غیر معمولی حد تک دبلے تھے، کسی کے ہاتھ بہت لمبے تھے اور کسی کا سر عجیب زاویے پر جھکا ہوا تھا۔ ایک عورت تھی جس کے بال آدھے چہرے پر چپکے ہوئے تھے، ایک بوڑھا آدمی تھا جس کی گردن ٹیڑھی مڑی ہوئی تھی، اور ایک لڑکا تھا جس کے ہونٹ کے کنارے تک لمبی کٹ لگی ہوئی تھی۔ وہ سب مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے میں کوئی شکار ہوں۔ سیڑھیوں کے نیچے کھڑا وہ آدمی آہستہ سے بولا، “پہلی بار ہمیشہ مشکل ہوتی ہے… ہم سب کبھی تمہاری طرح تھے۔” جب میں نے حیرت سے پوچھا کہ کیا وہ سب ڈلیوری ڈرائیور تھے، تو اس نے سر ہلا کر کہا، “کبھی۔”
میں نے دوبارہ دروازہ کھولنے کی پوری کوشش کی، مگر وہ ہل بھی نہیں رہا تھا۔ اسی وقت میرے موبائل سے آواز آئی: “Order timer started.” اسکرین پر ٹائمر چل رہا تھا: 29:59۔ وہ آدمی مسکرایا اور بولا، “اگر ٹائمر ختم ہونے سے پہلے آرڈر مکمل نہ ہوا، تو تم بھی یہاں کے ہو جاؤ گے۔” میں نے گھبرا کر پوچھا کہ آرڈر مکمل کیسے ہوگا، تو اس نے آہستہ سے جواب دیا، “کھانا پہنچا کر… اوپر والے کو۔” اسی لمحے اوپر سے ایک گہری سانس کی آواز آئی، جیسے کوئی بہت بڑا وجود اندھیرے میں سانس لے رہا ہو۔ پھر اس نے فرش کی طرف اشارہ کیا۔ جب میں نے نیچے دیکھا تو وہی فوڈ پیکٹ وہاں پڑا تھا جو چند منٹ پہلے دروازے کے باہر تھا۔
میں نے کانپتے ہاتھوں سے پیکٹ اٹھایا۔ ٹائمر تیزی سے چل رہا تھا اور نیچے کھڑے لوگ راستہ چھوڑ کر سیڑھیوں کی طرف ہٹ گئے تھے، جیسے مجھے اوپر جانے کا راستہ دے رہے ہوں۔ میں آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ اوپر ایک لمبا اندھیرا کوریڈور تھا اور موبائل کی فلیش ہی واحد روشنی تھی۔ دیواروں پر خراشیں اور ہاتھوں کے نشان تھے۔ کوریڈور کے آخر میں ایک دروازہ تھا جو ہلکا ہلکا ہل رہا تھا۔ ٹائمر 21:03 دکھا رہا تھا جب میں دروازے کے سامنے پہنچا۔ اندر سے ایک گہری آواز آئی: “ڈلیوری…” میں نے کانپتے ہوئے جواب دیا، “ی… یس۔” پھر آواز آئی، “اندر آؤ۔”
میں نے دروازہ دھکا دیا۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، مگر درمیان میں ایک بہت بڑا سایہ بیٹھا تھا۔ اچانک اندھیرے میں دو بڑی آنکھیں کھل گئیں۔ میری سانس رک گئی۔ میں نے کانپتے ہوئے پیکٹ آگے بڑھایا اور کہا، “آپ کا آرڈر…” کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر وہ وجود آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگا۔ اسی لمحے میرے موبائل پر نوٹیفکیشن آیا: “Order Completed.” نیچے کہیں دروازہ کھلنے کی آواز آئی، مگر وہ وجود میرے بہت قریب آ چکا تھا۔ اس نے سر جھکا کر آہستہ سے کہا، “تم نے اچھا کام کیا… کیا تم ایک اور آرڈر لینا چاہو گے؟”
اسی لمحے میرے موبائل پر ایک نیا آرڈر پاپ اپ ہوا، اور اس بار کسٹمر کا ایڈریس میرا اپنا گھر تھا۔ میں نے اسی دن فوڈ ڈلیوری کی نوکری چھوڑ دی اور وہ ایپ ہمیشہ کے لیے ڈیلیٹ کر دی۔ لیکن کبھی کبھی رات کے تین بجے میرا فون خود بخود آن ہو جاتا ہے، اور اسکرین پر صرف ایک نوٹیفکیشن نظر آتا ہے: “Customer is waiting.” اور ہر بار مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی چیز
اب بھی میری اگلی ڈلیوری کا انتظار کر رہی ہو۔ 👁️👻

