میں ان دنوں ایک نو آموز مضمون نگار تھا اور مختلف رسائل میں اپنی کہانیاں بھیجا کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں اردو کے امتحان کی تیاری بھی کر رہا تھا۔ اسی دوران میں ایک انوکھی اور اچھوتی کہانی کی تلاش میں تھا، اور یہی تلاش مجھے کدمار پہاڑوں تک لے گئی، جو ضلع سوات کے کالو خان گاؤں کے قریب واقع ہیں۔
وہاں چیڑ، شہتوت، پیپل اور سفیدے کے درختوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ دور تک پھیلا ہوا تھا۔ اسی جگہ میری ملاقات ایک بوڑھے شخص سے ہوئی۔ وہ پہاڑ کے سامنے ایک بڑے آم اور کینو کے باغ کے قریب رہتا تھا، جو آج تک موجود ہے اور اسی بوڑھے کی ملکیت ہے۔
باغ کے درمیان پھیلی ہوئی نرم گھاس آنکھوں کو تازگی بخش رہی تھی، اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی نے سبز قالین بچھا دیا ہو۔
اس بوڑھے سے میری ملاقات اس طرح ہوئی کہ وہ آگ جلانے کے لیے کافی سُکھی لکڑیاں اکٹھی کیے ہوئے تھا اور ان کا گٹھا اپنے سر پر رکھے چلا جا رہا تھا۔ بوجھ کافی زیادہ تھا، اور وہ چلنے میں دشواری محسوس کر رہا تھا۔
میں فطرتاً نرم دل واقع ہوا ہوں، اس لیے میں نے اس بوڑھے کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اس کے سر سے لکڑیوں کا گٹھا اتار لیا اور اپنی فائل اس کے ہاتھ میں تھما کر خود وہ بوجھ اٹھا لیا اور اس کے آگے آگے چلنے لگا۔
وہ دیہاتی انداز میں مجھے دعائیں دیتا جا رہا تھا۔ منزل پر پہنچ کر میں نے گٹھا نیچے رکھا اور اس سے واپسی کی اجازت مانگی، لیکن وہ مجھے آسانی سے جانے دینے والا نہ تھا۔
اسی وقت مجھے یہ احساس ہوا کہ دیہاتی لوگ، خاص طور پر پٹھان، احسان یاد رکھنے اور مہمان نوازی میں بے مثال ہوتے ہیں۔
اس نے اپنے گھر کی مکئی کی روٹی اور سرسوں کا ساگ گرم گرم لا کر میرے سامنے رکھ دیا۔
اس نے مجھے کھانا پیش کیا۔ میں نے وہ کھانا کھایا جس کا ذائقہ آج تک محسوس کرتا ہوں اور جسے میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ کھانے کے بعد چائے کا دور چلا، جس کے دوران ہم گپ شپ کرتے رہے۔
گفتگو کے دوران میں نے بوڑھے کو بتایا کہ میں ایک کہانی نویس ہوں اور نئی نئی کہانیوں کی تلاش میں رہتا ہوں۔ میری بات سن کر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک آ گئی اور وہ مسکرانے لگا۔ یہ دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ گویا اس کے پاس سنانے کے لیے کوئی دلچسپ کہانی موجود ہے۔
اس نے مجھے زبانی کہانی سنانے کے بجائے اندر جا کر ایک ڈائری نکالی اور کسی کام سے کھیتوں کی طرف جانے لگا۔ جاتے جاتے اس نے مجھے تاکید کی کہ اس کی غیر موجودگی میں میں آرام سے وہ ڈائری پڑھ سکتا ہوں۔
وہ چلا گیا اور میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ ڈائری کھولی۔ ڈائری میں یہ تحریر درج تھی:
"یہ لوگ میری بات کیوں نہیں مان رہے؟ یہ سچ ہے کہ میرا دل مذاق اور شرارت کرنے کو چاہتا ہے، لیکن یہ نہ مذاق ہے، نہ جھوٹ اور نہ ہی شرارت۔ وہ سب مجھے بلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں روز ان کے ساتھ کھیلنے آیا کروں—لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟
مجھے کام بھی کرنا ہوتا ہے، جس میں مجھے مدد دینی پڑتی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ مجھے اسکول کی پڑھائی بھی کرنی ہوتی ہے۔ پھر میں کس طرح ان لوگوں کے ساتھ کھیل سکتا ہوں؟
وہ چاروں نہ جانے کہاں سے ہمارے باغ میں آ جاتے ہیں۔ مجھے کچھ معلوم نہیں۔ میں آس پاس کے تمام گاؤں کے لوگوں کو جانتا ہوں، مگر یہ چاروں کسی بھی قریبی گاؤں کے نہیں ہیں۔
ان میں تین لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔ لڑکوں کے نام سُنان اور ہُمران ہیں، اور لڑکی کا نام شَیامتا ہے۔ ان سے میری ملاقات بھی ایک عجیب انداز میں ہوئی تھی۔
وہ اس طرح کہ ایک دن میں باغ میں پودوں کے درمیان..."
"...کو پانی دے رہا تھا۔ اُس دن ابا بخار میں مبتلا تھے، اس لیے مجھے اکیلے باغ میں آنا پڑا۔ میں پودوں کو پانی دے رہا تھا کہ اچانک مجھے ہنسنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے ادھر اُدھر دیکھا، مگر کوئی نظر نہ آیا۔ میں نے وہم سمجھ کر سر جھٹکا اور دوبارہ کام میں مصروف ہو گیا۔
کچھ ہی دیر بعد ہنسنے کی آواز دوبارہ سنائی دی۔ اس بار جب میں نے غور سے دیکھا تو حیران رہ گیا۔ وہاں دو تین لڑکے اور ایک لڑکی موجود تھے، جو آپس میں کھیل کود میں مشغول تھے۔
میں بے اختیار تھوڑا سا آگے بڑھا، تو میری حیرت اور بھی بڑھ گئی، کیونکہ وہ سب میرے لیے بالکل اجنبی تھے۔ مگر میری حیرت کی وجہ صرف ان کا اجنبی ہونا نہیں تھا، بلکہ ان کا لباس تھا، جو نہایت عجیب اور انوکھا تھا۔ ایسا لباس میں نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی قدیم زمانے کے شہزادے ہوں جو یہاں آ نکلے ہوں۔
ان کی صورتیں بھی بے حد خوبصورت تھیں۔ اگر میں ان کی خوبصورتی کو لفظوں میں بیان کرنا چاہوں تو شاید الفاظ کم پڑ جائیں۔ میں انہیں دیکھنے میں اس قدر محو ہو گیا کہ مجھے اندازہ ہی نہ ہوا کہ وہ کب میرے قریب آ گئے۔
"تم کون ہو، اور یہاں کیا کر رہے ہو؟" ان میں سے ایک نے پوچھا۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سی کشش تھی، جو مجھ پر اثر انداز ہو رہی تھی۔
میں نے گھبرا کر جواب دیا، "میں... میں پودوں کو پانی دے رہا ہوں۔"
دوسرے نے کہا، "ہم اس وقت یہاں کھیلتے ہیں، اور تم نے ہمیں پریشان کیا ہے۔"
تیسرے نے بھی اسی بات کی تائید کی۔
میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا، "مجھے معاف کر دیں، میرا ارادہ آپ لوگوں کو پریشان کرنے کا نہیں تھا۔ میں تو آپ سب کی خوبصورتی سے اس قدر متاثر ہو گیا تھا کہ بے اختیار یہاں آ گیا۔"
چاروں نے ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا۔
میں نے مزید کہا، "اگر میری وجہ سے آپ لوگ پریشان ہوئے ہیں تو میں ابھی چلا جاتا ہوں۔"
ان میں سے ایک لڑکی نے دھیمی آواز میں کہا، "ویسے لڑکا اچھا ہے، اگر یہ ہمارا دوست بن جائے تو؟"
میں پلٹنے ہی والا تھا کہ ان کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی، "سنو!"
میں رک گیا اور مڑ کر دیکھا۔
ان میں سے ایک نے کہا، "اگر تم ہمارے دوست بن جاؤ تو..."
"...سے جیسے میں اُن خوبصورت لوگوں کی دوستی کے قابل تھا، جنہیں چھونے سے میلا ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہو۔ چند ہی ملاقاتوں کے بعد ہماری دوستی پکی ہو گئی۔ خوشی میں وہ چاروں ناچنے لگے، اور میں بھی ہاتھ اٹھا کر ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔ وہ ایک عجیب اور پرجوش انداز میں رقص کر رہے تھے، اور میں بھی ان کا ساتھ دینے لگا۔
وقت گزرتا گیا اور ہماری دوستی گہری ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ میں ان کا اس قدر عادی ہو چکا تھا کہ ایک پل بھی ان کے بغیر رہنا میرے لیے مشکل ہو گیا۔
مجھے یاد ہے، منگل کا دن تھا اور میں بخار میں مبتلا بستر پر پڑا تھا۔ ابا کام پر جا چکے تھے۔ اچانک کسی کھٹکے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے آنکھیں کھول کر پہلے ادھر اُدھر دیکھا، پھر ابا کی چارپائی کی طرف نظر ڈالی—وہ خالی تھی۔ رات کا وقت تھا اور چاروں طرف گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا، ایسا سناٹا کہ اگر کوئی معمولی سی آواز بھی ہوتی تو دور تک سنائی دیتی۔
کھڑکی سے چاند کی مدھم اور دلکش روشنی اندر آ رہی تھی، جو میری چارپائی پر پھیل رہی تھی۔ میں کچھ دیر اسی روشنی کو دیکھتا رہا۔ پھر اچانک میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیران رہ گیا—دروازے پر شَیامتا کھڑی تھی۔
"تم حیران کیوں ہو؟ کیا میں یہاں نہیں آ سکتی؟" اس نے مسکرا کر پوچھا۔
میں نے کہا، "کیوں نہیں، مگر اس وقت؟"
وہ بولی، "تم آج کھیلنے نہیں آئے، اس لیے میں تمہاری خیریت پوچھنے آئی ہوں۔"
میں نے جواب دیا، "مجھے بخار تھا، اس لیے نہیں آ سکا۔"
اس نے پوچھا، "اب کیسے ہو؟"
میں نے کہا، "اب بخار کچھ کم ہو گیا ہے، مگر کمزوری ابھی باقی ہے۔"
اس نے کہا، "کیا تم میرے ساتھ باہر چل سکتے ہو؟"
میں نے فوراً جواب دیا، "کیوں نہیں، چلتے ہیں۔"
میں چارپائی سے نیچے اترا اور ہم دونوں باہر کی طرف چل پڑے۔ چاندنی درختوں سے چھن چھن کر زمین پر پڑ رہی تھی۔ ہر طرف خاموشی تھی اور ماحول نہایت خوابناک تھا۔ اس فضا کا اثر زیادہ تھا یا شَیامتا کے چہرے کی چمک، جو میرے دل پر ایک عجیب کیفیت طاری کر رہی تھی۔
وہ جوانی کے ابتدائی دن تھے، اور ویسے بھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ہر چیز خوبصورت لگنے لگتی ہے۔ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اُس وقت شَیامتا مجھے بہت اچھی لگ رہی تھی۔ یہ صرف اس کی ظاہری خوبصورتی نہ تھی، بلکہ اس کی آواز اور انداز میں بھی ایک ایسی کشش تھی جو میرے دل کے تار چھیڑ رہی تھی۔
میرے دل پر ایک عجیب سا سکون طاری تھا۔
"تم اتنی دیر سے خاموش کیوں ہو؟" شَیامتا نے پوچھا۔
میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، "میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ تمہیں میری دوستی کی قسم، کیا تم سچ سچ جواب دو گی؟"
اس نے کہا، "ٹھیک ہے، پوچھو۔"
میں نے کہا، "پہلی بات یہ کہ تم اس وقت یہاں کیسے آ گئی؟ اور دوسری بات یہ کہ میں اب تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ تم لوگ کہاں سے آتے ہو اور کہاں رہتے ہو؟"
میرے سوال پر اس نے غور سے میری طرف دیکھا اور ایک طرف ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔ چاندنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، اور وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔
اس نے کہا، "تم نے اتنی بڑی قسم دی ہے، تو مجھے سچ بتانا پڑے گا۔ سچ یہ ہے کہ ہمارا تعلق جنات سے ہے۔"
میں بے اختیار چونک اٹھا، "جنات؟"
وہ بولی، "ہاں، ہم جنات کی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک دن ہم اس علاقے میں..."
"...سے خوش تھے کہ اس دن ہماری برادری میں ایک شخص کی شادی تھی، اسی لیے ہمیں یہ علاقہ بہت پسند آیا اور ہم نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا۔"
اس نے بات مکمل کی تو میں نے پوچھا، "اور سُنان اور ہُمران؟"
اس نے میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کہا، "ہاں، وہ بھی میرے ہی ساتھی ہیں۔ جس دن ہم تمہاری نظر میں آئے، ہم نے سوچا کہ ایک انسان سے دوستی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔"
پھر وہ بولی، "تم سے دوستی ہونے کے بعد میں ہر روز تمہاری طرف کھنچتی چلی آئی۔ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے مجھے تم سے محبت ہو گئی ہو۔"
اس کا یہ اقرار میرے دل پر پھوار کی طرح برسا۔ میں یہ بھی بھول گیا کہ وہ جنات کی قوم سے تعلق رکھتی ہے۔ یوں ہماری محبت پروان چڑھتی گئی۔
شَیامتا نے خوشی کے عالم میں مجھے ایک خوبصورت سونے کا لاکٹ بھی پہنا دیا۔ پھر وہ وقت آیا جسے میں اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت دور سمجھتا ہوں۔
لیکن ایک دن ہمارے باغ میں ایک عجیب سا شخص آیا۔ اس کی شکل و صورت غیر معمولی تھی—وہ کسی پنڈت یا پجاری کی طرح لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے سے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کسی کی تلاش میں ہو۔
اچانک اس کی نظر مجھ پر پڑی۔ میں نے بھی اس کی طرف دیکھا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں، میرے وجود میں ایک جھٹکا سا لگا اور میرا سارا جسم سنسنا اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔
اس نے حکم دیا، "نیچے اترو!"
میں بے اختیار اس کے حکم کا پابند ہو گیا، جیسے کسی جادو کے زیرِ اثر ہوں۔ میں نیچے اتر آیا۔ پھر اس نے کہا، "تم تھکے ہوئے لگتے ہو، آؤ کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔"
میں بے اختیار اس کے پیچھے چل پڑا۔ اس نے میرا ہاتھ اس مضبوطی سے پکڑا جیسے اسے اندیشہ ہو کہ میں بھاگ نہ جاؤں۔ اس کی گرفت غیر معمولی طور پر سخت تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ مجھے کہاں لے جا رہا ہے۔
چلتے چلتے اچانک میرے ذہن میں ایک سنسناہٹ سی پیدا ہوئی، جو بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی لمحے میں نے اپنے آزاد ہاتھ سے شَیامتا کا دیا ہوا لاکٹ تھام لیا۔ جیسے ہی میں نے اسے پکڑا، مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے ننگی بجلی کے تار کو چھو لیا ہو۔
اسی کے ساتھ میرے اندر نہ جانے کہاں سے ایک عجیب سی طاقت پیدا ہو گئی۔ میں اس پنڈت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میری آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی ہوں۔
ہم دونوں کی نظریں کچھ دیر تک ٹکراتی رہیں۔ پھر اچانک اس پر جیسے کپکپی طاری ہو گئی، گویا شدید سردی نے اسے جکڑ لیا ہو۔ اس نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور مجھے غصے اور خوف بھری نظروں سے دیکھتا ہوا وہاں سے ہٹ گیا۔
میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور میں بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔
جب مجھے ہوش آیا تو میرا سر شَیامتا کی گود میں تھا۔ میں نے آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا، وہ مسکرا رہی تھی۔
میں نے ہکلاتے ہوئے پوچھا، "یہ سب کیا تھا؟"
وہ نرمی سے بولی، "یہ راز تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گا۔"
میں نے کہا، "شاید میں اب تک تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتا، سوائے اس کے کہ تم کون ہو۔ کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں؟"
وہ بولی، "وقت آ گیا ہے کہ میں تمہیں اپنے بارے میں سب کچھ بتا دوں۔ سنو احمد، میرا تعلق جنات کے اس گروہ سے ہے جس کی میں سردار ہوں۔ تبت کے شمال میں تین پہاڑیاں ہیں، جن پر سارا سال برف جمی رہتی ہے، اور اُن پہاڑوں کے..."
"...کے درمیان ایک سرسبز وادی ہے جسے تکونی وادی کہا جاتا ہے۔ اس وادی کے اردگرد ان تین پہاڑوں کی غاروں میں ہماری قوم کا بسیرا ہے۔ وہ برف پوش پہاڑ جہاں ہم ہزاروں سال سے آباد ہیں۔ ہمارا تعلق جنات کے ایک مسلمان قبیلے سے ہے۔
ہمارا قبیلہ نہایت طاقتور ہے، اور اس کی قوت حاصل کرنا ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس قبیلے کے سردار کو تابع کیا جائے، تب ہی باقی سب اس کےتابع ہو جاتے ہیں۔ اور چونکہ اس قبیلے کی سردار میں ہوں، اس لیے میں بے پناہ طاقتوں کی مالک بھی ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ بہت عرصے سے لوگ مجھے حاصل کرنے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں۔ بڑے بڑے عامل، پنڈت، یوگی اور پجاری ساری زندگی عملیات اور جاپ کرتے رہتے ہیں، مگر کامیاب نہیں ہو پاتے۔ ان میں سے کوئی آدھے راستے میں ہی جل کر خاک ہو جاتا ہے، اور کوئی خوف سے مر جاتا ہے۔"
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئی۔ میں پلک جھپکے بغیر اسے دیکھتا رہا۔ پھر وہ دوبارہ بولی:
"ان لوگوں کی نیتیں پاک نہیں ہوتیں۔ برسوں میں ایک بھی ایسا شخص نہیں آیا جو کسی نیک مقصد کے لیے مجھے حاصل کرنا چاہتا ہو۔ سب دنیا پر حکومت کرنے کے خواب دیکھتے رہے، مگر ان کے خواب چکنا چور ہو گئے اور وہ خود تباہ ہو گئے۔
لیکن ایک شخص ایسا بھی آیا تھا، جو اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کی مدد کے لیے مجھے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے جو کچھ کیا، دوسروں کے لیے کیا۔ جب وہ مشکلات جھیلتا ہوا تبت پہنچا، تو میں اپنے اس سچے چاہنے والے کے لیے اپنی غار سے باہر آئی۔
جب میں نے اسے دیکھا تو حیران رہ گئی۔ اس کا چہرہ نور سے بھرا ہوا تھا، جیسے خالص روشنی سے بنایا گیا ہو۔ اس کی سفید داڑھی اس کے رعب میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔ ایک ہاتھ میں تسبیح تھی اور دوسرے میں جائے نماز۔
اس کی ہیبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ میں—جو بے پناہ طاقتوں کی مالک اور جنات کی ملکہ شَیامتا تھی، جسے حاصل کرنے کے لیے دنیا بے تاب تھی—اپنی تمام طاقتیں بھول کر اس کے قدموں میں جا بیٹھی۔
مجھے بے اختیار رونا آ گیا، اور میں روتی رہی۔ میرے قبیلے والے اپنے سب کام چھوڑ کر حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے۔
اس بزرگ نے خاموشی سے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، "مت رو، شَیامتا، مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ اگر تم نہیں چاہتیں تو میں تمہیں حاصل کرنے کے لیے کوئی عمل نہیں کروں گا۔"
میں نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر نور اس قدر غالب تھا کہ میں بے اختیار نگاہیں جھکا گئ۔
وہ بولے، "بیٹی، مجھے معلوم ہے کہ تمہیں قید ہونا پسند نہیں۔ میں تمہیں قید کرنے نہیں آیا، بلکہ یہاں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنا چاہتا ہوں۔ اگر تمہیں یہ بھی پسند نہیں تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔"
میں ان کی باتیں سن ہی نہیں رہی تھی، بس ان کا "بیٹی" کہنا میرے دل میں اترتا جا رہا تھا۔
میں نے روتے ہوئے کہا، "آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ ہم برا مانیں گے؟ ہم تو آپ کے قدموں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں۔"
میں روتے ہوئے ان کے گلے لگ گئی اور ان کے قیام کا انتظام کیا۔
رات کے وقت ہم اپنے کاموں میں مصروف تھے کہ اچانک ایک نہایت دلکش آواز ہوا کے دوش پر لہراتی ہوئی ہمارے کانوں سے ٹکرائی۔ ایک لمحے کے لیے یوں لگا جیسے ساری کائنات ساکت ہو گئی ہو۔
وہ نہایت میٹھی اور دل کو چھو لینے والی آواز تھی—وہ اسی بزرگ کی آواز تھی، جو خوش الحانی سے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔
ہم بے اختیار اس آواز کی طرف کھنچے چلے گئے۔ جب ہم نے اندر جھانک کر دیکھا تو حیران رہ گئے۔ ان کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پوری کائنات اس آواز کے سحر میں ڈوب گئی ہو، فضا میں ایک عجیب سی کیفیت طاری تھی، اور ہر سمت سکوت چھا گیا تھا..."
"...کہ وہ ہر رات قرآن کی تلاوت کرتے، اور ہم سب ان کے پاس جمع ہو جاتے۔ یہاں تک کہ ہمارے قبیلے کے چھوٹے بڑے سب نے قرآن پڑھنا شروع کر دیا۔ ان کی بدولت ہمارے کئی لوگوں نے قرآنِ مجید حفظ بھی کر لیا۔
پھر میں نے پوچھا، "اس کے بعد کیا ہوا؟"
یہ سن کر شَیامتا کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ روتے ہوئے بولی، "وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔"
جس دن وہ دنیا سے رخصت ہوئے، شدید برفباری ہوئی۔ ان کی وفات پر پوری جنات برادری—چھوٹے بڑے سب—غم سے نڈھال ہو گئے اور یوں روئے جیسے خون کے آنسو بہا رہے ہوں۔"
یہ کہتے کہتے وہ سسکیاں لے کر رونے لگی۔
میں نے پوچھا، "وہ کون تھے؟ میرا مطلب ہے، ان کا نام کیا تھا؟"
وہ بولی، "وہ تمہارے والد، سید اشفاق حسین تھے۔"
"کیا؟!" میں چیخ اٹھا۔
"ہاں، وہ تمہارے والد تھے،" اس نے کہا۔
میں بے اختیار بولا، "یہ جھوٹ ہے، بالکل جھوٹ! وہ تو زندہ ہیں!"
وہ بولی، "نہیں، وہ وفات پا چکے ہیں۔ تمہاری پیدائش کے وقت تمہاری والدہ بھی دنیا سے چلی گئی تھیں، اس لیے تمہاری پرورش اور حفاظت کی ذمہ داری ہم نے اپنی برادری کے ایک بزرگ کے سپرد کر دی تھی۔"
میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا، "یہ سب جھوٹ ہے!"
اتنے میں میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو "بابا" کھڑے تھے۔
میں نے کہا، "بابا، یہ شَیامتا کیا کہہ رہی ہے؟"
انہوں نے کہا، "یہ سچ کہہ رہی ہے۔"
میں نے گھبرا کر پوچھا، "کیا میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں؟"
انہوں نے جواب دیا، "نہیں، تم میرے بیٹے نہیں ہو۔"
یہ کہتے ہی ان کی صورت بدل گئی، اور ان کی جگہ ایک سفید داڑھی والے بزرگ کھڑے نظر آئے۔
میرے منہ سے ایک چیخ نکلی اور میں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔
کسی کے چلے جانے سے زندگی کا سفر رکتا نہیں، بس ماضی کی یادیں دل میں رہ جاتی ہیں اور وقت کے ساتھ دھندلی پڑ جاتی ہیں۔ میں نے بھی خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
اسی رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ میں تبت کے پہاڑوں میں تھا، جہاں ہر طرف گھپ اندھیرا تھا۔ میں زمین کی گہرائیوں میں اترتا چلا جا رہا تھا۔ اس تاریکی میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا، مگر پھر بھی مجھے سب کچھ صاف نظر آ رہا تھا۔
وہ پنڈت جہاں بھی جاتا، مجھے دکھائی دیتا۔ وہ بھاگ رہا تھا، چھپ رہا تھا، مگر اسے کہیں پناہ نہیں مل رہی تھی۔ اچانک کسی نادیدہ طاقت نے میرا راستہ روک لیا۔
میں پیچھے ہٹنے لگا کہ اچانک وہی پنڈت مجھ پر حملہ آور ہو گیا۔ میں اس سے بچنے کے لیے پیچھے ہٹتا گیا اور ایک بڑی چٹان پر چڑھ گیا۔
اسی دوران اچانک کئی خوفناک بھیڑیے نمودار ہوئے، جو میری طرف لپک رہے تھے۔ میرے اور ان بھیڑیوں کے درمیان فاصلہ کم ہوتا جا رہا تھا۔ وہ اپنے نوکیلے دانت نکالے مجھ پر جھپٹنے کے لیے بڑھ رہے تھے۔
میں الٹے قدموں پیچھے ہٹ رہا تھا کہ اچانک میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی، اور میں گہرائی میں جا گرا۔
میری چیخوں کی آواز چاروں طرف گونج رہی تھی۔ اوپر پہاڑ کی چوٹی پر وہی پنڈت کھڑا تھا اور میری بے بسی پر قہقہے لگا رہا تھا۔
اچانک مجھے ایک جھٹکا لگا—جیسے کسی نے مجھے بچا لیا ہو۔
میں اپنے قدموں پر کھڑا تھا۔ نہ اوپر کا احساس تھا نہ نیچے کا، مگر مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں کسی مضبوط زمین پر کھڑا ہوں۔
میں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو وہ اب بھی..."
"...پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ وہ چند لمحے مجھے دیکھتا رہا، پھر اس نے ایک بڑی چٹان کو دھکا دیا اور خود چٹانوں میں غائب ہو گیا۔
وہ پتھر بڑی تیزی سے میری طرف لڑھکتا ہوا آ رہا تھا۔ فاصلہ بہت کم رہ گیا تھا۔ اس سے بچنے کے لیے میں نے بھاگنے کی کوشش کی، مگر میں لڑکھڑا گیا۔
اسی لمحے اپنی ہی چیخ کی آواز سن کر میر
ی آنکھ کھل گئی۔ میں نے نیم مدہوش نگاہوں سے ادھر اُدھر دیکھا۔ چند لمحوں تک مجھے سمجھ ہی نہ آیا کہ میں کہاں ہوں۔ پھر آہستہ آہستہ ہوش بحال ہوا۔
میں اپنے کمرے میں تھا اور چارپائی سے گر کر فرش پر پڑا ہوا تھا۔ میرا جسم پسینے سے تر بتر تھا..."

