اور آگے بڑھ کر کھلے ہوئے گیٹ کے پٹ پر دستک دینے لگا۔ میں نے عقب سے کہا، "مصطفیٰ! جب تک کوئی شخص مجرم یا کم از کم ملزم ثابت نہ ہو جائے، ہمیں اس کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں معمول کے مطابق اور شائستہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بغیر اجازت منہ اٹھا کر کسی کے گھر میں داخل ہو جانا اخلاقاً اور قانوناً جرم ہے۔ ہم تو قانون کے رکھوالوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر ہم ہی ان چھوٹے چھوٹے ضابطۂ اخلاق کا خیال نہیں رکھیں گے تو دوسروں کو قانون شکنی سے کیسے روک پائیں گے؟"
"آئی ایم سوری، ملک صاحب!" وہ شرمندگی سے بولا اور دوبارہ دستک دی۔
اس دستک کے جواب میں ایک ہٹا کٹا شخص نمودار ہوا۔ ہم پر نگاہ پڑتے ہی وہ گھبرا گیا۔ اس نے تاریکی کے باوجود بھی ہماری وردیاں دیکھ کر صورتِ حال کی سنگینی کو بھانپ لیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ اچانک بھاگ کھڑا ہوگا، لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اپنی کیفیت پر قابو پا لیا۔
بڑے منجھے ہوئے لہجے میں بولا، "آئیے، سرکار! آئیے... اس وقت ڈیرے کی طرف؟ خیریت تو ہے نا، تھانے دار صاحب؟"
اس کی بات سے بہت سی اہم چیزیں کھل کر سامنے آ گئیں۔ نمبر ایک، وہ ہمیں اس ڈیرے پر دیکھ کر گھبرا گیا تھا۔ نمبر دو، اسے اپنے اعصاب پر خاصا کنٹرول حاصل تھا، کیونکہ اس نے اپنی گھبراہٹ پر ایک لمحے میں قابو پا لیا تھا۔ اور نمبر تین، اس نے مجھے نئے تھانے دار کی حیثیت سے پہچان لیا تھا۔
بات ختم کرتے ہی اس نے ہمیں اندر آنے کا اشارہ بھی کر دیا، لہٰذا ہم ڈیرے میں داخل ہو گئے۔ کشادہ صحن میں تین چار چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں، جن میں سے ایک پر چادر بچھی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ ہم دونوں اس پہلوان نما شخص کی معیت میں چلتے ہوئے چارپائیوں کے قریب پہنچے۔ اس نے چادر بچھی چارپائی کی جانب اشارہ کر دیا۔ اب وہ مزید سنبھل چکا تھا۔
"بیٹھیں، مائی باپ! میرے لیے کیا حکم ہے؟"
"ہم بیٹھنے نہیں آئے،" میں نے ڈیرے میں ادھر اُدھر نگاہ دوڑاتے ہوئے کہا، "تمہارا ساتھی کہیں نظر نہیں آ رہا؟"
"اپنے گھر گیا ہے،" اس نے جواب دیا، اور اس جواب نے مجھے بتا دیا کہ اس وقت میں صرف قوبا سے ہم کلام تھا۔ "اس کی بیوی بیمار ہے۔" پھر وہ معنی خیز انداز میں ہنسا، "وہ اس احمق کو یوں ہی بےوقوف بناتی رہتی ہے۔ کل بھی وہ اس کی بیماری کا بہانہ بنا کر چلا گیا اور آج بھی اس نے یہی کیا ہے۔ لگتا ہے مجھے چودھری صاحب کو بتانا پڑے گا۔ میں ڈیرے پر اکیلا تو نہیں رہ سکتا نا! یا تو چودھری صاحب امتیاز کی بیوی کا علاج کروائیں یا پھر یہاں کے لیے کوئی دوسرا بندہ دیں۔ اب دیکھیے نا، میں آپ کی کوئی خدمت شدمت بھی نہیں کر سکتا۔"
اگر دوسرا بندہ موجود ہوتا تو میں اسے بھیج کر آپ کے لیے کچھ منگوا لیتا۔
اس نے سانس لیے بغیر مجھے جتنی معلومات فراہم کر دیں، میں نے ان کے لیے ایک بھی سوال نہیں کیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ وہ محض اوپر سے سنبھلا ہوا تھا؛ اندر اس کے اب بھی اچھی خاصی گڑبڑ چل رہی تھی۔
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خالص تھانے دارانہ لہجے میں کہا:
"قوبا! تم ہماری خدمت کے لیے زیادہ پریشان نہ ہو۔ ہم دراصل تمہاری خدمت کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ تمہیں چودھری دلدار اور امتیاز کی بیوی کے لیے بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کا علاج میں خود اپنی نگرانی میں کراؤں گا۔ تم اگر اپنی خیریت چاہتے ہو تو میں جو بھی پوچھوں، اس کا ٹھیک ٹھیک جواب دینا۔ میری بات تمہاری سمجھ میں آ رہی ہے نا؟"
"جناب! یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟" وہ ایک دم بے حد متفکر ہو گیا۔
میں نے کہا، "میں اس سے بھی زیادہ خطرناک اور سنگین باتیں کر سکتا ہوں۔ شکر کرو، ابھی تک تم آزاد کھڑے ہو، ورنہ یہی باتیں کرنے کے لیے میں تمہیں گرفتار کر کے تھانے بھی لے جا سکتا ہوں!"
اس کی الجھن اور پریشانی دوچند ہو گئی۔ میں نے ایک خاص مقصد کے تحت ابتدا ہی میں خاصا جارحانہ رویہ اختیار کیا تھا، تاکہ اس پر واضح ہو جائے کہ میں ذرا وکھری ٹائپ کا تھانے دار ہوں۔
وہ متذبذب حالت میں کھڑا، سہمی ہوئی نظر سے کبھی مجھے اور کبھی مصطفیٰ کو دیکھتا رہا، پھر لکنت زدہ انداز میں بولا،
"مائی باپ! بتائیں تو سہی، آخر معاملہ کیا ہے؟"
میں نے نہایت مختصر مگر جامع الفاظ میں اسے معاملے سے آگاہ کر دیا۔ پوری بات سن کر وہ بڑی شدت سے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولا،
"میں نہیں جانتا۔ آپ نے جو کچھ بھی پوچھا ہے، مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم۔ آپ یقین کریں، میں کچھ بھی..."
وہ بولتے بولتے جملہ ادھورا چھوڑ کر خاموش ہو گیا۔ اس کے انداز اور گھبراہٹ نے مجھے بتا دیا کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری کی پوری دال ہی کالی ہے۔
میں نے اس ڈیرے پر مزید تفتیش کرنا ضروری نہ سمجھا اور یعقوب عرف قوبا کو گرفتار کر کے تھانے لے آیا۔ اس کے لیے مناسب مقامِ تفتیش یہی ہو سکتا تھا۔
جب ہم تھانے پہنچنے والے تھے تو میں نے مصطفیٰ کو مخصوص اشارہ کیا اور بآوازِ بلند کہا،
"تم ذرا جا کر امتیاز کی بیوی کی خیریت معلوم کرو۔ قوبا کے بعد اس کا علاج بھی کرنا ہے، اور ہاں، صبح والی ڈیوٹی کو یاد رکھنا!"
وہ "اوکے سر" کہتا ہوا دوسرے راستے پر ہو لیا۔
میں نے مبہم اور معنی خیز انداز میں مصطفیٰ کو ہدایت کی تھی کہ وہ قوبا کے بیان کی تصدیق کے لیے امتیاز اور اس کی بیوی سے ضرور ملے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ امتیاز احمد نگر میں موجود بھی ہے یا نہیں۔ کھوجی تاج دین کے مطابق دو گھڑ سوار اس ڈیرے سے گھنے جنگل کی طرف گئے تھے۔ امتیاز کی غیر حاضری یہ سوچنے پر مجبور کرتی تھی کہ ان دو گھڑ سواروں میں کہیں ایک امتیاز ہی تو نہیں تھا...!
میں نے قوبا کو اپنے کمرے میں لا کر واشگاف الفاظ میں کہا،
"میں تمہیں بچنے کا آخری موقع دے رہا ہوں۔ اگر تم نے یہ موقع گنوا دیا تو سمجھ لو، تمہارا چودھری دلدار اور اس کا پورا خاندان بھی تمہیں پھانسی کے پھندے سے نہیں بچا سکے گا۔"
میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ بول اٹھا،
"میں نے کسی کو قتل نہیں کیا۔ آپ یقین کریں، میں قاتل نہیں ہوں۔ میں بے گناہ ہوں۔"
میں نے ڈانٹ کر کہا،
"تمہارے بے گناہ یا گناہ گار ہونے کا فیصلہ میں خود کروں گا۔ تم صرف میرے ان سوالات کے جوابات دو، اور اس نکتے کو ذہن میں رکھو کہ میں یہ سوالات دہراؤں گا نہیں، قطعاً نہیں۔"
میں نے ایک لمحے کا توقف کر کے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور انتہائی سفاک لہجے میں کہا،
"جس نامعلوم عورت کی لاش جنوبی کے کھیتوں میں سے ملی ہے، وہ کون تھی اور کہاں کی رہنے والی تھی؟ وہ گزشتہ رات، یعنی قتل ہونے سے پہلے، کس آدمی کے ساتھ تمہارے ڈیرے پر تھی؟ اس رات ڈیرے پر جو دو گھڑ سوار روانہ ہوئے، وہ کون تھے؟ وہ مقتولہ کو اپنے ساتھ کس کی مدد سے لے کر گئے تھے، اور ان کی منزل کہاں تھی؟ مذکورہ عورت کو قتل کرنے کے بعد وہ کہاں غائب ہو گئے؟"
میں نے ڈیرے پر بھی اور یہاں تھانے میں بھی قوبا کو یہ نہیں بتایا کہ میری ان تمام تر معلومات کا ذریعہ کیا ہے۔ کھوج کا کام ابھی اگلے روز بھی ہونا تھا، لہٰذا اس مشن کو خفیہ رکھنا ضروری تھا۔ اس سلسلے میں میں نے تاج دین اور مصطفیٰ کو بھی ہدایات دے کر سمجھا دیا تھا، تاہم اے ایس آئی شہزاد کی طرف سے مجھے کھٹکا تھا۔ جب سے یہ پتا چلا تھا کہ وہ چودھری دلدار سے گہرے روابط رکھتا ہے، بہت زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت تھی۔ وہ کم بخت یہ بات جانتا تھا کہ میں نے کھوجی تاج دین کو تھانے بلوا کر کوئی اہم ذمہ داری سونپی تھی۔
قوبا نے وحشت زدہ نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے وہ تمام سوالات سنے اور ایک مرتبہ پھر نفی میں گردن ہلانے لگا۔
"آپ یقین کریں، تھانے دار صاحب!" اس نے شروع ہی کیا تھا کہ میں نے ایک زوردار ڈانٹ پلا کر اسے چپ کرا دیا۔ اس کی ڈھٹائی نے مجھے طیش دلا دیا تھا۔
میں نے سلگتے ہوئے لہجے میں کہا، "میں نے یقین کر لیا ہے کہ تم انسان نہیں بلکہ حیوان ہو۔ تم جیسے جنگلی درندے شرافت کی زبان نہیں سمجھتے، لہٰذا میں تمہیں سدھارنے کے لیے حوالدار جامی شاہ کے حوالے کر رہا ہوں۔ وہ خوفناک سے خوفناک تر درندوں کو بڑے نستعلیق انداز میں بولنا سکھا دیتا ہے!"
اور پھر میں نے جامی شاہ کو اپنے کمرے میں بلا لیا۔
"حکم، ملک صاحب!" جامی شاہ نے میرے پاس آ کر کہا اور تیز نظر سے قوبا کو گھورنے لگا۔
جامی شاہ ایک قدآور اور جری حوالدار تھا۔ اس کے چہرے کی کرختگی اس کی ہیبت کو مزید بڑھا دیتی تھی۔ اس کا رنگ تانبے کو شرماتا تھا۔ اس کی ایک آنکھ کمزور تھی، مگر وہ بھی ہر وقت سرخ رہتی تھی، جیسے خون میں نہائی ہوئی ہو۔
واضح کر دوں کہ جامی شاہ کے چہرے پر دیکھنے والوں کو دونوں آنکھیں ہی نظر آتی تھیں، لیکن صرف واقفانِ حال ہی جانتے تھے کہ ایک آنکھ میں روشنی نہیں۔ ناواقف اکثر دھوکا کھا جاتے تھے کہ جامی شاہ ان کی طرف دیکھ رہا ہے، جب کہ وہ مخالف سمت میں دیکھ رہا ہوتا تھا، اور اگر وہ اس کے برعکس سمجھتے تو نتیجہ بھی برعکس ہی برآمد ہوتا تھا۔
بہرحال، جامی شاہ کے گھورنے نے قوبا کو خاصا نروس کر دیا۔ اس پر رعب ڈالتے ہوئے میں نے معنی خیز لہجے میں کہا،
"شاہ جی! زندہ لوگوں کو قتل کر کے لاش میں بدلنا تو ایک عام سی بات ہے۔ میں ایک عدد لاش تمہارے حوالے کر رہا ہوں۔ تم اپنا ہنر آزماؤ اور اسے زندہ کر کے دکھا دو، ایسا کہ اس کی زبان کھل جائے۔ میری بات سمجھ رہے ہو نا؟"
وہ قوبا کو شکاری نظر سے تاڑتے ہوئے بولا،
"آپ فکر ہی نہ کریں، ملک صاحب! میں اس لاش کو نہ صرف زندہ کر دکھاؤں گا بلکہ اس کی زبان کو بھی ایسا رواں کر دوں گا جیسے کوئی برساتی پرنالہ بہتا ہو۔"
پھر وہ کسی قصائی کی طرح بڑے ماہرانہ انداز میں قوبا پر ہاتھ ڈالتے ہوئے کہنے لگا،
"آؤ، لاش جی! آپ کا پیارا پیارا سا پوست ماتم کرتے ہیں۔"
"اس سے کچھ نہیں پوچھنا، ایک سوال بھی نہیں کرنا،" میں نے تاکیدی لہجے میں جامی شاہ سے کہا، "صرف اسے اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ یہ میرے پوچھے ہوئے سوالات کے جوابات دینے کے لیے تیار ہو جائے!"
"او کے، ملک صاحب! اس کا پوست ماتم آپ کی ہدایت کے مطابق ہوگا۔"
حوالدار جامی شاہ نے "پوست ماتم" کی ترکیب خود ہی وضع کر رکھی تھی، اور اس کا مفہوم تھا ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والی تفتیش، جس کے دوران وہ ملزم کی پوست کے ساتھ ایسا سلوک کرتا تھا کہ اس کا حشر دیکھ کر ماتم کرنے کو جی چاہتا تھا۔ اس تفتیشی پوچھ گچھ کو اس نے "پوست ماتم" کا نام دے رکھا تھا۔ ویسے یہ ترکیب بڑی دلچسپ اور برمحل بھی تھی۔
جامی شاہ ملزم یعقوب عرف قوبا کو اپنے ساتھ ٹرائل روم کی طرف لے گیا تو میں نے اے ایس آئی شہزاد کو اپنے پاس بلا کر کہا:
"میں آرام کرنے کے لیے اپنے کوارٹر میں جا رہا ہوں۔ میری غیر موجودگی میں یہ تھانہ تمہارے حوالے ہے۔ اگر کوئی اہم بات ہو تو مجھے بلا لینا، ورنہ خود ہی تھانے داری کرتے رہنا۔"
وہ تشکر آمیز نظر سے میری جانب دیکھتے ہوئے بولا، "ملک صاحب! اس اعتماد کا بہت بہت شکریہ۔ آپ بہت ہی اچھے انسان ہیں۔"
اگر میں اس کی اصلیت سے واقف نہ ہو چکا ہوتا تو اس کی مکارانہ اداکاری کو حقیقت سمجھ بیٹھتا۔ میں نے اعتماد اور بھروسے والی باتیں ایک خاص مقصد کے تحت اس سے کی تھیں، تاکہ اسے اندازہ نہ ہو سکے کہ میں کس قسم کا قدم اٹھانے والا ہوں۔ اسے رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لیے یہ اعتبار بازی ضروری تھی۔
میں نے اسے مزید پختہ کرنے کی غرض سے کہا، "میں نے ابھی ایک ملزم جامی شاہ کے حوالے کیا ہے، اس کی طرف سے ذرا ہوشیار رہنا۔ مجھے پتا چلا ہے کہ یہ چودھری دلدار کا خاص آدمی ہے، اور اس تھانے میں چودھری کے وفادار بھی موجود ہیں۔"
میں نے لمحاتی توقف کر کے اس کے چہرے کے تاثرات نوٹ کیے۔ چودھری کے وفاداروں کے ذکر پر اس کی آنکھوں میں ایک معنی خیز رنگ سا ابھرا تھا۔ میں اس رنگ کی تہہ تک پہنچ گیا اور معتدل انداز میں اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا،
"یہ حوالدار جامی شاہ میری نظر میں بھروسے کا بندہ نہیں۔ تم اس پر گہری نگاہ رکھنا۔ مجھے شک ہے کہ یہ چودھری دلدار کے لیے اپنے دل میں خاصی گنجائش رکھتا ہے۔ کہیں یہ خاموشی سے قوبا کو حوالات سے فرار نہ کروا دے۔ تم میری بات سمجھ رہے ہو نا؟"
"اچھی طرح سمجھ رہا ہوں، ملک صاحب!" وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے رازدارانہ انداز میں بولا، "قوبا کو آپ میرے ہی حوالے سمجھیں۔ میں ملزم اور حوالدار دونوں پر کڑی نظر رکھوں گا۔ صبح آپ کو ملزم اسی حوالات میں موجود ملے گا۔"
میرا مقصد پورا ہو گیا۔ اب مجھے ایک سو ایک فیصد یقین تھا کہ قوبا واقعی کہیں نہیں جائے گا۔ اگر اپنے محلے یا علاقے کو چوریوں اور ڈکیتیوں سے محفوظ رکھنا ہو تو اس علاقے کے چوروں اور ڈاکوؤں کو چوکیداری کے فرائض سونپ دینے چاہئیں۔ مجھے یہ تو امید تھی کہ شہزاد، قوبا کی گرفتاری کی خبر کسی نہ کسی ذریعے سے چودھری تک ضرور پہنچائے گا، لیکن اب یہ اطمینان ہو گیا تھا کہ وہ اسے فرار ہونے میں کوئی مدد نہیں دے گا۔
میں اپنی سیٹ سے اٹھا تو شہزاد نے پوچھ لیا، "ویسے، ملک صاحب! قوبا کو آپ نے کس چکر میں گرفتار کیا ہے؟"
یہ سوال کرتے ہوئے اس نے بڑا محتاط انداز اختیار کیا تھا۔ میں نے سرسری لہجے میں کہہ دیا، "چکر کوئی خاص نہیں ہے۔ میں نے سنا ہے کہ وہ چودھری کے علم میں لائے بغیر جرائم پیشہ افراد کو ڈیرے پر پناہ دیتا ہے۔ بس اسی سلسلے میں اسے تھوڑی تفتیش سے گزارنا ہے۔ ہو سکتا ہے کوئی کام کی بات سامنے آ جائے۔"
وہ پُرمعنی انداز میں سر ہلا کر رہ گیا۔ میں نے اپنی الماری کھولی اور فائلوں کا پلندا باہر نکال لیا، پھر الماری کو تالا لگانے کے بعد میں اپنے کوارٹر کی جانب چل پڑا۔ یہ فائلیں میں کل رات بھی اپنے ساتھ لایا تھا، لیکن نوری کی آمد نے مجھے اس طرف توجہ دینے کا موقع نہ دیا، اور یہ سوچ کر میں انہیں تھانے سے اٹھا لایا تھا کہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر ان کا مطالعہ کروں گا۔ مگر آج کا دن اتنا ہنگامہ خیز گزرا تھا کہ اس کا مطالعہ تو کیا، مجھے سر کھجانے کی بھی فرصت میسر نہیں آ سکی تھی۔ اس عزم کے ساتھ انہیں ایک مرتبہ پھر کوارٹر لے آیا کہ آج کی رات میں ضرور ان کا جائزہ لینے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔
بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ انسان انہیں کرنے کی مضبوط نیت رکھتا ہے، لیکن وہ کسی نہ کسی وجہ سے التوا کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ یہ فائلوں والا معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔ یہ تھانے سے کوارٹر میں اور کوارٹر سے تھانے آ جا رہی تھیں، لیکن انہیں کھول کر دیکھنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ یہ تمام نہایت اہم معاملات سے متعلق فائلیں تھیں۔ اس رات میں نے ہر صورت انہیں کھول کر دیکھنے کا ارادہ کر رکھا تھا، لیکن میں جیسے ہی رات کے کھانے سے فارغ ہوا، ایک نئی مصروفیت میری منتظر تھی۔
میں عموماً رات کو کھانا عشاء کی نماز سے تھوڑا پہلے کھاتا تھا، اور نماز کی ادائیگی کے بعد اگر ہنگامی کام نہ ہوتا تو میں سونے کے لیے بستر پر لیٹ جاتا تھا۔ اس رات خاصی تاخیر سے کھانا کھایا تھا، لہٰذا نماز سے فارغ ہونے میں بھی اچھی خاصی دیر ہو گئی۔ لگ بھگ گیارہ بجے رات میں اپنی چارپائی پر آیا۔ اب میں تسلی سے ان اہم فائلوں کو دیکھنا چاہتا تھا جو چارپائی کے قریب چھوٹی میز پر رکھی تھیں۔
اسی لمحے کوارٹر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں صحن میں چارپائی ڈالے بیٹھا تھا۔ چونک کر بیرونی دروازے کی طرف دیکھا اور زیرِ لب بڑبڑایا، "اس وقت کون آ گیا؟"
دستک سن کر خود بخود میرا دھیان مقتولہ نوری کی طرف چلا گیا تھا۔ گزشتہ رات وہ مجھ سے ملنے کوارٹر پر آئی تھی اور اپنے دکھوں کی ایک جھوٹی کہانی سنا کر چلی گئی تھی۔ میں اس کی اس حرکت کو ابھی تک کسی خانے میں فٹ نہیں کر سکا تھا۔ اس نے بلا مقصد تو اتنا بڑا قدم نہیں اٹھایا ہوگا، لیکن مقصد واضح ہونے سے پہلے وہ اپنے حسرت ناک انجام سے دوچار ہو گئی تھی۔
اب اس کے قاتل ہی سے ساری امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ شخص اگر ہاتھ آ جاتا تو بہت سے سربستہ راز افشا ہو سکتے تھے۔
میں نے یہ سوچتے ہوئے کوارٹر کا دروازہ کھول دیا کہ شاید تھانے میں کوئی ایمرجنسی پیش آ گئی ہو اور کوئی مجھے بلانے کے لیے آیا ہو، لیکن کھلے ہوئے دروازے میں کانسٹیبل مصطفیٰ کی صورت دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ میں نے اسے اندر آنے کا راستہ دیا اور پوچھا، "خیریت تو ہے نا، مصطفیٰ! تم اس وقت؟"
"خیریت ہے، جناب!" اس نے کوارٹر کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا، "میں آپ کے جانے کے بعد سیدھا امتیاز کے گھر گیا تھا تاکہ قوبا کے بیان کی تصدیق ہو سکے۔ امتیاز تو گھر پر نہیں مل سکا۔ اس کی بیوی نغمہ سے میں نے تفصیلی بات کی ہے۔ اس نے چند اہم باتیں بتائی ہیں۔ میں نے سوچا فوراً آپ کے علم میں لے آؤں، اسی لیے اتنی رات کو زحمت دے رہا ہوں۔"
"زحمت کی کیا بات ہے،" میں نے بیرونی دروازہ بند کر کے اس کی طرف مڑتے ہوئے کہا، "اہم کام کے لیے تو تم مجھے رات کے کسی بھی پہر اٹھا سکتے ہو۔ ویسے میں ابھی تک جاگ ہی رہا تھا۔"
ایک لمحے کو رک کر میں نے اس سے پوچھا، "نغمہ نے کون سی کام کی باتیں بتائی ہیں؟ میں محسوس کر رہا ہوں کہ ان باتوں کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے نوری مرڈر کیس سے ہوگا۔"
"آپ کا اندازہ بالکل درست ہے، جناب!" وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا، "قوبا نے سراسر غلط بیانی سے کام لے کر ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر اس پر سختی کی جائے تو مجھے یقین ہے کہ ہم نوری کے قتل والا معمہ حل کر سکتے ہیں۔"
"قوبا کی تم فکر نہ کرو،" میں نے کہا، "میں نے اسے جامی شاہ کے حوالے کر دیا ہے۔ وہ اس کے گوشت پوست کا ماتم خاتم بڑے تسلی بخش انداز میں کر لے گا۔ تم سناؤ، نغمہ نے امتیاز کے بارے میں کیا بتایا ہے؟"
"پہلی بات تو یہ کہ نغمہ پچھلے دو مہینوں سے ذرا سی بھی بیمار نہیں ہوئی،" مصطفیٰ نے سنجیدہ لہجے میں بتایا، "قوبا نے اس کی بیماری کے سلسلے میں جھوٹ بولا ہے۔ دوسرے، امتیاز کے بارے میں بھی قوبا کی دروغ گوئی پکڑی گئی ہے۔ نغمہ کے مطابق امتیاز چودھری دلدار کے کسی ضروری کام سے کل صبح موضع جنڈیالہ کلاں گیا تھا اور بیوی کو بتایا تھا کہ دو دن کے بعد واپس آئے گا، یعنی اس کی واپسی کل ہوگی۔ بس یہی ہے ساری کہانی، جناب!"
مصطفیٰ کی بات سن کر میں گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ اب اس بات میں کسی شک و شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی کہ قوبا نے ہم سے ایک کھلا جھوٹ بولا تھا۔ جب بھی کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ کوئی خاص بات چھپانا چاہتا ہے۔ قوبا نے امتیاز کے حوالے سے غلط بیانی کی تھی، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ نہیں چاہتا کہ ہم امتیاز کے غیاب کے بارے میں حقائق تک پہنچ سکیں۔
اب دھیان ایک ہی طرف جاتا تھا کہ جو دو گھڑ سوار جائے وقوعہ پر پہنچے تھے، ان میں ایک یقیناً امتیاز ہی تھا۔ میں نے مصطفیٰ سے پوچھا، "یہ موضع جنڈیالہ کلاں کس طرف واقع ہے؟"
"جناب! یہ گاؤں یہاں سے انتہائی جنوب میں واقع ہے،" اس نے جواب دیا۔
... اس جیسے تھے۔ چھوٹے بڑے کے فرق کو واضح کرنے کے لیے ساتھ "کلاں" اور "خورد" لگا دیا گیا تھا۔ پھر زمین و جائیداد کی طرح خاندان کا بھی بٹوارہ ہو گیا۔ اب ان دونوں گاؤں میں دو مختلف خاندان اپنی اپنی چودھراہٹ جمائے بیٹھے ہیں، اگرچہ نام اب بھی جنڈیالہ خورد اور جنڈیالہ کلاں ہی ہے۔
.....
مصطفیٰ گاؤں کے فرق کو واضح کر رہا تھا اور جنگل کے حوالے سے میرا ذہن نوری کے قاتل کے تعاقب میں دوڑ رہا تھا۔ کھوجی تاج دین کے مطابق دونوں گھڑ سوار ایک خاص مقام سے گھنے جنگل میں داخل ہوئے تھے۔ اگر وہ مصطفیٰ کے بیان کردہ راستے پر سفر کرتے تو جنڈیالہ کلاں پہنچ جاتے۔ امتیاز کی بیوی نغمہ نے بتایا تھا کہ چودھری دلدار نے کسی ضروری کام سے امتیاز کو جنڈیالہ کلاں بھیج رکھا تھا۔ ہمیں یہ شک تھا کہ قوبا کے ڈیرے سے روانہ ہونے والے دو گھڑ سواروں میں سے ایک امتیاز تھا۔ یہ تمام کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر ایک زنجیر کی صورت اختیار کرتی جا رہی تھیں۔
میں انہی خیالوں میں مستغرق تھا کہ اس نے مجھے چونکا دیا۔
وہ پوچھ رہا تھا، "ملک صاحب! میرے لیے کیا حکم ہے؟ اگر میری ضرورت ہو تو میں ادھر ہی رک جاتا ہوں۔ نغمہ کے انکشاف نے حالات میں خاصی سنسنی دوڑا دی ہے۔ امتیاز کی ذات بہت زیادہ مشکوک نظر آنے لگی ہے۔"
"ہاں، صورتِ حال تو کچھ ایسی ہی ہے، مصطفیٰ! لیکن تمہیں یہاں رکنے کی ضرورت نہیں،" میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، "امتیاز کے حوالے سے میں بھی اسی انداز میں سوچ رہا ہوں جیسا کہ تم۔ بہرحال، صبح تک قوبا کی زبان بھی کھل جائے گی۔ میں ذرا اس کی کہانی بھی سن لوں، پھر آئندہ کے لیے لائحۂ عمل تیار کریں گے۔"
میں سانس لینے کے لیے رکا، پھر بات جاری رکھتے ہوئے کہا، "ویسے نغمہ کے مطابق امتیاز بھی کل ہی جنڈیالہ کلاں سے واپس آئے گا۔ وہ ہاتھ آ جائے تو اس کیس کی کڑیاں سیدھی طرح بیٹھ جائیں گی۔ تم پروگرام کے مطابق صبح آٹھ بجے جنگل کے اس حصے میں پہنچو جہاں سے تم نے کھوجی تاج دین کے ساتھ مل کر کھرے کا کام مکمل کرنا ہے، اور اگر واقعی ان دو گھڑ سواروں کا کھرا تم لوگوں کو موضع جنڈیالہ کلاں تک لے جاتا ہے تو پھر گاؤں میں گھوم پھر کر امتیاز کے بارے میں بھی کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنا!"
مصطفیٰ نے مجھے یقین دلایا کہ وہ میر
ی ہدایت کے عین مطابق عمل کرے گا۔ پھر وہ میرے کوارٹر سے رخصت ہو کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔

